78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 78:1–3

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

بڑی خبر کے بارے میں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ بھیجے گئے تو لوگ آپس میں سوال کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت عم یتساء لون۔ عن النبا العظیم۔ کس چیز کی بابت وہ آپس میں سوال کرتے ہیں اس بڑی خبر کے بارے میں۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یساء لون عن النبا العظیم کے بارے میں روایت کیا کہ بڑی خبر سے مراد ہے قرآن۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عم یتساء لون عن النبا العظیم سے مراد ہے قرآن مجید اور فرمایا آیت الذی ہم فیہ مختلفون۔ جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یعنی کوئی اس کی تصدیق کرنے والا ہے اور کوئی اس کو جھٹلانے والا ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت عم یتساء لون عن النبا العظیم الذی ہم فیہ مختلفون سے مراد ہے موت کے بعد کا اٹھنا اس میں لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ تصدیق کرنے والے اور جھٹلانے والے۔ لیکن موت کے بارے میں تو سب نے اقرار کیا۔ اس لیے کہ وہی موت کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کر رہے تھے۔ البتہ موت کے بعد اٹھنے میں اختلاف کیا۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

کبردار وہ عنقریب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر خبردر وہ عنقریب جان لیں گے

5۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون ثم کلا سیعلمون ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ یعنی یہ وعید ہے وعید کے بعد۔ 6۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون سے مراد ہیں کفار۔ آیت ثم کلاسیعلمون سے مراد ہیں مومن اور وہ اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو بچھونا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا

7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھا دیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیں یعنی پہاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھادیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا۔ اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیا۔ یعنی پاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا۔ تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الم نجعل الارض مہدا سے لے کر معاشا تک کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں کہ تجھ پر ان کو شمار کیا ہے تاکہ تو اس کے شکر کی ادائیگی کے لیے عمل کرے۔ 9۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو ہوا کو بھیجا۔ اس نے پانی کو خشک کردیا یہاں تک کہ چھوٹا سا جزیرہ ظاہر ہوگیا اور وہ کعبہ کے نیچے ہے۔ پھر زمین کو پھیلایا یہاں تک کہ وہ اس لمبائی اور چوڑائی کو پہنچ گئی جہاں تک اللہ نے چاہا۔ اور یہ اسی طرح پھیلتی رہی اور وہ کعبہ کے نیچے ہے پھر زمین کو پھیلایا یہاں تک کہ وہ اس لمبائی چوڑائی کو پہنچ گئی جہاں تک اللہ نے چاہا۔ اور یہ اسی طرح پھیلتی رہی اور فرمایا یہ اس کے دست قدرت میں ہے وہ اسی طرح اور اسی طرح پھیلتی رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو کیلیں بنا کر اس میں گاڑ دیا اور جبل ابوقیس پہلا پہاڑ ہے جو دنیا میں رکھا گیا۔ سب سے پہلے زمین کہاں پیدا کی۔ 60۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ زمین سب سے پہلے بیت المقس کے پاس سے پیدا کی گئی۔ مٹی کو رکھا گیا اور اسے کہا گیا تو اس طرح۔ اس طرف اور اس طرف چلی جا۔ اور ایک چٹان پیدا کی گئی۔ اور چٹان کو مچھلی پر اور مچھلی کو پانی پر اور اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ پانی میں بہہ رہی تھی۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ! اس کو کون ٹھہرائے۔ پھر پہاڑوں کو اس میں کیلیں لگ گئیں۔ تو فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب کیا آپ نے ایسی مخلوق پیدا کی جو اس سیزیادہ سخت ہو ؟ فرمایا وہ لوہا ہے پھر فرشتوں نے کہا کیا آپ نے ایسی مخلوق پیدا کی جو لوہے سے زیادہ سخت ہو فرمایا وہ آگ ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا کیا آپ نے ایسی مخلوق پیدا کی جو آگ سے زیادہ سخت ہو فرمایا پانی۔ پھر انہوں نے کہا کیا آپ نے ایسی مخلوق پیدا کی جو پانی سے زیادہ سخت ہو فرمایا ہوا پھر پوچھا کیا آپ نے ایسی مخلوق کی جو ہوا سے زیادہ سخت ہو فرمایا عمارت پھر پوچھا کیا آپ نے ایسی مخلوق پیدا کی جو عمارت سے زیادہ سخت ہو فرمایا وہ آدم ہے۔
Ayahs 78:8–12

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں جوڑے پیدا کیا ہے

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو ہم نے آراز کی چیز بنایا

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو لباس بنایا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے

11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا یعنی دو ، دو ، آیت وجعلنا النہار معاشا۔ اور دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا یعنی تم اللہ کے فضل کو تلاش کرتے رہو۔ آیت وجعلنا سراجا وہاجا۔ اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بنایا یعنی چمکتا ہوا۔ آیت وانزلنا من المعصرات اور ہم نے ہواؤں کو اتارا یعنی ہوا کو آیت ماء ثجاجا یعنی ایسا پانی جسے انڈیلا جائے تو وہ موسلا دھار برس پڑے۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے بنادیا ایک روشن چراغ

12 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا سراجا وہاجا میں الوہاج سے مراد ہے چمکنے والا آیت وانزلنا من المعصرات یعنی ہم نے آسمان سے نازل کیا اور بعض کہتے ہیں کہ ہم نے ہوا سے نازل کیا آیت ماء ثجاجا۔ الثجاج سے مراد ہے خوب برسنے والا یعنی موسلا دھار بارش۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا سراجا وہاجا سے مراد ہے چمکنے والا۔ یعنی سورج آیت وانزلنا من العصرات یعنی بادلوں سے آیت ماء ثجاجا یعنی خوب برسنے والا۔ 14۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سراج وہاجا سے مراد ہے چمکتا ہوا۔
Ayahs 78:14–15

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم نے اتاردیا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں سے خوب بہنے والا پانی

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس کے ذریعے دانے اور سبزی

15۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وانزلنا من المعصرات کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد وہ بادل ہے جو اس کے بعضے حصے بعض کو نچوڑتے ہیں تو پانی دو بادلوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ کا قول نہیں سنا۔ تجری بہا الارواح من بین شمال وبین صباہا المعصرات الدوامس ترجمہ : شمال کی جانب سے ہوائیں چل رہی ہیں اور اس کی پروائی ہوا کے درمیان وافر پانی والے سیاہ بادل ہیں۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ثجاجا کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا الثجاج سے مراد ہے ایسا کثیر اور وافر پانی جس سے کھیتی اگتی ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے ابو ذویب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا سقی ام عمرو کل آخر لیلۃ غمائم سود ماء ہن ثجیج ترجمہ : ام عمر کو سیراب کیا ہر رات کے آخر میں سیاہ بادلوں نے کہ جن کا پانی وافر اور کثیر ہے 16۔ عبد بن حمید وابو یعلی وابن جریر وابن ابی حاتم والخرائطی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا من المعصرات سے مراد ہے ہوائیں آیت ماء ثجاجا یعنی بہت برسنے والا پانی۔ بارش برسنے کی ترتیب 17۔ شافعی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والخرائطی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے آیت وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک بادل کو بھیجتے ہیں وہ آسمان سے پانی لیتا ہے۔ پھر وہ بادل اس پانی کو لے کر چل پڑتا ہے۔ اور وہ ایسے برستا ہے جیسے دودھ دینے والی اونٹنی اپنا دودھ بہادیتی ہے اور ” الثجاج “ سے مراد ہے آسمان اتنی کثرت سے پانی بہاتا ہے جیسے مشکیزوں کے منہ کھول دئیے گئے پھر ہوائیں اس کو پھیر دیتی ہیں تو وہ متفرق مقام پر پانی برساتا ہے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا من المعصرات سے مراد ہیں بادل آیت ماء ثجاجا سے مراد ہے پانی جو اوپر سے گرایا جائے۔ یا اس مراد ہے کثیر پانی۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا من المعصرات سے مراد ہے آسمان سے نازل فرمایا۔ ماء ثجاجا سے مراد ہے ایسا پانی جو کثرت سے گرایا جائے۔ 20۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ فضل بن عباس (رح) کے مصحف میں یوں ہے آیت وانزلنا من العصرات ماء ثجاجا۔ 21۔ ابن جریر وابن الانباری نے المصاحف میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ کی قرا ئت میں یوں ہے آیت وانزلنا من المعصرات سے مراد ہے ہوائیں۔ 22۔ الخرائطی نے مکارم الاخلاق میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا من المعصرات سے مراد ہے ہوا۔ اسی لیے وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت من المعصرات ماء ثجاجا یعنی کثرت سے برسنے والا پانی۔
Ayah 78:16

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گنجان باغ نکالیں

23۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجنت الفافا سے مراد گھنے باغ۔ 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجنت الفافا سے مراد ہے لپٹے ہوئے باغات۔ 25۔ عبدالرزاْ وعبد بن حمد وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجنت الفافا سے مراد ہے ایسے باغات جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ 26۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجنت الفافا سے مراد ہے وہ کھیتی کہ اس کا بعض حصہ بعض کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ 27۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجنت الفافا سے مراد وہ باغات ہیں کہ ان کا بعض حصہ بعض سے مل جائے اور جڑ جائے۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بلاشبہ فیصلوں کا دن مقرر ہے

28۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یوم الفصل کان میقاتا بیشک فیصلہ کا دن معین ہوچکا ہے۔ یعنی وہ دن ہے جس میں اللہ کی عظمت اور جلال کا اظہار ہوگا اور اسی دن وہی اولین وآخرین کے درمیان فیصلہ کرے گا۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا سو تم لوگ فوج در آجاؤگے

29۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ جس دن صور میں پھونکا جائے گا پھر تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ یعنی فورج در فوج۔ دس قسم کے مجرمین کی حالات 30۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اے معاذ ! تو نے بڑے معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ پھر آپ نے اپنی آنکھوں کو جھکا دیا اور فرمایا دس قسمیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ کردیا۔ اور ان کی صورتوں کو بدل دیں گے۔ ان کے بعض بندر کی صورت میں اور بعض کو سور کی صورت میں۔ اور بعض کی ٹانگیں ان کے کندھوں پر ہوں گی۔ اور ان کے چہرے نیچے ہوں گے جن پر وہ اپنے آپ کو گھسیٹ رہے ہوں گے اور ان کے بعض اندھے ہوں گے جو لڑکھڑاتے رہیں گے اور ان میں سے بعض بہرے اور گونگے ہوں گے جو نہ سمجھتے ہوں گے اور ان کے بعض اپنی زبانوں کو کاٹ رہے ہوں گے اور وہ ان کے سینوں پر لٹکی ہوں گی۔ ان کے مو ہوں نے لعاب کی حالت میں پیپ بہتی ہوگی اہل جمع ان کو غلیظ جانیں گے اور ان سے نفرت کریں گے۔ اور ان کے بعض کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں والے ہوں گے اور ان کے بعض کو آگ کے تنوں پر سولی دی جائے گی اور ان کے بعض کی بدبو مردار سے بھی زیادہ نفر آمیز ہوگی اور ان کے بعض تارکول کے جبے پہنے ہوں گے جو ان کے سارے جسم کو ڈھانپے ہوں گے۔ اور ان پر چمٹے ہوں گے۔ وہ لوگ جو بندر کی صورت پر ہوں گے تو وہ لوگوں میں سے چغلخوری کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو سور کی صورت پر ہوں گے وہ حرام کھانے والے ہیں۔ اور جو اپنے چہروں پر گھسیٹنے والے سود کھانے والے ہوں گے۔ اور اندھے وہ ہوں گے جو اپنے فیصلہ میں ظلم کرتے تھے اور بہرے اور گونگے وہ ہوں گے جو اپنے عامل پر اتراتے اور فخر کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی زبانوں کو چبا رہے ہوں گے۔ وہ ایسے علماء اور قضاۃ ہیں جن کے اعمال ان کے قول کے مخلاف ہیں اور جن کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے ہوں گے جو پڑوسی کو تکلیف دیتے ہیں اور آگ کے تنوں پر سولی دئیے جانے والے وہ ہیں جو بادشاہ اور حاکم کے پاس لوگوں کی شکایات کر کے ان کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جن کی بدبو مردار سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہوگی وہی ایسے لوگ ہیں جو دنیا میں شہوتوں اور لذات سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور اللہ کے حق کو اور غریبوں کے حق کو روک لیتے ہیں اپنے مالوں میں سے۔ اور وہ لوگ جو تارکول کے جبے پہنے ہوں گے وہ تکبر کرنے والے اور فخر والے لوگ ہیں۔
Ayahs 78:19–20

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا سو وہ دروازے ہی دروازے ہوجائے گا

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلادئیے جائیں گے سو وہ ریت ہوجائیں

1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وفتحت کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 78:21–22

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بلاشبہ جہنم ایک گھات کی جگہ ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانہ ہے

2۔ ابن المنذرنے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان جہنم کانت مرصادا بیشک دوزخ گھات میں لگی ہے۔ اس میں کانت سے مراد ہے صارت۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ کو چل کر عبور کرے گا۔ 4۔ ابن جریر نے سفیان (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ اس پر تین پل ہوں گے کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ سے گزرے گا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ تم جان لو کہ جنت کی طرف کوئی راستہ نہیں یہاں تک کہ جہنم کو عبور کیا جائے اور دوسری آیت میں فرمایا آیت وان منکم الا واردہا (مریم آیت 71) اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس پر گذر نہ ہو۔ آیت للطاغین ماٰبا۔ سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے یعنی یہ سرکشوں کے لیے پناہ گاہ اور ٹھکانہ ہے آیت لبثین فیہا احقابا کہ وہ اس میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ یعنی احقاب سے مراد وہ عرصہ ہے جس کے لیے ختم ہونا نہ ہو۔ جب بھی ایک حقب گذرے گا تو دوسرا حقب آجائے گا۔ اور فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ حقب اسی سال ہے قیامت کے دن کے سالوں میں سے۔
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ بہ تزیادہ عرصہ ہائے دراز تک رہیں گے

6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا میں احقابا سے مراد سال ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا سے مراد ہے کہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں جب بھی ایک حقب گذرے گا تو ہم دوسرے میں داخل ہوجائیں گے۔ ایک حق ستر سال کا ہے 8۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک حقب ستر سال کا ہے اور اس میں سے ہر دن ہزار سال کا ہے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا سے مراد ہے کہ کوئی تم میں سے ان احقاب کو نہیں جان سکتا مگر یہ کہ ایک حق اسی سال کا ہے۔ اور ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور ایک دن ہزار سال کی مقدار کا ہے۔ اور اسی طرح ایک حقب اٹھارہ ہزار سال کا ہوگا۔ 10۔ ابن جریر نے بشیر بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا کے بارے میں کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ حقب تین سو سال کا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور ہر دن ہزار سال کا ہے۔ 11۔ عبدالرزاق والفریابی وہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سالم بن ابی جعد (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ہلال الجری سے پوچھا کیا تم اللہ کی کتاب میں حقب کو جانتے ہو ؟ اس نے کہا ہم اس کو اسی سال کا پاتے ہیں اور اس میں ہر سال بارہ ماہ کا ہے۔ اور ہر مہینہ تیس دن کا ہے اور ہر دن ہزار سال کا 12۔ سعید بن منصور والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت لبثین احقابا کے بارے میں روایت کیا کہ حقب اسی سال کا ہے۔ 13۔ بزار نے ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت میں روایت کیا کہ آیت لبثین فیہا احقابا میں حقب اسی سال کا ہے۔ 14۔ ہناد وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا میں حقب اسی سال کا ہے اور ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور ایک دن ہزار سال کا ہے ان سالوں میں سے جس کو تم شمار کرتے ہو۔ 15۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 16۔ عبد بن حمید نے ابوہریرہ ؓ سے آیت لبثین احقابا کے بارے میں روایت کیا کہ ایک حقب اسی سال کا ہے اور ان میں سے ایک دن دنیا کے چھٹا حصہ کی طرح ہے۔ 17۔ ابن عمر العددی نے اپنے مسد میں ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا آیت لبثین احقابا میں حب ہزار مہینے کا ہے اور ایک مہینہ تیس دن کا ہے اور ایک سال بارہ مہینہ کا اور ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور اس میں سے ہر دن ہزار سال کا ہے۔ ان سالوں میں سے جن کو تم گنتے ہو تو اس طرح سے ایک حقب اسی ہزار سال کا ہے۔ ایک حقب اس سال کا ہے۔ 18۔ البزار وابن مردویہ والدیلمی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! کوئی آگ سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ کئی حقب اس میں ٹھہرے گا۔ اور ایک حق اسی سال سے زائد ہے۔ ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور ایک دن ہزار سال کا ہے ان سالوں میں سے جن کو تم شمار کرتے ہو۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کوئی کافر بھروہ نہ رکھے کہ وہ آگ سے نکلے گا۔ 19۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حقب اسی سال کا ہے۔ 20۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے آیت لبثین فیہا احقابا کے بارے میں روایت کیا کہ ایک حقب اسی سال کا ہے۔ 21۔ ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک حقب چالیس سال کا ہے۔ 22۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” احقابا “ کو الف کے ساتھ پڑھا۔ 23۔ عبد بن حمید نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” احقابا “ کو بغیر الف کے پڑھا۔ 24۔ ابن جریر نے خالد بن معدان (رح) سے آیت لبثین فیہا احقابا اور الا ماشاء ربک (ھود آیت 107) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دونوں آیات جنت والوں اور توحید والوں کے بارے میں ہیں جو اہل قبلہ میں ہیں۔
Ayah 78:24

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اس میں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کی کوئی چیز

25۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ زمہریر جہنم ہے۔ اہل جہنم کے لیے اس میں عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت لایذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا۔ نہ وہاں کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔ 26۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر نے ابوالعالیہ (رح) سے آیت لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں شراب سے حمیما کی استثنی ہے اور بردا سے غساقا کی استثنی ہے اور ہ زمہریر ہے۔ 29۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما کے بارے میں فرمایا کہ اس کی گرمی انتہا کی ہوگی آیت وغساقا کہ اس کی ٹھنڈک انتہا کی ہوگی کہ جب ایک آدمی کے وہ گرم برتن اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرہ کی کھال گرپڑے گی۔ یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی رہ جائیں گی اور وہ تڑپتا رہے گا۔ 30۔ ابن المنذر نے مرہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا یذوقون فیہا بردا سے مراد ہے نیند جو ہر طرف چھائی ہوئی ہوگی۔
Ayah 78:25

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

سوائے گرم پانی اور پیپ کے

27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا حمیما وغساقا میں الحمیم سے مراد وہ گرم عذاب ہے جو جلادے گا اور الغساق سے مراد ہے زمہریر یعنی سردی کا عذاب۔ 28۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا حمیما وغساقا سے مراد ہے کہ اہل جہنم عذاب کی سردی اور ٹھنڈک کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔
Ayah 78:26

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کے موافق

31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت جزاء وفاقا یہ پورا پورا بدلہ ہوگا یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ 32۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جزاء وفاقا یعنی یہ جزاء قوم کے برے اعمال کے موافق ہوگی۔ 33۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جزاء وفاقا کہ جزاء عمل کے مطابق ہوگی آیت انہم کانوا لایرجون حسابا بیشک وہ حساب کی امید نہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ لوگ اس سے نہ ڈرتے تھے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ پروا نہیں کرتے تھے کہ دوبارہ زندہ ہونے کی تصدیق کریں گے۔
Ayahs 78:27–30

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

بلاشبہ وہ حساب کا خیال نہیں رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور انہوں نے ہماری آیات کو دلیری کے ساتھ جھٹلایا

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو کتاب میں پوری طرح سے لکھ دیا

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو تم چکھ لو، سو ہم تمہارے لیے عذاب کو بڑھاتے ہی رہیں گے

34۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت انہم کانوا لایرجون حساب ا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ثواب کی امید نہیں رکھتے تھے اور نہ عذاب سے ڈرتے تھے۔ 35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اس سے شدید ترین کوئی آیت دوزخ والوں کے لیے نازل نہیں ہوئی۔ یعنی آیت فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا یہ چکھو سو ہم تمہارے لیے عذاب ہی زیادہ کرتے رہیں گے۔ یعنی وہ اللہ کی جانب سے مزدید عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ 36۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حسن بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو برزہ اسلمی ؓ سے اللہ کی کتاب میں دوزخ والوں پر سب سے زیادہ سخت آیت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا۔ 37۔ ابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ابو برزہ اسلمی ؓ سے قرآن مجید میں سب سے سخت آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا پھر فرمایا وہ عذاب کی مقدار ہوگی ساعت کے عوض ساعت کی مقدار اور دن کے عوض دن کی مقدار اور مہینہ کے عوض مہینہ مہینہ کی مقدار اور سال کے عوض سال کی مقدار اور شدید ترین عذاب ہوگا یہاں تک کہ اگر ایک آدمی دوزخ والوں میں سے مشرق سے نکالا جائے گا تو مغرب والے اس کی بدبو سے مرجائیں گے۔ اور اگر مغرب سے نکالا جائے گا تو مشرق والے اس کی بدبو سے مرجائیں گے۔ ابوبرزہ ؓ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ جب آپ نے اس کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا قوم اپنے رب کی معصیت کی وجہ سے ہلاک ہوگئی اور ان پر غصہ ہوا جب ان پر غصہ ہوگا تو ضرور ان سے انتقام لے لیا۔
Ayah 78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بلاشبہ متقیوں کے لیے کامیابی ہے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان للمتقین مفازا بیشک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے۔ یعنی وہ کامیاب ہوئے اس طرح پر کہ انہوں نے دوزخ سے نجات پائی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ان للمتقین مفازا کے بارے میں روایت کیا کہ کامیابی ہوگی دوزخ سے بچ کر جنت کی طرف جانے میں۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان للمتقین مفازا میں مفازا سے مراد ہے محفوظ ہونا نجات پانا۔ یعنی متقین کے لیے نجات پانا اور محفوظ ہونا ہے آیت وکواعب اور نوجوان لڑکیاں یعنی ابھرے ہوئے پستانوں والیاں اترابا، برابر عمر والیاں آیت وکاسا دہاقا اور پیالے چھلکتے ہوئے یعنی بھرے ہوئے۔
Ayahs 78:32–33

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ ہیں اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

نوخیز ہم عمر بیویویاں ہیں

4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حدائق واعنابا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا الحدائق سے مراد ہیں باغ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ بلاد سقاہا اللہ اما سولہا فقضب ودر مغدق وحدائق ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شہروں کو خب سیراب کیا رہے ان کے میدان تو وہاں لمبی لمبی شاخوں والے درخت ہیں انتہائی سر سبز و شاداب و نباتات اور باغات ہیں پھر پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وکاسا دھاقا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ الک اس تو فرمایا الک اس سے مراد شراب ہے۔ والدہاق سے مراد ہے بھرے ہوئے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
Ayah 78:34

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور لباب بھرے ہوئے جام ہیں

اتانا عامریرجو قرانا فاتر عنا لہ کا سا دھاقا ترجمہ : ہمارے پاس عامر آئے وہ ہم سے مہمان نوازی کی امید رکھنے لگا تو ہم نے اس کے لیے جام شراب خوب بھر کردیا چھلکتا ہوا۔ 5۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ کو اعب سے مراد ہے کنواری لڑ کیا۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کو اعب سے مراد ہے ابھرے ہوئے پستانوں والیاں۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر عن مجاہد وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دہاقا سے مراد ہے ایسا جام جو لبالب بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو اور بسا اوقات میں نے ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا۔ یا غلام اسقنا وادھق لنا اے غلام ہم کو پلاؤ اور جام بھر کر پلاؤ۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دہاقا سے مراد ہے بھرا ہواجام 9۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، قتادہ، مجاہد، ضحاک اور حسن رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 10۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دہا قا کہ پیالے بھرے ہوئے بعض بعض کے پیچھے آئیں گے یعنی تسلسل کے ساتھ آتے رہیں گے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وکاسا دہاقا سے مراد ہے جو جام شراب لگاتار اور تسلسل کے ساتھ ہو۔ 12۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ ہناد نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دہاقا سے مراد ہے وہ جام جو لگاتار اور تسلسل کے ساتھ بھرا ہوا ہو۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دہاقا سے مراد ہے جو بہنے میں ریت کے ٹیلوں کی طرح ہو اور مولف نے فرمایا کہ فارسی زبان میں اس کا معنی ہے کہ لگاتار بہنے والی شراب۔ 15۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکاسا دھاقا سے مراد ہے لگاتار اور صاف شدہ۔ 16۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر جام میں شراب ہو تو وہ کاس ہے۔ اور جب اس میں شراب نہ ہو تو وہ کاس نہیں ہے۔ جنت میں بےہودہ بکواسات نہ ہوں گی
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہ اس میں کوئی لغوبات اور جھوٹ نہ سنیں گے

17۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایسمعون فیہا لغوا ولا کذابا نہ وہاں بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹ۔ یعنی نہ جھوٹی بات اور نہ گناہ کی بات۔ عطاء حسابا۔ کامل عطا یعنی بہت بخشش۔ لایملکون منہ خطابا۔ کہ وہ اس سے بات نہیں کرسکیں گے۔ یعنی بغیر اجازت اس سے کلام نہیں کرسکیں گے۔
Ayahs 78:36–37

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے بدلہ دیا جائے گا جو بطور انعام ہوگا کافی ہوگا

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ رحمن ہے یہ لوگ اس سے بات نہ کرسکیں گے

18۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جزاء من ربک بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف یعنی یہ عطا ہوگی اس کی طرف سے حسابا حسب اعمال جو انہوں نے عمل کیے آیت لایملکون منہ خطابا یعنی بات نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن تمام ذی ارواح اور فشتے صف بنائے کھڑے ہوں گے، کوئی بھی نہ بول سکے گا مگر جس کو رحمن اجازت دے اور ٹھیک بات کہے

19۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا روح، اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے وہ فرشتے نہیں ہیں ان کے سر، ہاتھ اور پاؤں ہیں پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا جس دن جبریل اور سب فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے پھر فرمایا یہ روح بھی لشکر ہیں اور یہ فرشتے بھی لشکر ہیں۔ 20۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ روح بنی آدمی کی صورت پر ایک مخلوق ہے۔ 21۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ روح کھاتے ہیں۔ اور ان کے ہاتھ اور پاؤں اور سر بھی ہیں اور وہ فرشتے نہیں ہیں۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو صالح (رح) سے آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ روح لوگوں کی طرح ایک مخلوق ہے اور وہ انسان نہیں ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں ہیں۔ 23۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں شعبی (رح) سے آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن یہ دونوں رب العالمین کے پاس صف بستہ ہوں گے روح کی ایک صف اور فرشتوں کی ایک صف ہوگی۔ 24۔ ابن ابی حاتم وابوا الشیخ نے عبداللہ بن بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ جنات، انسان، فرشتے اور شیاطین، روح کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ اور نبی مکرم ﷺ اس حال میں دنیا سے چلے گئے کہ آپ روح کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ روح فرشتوں میں سے سب سے بڑی مخلوق ہے اور کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ روح ہوگا۔ 26۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوا لشیخ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے آیت یوم یقوم الروح کے بارے میں روایت کیا کہ روح بڑے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے پیدائش کے لحاظ سے۔ روح کی مختلف تفسیر 27۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ روح ساتویں آسمان میں ہے اور وہ بہت بڑا ہے آسمانوں سے اور پہاڑوں م سے اور فشتوں سے ہر دن بارہ ہزار تسبیح کہتا ہپے۔ اللہ تعالیٰ ہر تسبیح میں سے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو پیدا فرماتے ہیں جو قیامت کے دن اکیلال ایک صف کی صورت میں آء گا۔ 28۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ روح اللہ کی جانب سے دربان ہے قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ فرشتوں سے بڑا ہے اگر وہ اپنے منہ کو کھول دے تو سارے فرشتے سما جائیں اور مخلوق اس کی طرف دیکھے گی اور اس کے خوف سے اپنی نظروں کو اوپر نہیں اٹھائیں گے۔ 29۔ ابن المنذر وابوا لشیخ نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ روح فرشتوں میں زیادہ عزت والی ہے رب تعالیٰ سے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں اور وہ وحی لانے والا ہے۔ 30۔ الخطیب نے المتفق والمفترق میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ روح، فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ اس کے دس ہزار پر ہیں۔ اس میں سے دو پروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان ہے اور اس کے ایک ہزار چہرے ہیں ہر چہرے میں ایک ہزار زبانیں ہیں۔ اور دو ہونٹ اور دو آنکھیں ہیں جو اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ 31۔ مسلم وابو داوٗد والنسائی والبیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں یوں کہا کرتے تھے۔ آیت سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح۔ ہر عیب سے پاک اور مخلوق کی مشابہت سے مبرا۔ جو رب ہے فرشتوں کا اور روح کا۔ 32۔ عبد بن حمید واب والشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یقوم الروح سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ 33۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) قیامت کے دن جبار (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کے اعضاء بدن کانپ رہے ہوں گے اللہ کے عذاب کے خوف اور وہ کہیں گے آیت سبحانک لا الہ الا انت۔ آپ کی ذات پاک ہے اور آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم نے آپ کی عبادت نہیں کی جیسے آپ کی عبادت کا حق ہے اور ان کے دو کندھوں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا قول نہیں سنا۔ آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا۔ 34۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یقوم الروح کے بارے میں روایت کیا یعنی جب لوگوں کی روحیں فرشتوں کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ اور یہ دو نفخوں کے درمیان روحوں کے جسموں کی طرف لوٹائے جانے سے پہلے ہوگا۔ 35۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقال صوابا سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت۔ 36۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقال صوابا سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت۔ 37۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 38۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال صوابا سے مراد ہے کہ جس نے دنیا میں حق بات کہی اور اس کے مطابق عمل کیا۔ 39۔ بیہقی فی شعب الایمان وضعفہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ عباس بن عبدالمطلب ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! جمال کیا ہے ؟ فرمایا حق کے ساتھ ٹھیک بات کہنا پھر پوچھا کمال کیا ہے ؟ فرمای سچائی کے ساتھ افعال کو مزین کرنا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن یقینی ہے، سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے

40۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت فمن شاء اتخذ الی ربہ ماٰبا۔ جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔ سے مراد ہے راستہ۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تمہیں عنقریب آجانے والے عذاب سے ڈرایا ہے جس دن انسان ان اعمال کو دیکھ لے جا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے، اور کافر کہے گا ہائے کاش میں مٹی ہوجاتا

41۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ینظر المرء جس دن آدمی دیکھے گا میں المرء سے مراد ہے مومن۔ 42۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت یوم ینظر لمرء ما قدم یدہ جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے بھیجا تھا پڑھی اور فرمایا اس مراد وہ مومن ہے جو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے مطابق عمل کرتا ہے۔ 43۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث فی النشور میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا تمام مخلوق کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا یعنی جانور، چوپائے پرندے اور ہر چیز کو، بس اللہ کا انصاف ان تک پہنچے گا۔ اس طرح پر کہ ایسا جانور جس سینگ نہیں تو اس کے لیے وہ سینگ والے جانور سے انتقام لے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو مٹی ہوجا تو اس وقت کافر کہے گا یلیتنی کنت تربا اے کاش میں مٹی ہوگیا ہوتا۔ 44۔ الدینوری نے المجالسہ میں یحییٰ بن جعدہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن اللہ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کا حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور حتی کہ کوئی چیز بھی اپنے ظلم کے ساتھ ختم نہیں ہوگی۔ پھر ان کو مٹی بنادیا جائے گا۔ پھر جنات اور انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور ان کا حساب لیا جائے گا تو اس دن کافر یہ تمنا کرے گا آیت یلیتنی کنت ترابا۔ 45۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جس جانور کو چونچ ماری گئی تو اس کا قصاص لیا جائے گا چونچ مارنے والی سے اور لات ماری ہوئی کا قصاص لیا جائے گا لات مارنے والی سے اور بےسینگ والی کا قصاص لیا جائے گا سینگ والی سے اور لوگ دیکھ رہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں مٹی ہوجاؤ نہ ان کے لیے جنت ہوگی اور نہ دوزخ اس وقت کافر کہتے گا یلیتنی کنت ترابا۔ 46۔ عبد بن حمید وابن شاہین نے کتاب العجائب والغرائب میں ابو الزناد (رح) سے روایت کیا کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور جنت والوں کو جنت کی طرف اور دوزخ والوں کو دوزخ کی طرف حکم دیا جائے گا پھر ساری امتوں سے اور مومن جنات سے کہا جائے گا مٹی کی طرف لوٹ جاؤ تو وہ مٹی میں بدل جائیں گے یعنی مٹی ہو کر ختم ہوجائیں گے۔ اس وقت کافر کہے گا جب ان کو مٹی کی طرف لوٹتے دیکھے گا آیت یلیتنی کنت ترابا کاش میں بھی مٹی ہوجاتا۔ 47۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب جانوروں کا حساب لیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ ان کو مٹی بنادیں گے تو اس وقت کافر کہے گا آیت یلیتنی کنت ترابا کاش میں بھی مٹی ہوجاتا۔ 48۔ عبد بن حمید نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ جنات مٹی ہوجائیں گے۔ 49۔ ابن ابی الدنیا نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ جنات کا ثواب یہی ہوگا کہ وہ جہنم سے بچالیے جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا تم مٹی ہوجاؤ۔