Ayah 78:1(78:1) عم یتساء لون : عما کس چیز سے یہ اصل میں عن ما تھا نون کا میم میں ادغام کیا گیا ہے۔ کیونکہ ن اور م دونوں غنے میں شریک ہیں۔ اور ما کے الف کو اس لئے حذف کیا گیا ہے تاکہ ما استفہامیہ اور ما خبریہ میں تمیز باقی رہے۔ جس طرح سے نیم اور مم میں آیات ذیل میں ہوا ہے :۔
(1) فیم کی مثال : ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4: 97) ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے جب فرشتے قبض کریں گے تو ان سے کہیں گے کہ تم کس کام میں تھے۔ وہ بولیں گے ہم اس ملک میں بےبس تھے ۔ (ترجمہ عبد الماجد دریا بادی (رح))
(3) مم کی مثال :۔ فلینظر الانسان مم خلق (89:15) تو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کا ہے سے پیدا ہوا۔
یتساء لون : مضارع جمع مذکر غائب تساء ل (تفاعل) مصدر۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ یتساء لون میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کون ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) جمہور کے نزدیک یہ پوچھنے والے یا چرچا کرنے والے کفار تھے۔ اس لئے کہ اس کے بعد کلا سیعلمون اور ہم فیہ مختلفون میں ضمیریں کفار کی طرف پھرتی ہیں اس لئے یتساء لون کی ضمیر بھی انہیں کی طرف پھرنی چاہیے۔
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمان و کفار باہم ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ کفار مسلمانوں پر شبہات پیش کرتے تھے۔ وہ جواب دیتے تھے۔ لہٰذا ضمیر جمع مذکر غائب ہر دو فریقین کی طرف پھر لوٹتی ہے۔
(3) تیسرا قول یہ ہے کہ مسلمان و کفار سب آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے تھے مسلمان اس لئے کہ اور بھی یقین قوی ہوجائے اور کفار تمسخر کی راہ سے یا شکوک و شبہات و ارد کرنے کی غرض سے (تفسیر حقانی) اول و ارجح ہے۔
Ayah 78:2(78:2) عن النباء العظیم : نبأ بمعنی خبر۔ عظیم بہت بڑی۔ اس سے کیا مراد ہے اس میں چند اقوال ہیں :۔
(1) اس سے مراد قیامت ہے بمصداق آیت شریفہ : قل ھو نبؤ عظیم انتم عنہ معرضون (38: 67:68) کہ وہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے۔
(2) نباء العظیم سے مراد قرآن شریف ہے۔
(3) اس سے مراد آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے۔
جمہور کے نزدیک نبأ العظیم سے مراد قیامت ہے۔ راجح و اولیٰ قول بھی یہی ہے جملہ عن النبأ العظیم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ عن (اول) سے بدل ہے۔ وہ ایک بہت بڑی (ہولناک چیز کی) خبر کے متعلق پوچھتے ہیں۔
(2) عن النبأ العظیم سے پہلے فعل یتساء لون محذوف ہے۔ اس صورت میں یہ عم یتساء لون (جملہ استفہامیہ) کا جواب ہوگا۔ سوال یہ تھا کہ یہ کس چیز کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ جواب ہوگا : یہ ایک بہت بڑی (ہولناک چیز کی) خبر کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔
(3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دوسرا جملہ بھی استفہامیہ ہو اور حرف استفہام محذوف ہو یعنی کیا یہ نباء عظیم کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہوگا۔
(4) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرا استفہام پہلے استفہام کی تاکید نہ ہو بلکہ انکاری ہو یعنی کیا یہ سچ مچ ہی نباء عظیم کے متعلق پوچھ رہے ہیں حالانکہ نبأ عظیم کے متعلق پوچھنا زیبا ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی حالت تو کھلی ہوئی ہے۔ اس کی شدت وضوح ناقابل سوال ہے۔ اس کی تو مان لینا ہی ضروری ہے (ملاحظہ ہو تفسیر مظہری)
Ayah 78:3(78:3) الذی ہم فیہ مختلفون : الذی اسم موصول باقی جملہ اس کا صلہ ہے۔ موصول و صلہ مل کرنبأ کی صفت ہے۔
ہم ضمیر جمع مذکر غائب یتساء لون کی ضمیر کی طرح کفار مکہ کی طرف راجع ہے یہ اس صورت میں ہوگا جب کہ سوال استہزائی یا انکاری قرار دیا جائے۔ اس حالت میں نبأ عظیم کے متعلق کفار مکہ کے مختلف ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کچھ لوگ نبأ عظیم کی صداقت کے قطعی منکر ہیں اور کچھ تردد میں پڑے ہیں۔
یہ بھی احتمال ہے کہ یتساء لون اور ہم کی ضمیریں اہل مکہ کی طرف راجع ہوں اہل مکہ میں کچھ مومن تھے اور کچھ کافر نبأ عظیم کے متعلق سوال کرنے والے دونوں گروہ تھے۔ ایک گروہ تصدیق کرتا تھا ۔ لیکن زیادتی یقین اور انکشاف حالات کے لئے سوال کرتا تھا۔
دوسرا گروہ منکر تھا اور محض استہزاء کے لئے سوال کرتا تھا۔ (ایضا)
Ayah 78:4(78:4) کلا سیعلمون : جمہور کے نزدیک کلا حرف بسیط (سادہ غیر مرکب ہے) ثعلب نحوی کے نزدیک مرکب ہے کاف تشبیہ اور لا نافیہ سے۔ حالت ترکیب میں ک اور لا کے انفرادی معنی باقی نہیں رہے اسی لئے لام کو مشدد کردیا گیا۔
سیبویہ، خلیل، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی حرف ردع اور روکنے کے ہیں۔ خواہ زجرو تو بیخ کے طور پر ہو یا بطور ترتیب اور ادب آموزی کے۔
اسی لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے ہر جگہ کلا پر وقف کرنا جائز ہے۔ لیکن مغنی اللبیب کے مصنف نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ کسائی اور ابو حاتم کا قول ہے کہ کلا اکثر زجر ومنع کے لئے آتا ہے اور کبھی دوسرے معنی کے لئے۔ لیکن دوسرے معانی کیا ہوتے ہیں اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔
صغار کے نزدیک کلا اسم ہے اور کسی کلام کو مسترد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی حقا کے معنی میں مستعمل ہے یہ کیسے معلوم ہو کہ کلا ردع اور رد کے معنی میں استعمال ہوا ہے یا حقا کے معنی میں ؟ اس بارے میں علامہ راکشی کا قول ہے۔
اگر وقف کلا پر ہو تو اس وقت ردع اور رد کے معنی میں ہوگا۔ اور اگر کلا سے پہلے وقف ہو اور کلا سے اگلے جملہ کی ابتداء ہو تو اس وقت حقا کے معنی میں ہوگا۔
جملہ زبر مطالعہ اور جملہ آئندہ (آیت 5) میں جملہ کی ابتداء کلا سے ہو رہی ہے اور وقف اس سے پہلے اس لئے یہاں کلا بمعنی حقا ہوگا۔ دیکھو ضیاء القرآن۔ سیعلمون : میں س مضارع پر داخل ہوکر اس کو مستقبل کے لئے خاص کردیتا ہے اور مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ یعلمون مضارع جمع مذکر غائب علم (باب سمع) مصدر سے یعلمون کا مفعول محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے وقوع پذیر ہونے کو۔
ترجمہ ہوگا :۔ بیشک (یہ لوگ) عنقریب (قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی حقیقت کو) جان لیں گے۔
Ayah 78:5(78:5) ثم کلا سیعلمون : ثم تراخی فی الرتبہ کے لئے آیا ہے پس ضرور ہی وہ بہت جلد قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی حقیقت کو جان لیں گے۔ جملہ کا تکرار مبالغہ کے لئے آیا ہے۔
Ayahs 78:6–7(78:6) الم نجعل الارض مھدا۔ یہاں سے لے کر آیت نمبر 16 تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو نو (9) مصنوعات کا ذکر کرکے اپنی توحید پر، قدرت حشر پر اور اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کے وجوب شکر پر دلیل ذکر کی ہے تاکہ توحید و عبادت کے داعی کی دعوت کو لوگ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔
أ ہمزہ استفہامیہ ہے لم نجعل مضارع منفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم نے نہیں بنایا۔
الارض مفعول اول مھدا مفعول ثانی۔ جعلنا کے۔ مھدا۔ بستر، ہموار میدان۔ اس کی جمع مھد ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا ہم نے زمین کو (تمہارے رہنے چلنے پھرنے کے لئے) فرش نہیں بنادیا ہے (یعنی ضرور بنادیا ہے) جملہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی استفہام کی غرض یہ ہے کہ مخاطب کو اقرار و عبادت پر آمادہ کیا جائے۔
یا یہ استفہام انکاری ہے اور انکار نفی ثبوت کا فائدہ دیتا ہے۔
Ayah 78:8(78:8) وخلقنکم ازواجا : اس کا عطف مضارع منفی پر ہے ازواجا حال ہے خلقنکم کی ضمیر مفعول کم سے۔ اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا۔
Ayah 78:9(78:9) وجعلنا نومکم سباتا : واؤ عاطفہ، جعلنا ماضی جمع متکلم جعل (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بنانا، کرنا۔ پیدا کرنا۔ نومکم مضاف مضاف الیہ مل کر جعلنا کا مفعول اول : سباتا مفعول ثانی ہے۔ نوم آرام۔ راحت ، سکون۔ تکان کا رفع کرنا۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ السبت کے اصل معنی ہیں قطع کرنا ۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اسم نے تسمیہ کو کاٹا۔ سبت شعرہ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی آیت وجعلنا نومکم سباتا میں سبات کے معنی ہیں حرکت و عمل کو چھوڑ کر آرام کرنا۔ اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت لتسکنوا فیہ (28:73) (تاکہ تم رات میں راحت کرو) میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت اور سکون کے لئے بنایا ہے۔
ابن الاعرابی نے آیت ہذا میں سبات کو بمعنی قطع کرنے کے لیا ہے گویا جب سو گیا تو لوگوں سے قطع ہوگیا۔
زجاج کہتے ہیں کہ سبات یہ ہے کہ حرکت سے منقطع ہوجائے اور روح بدن میں موجود ہو۔ پس معنی یہ ہیں کہ تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا۔
اور علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقم طراز ہیں :۔ اور ہم نے نیند کو تمہارے اعمال (بیداری) کو قطع کردینے والی چیز بنایا تاکہ تمہارے جسمانی اعضا کو سکون و آرام مل جائے۔
Ayah 78:10(78:10) وجعلنا الیل لباسا : اور ہم نے رات کو اوڑھنا بنادیا۔ الیل ، لباسا مفعول اول و ثانی ہیں جعلنا کے۔
رات کو لباس اس واسطے کہا کہ یہ پردہ دار ہے اس پردہ میں کوئی برائی کرتا ہے کوئی بھلائی ، چور چوری کرتا ہے ، زنا کار چھپ کر زنا کرتا ہے عابد و زاہد نماز تہجد اور مراقبہ و ذکر میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور نیند کا وقت بھی رات ہی ہے۔ ستر کی وجہ سے رات کو لباس کہنا استعارہ ہے۔
Ayah 78:11(78:11) وجعلنا النھار معاشا : النھار اور معاشا بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہیں۔ معاشا اسم ظرف زمان بھی ہے۔ بوجہ ظرفیت منصوب ہوسکتا ہے معاشا مصدر بھی ہے۔ عاش یعیش (ضرب) سے۔ زندگی گزارنا۔ معاش۔ ذریعہ زندگی (ع ی ش مادہ) اور ہم نے دن روزگار کے لئے بنایا۔
Ayah 78:12(78:12) وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ واؤ عاطفہ۔ بنینا ماضی جمع متکلم بنی یبنی بناء (باب ضرب۔ ب ، ن، ی مادہ) مصدر۔ بنانا۔ تعمیر کرنا۔ فوقکم مضاف مضاف الیہ۔ متعلق فعل۔ سبعا اسم عدد مفعول۔ سات (آسمان) موصوف۔ شدادا۔ صفت، مضبوط، سخت، شدید کی جمع۔ اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
Ayah 78:13(78:13) وجعلنا سراجا وھاجا : سراجا چراغ۔ وہ چیز جو بتی اور تیل سے روشن ہوتی ہے۔ مجازا ہر روشن چیز کو سراج کہا جاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعلنا الشمس سراجا (71:16) اور اس نے سورج کو چراغ ٹھہریا ہے۔ وھاجا وھج یھج وھج : (باب ضرب) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت روشن، بھڑکتا ہوا ، جگمگاتا ہوا۔ مقاتل نے کہا ہے کہ وھج کا معنی ہے ایسی روشنی جس میں گرمی بھی ہو اللہ نے سورج میں نور بھی پیدا کیا اور گرمی بھی۔
آیت 71:16 متذکرہ بالا کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ میں بھی سراج سے مراد سورج ہے۔
Ayah 78:14(78:14) وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا : المعصرات اعصار (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ نچوڑنے والیاں المعصرۃ واحد۔ مراد وہ ہوائیں جو بادلوں کو دبا کر نچوڑتی ہیں یا وہ ہوائیں جو گرد اڑاتی ہیں جن کے نزدیک المعصرات سے مراد آسمان ہیں۔ ماء ثجاجا موصوف وصفت مل کر مفعول انزلنا کا ، ثجاجا زور و شور کے ساتھ برسنے والا۔ ثج (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی زور و شور کے ساتھ پانی کے برسنے اور بہنے کے ہیں۔ بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور ہم نے بادلوں کو نچوڑنے والی ہواؤں سے یا بادلوں سے زورشور سے برسنے والا پانی برسایا۔ ماء منصوب بوجہ مفعول انزلنا کے۔
Ayahs 78:15–16(78:15-16) لنخرج بہ حبا و نباتا و اخراج (افعال) مصدر۔ بہ میں ب سببیہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے۔ حبا دانہ۔ غلہ، اناج ، گندم اور جو وغیرہ اناج کے دانے کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ اس کی جمع حبوب ہے۔ نباتا گھاس، زمین سے اگنے والی ہر چیز، سبزی جنت الفافا موصوف و صفت الفافا بمعنی لپٹے ہوئے ، ایک دوسرے سے پیوست ، گنجان درخت۔ یہ لف کی جمع ہے جیسے جذع کی اجذاع ہے۔ یا لفیف کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے یا ایسی جمع جس کا کوئی واحد نہیں ہے جیسے اوضاع اگر لف کی جمع قرار دیا جائے تو یہ صیغہ جمع الجمع ہوگا۔ کیونکہ لف۔ لفافۃ کی جمع ہے اگر درخت گھنے ہوں تو ان کو الفاف کہا جاتا ہے جنۃ الفاف۔
حبا۔ نباتا۔ جنت منصوب بوجہ مفعول فعل نخرج کے۔
ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ ہم اس سے یعنی اس پانی کے سبب سے غلہ اور گھاس اور گھنے باغ پیدا کریں۔
Ayah 78:17(78:17) ان یوم الفصل کان میقاتا : کفار مکہ وقوع قیامت سے منکر یا متردد تھے اور اکثر پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے۔ اس کا جواب تو آیات 5 اور 6 میں پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ لیکن اتمام حجت کے لئے چند مظاہر قدرت آیات 6 تا 16 میں بطور ثبوت مذکور ہوتے۔
اب جب قطعی طور پر منکرین و مترددین پر ثابت کردیا گیا کہ جو ذات اقدس تمہاری چند روزہ دنیاوی زندگی کے لئے یہ سازو سامان پیدا کرسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے قیامت کے بربا کرنے پر بھی قادر ہے۔
پھر اس کے بعد چند احوال قیامت کے ارشاد ہوتے ہیں اور منکرین و مومنین کی سزاو جزاء کا بیان ہوتا ہے۔
ان یوم الفصل : ان حرف مشبہ بالفعل۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ، کان میقاتا خبر ان۔
الفضل : دو چیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اس طرح الگ کرنا کہ درمیان میں فاصلہ ہوجائے۔ اسی سے مفاصل (مفصل کی جمع) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں۔ قیامت کو یوم الفصل اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ حق کو باطل سے الگ کر دے گا۔ لوگوں کے درمیان (انصاف سے) فیصلہ کر دے گا۔
میقاتا۔ اسم ظرف زمان۔ منصوب، مقررہ وقت۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک فیصلہ کا دن مقرر و معین ہوچکا ہے۔
اور جگہ ارشاد فرمایا :۔ ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین (44:74) کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے۔
Ayah 78:18(78:18) یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا : یہ یوم الفصل سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ یا میقاتا سے بدل ہے یا کان کی دوسری خبر ہے۔ ینفخ مضارع مجہول واحد مذکر غائب نفخ (باب نصر) مصدر۔ وہ پھونکاجائے گا۔ سانس۔ پھونک، جھونکا ، غرور۔
الصور۔ نرسنگا ۔ سینگ۔ وہ چیز جس کو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے پھونکیں گے۔
فتاتون افواجا۔تعقیب کا ہے تاتون مضارع جمع مذکر حاضر، اثیان (باب ضرب) مصدر۔ تم آؤ گے۔
افواجا : تاتون کے ضمیر فاعل سے حال ہے، غول کے غول ۔ فوج در فوج ۔
ترجمہ ہوگا :۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور تم جوق در جوق چلے آؤ گے۔
Ayah 78:19(78:19) وفتحت السماء فکانت ابوابا : آسمان کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے ہی بن جائے گا۔ بطور مبالغہ آسمان کو ابواب قرار دیا۔ ابوابا بوجہ کانت کی خبر کے منصوب ہے۔
Ayah 78:20(78:20) و سیرت الجبال فکانت سرابا : سیرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تسییر (تفعیل) مصدر بمعنی چلانا۔ (س ی ر حروف مادہ) ۔ اور جب وہ پہاڑ چلائے جائیں گے (یعنی زمین سے اکھاڑ کر فضاء میں ذروں کی طرح پھیلا دئیے جائیں گے تو وہ سراب کی مانند (بےحقیقت) ہوجائیں گے کہ جسے آدمی پانی سمجھ کر آگے بڑھتا ہے جب قریب پہنچتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔
سرابا بوجہ کانے کی خبر کے منصوب ہے۔
Ayah 78:21(78:21) ان جھنم کانت مرصادا : رصد یرصد (باب نصر) سے اسم ظرف مکان ہے۔ بمعنی گھات (فیروز اللغات عربی اردو) گھات کی جگہ (لغات القرآن از ندوۃ المصنفین و تفسیر ماجدی) ۔ الرصد مصدر بمعنی گھات لگا کر بیٹھنا۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ المرصد گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے واقعدوا لہم کل مرصد (9:5) اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو اور مرصاد بمعنی مرصد آتا ہے لیکن مرصاد اس جگہ کو کہتے ہیں جو کہ گھات کے لئے مخصوص ہو۔ قرآن میں ہے ان جھنم کانت مرصادا (78:21) بیشک دوزخ گھات میں ہے۔
تو آیت میں اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ جہنم کے اوپر سے لوگوں کا گزر ہوگا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :۔ وان منکم الا واردھا (19:71) اور تم میں سے کوئی (ایسا بشر) نہیں جو جہنم سے اوپر ہوکر نہ گزرے۔
آیت ہذا میں مرصادا بوجہ خبر ہونے کانت کے منصوب ہے۔
Ayah 78:22(78:22) للطغین مابا۔ اگر آیت 21 میں جھنم کو فقط کفار کے لئے مرصاد لیا جائے تو طغین آیت 21 کے ساتھ آئے گا ای ان جھنم کانت مرصادا للطغین : (بےشک دوزخ طاغین کی گھات میں ہے۔ اس صورت میں مابا بدل ہوگا مرصادا سے۔
اور اگر آیت 21 میں جہنم کو کفار و مؤمنین دونوں کے لئے مراد لیا جائے تو مابا خبر ثانی ہوگی کانت للطغین کی، (لوٹنے کی جگہ)
مابا مصدر بھی ہے اور اسم ظرف مکان وزمان بھی۔ یعنی لوٹنا۔ لوٹنے کی جگہ، لوٹنے کا وقت۔ اوب ایاب بھی مصدر ہیں۔ اب یئوب (باب نصر) اواب اوابین اسی سے مشتق ہیں ۔ تاویب دن کے چلنے کو کہتے ہیں۔
طاغی جمع طغین۔ گناہوں میں حد سے بڑھ جانے والے ۔ طغی یطغی طغیان (باب ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ طغین بحالت جر و نصب، طاغون بحالت رفع۔
Ayah 78:23(78:23) لبثین فیہ احقابا : جملہ طاغین کی ضمیر مستکن سے حال ہے لہٰذا منصوب ہے۔
لبثین لبث (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ لبث لباث ولباثۃ بمعنی دیر تک رہنا۔ مدت تک رہنا۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جھنم ہے۔
احقابا : حقب کی جمع ہے اور بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ حقب کتنی مدت کو کہتے ہیں اس میں اسلاف و اہل لغت کا اختلاف ہے۔ مثلا حقب 80 سال جس کا ہر دن ہزار برس کا۔ (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) ۔ حقب 27 خریف کا۔ ہر خریف 700 سال کا، ہر سال 360 دن کا ہر دن ہزار برس کا۔ (مجاہد)
اسی طرح دوسرے اقوال ہیں :۔ لیکن کتنی ہی مدت بیان کی جائے پھر بھی وہ میعاد ختم ہوجائے گی۔ دوامی نہ ہوگی : اس لئے مقاتل نے صاف کہہ دیا کہ آیت فلن نزیدکم الا عذابا سے یہ آیت منسوخ ہے۔
لیکن حسن بصری (رح) فرمایا ہے :۔ کہ احقاب جمع ہے اور جمع کی کوئی آخری حد نہیں۔ اس لئے ہر حقب گزرنے کے بعد دوسرا حقب شروع ہوجائے گا اور اس طرح حقب کا سلسلہ ختم ہوگا۔
امام حسن بصری کی تشریح کے مطابق اس جگہ (لفظ احقابا کی وجہ سے) لبثین کا مطلب ہوگا ہمیشہ رہنے والے۔ (لغات القرآن) وہ اس میں حقبوں پڑے رہیں گے۔
Ayah 78:24(78:24) لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا : لا یذوقون مضارع منفی جمع مذکر غائب ذوق (باب نصر) مصدر سے۔ وہ نہیں چکھیں گے۔ فیہا ای فی جھنم، بردا۔ ٹھنڈک، شرابا پینے کی چیز، ہر وہ چہز جس کو چبانا نہ پڑے بلکہ پیا جائے عربی میں اس کے لئے شراب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہ وہاں نہ تو ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا۔ (یعنی ان کو نہ تو ایسی ٹھنڈک نصیب ہوگی جو جسم کو آرام اور سکون دے۔ اور نہ کوئی پینے کی چیز ایسی ملے گی جو پر ذائقہ بھی ہو اور پیاس کو بھی بجھا دے) ۔
Ayah 78:25(78:25) الا حمیما وغساقا : حمیما۔ سخت گرم۔ کھولتا ہوا پانی۔ غساقا پیپ، کج لہو۔ وہ گند کا مادہ جو زخموں سے نکلتا ہے۔ بہتی پیپ۔ اس صورت میں حمیما کا استثناء بردا سے ہے اور غساقا کا استثناء شرابا سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب دوزخیوں (طاغین) کو دوزخ کی آگ اندر سے اور باہر سے جلا رہی ہوگی اور وہ ٹھنڈک کے لئے بیتاب ہوں گے تو ان کو ٹھنڈک کی بجائے گرم اور کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ جو ان پر گرمی کی شدت کو اور تیز کر دے گا۔
اسی طرح جب اب کو شراب کی طلب ہوگی یعنی پینے کی ایسی چیز جو کہ ذائقہ بھی ہو اور ان کی پیاس کو تسکین بھی بخشے تو ان کو پینے کے لئے کج لہو اور دوزخیوں کے زخموں سے بہتی ہوئی گندی پیپ پینے کو دی جائے گی جو پینے کو اور بھی ناقابل برداشت کر دے گی۔
آیت 24 میں بردا و شرابا ، یذوقون کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں اور سارا جملہ لبثین کے ضمیر جمع مذکر سے حال ہے اور یہی صورت آیت 25 میں حمیما وغساقا کی ہے۔
Ayah 78:26(78:26) جزاء وفاقا موصوف و صفت، جزائ۔ جزائ۔ بدلہ، معاوضہ ۔ وفاقا مصدر (مفاعلۃ) ہے بمعنی موافق، یعنی مصدر بمعنی اسم فاعل ہے جتنا جرم ہے اتنی سزا۔ جزاء فعل محذوف سے مفعول مطلق ہے۔
فرا۔ اور اخفش کے نزدیک عبارت یوں تھی :۔ جازینا ہم جزاء وفاقا۔ (ہم نے ان کو ان کے جرم کے موافق سزا دی ۔ زجاج نے کہا :۔ جو زوا جزاء وفاقا اور ان کو ان کے جرم کے موافق سزا دی گئی۔
Ayah 78:27(78:27) انھم کانوا لا یرجعون حسابا۔ جملہ مستانفہ ہے اور سزاء مذکور کی علت۔ یعنی ان کو ان کے گناہوں کی پوری پوری سزا دی گئی کیونکہ وہ لوگ تو حساب کی توقع ہی نہ رکھتے تھے۔
کانوا لا یرجون ماضی استمراری جمع مذکر غائب کا صیغہ، رجاء (باب نصر) مصدر سے۔ وہ یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ امید نہیں رکھتے تھے۔
Ayah 78:28(78:28) وکذبوا بایتنا کذابا : کذابا مصدر سے تکذیب کا ہم معنی۔ یہ استعمال عمومی ہے۔ اور انہوں نے ہماری آیات کی پوری پوری تکذیب کی۔
Ayah 78:29(78:29) وکل شیء احصینہ کتبا : کتابا یا تمیز ہے یا حال ہے اور کتاب مصدر بمعنی مکتوب ہے یا مفعول مطلق ہے۔ جیسے ضربتہ سوطا میں نے اس کو ضرب تازیانہ لگائی۔ یعنی ہم نے ان کے ہر عمل کا اس طرح احصار کرلیا ہے جیسے تحریر احصار کرلیتی ہے یا کتبا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے ۔ یعنی ہم نے ان کے اعمال کو احاطہ کرلیا ہے اور لوح محفوظ میں یا کراما کاتبین کے اعمال ناموں میں لکھ رکھا ہے
کہا گیا ہے کہ یہ جملہ معترضہ ہے میرے نزدیک یہ وفاقا کی علت ہے جیسے انھم کانوا لا یرجعون حسابا علت ہے جزاء کی۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو اس لئے سزا دیں گے کہ وہ حساب کا انکار اور تکذیب کرتے تھے اور یہ سزا ان کے اعمال کے موافق ہوگی کیونکہ ان کے اعمال اور بیہودگیاں ہم نے لکھ رکھی ہیں۔ کوئی چیز بغیر لکھے نہیں رہی اس کے مطابق ان کو سزا ہوگی۔
وکل شیء یہ فعل محذوف کا فعل ہے جس کی تشریح آئندہ فعل میں کی گئی ہے یعنی طاغیوں کے ہر عمل اور ہر بیہودگی کو ہم نے گھیر لیا ہے (احاطہ عددی کرلیا ہے) (تفسیر مظہری)
Ayah 78:30(78:30) فذوقوا فلن تزیدکم الا عذابا :سببیہ ہے اور بطور التفات (کلام کے رخ کو موڑنا) طغین کو خطاب ہے۔ وقیل الالتفات شاھد علی شدۃ الغضب۔ (التفات ضمائر شدت پر شاہد ہے) ۔ طاغین سے کہا جائے گا کہ : چونکہ ہم نے تمہارے اعمال کا احاطہ کرلیا ہے لہٰذا اب بسبب کفر عن الحساب و تکذیب آیات عذاب کا مزہ چکھو۔
فلن نزیدکم الا عذابا : ہم نہیں زیادہ کریں گے تم پر مگر عزاب کو،عاطفہ لن تزید مضارع نفی تاکیدبہ لن۔ صیغہ جمع متکلم۔ ہم ہرگز زیادہ نہیں کریں گے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الا حرف استثناء عذابا مستثنیٰ (تمیز) ہم ہرگز زیادہ نہیں کریں گے تم پر مگر عذاب
قیل ھذہ الایۃ اشد ایۃ فی القران علی اہل النار کلما استغاثوا من نوع العذاب اغیثوا باشد منہ (الخازن)
کہا گیا ہے کہ یہ آیت قرآن میں دوزخیوں کے خلاف سخت ترین آیت ہے جب بھی وہ ایک عزاب سے نجات کے لئے مدد طلب کریں گے ان کی اس عذاب سے زیادہ شدید عذاب سے مدد کی جائے گی۔
Ayah 78:31(78:31) فائدہ : اب آیت ہذا سے ان لوگوں کے اوپر خدا کے لطف و کرم کا ذکر ہے جو روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے دربار میں حاضری کا خوف ان کو ہر گناہ سے باز رکھتا تھا۔ (ضیاء القرآن)
ان للمتقین مفازا : مفازا مصدر بمعنی کامیابی۔ یہ فوز سے اسم ظرف بھی ہوسکتا ہے۔ الفوز کے معنی ہیں سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینا۔ مفازا اسم ان ہے۔ لہٰذا منصوب ہے۔ للمتقین اس کی خبر۔ ضرور پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے۔
Ayah 78:32(78:32) حدائق واعنابا : حدائق باغات حدیقۃ کی جمع جس کے معنی اس باغ کے ہیں جس کے گرد چار دیواری کھینچی ہوئی ہو۔ باغ کا نام حدیقۃ اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ وہ اپنی ہیئت اور شکل میں حدقہ یعنی آنکھ کی پتلی کے مشابہ ہے جس طرح وہ گھری ہوئی اور بارونق اور با آب و تاب ہوتی ہے ۔ اس طرح حدیقہ ہوتا ہے۔ حدائق بدل ہے مفازا سے۔ اعنابا، عنب کی جمع ہے بمعنی انگور۔ اور یہ حدائق کا معطوف ہے۔
Ayah 78:33(78:33) وکواعب اترابا : موصوف صفت ہیں۔ واؤ عاطفہ ہے اور کو اعب کا عطف اعنابا پر ہے۔ کواکب کا عب کی جمع۔ نوخیز شباب لڑکیاں جن کے پستان خوب ابھرے ہوئے ہوں۔ امراۃ کا عب ابھرے ہوئے پستانوں والی لڑکی کعب الرجل (ٹخنہ) اس ہڈی کو کہتے ہیں کہ جو پاؤں اور پنڈلی کے جوڑ ہوتی ہے اور الکعبۃ ہر اس مکان کو کہتے ہیں جو ٹخنے کی شکل پر چوکور بنا ہوا ہو۔ اسی سے بیت الحرام کو الکعبۃ کے نام سے پکارا گیا ہے۔
اترابا۔ ہم سن عورتیں۔
امام راغب فرماتے ہیں :۔ اتراب (38:52) کے معنی ہیں : ہم عمر جنہوں نے اکٹھی تربیت پائی ہوگی۔ گویا وہ عورتیں اپنے خاوندوں کے اس طرح مساوی و مماثل یعنی ہم مزاج ہوں گی جیسے سینوں کی ہڈیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے یا اس لئے کہ گویا زمین پر بیک وقت واقع ہوئی ہیں اور بعض نے یہ بھی وجہ بیان کی ہے کہ وہ اکٹھی ایک ساتھ مٹی میں کھیلتی رہی ہیں۔ ترب مٹی۔ ترائب پسلیاں۔
Ayah 78:34(78:34) وکاسا دھاقا واؤ عاطفہ۔ کا سا دھاقا موصوف و صفت ۔ کا سا کا عطف کو اعب پر ہے کاس اس جام کو کہتے ہیں جو شراب سے پر ہو، جس جام میں شراب نہ ہو اس کو کاس نہیں کہتے دھاقا ، دھق (باب فتح) مصدر سے اسم صفت ہے۔ بھرا ہوا۔ چھلکتا ہوا
Ayah 78:35(78:35) لا یسمعون فیہا لغوا ولا کذابا : یہ جملہ متقین کی ضمیر سے حال ہے فیہا کی ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع۔
(1) کا سا کی طرف راجع ہے یعنی دنیوی شراب پینے کے وقت جس طرح لغو اور بیہودہ باتیں سنی جاتی ہیں جنت کی شراب پیتے وقت وہ نہیں سنی جائیں گی۔
(2) فیہا کی ضمیر مفازا کی طرف راجع ہے اور مفازا سے مراد ہے حدائق اور جنتیں۔
(3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ وہاں متقین کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ (خرافات)
کذابا :۔ مصدر۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق (باب تفعیل) کسی کو جھوٹا قرار دینا ۔ جھوٹا سمجھنا۔
Ayah 78:36(78:36) جزاء من ربک عطاء حسابا : جزاء اور عطاء دونوں مصدر ہیں اور مفعول مطلق ہیں فعل محذوف کے : ای جازا ہم جزاء وعطا ھم عطائ۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ یہ بدلہ ہے آپ کے رب کی طرف سے بڑا کافی انعام۔
یہ انعام و اکرام چونکہ ان کے اعمال صالحہ کے عوض میں ہے اس لئے اسے جزاء کہا گیا کیونکہ اس میں اس کا فضل و احسان جلوہ نما ہے اس لئے اسے عطاء کہا گیا ہے پھر عطاء کی صفت حسابا ذکر کی گئی ہے۔ قتادہ نے اس کا معنی کثیرا بتایا ہے یقال احسبت فلانا : ای کثرت لہ العطاء حتی قال حسبی۔ (کہتے ہیں احسبت فلانا یعنی میں نے اس کو اس کثرت سے دیا یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھا میرے لئے (یہی) کافی ہے) (ضیاء القرآن)
حسابا مصدر ہے لیکن صفت کے قائم مقام ہے۔ ای کثیرا بہت زیادہ۔
Ayah 78:37(78:37) رب السموت والارض وما بینھما الرحمن : جملہ رب السموت والارض وما بینھما بدل ہے ربک سے الرحمن بھی ربک سے بدل ہے یا اس کی صفت۔
ترجمہ ہوگا :۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان دونوں کے اندر کی سب چیزوں کا جو بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے۔
لایملکون منہ خطابا۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ لا یملکون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ملک (باب ضرب) مصدر۔ وہ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ رب السموت والارض وما فیہا ہے اور حمن بھی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ ہیبت اور جبروت بھی ہے کہ کوئی بھی بغیر اذن کے اس سے بات نہیں کرسکتا۔
صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :َ اور کوئی اپنے استحقاق کی بابت اس سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ جس کو جو کچھ بھی دیا وہ محض فضل ہی فضل ہے۔ جس کو نہیں دیا وہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز مجھے کیوں نہیں دی۔ کیونکہ اس کو کسی کا دینا نہیں آتا جو وہ اپنا حق جتلائے اور گلہ کرے۔
لایملکون میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب تمام اہل سموت والارض کے لئے ہے اور منہ کی ضمیر واحد مزکر غائب اللہ کے لئے ہے (مدارک) ۔ خطابا۔ کلام۔ بات۔ گفتگو۔ مصدر۔ منصوب بوجہ تمیز،۔
Ayah 78:38(78:38) یوم یقوم القروح والملئکۃ صفا : آیت سابقہ نمبر 37 میں خطابا پر علامت وقف ج ہے جو وقف جائز کی علامت ہے اور یہاں ٹھہرنا بہتر ہے۔ اس صورت میں یوم ظرف ہے لا یتکلمون کا۔ بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ اس دن۔
یقوم مضارع واحد مذکر غائب۔ قیام مصدر (باب نصر) سے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوگا یہاں بمعنی جمع ہے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
الروح : کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) اس سے مراد ہے ارواح بنی آدم۔
(2) بنی آدم فی انفسہم۔
(3) خدا کی مخلوق میں سے بنی آدم کی شکل کی ایک مخلوق جو نہ فرشتے ہیں نہ بشر۔
(4) حضرت جبرئیل علیہ السلام۔
(5) القران
(6) جمیع مخلوق کے بقدر ایک عظیم فرشتہ وغیرہ۔ (اضواء البیان)
ا۔ ابن جریر نے ان جملہ اقوال میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے سے توقف کیا ہے ۔
ب۔ مودودی، پیر کرم شاہ، صاحب تفسیر مدارک، جمہور کے نزدیک حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
ج۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کے نزدیک تمام ذی ارواح۔
مولانا عبد الماجد دریا بادی (رح) کے نزدیک اس سیاق میں روح سے مراد ذی روح مخلوق لی گئی ہے۔
یقوم الروح والملئکۃ صفا کا اکثر نے مطلب لیا ہے کہ الروح ایک صف میں اور ملائکہ ایک صفت میں کھڑے ہوں گے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ الروح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے۔
صفا یہ لایتکلمون کی ضمیر فاعل سے حال ہے ۔ صف یصف (باب نصر) کا مصدر ہے جس کے معنی صف باندھنے کے آتے ہیں اور خود قطار کے معنی میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ صفوف جمع۔ قطاریں۔ صف باندھے۔
لا یتکلمون مضارع منفی جمع مذکر غائب تکلم (تفعل) مصدر۔ وہ بات نہیں کریں گے۔
الا۔ استثناء متصل۔ اے لا یتکلمون احد الا الماذون من الرحمن کوئی کلام نہ کرے گا سوائے ان کے جن کو الرحمن کی طرف سے اجازت دی گئی ہوگی اذن ماضی واحد مذکر غائب اذن (باب سمع) مصدر سے اس نے اجازت دی۔
وقال صوابا۔ اس کا عطف اذن پر ہے۔ صوابا۔ ٹھیک بات، حق، راست درست، خطاء کی ضد ہے۔ اور وہ کہے گا بھی حق بات، یعنی شفاعت یا شہادت کے سلسلہ میں اجازت پر وہ لگی چپڑی کہے بغیر سچی سچی اور بلا کم وکاست ٹھیک بات کہیگا۔
Ayah 78:39(78:39) ذلک الیوم الحق : ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مبتداء الیوم الحق موصوف و صفت مل کر خبر۔ وہ برحق دن ہے۔ یا ذلک الیوم (مذکورہ بال احوال والا دن) اسم اشارہ۔ ومشار الیہ مل کر مبتداء الحق اس کی خبر، (حق ہی ہے۔ بلاریب) حقانیت اور صداقت پر یہ دن مبنی مقصود ہے۔ یعنی الحق خبر ہے۔ اور خبر پر الف لام مفید حصر ہی ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ قیامت کا دن یقینا حق ہی ہے (تفسیر مظہری)
فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا۔سببیہ ہے کیونکہ اللہ تک پہنچانے کا راستہ اختیار کرنے کا سبب قیامت کا برحق ہونا ہے۔
مابا مفعول ہے اتخذ کا اور الی ربہ متعلق مابا ہے۔ اتخذ ماضی واحد مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اختیار کرنا۔ مابا مفعول اب یؤوف (باب نصر) مصدر بمعنی لوٹنا۔ اسم ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے بمعنی لوٹنے کا وقت۔ اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے بمعنی لوٹنے کی جگہ۔ یہاں یہی مراد ہے۔
مطلب ہے اللہ کے قرب تک پہنچانے والا راستہ، یا لوٹنے کی جگہ سے مراد ہے جنت۔ (الخازن ، جلالین)
پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنالے۔
Ayah 78:40(78:40) انا انذرنکم عذابا قریبا : انذرنا ماضی جمع متکلم انذار (افعال) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تم کو ڈرایا۔ ہم نے تم کو ڈر سنایا۔
عذابا قیبا موصوف و صفت ۔ مل کر انذرنا کا مفعول ثانی۔ عذاب قریب اس سے مراد عذاب آخرت ہے۔ کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یا اس سے مراد عذاب قبر ہے اور موت جوتے کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے (تفسیر مظہری)
یوم ینظر المرء ما قدمت یدیہ۔ اس کی تفسیر میں علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔
یوم : عذابا کا مفعول فیہ ہے۔ کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے ما قدمت میں ما یا تو سوالیہ ہے اور قدمت کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے اور صلہ میں ضمیر محذوف ہے یعنی قدمتہ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص قیامت کے دن اپنے اس عمل کو جو پہلے اس نے دنیا میں کرکے بھیجا ہوگا اپنے اعمال نامہ میں دیکھے گا۔ یا اس کا بدلہ آخرت میں دیکھے گا یا قبر میں دیکھے گا۔
اعمال کو بھیجنے کی نسبت ہاتھوں کی طرف اس لئے کی کہ عموما کام ہاتھ سے ہی ہوتے ہیں۔
ویقول الکافر یلیتنی کنت ترابا : واؤ عاطفہ۔ یقول کا عطف ینظر پر ہے۔ لیت حرف تمنا وطمع ہے۔ گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لئے آتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔
یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا (25:27) اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔