78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsسراج البیان

Ayahs 78:1–5

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

لوگ آپس میں کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑی چیز سے

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر انہیں عنقریب ہی معلوم (ف 1) ہوجائے گا

سورة النباء 1: قیامت کے تخیل کو اس تفصیل اور اس اہمیت کے ساتھ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے مکہ کے مادہ پرست مشرکین کو جو مذہبی معارف سے محض ناآشنا تھے ۔ یہ بات قرین عقل وثواب نظر نہیں آتی تھی ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ دنیائے زینت و آرائش یکایک ایک دن تباہی و بربادی کے ساتھ بدل جائے گی ۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ محض طبع زاد حیثیت رکھتا تھا ۔ جس سے مقصود لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرتا تھا ۔ اس لئے اس کے متعلق اکثر بحث رہتی کہ قیامت کے امکانات کیا ہیں اور وہ کب وقوع پذیر ہوگی ۔ کیونکر ایسا ہوگا کہ یہ عالم آن کی آن میں تہ وبالا ہوجائے ۔ اس پر اس سورت میں ان کو بتایا کہ آج تمہاری عقول نے اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ تم اس کی حقیقت کو سمجھ سکو ۔ قرآن کا یہ مسئلہ تمہاری عقل سے کہیں بالا ہے ۔ اس کی نظریں آج سے چودہ سو سال بعد میں آنے والے علوم پر ہیں ۔ زمانہ گزرنے دو ۔ فکرودانش کو ترقی و عروج کی کچھ منزلیں طے کرنے دو ۔ اس کے بعد آپ سے آپ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قرآن میں جو کچھ ہے حق وصداقت ہے اور قیامت اسی طرح ایک حقیقت ہے جس طرح دن کے بعد رات کا آنا اور زندگی کے بعد موت کا درود ۔ چناچہ یہی ہوا وہ بات جو اس وقت مضحکہ خیز تھی ۔ آج اس کی حیثیت (سائنٹیفک ٹروتھ) یعنی حقیقت طبیعہ کی ہے ۔ آج طبیعات کے ماہرین نے اس نوح کے اندیشوں کا اظہار کیا ہے کہ یہ دنیا اور اس کی قوتیں اور اس کے متابع حیات سب فنا پذیر ہیں اور ایک وقت آنے والا ہے جب کہ یہ عالم رنگ وبو صفحہ کون سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا ۔ سب سے زیادہ امکان سورج کی طرف سے ہے کہ اس کی روشنی ایک دن میں کئی ٹن حرارت کو ختم کررہی ہے ۔ اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بالآخر یہ کرہ انار اپنی کل حرارت کھودے گا اور یہی قیامت ہے ۔ غور فرمایا آپ نے صاحب قرآن کا علم ؟ کیا اس کے خوارق علمیہ کے اظہار کے بعد بھی یہ رائے درست ہے ۔ کہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں ہے ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ یتساء لون ۔ باہم ایک دوسرے سے پوجتے ہیں النباء ۔ اہم بات سباتا ۔ سبت کے معنی اصل میں قطع کرنے کے ہیں ۔ نیند چونکہ بےآرامی کو دور کردیتی ہے ۔ اور دن بھر کی کو فتوں اور مصیبتوں سے رشتہ غور وفکر کو منقطع کردیتی ہے ۔ اس لئے اس کو سباتا کہا جاتا ہے ۔ یعنی منقطع کرنے والی ۔
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں (ف 2)

ف 2: پہاڑوں کو میخیں بنانے کے معنی یہ ہیں کہ نظریہ جذب شمسی کی تائید فرمائی ہے ۔ یعنی جب یہ زمین سورج سے وزن میں کہیں کم ہے ۔ اور سورج اپنے اندر جذب و کشش رکھتا ہے ۔ تو پھر زمین کیوں سورج کی طرف نہیں پرواز کرجاتی ۔ اس کا جواب یہ مرحمت فرمایا ہے کہ پہاڑوں کی وجہ سے زمین کا ثقل اتنا بڑھ گیا ہے ۔ کہ اب سورج کی کشش اس کو اپنی طرف کھینچ کر نہیں لے جاسکتی ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک توازن سا قائم ہے اور زمین اس وجہ سے محفوظ ہوگئی ہے ۔
Ayahs 78:8–12

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا بنایا

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو آرام کا سبب ٹھہرایا

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو اوڑھنا ٹھہرایا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو ہم نے کمانے کے لئے بنایا

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات (ف 1) مضبوط آسمان بنائے

ف 1: سبعا شدادا سے مراد کئی نظام کواکب ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نہایت محکم اور مضبوط ہیں ۔ سبع کا لفظ یہاں عدد کے لئے نہیں ۔ بلکہ تکثیر کے لئے ہے ۔
Ayahs 78:13–17

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے ایک چمکتا چراغ بنایا

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور نچوڑنے والی بدلیوں سے پانی کاریلا نازل کیا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے دانہ اور سبزہ نکالیں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور لپٹے ہوئے باغ

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلہ کا دن مقرر ہے

ف 2: یوم الفصل کے اثبات کو بطور نتیجہ کے بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ کائنات کی افادیت پر غور کرو گے اور جب اس حقیقت کے متعلق سوچو گے کہ آخر بےجان مادہ نے نفع اور فائدہ کی شکلیں ہی کیوں اختیار کی ہیں اور یہ دنیا باضابطہ اور قاعدے کے مطابق کیوں تجویز کی گئی ہے تو اس کا جواب خودبخود سوجھے گا ۔ وہ یہی ہوگا کہ یہ نظام علیم و حکیم خدا کا مقرر کردہ ہے ۔ تخمین و مجازفہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اور اس کے پیدا کرنے سے ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے پیش ہوکر ایک دن بتائے کہ اس نے اس دنیا کی نعمتوں سے کیونکر استفادہ کیا ہے ؟ ۔
Ayahs 78:18–21

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن نرسنگا پھونکا جائے گا تو تم گروہ گروہ چلے آؤ گے

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھولا جائے گا تو دروازے ہوجائیں گے

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو ریت ہوجائیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک (ف 1) دوزخ تاک میں ہے

مقام غضب 1: جہنم نام ہے اللہ کے مقام غضب کا ۔ یعنی جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں ، حدود فطرت و اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی میں منہیات کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے جس مقام اور جس جگہ کو تجویز فرماتا ہے وہ مقام غضب وسخط ہے اور اس کو قرآن کی اصطلاح میں جہنم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعریف میں فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ منتظر ہے کہ کب گناہ گار مخلوق آتی ہے اور اس کے پیٹ کو بھرتی ہے ۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو لوگ توازن اور انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اخلاق وروحانیت کی حدود طبعی کو پھاند جاتے ہیں ۔ وہ ان کی جگہ ہے ۔ حل لغات :۔ الفافا ۔ گھنے گھنے ۔ گنجان مرصادا ۔ یا ظرف مکان ہے ۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ اور یا مبالغہ کے لئے ہے ۔ یعنی شدت کے ساتھ منتظر احقابا ۔ حقبہ کی جمع ہے ۔ مدت کثیر ۔
Ayahs 78:22–30

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

وہاں وہ قرنوں رہیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہاں وہ نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کچھ پینے کو ملے گا

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر کھولتا پانی اور پیپ

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

پورا بدلہ ہے

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ حساب کی امیدنہ رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ٹکرا کر ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر شے گن کر لکھ رکھی ہے

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو اب چکھو کہ ہم تمہارے لئے سوائے (ف 1) عذاب کے اور کچھ نہ بڑھائیں گے

ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی تکذیب کی اور آیات وبراہین کا مضحکہ اڑایا ۔ آج ان سے کہا جائے گا کہ تمہارا ایک ایک عمل دفتراحتساب میں مشبت ہے ۔ اس لئے اب اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں کہ سزا پاؤ اور عذاب کا مزہ چکھو ۔ جو کم تو کیا ہوگا ۔ ، البتہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ضرور جائے گا ۔
Ayahs 78:31–36

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک متقیوں کو مراد ملتی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

وہ باغ اور انگور ہیں

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوجوان ہم عمر عورتیں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے پیالے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں نہ کوئی بےیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھٹلانا

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ تیرے رب کا حساب (ف 2) سے دیا ہوا بدلہ ہے

ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد عسر اور تنگی ہے ۔ اور ہر خوشی کے بعد غم ہے اور یاس و محرومی ۔ حل لغات :۔ بردا ۔ ٹھنڈک ۔ بعض کے نزدیک اس کے معنی نیند کے ہیں ۔ غساقا ۔ خاشک کا معرب ہے ۔ یعنی ردی چیز یاردی شراب ۔ پیپ یا وہ زردی مائل گندہ پانی جو زخم سے نکلتا ہے ۔ کو اعب جمع کا عب تیزوتند ابھار والی عورتیں ۔ نوخاستہ دھاپا ۔ چھلکتے ہوئے پر اور لبالب عطاء حسابا ۔ کافی یا بہت زیادہ ۔ جیسا کہ ابن قتیبہ نے تشریح کی ہے ۔
Ayahs 78:37–40

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہے اس کا رب ہے ۔ بڑی مہر والا ہے قدرت نہ ہوگی کہ کوئی اس سے بول سکے

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح اور فرشتے قطار باندھ کر کھڑے ہوں گے اس دن سوائے اس کے جسم رحمن حکم دے اور وہ ٹھیک بولے اور کوئی نہ بول سکے گا

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن ضرور آنے والا ہے ۔ سو جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانہ بنارکھے

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم تمہیں (ف 1) نزدیک آنے والے عذاب سے ڈراچکے ۔ جس دن آدمی دیکھے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا

ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔