78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ کافر لوگ آپس میں کیا پوچھا پوچھی کر رہے ہیں۔2

ف 2 یا کس چیز کے متعلق باتیں کررہے ہیں، مفسرین کہتے ہیں جب آنحضرت ﷺ کی بعث ہوئی اور آپ ﷺ نے لوگوں کو توحید اور زندگی بعد موت کی خبر دی اور انہیں قرآن سنانا شروع کیا تو کفار آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ یہ کیا چیز ہے جسے محمد ﷺ پیش کررہے ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (شوکانی)
Ayahs 78:2–3

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑی بات قیامت یا قرآن) کو پوچھ رہے ہیں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔3

ف 3 قیامت، قرآن یا خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں مگر جمہور علما نے اس سے قیامت ہی مراد لی ہے۔ یعنی کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس سے بالکل انکار کرتا ہے۔ قرآن میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی قرآن کو سحر کہتا ہے اور کوئی پہلوں کے افسانے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی وہ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے کبھی آپ ﷺ کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنوں کہتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

نہیں نہیں ان کو اب عنقریب معلوم ہوجائیگا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر بھی یہی کہتے ہیں نہیں نہیں ان کو اب عنقریب معلوم ہوجائیگا۔4

ف 4 اس میں تقریع وتوبیخ ہے کہ عنقریب جب قیامت آجائے گی اور غیب سے پردہ اٹھ جائے گا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن چیزوں کے بارے میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اور جزا سزا کا انکار کررہے تھے وہ سب حقیقت تھیں۔ ویسی ہی حقیقت جیسی انبیاء (علیہم السلام) نے ان سے بیان کی تھی۔
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو تمہارا بچھونا نہیں بنایا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں کیں۔5

ف 5 تاکہ زمین میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہو اور وہ ڈگمگاتی نہ رہے اور زمین سھاد “ بنانا یا اصل خلقت کے اعتبار سے ہے اور یا پیدا کرنے کے بعد ہے۔ بہرحال اس کا مواد، ہوتا ” کرۃ “ ہونے کے منافی نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس میں اضطراب سا تھا۔ پھر جب پہاڑ پیدا کئے تو اس میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ (نحل :115)
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم6 نے تم کو جوڑا جوڑا نر مادہ بنایا

ف 6، ازواج، کے معنیٰ مختلف شکلیں اور رنگ بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ مذکر و مؤنث کے نطفہ کے اختلاط سے پیدا کیا۔
Ayahs 78:9–10

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے نیند کو تہمارے لئے آرام رکھا

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم نے رات کو تمہارا7 اوڑھنا مقدر کیا

ف 7 یعنی جس طرح آدمی کپڑے پہن کر اپنے آپ کو چھپا لینا ہے اسی طرح رات کی تاریکی تمہاری پردہ پوشی کرتی ہے۔
Ayah 78:11

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور پردہ پوش اور ہم نے دن کو8 روٹی کمانے کا وقت ٹھہرایا

ف 8 یہ عمومی حالت بیان فرمائی جو فطری ہے یعنی دن کو کام اور رات کو آرام، گو اس مشینی دور میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں دن کو سونا اور رات کو جاگنا پڑتا ہے۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے۔9

ف 9 کہ ہزاروں برس گزرنے پر بھی ان میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے ایک چمکتا چراغ سورج بنایا10

ف 10 وھاج، ایسی چیز کو کہتے ہیں جو روشن بھی ہو اور گرم بھی اسی لئے اس سے مراد سورج لیا گیا ہے۔
Ayah 78:14

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم نے بادلوں یا ہوائوں سے زور کا مینہ برسایا11

ف 11 مراد بادل ہوں تو اس کے معنی نچڑنے والے، ہوں گے اور ہوائیں مراد ہوں تو نچوڑنے والی، ترجمہ کیا جائے گا۔
Ayahs 78:15–16

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

اس لئے کہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور چارہ اوگائیں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغ نکالیں12

ف 12 ان تمام چیزوں کا ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جو ذات ایسا نظام بنا اور چلا سکتی ہے اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ اسی مناسبت نے آگے آخرت کا ذکر آرہا ہے۔
Ayahs 78:17–18

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کے دن قیامت کا ایک وقت مقرر ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائیگا اور تم پر پرے جٹ جٹ ہو کر حشر کے میدان میں آئو گے۔13

ف 13 مراد دوسری بار کا صور پھونکنا ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائیگا اس میں چھید چھید ہوجائیں گے14

ف 14 آسمان اس لئے پھٹے گا کہ فرشتے زمین پر اتر سکیں جیسے فرمایا : ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ ( سورة فرقان :25) معلوم ہوا کہ آسمان میں ” خرق “ ممتع نہیں ہے جیسا کہ فلاسفہ کا مشہور مذہب ہے گوملاصدرانے اسفاراربعہ، میں تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ امتناع خرق، اساطین فلاسفہ کا قول نہیں ہے۔ آج کل کے فلاسفہ نے معروف آسمان کا بھی انکار کیا ہے مگر کوئی ایسی تحقیق پیش نہیں کی جس کی بنا پر آیات و احادیث صحیحہ کی تاویل کرنی پڑے۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ اپنی جگہ سے اکھیڑ کر چلائے جائیں گے وہ15 سراب کی طرح بالکل نابور ہوجائیں گے

ف 15 جو دوپہر کے وقت در سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر درحقیقت پانی نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ بظاہر پہاڑ نظر آئیں گے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوں گے۔ قرآن میں پہاڑوں کے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں اول یہ کہ ریزہ ریزہ کئے جائیں گے۔ (الفجر :121) پھر وہ دھنی ہوئی اون کی طرح نظر آئیں گے، (القارعہ : 5) پھر غبار کے پراگندہ ذرات کی طرح بن جائیں گے پھر چلائے جائیں گے۔ (الواقعہ :6، النمل :88) اور دور سے سراب کی طرح نظرآئیں گے جیسا کہ یہاں بیان ہوا ہے۔ (فتح لبیان) علما نے لکھا ہے کہ پہاڑوں کی یہ حالت (سراب بن جانا) نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگی لیکن ان کا پھٹنا اور ریزہ ریزہ ہونا ” نغمہ اولیٰ ، کے وقت ہوگا (درج)
Ayahs 78:21–23

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ کافروں کو تاک رہی ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

شریروں کا وہی ٹھکانا ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

اس میں قرنوں پڑے رہیں گے۔16

ف 16 اور ظاہر ہے کہ اعقاب کبھی ختمہ نہ ہوں گے لہٰذا مقصد یہ ہے کہ وہ کفار کبھی دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے (کذانی الشوکانی عن الحسن البصری)
Ayahs 78:24–25

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہاں نہ تو ٹھنڈ کا مزہ چکھیں گے

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

اور نہ کھولتے پانی اور پیپ کے سوا ان کو کچھ پینے کو ملے گا17

ف 17 دوزخ کا ایک طبقہ مہریر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے اسے مزے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Ayahs 78:26–29

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

یہ اعمال کا پورا بدلہ ہے

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ دنیا میں آخرت کے حساب کا ڈر نہیں رکھتے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیتوں کو خوب جھٹلاتے تھے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیزکو اچھی طرح لکھ لیا ہے1

ف 1 یعنی ہمارے پاس ان کے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ لہٰذا وہ کسی عمل کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

تو اہم قیامت کے دن ان سے کہیں گے اب اپنے کئے کا مزہ چکھو ہم تو روز بروز تمہارا عذاب بڑھاتے جائیں گے2

ف 2 یعنی جس طرح تم کفر و تکذیب میں برابر پڑھتے چلے گئے اسی طرح ہم بھی تمہارا عذاب برابر بڑھاتے رہیں گے اور کسی لمحہ اس میں تخفیف نہ کریں گے۔ (نساء :156، اسراء :57)
Ayahs 78:31–33

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک پرہیز گار آخرت میں) مراد کو پہنچیں گے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

ان کو (رہنے کو) باغ اور (کھانے کو) انگور ملیں گے

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور دل بہلانے کو نوجوان عورتیں ہم سن3

ف 3 آپس میں دوسرے کی ہم سن یا جنتیوں کی ہم سن۔
Ayahs 78:34–36

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور پینے کو بھرا جام چھلکتا ہوا

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں بیہودہ بکواس کسی کے منہ سے) نہ سنیں گے اور نہ جھٹلانا یا جھوٹ

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ تیرے مالک کا بدلہ بےحساب سے ان کو دیگا4

ف 4 یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے اور ” حساباً “ کا مطلب بعض مفسرین نے کانیا، بیان کیا ہے یعنی اتنا بدلہ جس سے زیادہ کی خواہش بھی نہ ہو۔
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

وہ جو آسمانوں اور زمین اور ان کے بیچ جو کچھ ہے ان کا مالک ہے بڑے رحم والا قیامت کے دن مارے ہیبت کے اس سے بات تک نہ کرسکیں گے5

ف 5 یعنی انتہائی لطف و رحمت کے باوجود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا جلال اس قدر ہوگا کہ کوئی اس کے سامنے لب کشائی نہ کرسکے گا۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر اس کے سامن یا کھڑے ہونگے کوئی بات تک نہ کرسکے گا6، مگر جس کو خدا اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا7

ف 6 روح کہا جانداروں کو یا نام جبریل ( علیہ السلام) کا ہے “ (موضح)7 اگر شفاعت کرے گا تو اسی کی جو واقعی شفاعت کا مستحق ہوگا اور ظاہر ہے کہ شفاعت کا مستحق وہی ہوگا جس نے دنیا میں ٹھیک بات کہی تھی۔ یعنی کلمہ توحید۔ اگرچہ اس سے بعض کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہوں یا وہی شخص بات کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور صحیح بات کہے یعنی غیر مستحق کی شفاعت نہ کرے۔ (کذانی جامع البیان) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” جو مسلمان قابل سفارش کے ہے اسی کے واسطے کہا
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہی وہ دن ہے جس کا آنا برحق ہے پھر جس کا جی چاہے وہ اپنے مالک کے پاس ٹھکانا کرے8

۔ “8 یعنی اس دن کا آنا یقینی ہے۔ اگر کسی کو اپنی بھلائی مطلوب ہے تو اسے چاہیے کہ اس کے لئے تیاری کرے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

لوگو ہم نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا جو نزدیک آنے والا ہے جس دن ہر آدمی مومن ہو یا کافر جو عمل اس نے آگے بھیجے ان کو دیکھے گا اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا (یا مٹی ہوجاتا)9

ف 9 یعنی آدمی نہ ہوتا تو آج اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوقات حتیٰ کہ جانوروں، چرندوں اور پرندوں تک کو جمع کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ کا انصاف اس قدر ہوگا کہ بن سینگ والی بکری کو بھی سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ مٹی ہوجائو۔ اس وقت کافر کہے گا کہ کاش میں بھی آج مٹی ہوجاتا۔ بہائم کا حشر اور ان کا ایک دوسرے سے بدلہ لینا حدیث و آثار سے ثابت ہے اور جمہور اس کے قائل ہیں۔ (روح شوکانی)