Ayahs 78:1–3یہاں سے سورة النباء شروع ہو رہی ہے اس کے ابتداء میں لفظ عم ہے یہ عن حرف جار اور ما استفہامیہ سے مرکب ہے اس میں آخر سے الف ساقط ہوگیا اور نون ساکن کا میم میں ادغام کردیا گیا۔
تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو قریش مکہ آپس میں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے (قرآن مجید میں قیامت کا ذکر بھی ہوتا تھا) اسے سن کر بعض لوگ تصدیق کرتے اور بعض تکذیب کرتے تھے اور معالم التنزیل میں ہے کہ وہ لوگ قیامت کی باتیں سن کر کہتے تھے : ما جاء بہ محمد ﷺ کہ (محمد ﷺ کیا لے کر آئے ہیں ؟ ) ان لوگوں کی اس گفتگو پر ﴿ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۚ001 ﴾ نازل ہوئی کہ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں پھر خود ہی جواب دے دیا کہ بڑی خبر کے بارے میں آپس میں سوال کرتے ہیں جس میں اختلاف کر رہے ہیں کوئی منکر اور کوئی تصدیق کر رہا ہے۔
Ayahs 78:4–8مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔
فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟ زمین کو پیدا فرمایا پھر اسے پھیلا دیا اور بڑے بڑے بوجھل پہاڑ اس میں پیدا فرما دیئے تاکہ وہ حرکت نہ کرے بندے اس زمین پر چلتے پھرتے ہیں سفر کرتے ہیں گاڑیاں دوڑاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، پھر فرمایا کہ ہم نے تمہیں ازواج بنا دیا یعنی تم میں مرد بھی پیدا کیے اور عورتیں بھی تاکہ آپس میں میاں بیوی بنتے ہو، ایک دوسرے سے انس حاصل کرتے ہو پھر مرد عورت کے ملاپ سے اولاد پیدا ہوتی ہے جس سے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔
Ayahs 78:9–13پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔
رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں دن کی روشنی میں رزق حاصل کرتے ہیں دن بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور رات بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اگر ہمیشہ دن ہی دن ہوتا یا رات ہی رات ہوتی تو بڑی مصیبت میں آجاتے۔
اللہ تعالیٰ نے اوپر سات آسمان بھی بنائے ہیں جو اس کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتے ہیں نیز سراج وھاج (روشن چراغ) یعنی آفتاب بھی پیدا فرمایا جو خود روشن ہے اور اس دنیا کو روشن کرنے والا بھی ہے، روشنی کے سوا اس کے اور بھی بہت سے منافع ہیں جیسے پھلوں کا پکنا اور کھیتی کا تیار ہونا اور بقدر ضرورت حرارت حاصل ہونا بھی ہے اور نئی ایجادات اور نئے آلات کی وجہ سے تو سورج کے بہت سے فوائد سامنے آگئے ہیں۔
Ayah 78:14پھر فرمایا کہ ہم نے پانی سے بھرے ہوئے بادلوں سے خوب زیادہ بہنے والا پانی اتارا اور اس پانی کو زمین کی سرسبزی کا سامان بنا دیا اس کے ذریعے کھیتیاں اگتی ہیں گیہوں جو وغیرہ اگتے اور باغات میں پھل پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں کی خوراک ہیں اور اسی پانی کے ذریعے گھانس پھونس اور بہت سی ایسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں جو چوپایوں کی خوراک ہیں، چوپائے اپنی خوراک کھاتے ہیں اور انسان کے کام آتے ہیں دودھ بھی دیتے ہیں اور کھیت کیا ری میں اور بوجھ ڈھونے میں کام آتے ہیں۔
Ayahs 78:15–16انسانوں اور جانوروں کی غذا کا تذکرہ فرماتے ہوئے ﴿ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ0015﴾ فرمایا اور پھل لانے والے درختوں کے لیے ﴿ وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ0016﴾ فرمایا یعنی ہم نے گنجان باغ پیداکیے۔
لفظ ﴿اَلْفَافًا ﴾ کا مادہ لفف ہے جو لپٹنے کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ باغوں میں جو درخت آس پاس کھڑے ہوتے ہیں اور ایک درخت کی ٹہنیاں دوسرے درخت میں گھسی ہوئی رہتی ہیں اس کیفیت کو آپس میں ایک دوسرے سے لپٹ جانے سے تعبیر فرمایا۔ لفظ ﴿اَلْفَافًا ﴾ کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (یہ بظاہر جمع ہے لیکن) اس کا کوئی واحد کا صیغہ نہیں ہے جیسا کہ اوزاع اور اخباف جماعات متفرقہ کے لیے مستعمل ہوتے ہیں اور ان کا واحد کا صیغہ کوئی نہیں ہے اور امام کسائی سے نقل کیا ہے کہ یہ لفیف کی جمع ہے جیسے شریف و اشراف پھر جمہور اہل لغت کا قول لکھا ہے کہ یہ لف بکسر اللام کی جمع ہے جو ملفوف کے معنی میں ہے۔
Ayahs 78:17–20اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع ہوجائیں گے اور آسمان کا یہ حال ہوگا کہ اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے یعنی کثیر تعداد میں بہت سے دروازے ظاہر ہوجائیں گے۔
قال صاحب الروح بتقدیر مضاف الی السماء ای فتحت ابواب السماء فصارت کان کلھا ابواب۔
اور پہاڑوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنی جگہوں سے چلا دیئے جائیں گے۔ سورة النحل میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾ (اور تو پہاڑوں کے بارے میں خیال کرے گا کہ وہ ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ایسے گزریں گے جیسے بادل گزرتے ہیں) ۔
پہاڑ اپنی جگہوں سے ٹل جائیں گے اور ان کی حالت اور کیفیت بھی بدل جائے گی اور وہ سراب یعنی ریت بن جائیں گے۔ سورة مزمل میں فرمایا ﴿ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 0014﴾ (جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ چلنے والی ریت بن جائیں گے) ۔
اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004 وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005 فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔
Ayah 78:21قیامت کا وقوع وقت معین پر ہوگا۔ اس دن کیا کیا حالات سامنے آئیں گے اس کا تذکرہ فرما کر میدان قیامت میں حاضر ہونے والی دونوں جماعتوں کا انجام بتایا، پہلے کفر و شرک والوں کی سزا بتائی ﴿ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ0021﴾ سے شروع ہے پھر متقیوں کا انعام بتایا جس کی ابتداء ﴿اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ سے ہے، آیات بالا میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے اس میں کام کرنے والے فرشتے جو عذاب دینے پر مامور ہیں وہ انتظار کرتے ہیں کہ کفار و مشرکین اس میں کب داخل ہوتے ہیں جیسے ہی آئیں ان کا عذاب شروع کردیا جائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (مرصاد) جہنم کی صفت ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ اس انتظار میں ہے کہ میرے اندر داخل ہونے والے کب آتے ہیں، آئیں اور مبتلائے عذاب ہوں یہ معنی لینا بھی بعید نہیں ہے۔ کیونکہ سورة ٴ فرقان میں فرمایا ہے ﴿ اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّ زَفِيْرًا 0012﴾ (دوزخ جب ان کو دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش اور خروش سنیں گے) ۔
Ayah 78:22﴿ لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰبًاۙ0022﴾ (دوزخ سرکشی کرنے والوں کے لوٹنے کی جگہ ہوگی) یعنی دوزخ ان کا ٹھکانہ ہوگا وہ اسی میں رہیں گے۔ سب سے بڑی سرکشی کفر اور شرک ہے کافروں و مشرکوں کے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ انہیں دوزخ ہی میں رہنا ہوگا۔
Ayah 78:23﴿ لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ0023﴾ (جس میں وہ زمانہ ہائے دراز تک رہیں گے) لفظ احقاب حقب کی جمع ہے حضرت حسن بصری ؓ نے اس کی تفسیر غیر محدود زمانہ سے کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک حقبہ اسّی (80) سال کی مدت کا نام ہے اور ساتھ ہی سلف سے یہ بھی منقول ہے کہ ان اسّی سالوں کا ہر دن دنیا کے ہزار سال کے برابر ہوگا بہرحال نص قرآنی سے یہ ثابت ہوا کہ اہل کفر کو دوزخ میں بقدر مدت احقاب رہنا ہوگا، چونکہ احقاب کی گنتی نہیں بتائی کہ کتنے احقاب ہوں گے اور سورة ٴ نساء اور سورة الجن میں اہل کفر کی سزا بیان کرتے ہوئے خالدین کے ساتھ ابدا بھی فرمایا ہے جیسا کہ دوسری آیات میں اہل جنت کے لیے بھی ﴿خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا 1ؕ﴾ وارد ہوا ہے اس لیے اہل سنت والجماعت کی عقائد کی کتابوں میں یہ ہی عقیدہ لکھا ہے کہ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جو کفار اور مشرکین جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے نہ اہل جنت کا انعام ختم ہوگا نہ اہل دوزخ کا عذاب۔ اسی لیے مفسرین نے فرمایا ہے کہ احقابا کا مطلب یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے ہمیشہ ایک حقبہ ختم ہوگا تو دوسرا شروع ہوجائے گا اور مسلسل عذاب دائمی میں رہیں گے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔
اذلا فرق بین تتابع الاحقاب الکثیرة الٰی مالا یتناھی وتتابع الاحقاب القلیلة كذلك۔ (روح المعانی صفحہ 71: ج 30) وقال البغوی فی معالم التنزیل قال الحسن ان اللہ لم یجعل لاھل النار مدة بل قال لابثین فیھا احقابا فو اللہ ما ھو الا اذا مضی حقب دخل آخر ثم آخر الٰی الابد فلیس للاحقاب عدة الا الخلود۔
Ayah 78:24﴿ لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ0024﴾ (دوزخ میں داخل ہونے والے سرکش اس میں کوئی ٹھنڈک نہ پائیں گے نہ وہاں کی آب و ہوا میں ٹھنڈک ہوگی جو آرام دہ ہو اور نہ پینے کی چیزوں میں کوئی ایسی چیز دی جائے گی جس میں مرغوب ٹھنڈک ہو، جو ٹھنڈک عذاب دینے کے لیے ہوگی (یعنی زمھریر) جس کا بعض احادیث میں ذکر آتا ہے اس میں اس کی نفی نہیں ہے۔
قال صاحب الروح والمراد بالبردما یروحھم وینفس عنھم حر النار فلا ینافی انھم قد یعذبون بالزمھریر۔
Ayah 78:25﴿ اِلَّا حَمِيْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ0025﴾ (پینے کے لیے انہیں گرم پانی اور غساق کے سوا کچھ نہیں دیا جائے گا) ۔ اس گرم پانی کے بارے میں سورة ٴ محمد میں فرمایا ﴿ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ 0015﴾ (اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا) اور غساق کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اگر غساق کا ایک ڈول دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والے سڑ جائیں (مشکوٰۃ المصابیح) ۔ ” غساق “ کیا چیز ہے ؟ اس کے متعلق اکابر امت کے مختلف اقوال ہیں صاحب مرقاۃ نے چار قول نقل کیے ہیں : (1) دوزخیوں کی پیپ اور ان کا دھو ون مراد ہے۔ (2) دوزخیوں کے آنسومراد ہے۔ (3) زمہریر یعنی دوزخ کا ٹھنڈک والا عذاب مراد ہے۔ (4) غساق سڑی ہوئی اور ٹھنڈی پیپ ہے جو ٹھنڈک کی وجہ سے پی نہ جاسکے گی۔
Ayahs 78:26–30﴿جَزَآءً وِّفَاقًاؕ0026﴾ (یہ جو ان لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ان کے عقیدہ اور عمل کا پورا پورا بدلہ ہوگا) کفر اور شرک بدترین عمل ہے اس لیے ان کا عذاب بھی بدترین ہے اور چونکہ ان کی نیت یہ تھی کہ مشرک ہی رہیں گے اور اسی پہ ان کی موت آئی اس لیے عذاب بھی دائمی رکھا گیا۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ0027﴾ (بلاشبہ وہ حساب کا خیال نہیں رکھتے تھے) ﴿ وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًاؕ0028﴾ (اور انہوں نے ہماری آیات کو دلیری کے ساتھ جھٹلایا) ﴿ وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ0029﴾ (اور ہم نے ہر چیز کو کتاب میں پوری طرح لکھ دیا ہے) ﴿ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا (رح) 0030﴾ (سو تم چکھ لو، سو ہم تمہارے لیے عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے) ۔
Ayahs 78:31–35اہل کفر اور اہل شرک کا انجام اور عذاب بتانے کے بعد متقی حضرات کے انعام و اکرام کا تذکرہ فرمایا، تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں، سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے کہ کفر و شرک سے بچے اور اس کے بعد گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے اور اس کے بھی درجات مختلف ہیں حسب درجات انعامات ہیں فرمایا ﴿ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ (بلاشبہ تقویٰ والوں کے لیے کامیابی ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ مفازا مصدر میمی ہو اور اگر اسم ظرف لیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ (متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے) اس کے بعد کامیابی پر ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ0032﴾ (یعنی ان حضرات کو باغیچے ملیں گے اور انگور ملیں گے) حدائق حدیقۃ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری ہو اسے حدیقہ کہا جاتا ہے اور گو حدائق کے عموم میں انگور بھی داخل ہوگئے لیکن ان کو علیحدہ بھی ذکر فرمایا کیونکہ پھلوں کی یہ جنس دوسرے پھلوں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتی ہے، مزید فرمایا ﴿وَّ كَوَاعِبَ﴾ اور ساتھ ہی اترابا بھی فرمایا۔ کا عب نوخیز لڑکی کو کہتے ہیں : التی تکعب ثدیاھا واستدار مع ارتفاع یسیر اور اتراب ترب کی جمع ہے جس کا ترجمہ ہم عمر کیا گیا ہے، اس میں یہ بات بتادی کہ وہاں میاں بیوی سب ہم عمر ہوں گے۔ دنیا میں عمروں کے بےت کے تفاوت میں جو زوجین کو بدمزگی پیش آتی رہتی ہے اسے جاننے والے جانتے ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں جانے والا جو شخص بھی اس دنیا سے رخصت ہوگا چھوٹا ہو یا بڑا (داخلہ جنت کے وقت) سب تیس سال کے کردیئے جائیں گے اس سے کبھی آگے نہیں بڑھیں گے۔
رسول اللہ ﷺ کے مزاح کا ایک واقعہ جو سورة ٴ واقعہ کے پہلے رکوع کے ختم پر ہم نے لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ ﴿ وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ (اور متقیوں کے لیے لبالب بھرے ہوئے جام ہوں گے) یہاں قدروھا تقدیرا کے مضمون سے اشکال نہ کیا جائے کیونکہ جنہیں اور جس وقت پورا بھرا ہو اجام پینے کی رغبت ہوگی انہیں لبا لب پیش کیا جائے گا۔ ﴿ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ0035﴾ (وہاں نہ کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹی بات) وہاں جو کچھ ہوگا سچ ہوگا اور نہ صرف یہ کہ کوئی غلط بات نہ ہوگی بلکہ جس بات کا کوئی فائدہ نہ ہوگا وہ وہاں سننے میں بھی نہ آئے گی۔ ایسی بات کو لغو کہا جاتا ہے۔
Ayah 78:36﴿جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ0036﴾ (متقی حضرات کو جو اکرام اور انعام سے نوازا جائے گا یہ ان کے ایمان اور اعمال صالحات کا بدلہ ہوگا اور جو کچھ ملے گا کافی ہوگا یعنی وہ اتنا زیادہ ہوگا کہ ان کی تمام خواہش پوری ہوں گی اور مزید جو کچھ اضافہ ہوگا وہ اپنی جگہ رہا۔
Ayah 78:37﴿رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ ﴾ (متقی حضرات کو جو صلہ ملے گا وہ پر ورگار جل مجدہ کی طرف سے عطیہ ہوگا، وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کا مالک ہے اور رحمٰن ہے)
﴿لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ0037﴾ (اس دن کوئی بھی اس سے خطاب نہ کرسکے گا)
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : والمراد نفی قدرتھم علٰی ان یخاطبوہ عزوجل بشی من نقص الاوزارو زیادة الثواب من غیر اذنہ تعالیٰ ۔ یعنی جو عذاب میں مبتلا کردیا گیا وہ عذاب کم کرنے کی درخواست نہ کرسکے گا اور جسے ثوب دے دیا گیا وہ اور زیادہ طلب کرنے لگے اس بارے میں کسی کی ہمت نہ ہوگی ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اجازت دے دے تو وہ بات کرسکے گا جیسا کہ آئندہ آیت میں آ رہا ہے۔
Ayah 78:38﴿يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا ﴾ (یعنی روح والی مخلوق اور فرشتے سب صف بنا کر کھڑے ہوں گے) اور بہت سی صفیں ہوں گی۔
﴿لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا 0038﴾ (یہ حاضر ہونے والے بات نہ کرسکیں گے مگر وہی شخص بول سکے گا جسے رحمٰن جل مجدہ اجازت دے اور اجازت ملنے پر ٹھیک بولے) ۔
یعنی جسے اجازت ملے گی وہ بھی مقید ہوگی ایسا نہیں کہ جو چاہے بولنے لگے، ٹھیک بات میں سے ایک یہ ہے کہ جس کے لیے سفارش کی اجازت دی جائے اسی کے لیے سفارش کی جاسکے گی۔ سورة الانبیاء میں فرمایا ﴿ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ 1ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 0028﴾ (اور فرشتے صرف اسی کے لیے سفارش کرسکیں گے جس کے لیے اللہ کی مرضی ہو)
Ayah 78:39﴿ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ 1ۚ﴾ (یہ دن یقینی ہے) ﴿ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا 0039﴾ (سو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے) یعنی ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے اور موت تک اسی پر باقی رہے۔
Ayah 78:40﴿اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا 1ۖۚ۬﴾ (بلاشبہ ہم نے تمہیں ایسے عذاب سے ڈرایا ہے جو عنقریب آنے والا ہے) یعنی آخرت کا عذاب، اس کو قریب اس لیے فرمایا کہ جو چیز آنے والی ہے وہ ضرور آ کر ہی رہے گا۔ ﴿ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ﴾ (جس دن انسان دیکھ لے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی دنیا میں جو کچھ اعمال کیے ہوں گے انہیں اپنے اعمال نامہ میں پالے گا۔ سورة ٴ کہف میں فرمایا ﴿ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ﴾ (اور جو کچھ عمل انہوں نے کیے تھے انہیں موجود پائیں گے) اور سورة زلزال میں فرمایا : ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (سو جس شخص نے ذرہ کے برابر خیر کا عمل کیا ہوگا اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ کے برابر برائی کا عمل کیا ہوگا اسے دیکھ لے گا) ۔
﴿وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا (رح) 0040﴾ (اور کافر کہے گا کہ ہائے كاش میں مٹی ہوجاتا) ۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن چوپائے جانور چرند پرند جمع کیے جائیں گے پھر ان کے درمیان دنیا میں جو مظالم ہوئے تھے ان کا بدلہ دلایا جائے گا یہاں تک کہ سینگ مارنے کا بدلہ سینگوں والی بکری سے بےسینگوں والی بکری کا بدلہ دلایا جائے گا۔ جب جانوروں کو ایک دوسرے سے بدلے دلا دیئے جائیں گے تو ان سے فرما دیا جائے گا کہ تم مٹی ہوجاؤ، جب کافر یہ منظر دیکھیں گے تو یہ جان کر کہ ہم سے تو جانور ہی اچھے رہے بدلے دلا کر ان کا کام تمام ہوگیا اور آگے ان کے لیے کوئی عذاب نہیں اب یہ مٹی بنا دیئے گئے ان کے لیے ثواب نہیں تو عذاب بھی نہیں ہمارے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ كاش ہم بھی مٹی ہوجاتے تو کیسا اچھا ہوتا۔
اور بعض مفسرین نے ﴿ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا﴾كا یہ مطلب بتایا ہے کہ عذاب کو دیکھ کر کافر یوں کہیں گے کہ کاش ہم پیدا ہی نہ ہوتے، نہ ایمان کی اور اعمال کی تکلیف دی جاتی نہ نافرمان ہوتے نہ عذاب میں مبتلا ہوتے۔
وھذا آخر تفسیر سورة النبا والحمد للہ اولا وآخرا و باطنا وظاھرا