78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 78:1–2

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

(کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں ؟

1 منکرین و مکذبین کی حماقت و بدبختی کے ایک نمونے کا حوالہ و ذکر : سو منکرین کے بارے میں واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ قیامت و آخرت سے ڈرنے اور اس کے لیے فکر مند ہونے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا سو اس پر ان بدبختوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ کا ہے کے بارے میں باہم پوچھ گچھ اور چہ مگوئیاں کر رہے ہیں یہ لوگ ؟ کیا یہ اسی بڑی خبر کے بارے میں پوچھ گچھ اور چہ مگوئیاں کر رہے ہیں جس کے بارے میں یہ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ؟ اور استفہام یہاں پر تفحیم و تبویل کے لیے ہے، یعنی جس چیز کے بارے میں یہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پاس طرح کے بےباکانہ سوالات کر رہے ہیں، وہ بڑی ہی عظیم الشان اور انتہائی ہولناک خبر ہے۔ اتنی بڑی اور اس قدر ہولناک کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اور جو لوگ اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، یا اس طرح کے بےباکانہ سوال کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے، جب کہ ایمان والے اس سے ڈر رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِہَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْہَا وَیَعْلَمُونَ أَنَّہَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُونَ فِیْ السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ ( الشوری 18 پ 25) سو وہ زمین و آسمان کی اس پوری کائنات میں ایک بڑی ہی بھاری بات ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عندَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ ثَقُلَتْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لاَ تَأْتِیْکُمْ إِلاَّ بَغْتَۃً یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عند اللّہِ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُون ( الاعراف۔ 187 پ 9) " یعنی وہ بڑی بھاری حقیقت ہے آسمانوں اور زمین میں وہ تم لوگوں پر بالکل ہی اچانک آئے گی "۔ پس اس کی تکذیب اور اس سے اعراض و لاپرواہی بڑی ہی شقاوت اور بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 78:3

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں یہ لوگ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ؟ (1)

(2) منکرین کے اختلاف اور تناقض فکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اسی عظیم الشان خیر کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں جس کے بارے میں یہ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔ چناچہ ان میں سے کچھ تو اس کو ناممکن سمجھتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ بھلا اب گلی سڑی اور بوسیدہ ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ کون زندہ کرے گا ؟ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَہُ قَالَ مَنْ یُحْیِیْ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ ( یسین 78 پ 23) اور کچھ ان میں سے دہریے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ " دھر " (زمانے) کی کرشمہ سازیاں ہیں اور بس، وَقَالُوا مَا ہِیَ إِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا إِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُم بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ ہُمْ إِلَّا یَظُنُّونَ ( الجاثیہ 24 پ 25) جب کہ کچھ لوگ آخرت کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں اور کسی امر کا یقین ہمیں بہر حال نہیں، وَإِذَا قِیْلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ لَا رَیْْبَ فِیْہَا قُلْتُم مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّاً وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْْقِنِیْنَ ( الجاثیہ 32 پ 25) اور کچھ صاف انکار کرتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ کبھی نہیں اٹھایا جائے گا، وَقَالُواْ إِنْ ہِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِیْنَ ( الانعام 29 پ 7) سو جس قیامت اور " نباء عظیم " کے بارے میں یہ لوگ اس قدر تناقض فکر اور اختلاف رائے میں پڑے ہیں، اس کے بارے میں ان کو اصل حقیقت اور حق سے آگاہ کیا جاتا ہے، تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ سو اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں، اور یہ خواہشات کے چکروں سے نکلنا چاہتے ہی نہیں، اور اتباع ہویٰ کا یہی روگ بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں (جیسا کہ یہ سمجھ رہے ہیں) عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہاں پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا

(3) منکرین کو سخت زور دار تنبیہ : سو منکرین کے لیے سخت زور دار تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا۔ جب حقیقت حال کھل کر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور اس وقت یہ حسرت و افسوس کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، مگر اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، کہ آخرت کے لیے کمائی کی فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہوگی۔ جو کہ یہی دنیاوی زندگی اور اس کی مہلت ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی فانک نعم المولی و نعم النصیر۔ سو اس ارشاد سے غفلت کے مارے اور ہویٰ و ہوس کے بندوں اور خواہشات نفس کے ان پجاریوں کو زور دار الفاظ میں تنبیہ کردی گئی کہ جو سہانے خواب تم دیکھ رہے ہو ہرگز پورے نہیں ہوں گے، قرآن دنیا کو جس انجام سے آگاہ کر رہا ہے، وہ عنقریب ہی ان کے سامنے آکر رہے گا۔ سو منکرین کو اپنی تکذیب اور اپنے انکار و اعراض کا پتہ عنقریب ہی چل جائے گا۔ اور پوری طرح چل جائے گا جبکہ اس عالم غیب کے وہ تمام مخفی حقائق اپنی اصل شکل میں ان کے سامنے آجائیں گے مگر اس وقت ان کو یاس وحسرت اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیع و ضلال و سوء و انحراف بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ ہم نے بنادیا (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو اس کی میخیں

(5) پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں سامان غور و فکر : سو پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو عظیم الشان میخیں نہیں بنادیا ؟ جن کو نہایت عظیم الشان اور پر حکمت طریقے سے زمین میں گاڑ دیا، تاکہ یہ کرہ ارضی تمہیں لے کر ڈولنے نہ لگے، اور اس کی پشت پر تمہارے لیے پرسکون زندگی گزارنا ممکن نہ ہوجائے، جیسا کہ اوپر سورة مرسلات کے حاشیہ نمبر 20, 21 میں بھی گزارا، سو یہاں پر انسان کو سب سے پہلے نظام ربوبیت اور مظاہر قدرت و حکمت کے ان ہی دو عظیم الشان نشانوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو کہ زمین کے اس عظیم الشان بچھونے اور پہاڑوں کی ان عظیم الشان میخوں کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہیں، تاکہ انسان میں غور و فکر سے کام لے، اور سوچے کہ آخر یہ سب کچھ کس کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور رحمت و عنایت بےغایت کا نتیجہ وثمرہ ہے، اور اس کا ہم پر کیا حق ہے، جس نے ہم کو اور ان عظیم الشان رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا ہے، سو اسی غور وفکر کے نتیجے میں وہ اس حقیقت تک رسائی حاصل کرلے گا کہ قیامت کے یوم الفصل کا بپا ہونا ضروری ہے، تاکہ حضرت خالق کا حق ادا کرنے والوں اور اس کی عبادت و بندگی کے شرف سے مشرف ہونے والوں کو اس طرف سے ابدی انعام سے نوازا جائے اور ناشکروں اور سرکشوں کو ان کے کیے کی سزا ملے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں، اور مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت عبث قرار پائے گا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع وضلال و سوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayahs 78:8–9

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں پیدا کیا (مردوں اور عورتوں کی شکل میں) جوڑے جوڑے

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم ہی نے بنایا تمہارے لیے تمہاری نیند کو مکمل آرام (و راحت) کی چیز

(7) نعمت نیند میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے مکمل آرام کی چیز بنایا۔ تاکہ دن بھر کے کام کاج اور محنت و مشقت سے تمہاری جو قوت اور انرجی صرف اور ختم ہوتی رہتی ہے، وہ نیند کی صورت میں ملنے تمہارے اس آرام سے تمہیں واپس مل سکے، اور اس طرح تم پھر تازہ دم ہوجاؤ، سو تم روزانہ اس نعمت سے متمتع ہوتے ہو، مگر اس منعم و کریم کے اس کرم و احسان کو یاد نہیں کرتے، جس نے تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور تقاضا اور سوال کے بغیر تم کو ازخود نیند کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا اور محض اپنے فضل و کرم سے نوزا اور سرفراز فرمایا سبحانہ و تعالیٰ ، واضع رہے کہ " سبت " اور " سبات " کے اصل معنی کاٹنے کے آتے ہیں، اور نیند کی وجہ سے چونکہ انسان کی حرکت اور اس کے عمل کا انقطاع ہوجاتا ہے، اس لیے اس کو " سبات " سے تعبیر فرمایا گیا، اور اس انقطاع سے انسان کو ایسا سکون ملتا اور راحت نصیب ہوتی ہے کہ اس کی کھوئی ہوئی انرجی پوری طرح دوبارہ بحال ہوجاتی ہے، اور یہ تازہ دم ہو کر نئے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، سو یہ قدرت کی عظیم الشان حکمت اور عنایت و رحمت ہے، جس سے انسان ہمیشہ اور ہر حال میں مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، مگر وہ اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کس کا کرم و احسان ہے ؟ اور اس کا مجھ پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور ظاہری اور مادی نوعیت کے اس فائدے کے علاوہ نیند کی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت کا ایک معنوی فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان کو روزانہ موت اور بعث بعد الموت کی ریہرسل کرائی جاتی ہے۔ اسی لیے سوتے وقت اور نیند سے اٹھتے وقت کے لیے جو خاص دعائیں دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں ارشاد فرمائی گئی ہیں ان سب میں اسی اہم اور بنیادی حقیقت کی تعلیم و تذکیر فرمائی گئی ہے۔ اس طرح مومن کی نیند بھی محض ایک حیوانی کیفیت نہیں رہ جاتی بلکہ اس روحانی بالیدگی اور ایمانی ترقی و قوت کا ایک عظیم الشان ذریعہ بن جاتی ہے۔ فالحمدللہ رب العالمین جل و علا۔
Ayah 78:10

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم ہی نے بنایا رات کو ایک عظیم الشان لباس

(8) لباس شب میں سامان غور و فکر : سو لباس شب قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام و احسان ہے، جس سے اس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے بندوں کو نوازا ہے، چناچہ یہاں پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بنایا رات کو ایک عظیم الشان لباس، ایسا عظیم الشان لباس کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں ہے، جو ایسے عظیم الشان طریقے سے تمہاری پردہ داری کرتا ہے کہ تمہارے کتنے ہی ایسے اہم کام ہوتے ہیں جو تم دن کے اجالے میں نہیں کرسکتے، وہ تاریکی و شب کے اس عظیم الشان اور بےمثل پردے میں ہی انجام دیتے ہو، اور جس طرح لباس انسان کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے اور اس کو سکون و اطمینان بخشتا ہے، اسی طرح شب تاریکی کی یہ عظیم الشان چادر اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے، جس سے وہ خلل انداز ہونے والی چیزوں سے محفوظ ہو کر پورے سکون کے ساتھ آرام کرتا ہے، اور پھر از سر نو تازہ دم ہو کر میدان عمل میں اترنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ سو اندھیری رات کا یہ عظیم الشان لباس جو ساری دنیا پر ایک عظیم الشان اور پرسکون چادر کے طور پر تن جاتا ہے قدرت کا کتنا بڑا اور کس قدر عظیم الشان اور بےمثل انعام و احسان ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ سو پھر بھی اس سے اعراض و انکار اور اس سے روگردانی کتنا بڑا ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین
Ayah 78:11

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کا وقت

(9) دن کی نشانی میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے بنایا دن کو معاش کا وقت۔ یعنی ہم نے دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں چل پھر کر تم لوگ اپنی روزی روٹی کا سامان کرسکو، (ابن کثیر وغیرہ) سو تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور روزانہ دیکھتے ہو کہ کس طرح دن کی روشنی پھیلتے ہی دنیا حرکت میں آجاتی ہے، اور ایک عظیم الشان گہما گہمی کا دور دورہ شروع ہوجاتا ہے، اس طرح رات اور دن کی یہ دو نشانیاں عظیم الشان نشا نہائے قدرت میں سے ہیں، جن پر تمہاری زندگی اور اس کی ضروریات کا مدارو انحصار ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً لِتَبْتَغُواْ فَضْلاً مِّن رَّبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ وَکُلَّ شَیْْء ٍ فَصَّلْنَاہُ تَفْصِیْلاً ( بنی اسرائیل 12 پ 15) مگر دنیا ہے کہ ان عظیم الشان نشانہائے قدرت کو دیکھتی اور ان سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی ہے، مگر یہ نہیں سوچتی کہ یہ سب کچھ کس کی قدرت و حکمت کا کرشمہ اور کس کی رحمت و عنایت کا نتیجہ ثمرہ ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ سو رات و دن کا یہ سلسلہ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت، رحمت و عنایت بےغایت اور اس کی یکتائی اور وحدانیت مطلقہ کے عظیم الشان مظاہر ہیں۔ جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور وفکر دے رہے ہیں تاکہ لوگ ان کے ذریعے ان کے پیچھے پیچھے ہوئے غیبی حقائق تک رسائی حاصل کریں اور راہ حق و صدق اور صراط مستقیم کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کریں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء البسیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم ہی نے بنا دئیے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان

(10) آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بنا دیئے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان، جو نہ کبھی گرتے ہیں، نہ ٹوٹتے پھوٹتے ہیں، اور نہ کبھی ان کی اصلاح اور مرمت کی کوئی ضرورت پیش آتی ہے، مگر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تو یہ سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا، اور اس آسمان کو جس میں آج کوئی پھٹن اور شگاف تک نہیں، اس روز اس کو اس طرح کھول دیا جائے گا کہ یہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا، وَفُتِحَتِ السَّمَاء فَکَانَتْ أَبْوَاباً ( النبا 19 پ 30) بہر کیف زمین کی نشانیوں کے بعد اس ارشاد سے آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، کہ اس میں بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ کس قادر مطلق اور حکیم مطلق کی قدرت اور کی حکمت کا نتیجہ ہے ؟ سو وہی اللہ وحدہ لا شریک ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ وہی معبود برحق ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالی، وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء البسیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayahs 78:13–14

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم ہی نے رکھ دیا (ان کے اندر) ایک نہایت ہی گرم اور روشن چراغ

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم ہی نے اتارا بھرے بادلوں سے (تمہاری طرح طرح ضرورتوں کے مطابق) بکثرت پانی

(12) پانی کے جوہر حیات آفریں میں غور و فکر کی دعوت : سو پانی کے اس عظیم الشان جوہر حیات آفرین اور اس سے نوازنے کے پر حکمت نظام میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے پانی سے لبریز بدلیوں سے بکثرت پانی اتارا۔ اور اتنی کثرت اور اس قدر بہتات و فراوانی کے ساتھ اتارا کہ تمہاری، تمہارے جانوروں کی، اور دوسری بیشمار مخلوق کی بےحدو حساب ضرورتیں اس سے پوری ہور رہی ہیں، اور اس قدر پر حکمت طریقے سے اتارا کہ سوچنے اور غور کرنے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، سبحانہ و تعالیٰ فللہ الحمد۔ سو پانی سے لبریز بادلوں سے اس کثرت اور فراوانی کے ساتھ پانی کے اتارے جانے میں جہاں اس خالق ومالک کی شان ربوبیت و رحمت، بندوں کی سزا و جزا اور تقاضائے مسولیت کے دلائل سامنے آتے ہیں، وہیں زمین و آسمان کے توافق کے اعتبار سے یہ اس کی وحدانیت کی ایک واضح دلیل بھی ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ اور پھر اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جس قادر مطلق خدائے واحد نے اپنے بندوں کی جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اس قدر عظیم الشان اور پر حکمت نظام قائم فرمایا ہے، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی باطنی اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان نہ کرے، جبکہ جسم و روح میں اصل چیز روح ہی ہے۔ سو اسی لیے اس نے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتابیں اتاریں اور اسی مقصد کے لئے اس نے سب کے آخر میں خاتم الکتب کے طور پر قرآن حکیم کو نازل فرمایا، جس کی ہدایت و رہنمائی قیامت تک سب زبانوں اور جملہ انسانوں کے لئے ہے۔ نیز مادی نعمتوں کی اس عنایت و عطا کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک ایسا یوم حساب آئے جس میں ان سب نعمتوں کے بارے میں انسان سے پوچھ اور حساب کتاب ہو۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے جو اس دنیاوی زندگی کے بعد اور اس کے خاتمے پر آئے گا۔ سو اس طرح ان نعمتوں اور ان مظاہر قدرت کے ذکر سے توحید، رسالت، اور آخرت سب ہی کے لیے دلائل کو بیان فرما دیا گیا۔ فالحمد للہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 78:15–16

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ذریعے ہم نکالیں طرح طرح کے غلے اور (قسما قسم کے) سبزے

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور (قسما قسم) کے گھنے باغ بھی

(13) اسباب عیشت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے غلے بھی پیدا کریں، قسما قسم کے سبزے اور چارے بھی اگائیں اور قسما قسم کے گھنے باغ بھی۔ " الفاف " کے بارے میں حضرات علماء کرام کا ایک قول یہ ہے کہ یہ جمع نہیں اسم جمع ہے، جیسے " اوزاع " جو کہ مختلف گروہوں اور جماعتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ " لفیف " کی جمع ہے (صفوۃ البیان، وغیرہ) مآل اور مفاد بہرحال دونوں کا ایک ہی ہے کہ اس سے مراد گھنے اور گنجان باغات ہیں، اس قادر مطلق جل جلالہ نے اپنی بےپایاں رحمت و عنایت سے تمہارے لیے اے لوگو ! طرح طرح کے یہ عظیم الشان اسباب معیشت اور گھنے باغات بھی پیدا فرمائے، تاکہ تم لوگ ان سے طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اور اس کے نتیجے میں تم اس واہب مطلق جل وعلا شانہ کے حضور دل و جان سے جھک جاؤ اور ہمیشہ دل و جان سے اس کے حضور جھکے ہی رہو، تاکہ اس طرح تم اس رب شکور و غفور کی طرف سے ملے والی ان نعمتوں سے صحیح طور پر مستفید و بہرہ مند ہوسکو، اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ اور وسیلہ بن جائیں۔ اللھم ارزقنا التوفیق لما تحب وترضی و کما تحب وترضی۔ بہر کیف یہ عظیم الشان باغات اور قسما قسم کی پیداواریں جو تم کو اس پانی کے ذریعے ملتی ہیں، یہ سب اسی واہب مطلق کا کرم و احسان ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ اور ان سب میں غور و فکر اور شکر خداوندی کے طرح طرح کے پہلو ہیں۔ پس تم لوگ ان میں غور و فکر سے کام لے کر پس پردہ کارفرما اصل حقائق تک رسائی حاصل کرسکتے ہو، اور اس طرح تم سراغ زندگی پاس کو، اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و سرشار ہوسکو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بلاشبہ فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

(14) نظام ربوبیت کے تقاضے اور انجام کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور آسمان سے لے کر زمین تک ہر طرف پھیلے بکھرے اس نظام ربوبیت کے نتیجہ و انجام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے۔ اور اپنے اس مقرر وقت پر اس نے بہرحال آکر رہنا ہے، اس سے پہلے اس نے آنا نہیں، اور اپنے وقت پر اس نے ٹلنا نہیں، اس لیے عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے جلدی مچانے کی بجائے اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کرو، جس کے لیے فرصت بہرحال یہی دنیاوی زندگی کی فرصت ہے، اور بس، سو اس ارشاد سے اوپر کی ساری بحث و تخصیص کا خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ یہ اہتمام ربوبیت اور نظام پرورش صاف طور پر گواہی دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے یہ تمام رحمتوں اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے، اس نے یقینا فیصلے کا ایک دن مقرر فرما رکھا ہے، جس میں وہ شکر گزاروں کو انعام سے نوازے گا اور ناشکروں کو سزا دے گا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں، ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث اور بےکار ہو کر رہ جائے گا، جو کہ حضرت حکیم جل جلالہ کی صفت بالغہ اور رحمت شاملہ کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن پھونک مار دی جائے گی صور کے اندر اور تم سب لوگ (بلاچوں و چرا نکل کر) چلے آؤ گے فوج در فوج

(15) یوم حشر کی تذکیرو یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور یوم حشر کی تذکیرو یاد دہانی اور اس کی تصویر و تفصیل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب لوگ چلے آؤ گے فوج در فوج، یعنی میدان حشر کے عظیم الشان موقف کی طرف، اپنے حساب کتاب کے لیے، اور اس روز تم بلا کسی قیل و قال اور بدوں کسی حیل و حجت کے عاجزانہ اور دست بستہ وہاں حاضر ہوجاؤ گے، اور اس کجی اور ٹیڑھ کا کوئی نام و نشان بھی نہ رہے گا، جس سے تم لوگ آج کام لے رہے ہو، اور کبر و غرور کی وہ ساری ہوا تمہارے دماغوں سے نکل چکی ہوگی، جو آج ان کے اندر بھری ہوئی ہے، اور تم اپنی گردنیں جھکائے سر خم تسلیم کئے ہوئے، اور اس کی تسبیح وتحمید کا ورد کرتے ہوئے اس کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوؤ گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیْبُونَ بِحَمْدِہِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیْلاً ( بنی اسرائیل 52 پ 15) یعنی (یاد کرو اور یاد رکھو تم لوگ اس یوم عظیم کو کہ) جس دن وہ (وحدہ لاشریک قادر مطلق) تم لوگوں کو پکارے گا تو تم سب اس کی حمد (و ثنائ) کے ساتھ اس کی آواز پر " لبیک " کہو گے اور تمہیں یوں لگے گا تکہ تم لوگ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے مگر بہت تھوڑے، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ اس یوم الفصل کو بپا کرنے اور اس میں تمہیں جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، بلکہ جوں ہی صور پھونکا جائے گا تم سب لوگ فوج در فوج قبروں سے نکل کر داعی کی طرف چل پڑو گے، اور دوسری جگہ فرمایا گیا کہ اپنی قبروں سے نکل کر یہ لوگ ایسے بھاگ رہے ہوں گے جیسا کہ یہ کوئی ٹڈی دل ہوں جو پھیل پڑے ہوں۔ خُشَّعاً أَبْصَارُہُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ کَأَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ (القمر 7 پ 72) یہاں پر اس آیت کریمہ کا ذکر اس طور پر فرمایا گیا ہے کہ گویا کہ وہ یوم الفصل اس کائنات کے نظام کے اندر سے اپنی منادی خود کررہا ہے۔ سو بڑے ہی بدبخت اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس کا انکار کرتے اور اس کے تقاضوں سے غفلت و لاپرواہی برتتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الکفر والاعراض۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور کھول دیا جائے گا (اس بےشگاف) آسمان کو اس طور پر کہ یہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

(16) قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو اس روز آسمان کا جو حال ہوگا اس کے ذکر وبیان کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کھول دیا جائے گا آسمان کو اس طور پر کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا۔ جن سے فرشتوں کا نزول ہوگا (ابن کثیر، مدارک، خازن وغیرہ) سو اس روز عالم بالا یہ تمام تجاذب و تماسک ختم ہوچکا ہوگا جس پر آج یہ نظام حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عنایت سے قائم ہے، اور یہ آسمان جو آج نہایت محکم اور ایک گنبد بےدر کی طرح نظر آرہا ہے، اس روز اس کو اس طور پر کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاء بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَۃُ تَنزِیْلاً ( الفرقان 25 پ 18) یعنی اس روز آسمان پھٹ پڑے گا بادل کے ساتھ۔ اور فرشتوں کو اتار دیا جائے گا فوج در فوج۔ اور فرشتوں کا یہ اتاراجانا سزا و جزا کے کام کی تکمیل کے لئے ہوگا ( التحریر والتنویر لابن عاشور) سو آسمان کا پھٹ پڑنا اس یوم حساب کے احوال و اہوال میں سے ایک عظیم امر ہوگا۔ اس لیے اس کو کلام حکیم میں مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں بیان فرمایا گیا ہے مثلا دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ ۔ وَإِذَا الْکَوَاکِبُ انتَثَرَتْ ۔ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ۔ وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ ۔ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ (الانفطار 1 تا 4 پ 30) یعنی جب آسمان پھٹ پڑے گا، نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا إِذَا السَّمَاء انشَقَّتْ ۔ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ (آیت۔ الانشقاق 1 تا 5 پ 30) یعنی جب آسمان پھٹ پڑے گا وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ اس یوم عظیم کے مختلف مظاہر ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، و من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، جل وعلا۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور چلا دیا جائے گا (ان دیو ہیکل) پہاڑوں کو اس طور پر کہ یہ (ریگ رواں) اور سراب بن کر رہ جائیں گے

(17) قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز چلا دیا جائے گا ان فلک بوس پہاڑوں کو ان کے مقامات سے اٹھا کر۔ اور ان ایہ جماؤ اور استقرار، اور مضبوطی اور پختگی جو آج ضرب المثل ہے اس روز ھباء منثورا ہوچکی ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّہِ الَّذِیْ أَتْقَنَ کُلَّ شَیْْء ٍ إِنَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ ( النمل 88 پ 20) یعنی تم ان کو ٹھوس اور جامد سمجھ رہے ہو گے مگر وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے، سو یہ دیوہیکل پہاڑ جو آج اس طرح زمین میں گڑھے ہوئے ہیں، اور میخوں کی طرح اس کرہ ارض میں ٹھکے ہوئے ہیں، اس یوم حساب میں ان کو اکھاڑ کر چلا دیا جائے گا، ان کی سب صلابت جو آج ان میں پائی جاتی ہے اسی روز ختم ہوجائے گی، اور یہ پھس پھسے ہو کر ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ اور پھر ریگ رواں بن کر بکھر جائیں گے، اور جب پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو پھر ابنائے دنیا کی ان بلڈنگوں، عمارتوں، اور قلعوں وغیرہ کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا جن پر آج یہ لوگ پھولے نہیں سماتے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ گھات میں لگی ہوئی ہے

(18) دوزخ گھات میں ہے، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک دوزخ گھات میں ہے، یعنی جس طرح شکار گھات میں بیٹھے اپنے شکاری سے غافل و بیخبر چلا جارہا ہوتا ہے، اور شکاری اس تاک و انتظار میں ہوتا ہے کہ کب نشانے پر آئے تو میں اس پر وار کروں، اسی طرح آخرت اور وہاں کے عذاب اور دوزخ اور اس کی ہولناکیوں سے غافل و بیخبر انسان کا حال ہوتا ہے، کہ وہ اپنے اس حتمی اور ہولناک انجام سے غافل و بیخبر اپنی خواہشات کی تحصیل و تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور دنیا کی چمک دمک اور اس کی رنگ رلیوں میں مست مگن ہوتا ہے، کہ اچانک موت اپنے خونیں پنجے اس میں گاڑ دیتی ہے، جس کے بعد دوزخ اس کے لئے منہ کھولے کھڑی رہتی ہے، اور یہ سیدھا جاکر اس میں گرتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح دوزخ منکروں اور غافلوں کے لئے گھات میں لگی ہے، مگر مالک کا کرم و احسان ملاحظہ ہو کہ اس نے پہلے ہی بتادیا اور اس قدر تاکید اور صراحت کے ساتھ بتادیا کہ ایسے ہونے والا ہے، اور اس قدر زور قوت اور بلاغت کے ساتھ بتادیا، تاکہ اس کے بندے اس سے خبردار ہوجائیں، اور اس کی ہولناکیوں سے بچنے کی فکر و سعی کرسکیں، فسبحان اللہ وبحمدلہ و سبحان اللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جہنم سرکشوں کا ٹھکانا بننے کے لئے اس طرح نمودار ہوگی کہ گویا وہ ان کی انتظار میں گھات میں بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ یہ غفلت اور لاپرواہی کا لازمی نتیجہ اور طبعی انجام ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔
Ayah 78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کے لیے ایک بڑے ہی ہولناک ٹھکانے کے طور پر

(19) جہنم سرکشوں کا ٹھکانا۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سرکشوں کے لئے ایک بڑے ہی ہولناک ٹھکانے کے طور پر اس قدر ہولناک کہ اس کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور وہ یوم الفصل کی اس ہلچل کے بعد اچانک اس طرح نمودار ہوگی کہ ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور اس موقع پر نہ ان کے لئے اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی اور نہ ہی اس سے چھوٹنے اور بھاگ نکلنے کی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ فَلَا یَسْتَطِیْعُونَ رَدَّہَا وَلَا ہُمْ یُنظَرُونَ ( الانبیائ 40 پ 17) یعنی یہ نہ اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی وہاں پر ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ سو وہ سرکشوں کے لئے ایسا ہولناک ٹھکانہ بنے گی جس سے نہ ان کے لئے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی، اور نہ ہی اس کے لئے تیاری کرنے کی کوئی مہلت ان کو مل سکے گی۔ بلکہ ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اس میں رہنا ہوگا، کیونکہ اس سے بچنے کی فرصت اور اس کے لئے موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی اس سے غافل اور لاپرواہ ہے۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تمرود سرکشی، اعراض و روگردانی، اور غفلت و لاپرواہی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں ان کو رہنا ہوگا مدتوں (پر مدتیں)

(20) جہنم منکروں کا ہمیشہ کا ٹھکانا۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں ان کو رہنا ہوگا مدتوں پر مدتیں۔ یعنی اس " مکث و خلود " کا کبھی خاتمہ نہ ہوگا بلکہ اس قرن کے بعد دوسرا، اس کے بعد تیسرا، اور اس کے بعد چوتھا آتا چلا جائے گا۔ اور یہ لامتناہی سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ فلا انقطاع لہ ولا انقضاء ( ابن کثیر، ابن جریر، معالم وغیرہ) پس یہ " لبث احقاب " دراصل بقاء دوام اور " خلود فی النار " کے معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، مظہری، اور خازن وغیرہ) ہم نے اپنے ترجمہ میں اس مفہوم کو واضح کردیا ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ سو جن لوگوں نے اس سے لبث طویل مراد لے کر یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جہنم بالآخر ایک دن ختم ہوجائے گی، ان کی رائے غلط اور نصوص قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ کیونکہ منکرین و مکذبین کے لئے دوسرے مختلف مقامات پر " خالدین فیھا ابدا " کی تصریح موجود ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ مجمل کی تشریح مفصل کی روشنی میں اور اس کے مطابق کی جاتی ہے۔ نہ کہ اس کے برعکس۔ نیز منکروں کے لئے دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تشریح بھی موجود ہے کہ ان کو جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا۔ ان کو اس سے کبھی نکلنا نصیب نہیں ہوگا۔ تو پھر اس طرح کی کسی قیاس آرائی کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ بہرکیف منکروں اور سرکشوں کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ہی رہنا ہوگا۔ کیونکہ جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی کو کفر و انکار اور تمرود و سرکشی میں گزارا ہوگا ان کا انجام یہی ہوگا اور یہی ہونا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے دوزخ میں رہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، واکرم الاکرمین۔
Ayahs 78:24–25

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہ وہاں پر نہ تو کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ ہی پینے کے قابل کسی چیز کا

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

کچھ ملے گا تو سخت کھولتا ہوا پانی اور بہتی ہوئی پیپ

(21) دوزخیوں کے مشروب کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہاں پر نہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ ہی پینے کے قابل کسی چیز کا سوائے کھولتے ہوئے پانی کے جو انتڑیوں کو کاٹ کاٹ کے رکھ دے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَسُقُوا ماء حَمِیْماً فَقَطَّعَ أَمْعَاء ہُمْ ( محمد 15 پ 26) یعنی ان کو وہاں پر ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو کاٹ کاٹ کر رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ انہوں نے جب اپنی دنیاوی زندگی میں ایمان و یقین کی ٹھنڈک سے منہ موڑ کر کفر و شرک کی آگ ہی کو اپنایا تھا، اور وہ زندگی بھر اپنی اسی روش پر قائم رہے تھے، تو اس کے نتیجے میں ان کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ اور اس کے کھولتے پانی کے عذاب کو بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن کفار و منکرین کا انجام ان کے کفر و انکار کی بنا پر یہ ہونے والا ہے، اور انہوں نے ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے۔ ان کو اگر اس دنیاوی زندگی میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا ؟ اور جس مومن کو دوزخ کے اس ہولناک انجام سے بچا کر جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز فرما دیا گیا اس سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے، اگرچہ دنیا میں اس کو نان جویں بھی میسر نہ آئی ہو ؟ سو اصل دولت ایمان و عمل و کردار ہی کی دولت ہے، اور اصل اور حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی اور نعیم جنت سے سرفرازی ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ (22) غساق کا معنی و مطلب ؟ سو اہل لغت کی تصریحات کے مطابق " غساق " کے معنی لہو، کج لہو، اور اس بہتی ہوئی پیپ کے ہیں جو وہاں پر دوزخیوں کے زخموں سے بہہ بہہ کر مختلف گڑھوں اور حوضوں میں جمع ہوئی ہوگی، ( ابن کثیر، جامع، خازن، اور محاسن وغیرہ) نیز " غساق " کا اطلاق آنکھوں اور کھالوں سے بہنے والی ان تمام رطوبتوں پر بھی ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہہ نکلتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لئے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند پائی جاتی ہو۔ سو دوزخ میں پڑے ان بدبخت سرکشوں کو یہ سب کچھ پینا پڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ انہوں نے اپنی حیات دنیا کی فرصت محدود میں دین حق کی تعلیمات مقدسہ اور ان کی عطر بیڑیوں سے منہ موڑ کر کفر و شرک کی غلاظتوں کو اپنایا تھا، اور ان کو ترجیح دی تھی، اس لئے اس کے نتیجے میں ان کو وہاں پر غساق کے گھونٹ پینے پڑیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 78:26

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

بھرپور بدلہ ہوگا (ان کے کیے کرائے کا)

(23) دوزخیوں کے لئے ان کے اعمال کا بھر پور بدلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ یہ سب کچھ بھر پور بدلے کے طور پر ہوگا۔ یعنی ان کے اس کفر و باطل کے بدلے کے طور پر جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو کچھ ان کو وہاں ملے گا وہ ان کو ان کے اپنے اعمال ہی کا صلہ اور بدلہ ہوگا، جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے، سو اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور ایک اصول اور ضابطے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا وَجَزَاء سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ( الشوری 40 پ 25) یعنی برائی کا بدلہ اسی طرح کے عمل سے دیا جائے گا سو پس وہاں پر مجرموں کے لئے عذاب ان کے جرم و قصور کے مطابق اور اس کے برابر ہوگا۔ اور جیسا کہ مقاتل نے کہا کہ کفر و شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہوسکتا اور دوزخ کے عذاب سے بڑھ کوئی عذاب ممکن نہیں۔ اس لئے اس سب سے بڑے جرم کے مرتکبوں کو دوزخ کے اس سب سے بڑے عذاب سے دورچار کیا جائے گا۔ (المراغی وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 78:27

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

(کیونکہ) یہ لوگ توقع نہیں رکھتے کسی طرح کے حساب (کتاب) کی

(24) مجرموں کے عذاب کے اصل سبب کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مجرموں کو اس ہولناک انجام اور ان کے اس عذاب کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ توقع نہیں رکھتے تھے کہ کسی حساب کی، اس لئے ان کو اگر لامحدود زندگی ملتی، تو بھی انہوں نے یہی کچھ کرتے رہنا تھا، جو اب تک کرتے رہے تھے، اس لحاظ سے ان کا جرم چونکہ دائمی تھا اس لئے اب ان کو دائمی عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور چونکہ یہ لوگ کسی طرح کے حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے یہ فکر آخرت سے نچنت اور بےفکر ہو کر دنیا ہی کے طالب اور اس کے پجاری بن گئے تھے، اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ ہماری آیتوں کو طرح طرح سے جھٹلاتے رہے تھے۔ تاکہ اس طرح یہ خود بھی نورحق ہدایت سے محروم رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے محروم کردیں سو اس طرح ان کا جرم دوہرا اور مزید سنگین ہوجاتا تھا، سو اس کے نتیجے میں یہ اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، پس آخرت کا انکار اور حق کی تکذیب دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی کا باعث اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔
Ayahs 78:28–31

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور انہوں نے (زندگی بھر) جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو طرح طرح سے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

حالانکہ ہم نے ہر چیز کو محفوظ کر رکھا تھا لکھ کر

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو (اس روز ان سے کہا جائے گا کہ) لو اب چکھو تم لوگ مزہ (اپنی کرنیوں کا) پس ہم تمہیں عذاب ہی بڑھاتے چلے جائیں گے

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

(اس کے برعکس) پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی ہی عظیم الشان کامیابی ہوگی

(27) پرہیزگاروں کے صلہ و بدلہ کا ذکر وبیان : سو باغیوں اور سرکشوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب متقی اور پرہیزگار لوگوں کا صلہ و بدلہ بیان فرمایا جارہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ پرہیزگاروں کے لئے ایک عظیم الشان کامیابی ہے یعنی ان کے لیے ہے جنہوں نے اپنے آپ کو کفر و شرک کی تمام آلائشوں سے بچایا ہوگا، اور معاصی وذنوب کی ظلمت و سیاہی سے محفوظ رکھا ہوگا، فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد والثبات لما تحب وترضی من القول والعمل۔ بہرکیف اس سے سرکشوں اور باغیوں کے مقابلے میں متقیوں اور پرہیزگاروں کے انجام کو بیان فرمادیا گیا، تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رہے۔ پس جن لوگوں نے روز جزا سے ڈرتے ہوئے اور اس کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزاری ہوگی ان کے لئے اس روز بڑی ہی عظیم الشان کامیابی ہوگی۔ اتنی بڑی کہ اس کی عظمتوں کا اندازہ کرنا بھی اس جہاں میں کسی کے لیے ممکن نہیں۔ سو خوف خداوندی اور فکر آخرت انسان کی اصلاح کے لئے سب سے بڑی اور اہم بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید من الاقوال والاعمال۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ پرہیزگاروں کے لئے عظیم الشان کامیابی ہوگی۔ اتنی عظیم الشان کہ اس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ اور ٹھکانا نہ ہوگا، اور ایسی کامیابی جو کہ اصل اور حقیقی معنوں میں کامیابی ہوگی، اور جو کہ دائمی ابدی اور سدا بہار کامیابی ہوگی، اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو وہ کامیابی ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور سدابہار کامیابی ہوگی، جس سے سرفرازی کے لئے اصل اساس و بنیاد تقوی و پرہیزگاری ہے، یعنی روز سزا و جزا سے ڈرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی نافرمانی سے بچنا، اور اس کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کا التزام اور ان کی پابندی کرنا، یہاں پر یہ حقیقت واضح رہنی چاہئے کہ آخرت کی جزا و سزا کا خوف ہی وہ اصل چیز ہے جو انسان کو سیدھا کرتی اور اس کو راہ حق و صواب اور جادہ مستقیم پر استوار رکھتی ہے، جس کے اندر یہ چیز موجود ہوگی وہی متقی بن سکے گا اور جس کا سینہ اس سے خالی ہوگا وہ شیطان کا مسکن اور اس کا اڈا بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ بےفکر اور لاپروا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال و سوء وانحراف۔
Ayahs 78:32–34

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

طرح طرح کے عظیم الشان باغ اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخیز ! ہم عمر لڑکیاں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور (شراب طہور کے) چھلکتے جام

(28) اہل جنت کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے طرح طرح کے عظیم الشان باغ اور انگور بھی ہوں گے، نوخیز عمر لڑکیاں بھی، اور شراب طہور کے چھلکتے جام بھی۔ ایسی شراب طہور کے جس سے نہ درد سر ہوگا، اور نہ کسی طرح کی کوئی با وہ گوئی، جیس کہ دوسری جگہ فرمایا گیا لَا یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلَا یُنزِفُونَ ( الواقعہ 19 پ 27) سو وہاں کی اس شراب طہور میں کیف و سرور تو بدرجہ کمال موجود ہوگا لیکن ان برے اثرات میں سے کسی کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا، جو دنیوی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ یہاں پر حدائق کے بعد اعناب کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے طور پر فرمایا گیا کہ وہ نوخیز یعنی اٹھتی ہوئی جوانیوں والی اور باہمدگر بالکل ہمسن ہوں گی۔ سو یہ دونوں صفتیں بھی بڑی عظیم الشان صفات میں سے ہیں اور ہم سنی باہمی الفت و محبت آپس کی بےتکلفی اور دلچسپی و ہم مذاقی کے لئے نہایت ضروری اور اہم چیز ہے۔ سو ان میں ہر قسم کی خوبی موجود ہوگی۔ پس وہ اپنی مثال آپ ہوں گی۔ والحمد للہ۔
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہ نہ تو وہاں پر کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جھوٹ

(29) لغو بات اور جھوٹ سے حفاظت کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ نہ تو کسی طرح کی کوئی لغو بات سنیں گے، اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جھوٹ۔ جیسا کہ اس دنیا میں ہوتا ہے کہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے جھوٹ و فریب اور دروغ گوئی وغیرہ سب کچھ سننا پڑتا ہے کہ یہاں پر ان ہی چیزوں کا دور دورہ ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ مگر جنت کی وہ دنیا لغو و کذب کی ایسی تمام کدورتوں سے پاک وصاف ہوگی اور وہاں پر ہر طرف صدق و سلامتی ہی کی دلنوار صدائیں ہی کانوں میں پڑتی ہوں گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً ( الواقعہ 25 ۔ 26 پ 27) یعنی وہاں پر وہ نہ تو کوئی لغو اور بےکار بات سنیں گے اور کسی گناہ کی بات بجز سلامتی ہی سلامتی کی باتوں کے اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو جنت کا وہ جہاں اور وہاں کی وہ شراب اور وہاں کا وہ پاکیزہ ماحول اس طرح کی تمام لغو بات، دروغ گوئیوں اور کذب بیانیوں سے پاک وصاف ہوگا، یعنی اس طرح کی تمام خرابیوں سے جو دنیائے دوں کے اس ماحول اور یہاں کی شراب میں پائی جاتی ہیں۔ پس وہاں پر غوبیاں اور عمدہ صفات تو سب ہوں گی لیکن دکھ دینے والی اور بری صفت کوئی نہیں ہوگی۔ اللہ پاک نصیب فرمائے۔ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

صلہ ہوگا نہایت کافی بخشش کے طور پر تمہارے اس رب (غفور و شکور) کی جانب سے

(30) جنتیوں کے لئے ایک عظیم الشان صلہ وبدلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان خوش نصیبوں کو یہ سب کچھ ملے گا ایک عظیم الشان جزا اور بدلے کے طور پر، یعنی ان کے ان نیک اعمال کا صلہ جو کہ انہوں نے دنیا میں رب تعالیٰ کی رضا کے لئے کیے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کرم بےپایاں کا ظاہری سبب تو بہرحال انسان کے یہ نیک اعمال ہوں گے، جو وہ اس دنیا میں اپنی آخرت کے لئے کرتا ہے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے جنت کی ان نعمتوں سے ان کی سرفرازی محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کے فضل وکرم سے ہی ہوگی، پس جس طرح اوپر دوزخیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے کیے کرائے کی بالکل برابر سزا ملے گی، اسی طرح یہاں پر اہل جنت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کی نیکیوں کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا، جو انہوں نے دنیا میں کی ہوں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا، اور اہل ایمان کے لئے جو فضل کا وعدہ ہے، وہ اس پر مزید ہے، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو یہ سب کچھ نہایت کافی عطاء و بخشش کے طور پر ملے گا۔ ورنہ حقیقت نفس الامری اور امر واقع کے اعتبار سے کہ انسان کے نیک اعمال خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں، وہ جنت کا ثمن اور اس کا مول بہر حال نہیں بن سکتے۔ وہ تو اللہ پاک کی ان نعمتوں کا مول بھی نہیں بن سکتے جو اس نے انسان کو اس دنیا میں عطا فرمائی ہیں، چہ جائیکہ جنت کا مول بن سکیں، سو وہ خالص اس واہب مطلق جل جلالہ کی عطا و بخشش ہوگی، سبحانہ و تعالی، اور یہ عطا و بخشش اس قدر بڑی اور اس حد تک کافی و وافی ہوگی کہ اس کے بعد ان کو اور کسی بھی چیز کی کسی بھی درجے میں ضرورت نہ ہوگی، نیز یہ عطاء و بخشش ان کے ایمان و یقین، صدق و اخلاص، اور عمل و کردار کے لحاظ سے بھی کافی و وافی ہوگی، جو ان کو ہر طرف سے اور ہر اعتبار سے مستغنی و بےنیاز کر دے گی، سو حساب کے لفظ میں یہ سب کچھ آگیا کیونکہ عربی زبان و محاورہ میں کہتے ہیں " اعطانی فاحسبنی " کہ اس نے مجھے اتنا دیا کہ مجھے اور کسی کی ضرورت نہیں رہی، اور اسی سے آتا ہے، " حسبی اللہ " یعنی اللہ مجھے ہر طرح سے اور ہر ضرورت و حاجت کے لئے کافی ہے۔ سبحانہ و تعالی۔ (ابن کثیر، مدارک، محاسن التاویل اور المراغی وغیرہ) بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل جنت کو صرف وہی کچھ نہیں ملے گا جس کے وہ اپنے اعمال کے نتیجے میں مستحق ہوں گے، اور صرف اتنا ہی نہیں ملے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے، بلکہ ان کو اس سے بھی کہیں زیادہ ملے گا اور اتنا کہ جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوگا، جبکہ اس کے مقابلے میں اہل دوزخ کو جزاء وفاق یعنی اپنے کیے کرائے کا بھر پور اور برابر سرابر بدلہ ملے گا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف جنتیوں کے انعامات کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ انعام تمہارے رب کی جانب سے ہوگا پس جتنی اس رب کی شان بڑی ہوگی، اتنی ہی اس کی عطاء و بخشش بھی بڑی ہے، تبارک و تعالی۔ سو اللہ تعالیٰ کا معاملہ کافر کے ساتھ عدل یعنی برابری کا معاملہ ہوگا، کہ جو کچھ اس نے کیا وہ گا اس کو اس کے مطابق پورا پورا بدلہ ملے گا۔ نہ اس کے کیے سے کم، نہ زیادہ، اسی لیے اس کی جزا کے سلسلے میں فرمایا گیا " جزاء وفاقا " جبکہ مومن کے لیے اس کا معاملہ محض عدل کا نہیں بلکہ فضل اور مہربانی کا ہوگا، یعنی وہ اپنی شان رحمت و ربوبیت کی بناء پر اس کو اس کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر اپنی رحمت و عنایت سے نوازے گا، دس گنا، سو گنا، سات سو گنا، اور اس سے بھی کہیں زیادہ، اس کے صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کے درجات و مراتب کے اعتبار سے، سبحانہ و تعالی۔ سو ایک طرف تو یہ انعام رب تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں، اور جس کی شان ربوبیت بےمثال ہے، اور دوسری طرف رب تعالیٰ کا یہ معاملہ اس کے ان نیک طینت اور ایماندار بندوں کے ساتھ عدل و مساوات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے فضل و کرم اور انعام و احسان کی بنیاد پر ہوگا، سبحانہ و تعالی۔ اس آیت کریمہ میں رب کی اضافت ضمیر خطاب کی طرف فرمائی گئی ہے، جس سے مراد پیغمبر ہیں۔ علیہ السلام۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے انعام و احسان کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی امت کو اس انعام و احسان سے نوازا گیا ہے۔ نیز اس میں امت پر بھی ایک احسان عظیم ہے کہ اس پیغمبر پر ایمان کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں ان کو ان سرفرازیوں سے نوازا گیا ہے ( التحریر والتنویر لابن عاشور) اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الراحمین۔
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین اور اس ساری کائنات کا جو کہ آسمان و زمین کے درمیان میں ہے اس (خدائے) رحمان کی طرف سے جس کے سامنے کسی کو یارا نہ ہوگا بات کرنے کا

(31) خدائے رحمان کی رحمت بیکراں کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کے لیے یہ سب صلہ و بدلہ اور انعام و احسان اس خدائے رحمان کی طرف سے ہوگا، جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین اور ساری کائنات کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہے، کہ اس سب کا خالق بھی تنہا وہی ہے، اور مالک بھی بلا شرکت غیرے وہی ہے، اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے، سبحانہ و تعالی۔ پس نہ تو اس میں مشرکین کی دیویوں اور دیوتاؤں کی کوئی جگہ ہے، اور نہ ہی کلمہ گو مشرکوں کی مختلف خود ساختہ ہستیوں اور سرکاروں کی کوئی گنجائش، وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور اعلی وبالا ہے، سبحانہ و تعالی۔ سو اہل ایمان کو اس عظیم الشان جزا اور ان مراتب و درجات سے وہی وحدہ لاشریک نوازے گا۔ سو جو " رب السموات والارض " ہے، یعنی جو رب اور مالک ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا۔ اور اس ارشاد میں اسمائے حسنی میں سے صفت رحمن کے ذکر سے ایک طرف تو یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ اسی خدائے رحمان کی رحمت بےپایاں کا مظہر و نمونہ ہوگا، جس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ نہیں، سبحانہ و تعالی۔ اور دوسری طرف اس میں مشرکین پر تعریض ہے جو صفت رحمن سے چڑا کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم خدائے رحمان کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤ تو وہ کہتے ہیں " وما الرحمن " رحمان کیا ہوتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ان مشرکین پر تعریض ہے کہ تم کس قدر اوندھے اور اندھے ہو کہ تم اسی خدائے رحمن سے چڑھ رکھتے ہو، جس کی رحمتوں میں تم لوگ اس دنیا میں بھی ڈوبے ہوئے ہو، اور جس کی بےپایاں رحمتوں سے تم آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی سرفراز ہوؤ گے جس میں اس کی رحمت بےپایاں اور عنایت بےعنایت کے عظیم الشان اور بےمثال مظاہر پائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں، ہر اعتبار سے اور محض اپنے فضل و کرم سے اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔ (32) مشرکین کے مزاعم باطلہ کی نفی و بیخ کنی کا ذکر وبیان : سو مشرکین کے خود ساختہ ڈھکوسلوں اور مزاعم باطلہ کی نفی و بیخ کنی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے سامنے کوئی بات بھی نہیں کرسکے گا۔ بغیر اس کے اذن و اجازت کے، چہ جائیکہ کوئی زبردستی کر کے، یا اڑ کر اس کے یہاں سے اپنی کوئی بات منوالے، جیسا کہ کھلے مشرکین کا بھی کہنا تھا اور کہنا ہے، اور ان کلمہ گو مشرکین کا بھی کہنا ہے، جو کہ ایمان و عمل کی اہمیت سے غافل اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے لاپرواہ ہو کر اس طرح کی خود ساختہ مختلف ہستیوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں، کہ ہم ان کے حضور نذر و نیاز پیش کردیں گے اور بس وہ ہمارا سارا کام خود کریں گے، ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس خالق ومالک کی شان اقدس و اعلی اس طرح کے تمام تصورات سے کہیں ارفع و اعلی اور اس سے کہیں بلند وبالا ہے، سبحانہ و تعالی۔ وہاں تو اس کے حضور کوئی زبان بھی نہیں کھول سکے گا جب تک کہ اس کی طرف سے اس کے لیے اذن نہ ہو۔ چہ جائیکہ اڑ کے بیٹھ جائے اور منوا کے چھوڑے، وغیرہ۔ سو اس طرح کے تمام تصورات جو مشرک لوگوں نے از خود اپنے ذہنی مفروضوں اور خود ساختہ فلسفوں کی بناء پر اس وحدہ لاشریک کے بارے میں قائم کر رکھے ہیں ان سب کی نفی ہوگئی اور یہ امر ثابت اور واضح ہوگیا کہ وہ سب غلط اور بالکل بےحقیقت ہیں، بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کے ایسے تمام مزاعم باطلہ اور ان کے من گھڑت اور خود ساختہ مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بیخ کنی فرما دی گئی۔ فالحمدللہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔ نیز اس سے فرشتوں کی بےبسی کا ذکر وبیان فرما دیا گیا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن کھڑے ہوں گے روح اور دوسرے فرشتے صف بستہ، یعنی وہ سب عاجزانہ اپنے رب کی بارگاہ اقدس میں کھڑے ہوں گے، جمہور مفسرین کرام کے نزدیک یہاں پر روح سے مراد جبریل امین ہیں، جن کی عظمت اور اہمیت کی بناء پر ان کا عام ملائکہ سے الگ اور بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے، اور روح کا اطلاق عام طور پر جبریل امین ہی پر ہوتا ہے کہ انہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف پیغام وحی اس کے بندوں کے لیے بھیجا جاتا ہے جو کہ روحوں کی غذا ہے (روح، مراغی، مدارک، خازن اور کبیر وغیرہ) لیکن اس میں کچھ اوراقوال بھی ہیں (ابن کثیر وغیرہ) سو اس روز جبریل امین دوسرے تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح نہایت مودب خدام اپنے آقا کے سامنے مودبانہ کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی تقاضا ہے ان کی شان عبدیت اور حضرت حق جل مجدہ کی عظمت شان، سبحانہ و تعالی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کے حضور زبان بھی نہیں کھول سکیں گے، چہ جائیکہ وہ آگے بڑھ کر از خود کسی کے لئے کوئی سفارش کرسکیں۔ لہذا مشرکین نے ان کے بارے میں جو امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں وہ سب بےبنیاد ہیں۔ پس مشرکین نے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی شفاعت و سفارش پر اعتماد کر رکھا ہے، وہ سب بےبنیاد اور باطل و مردود ہے اور ایسے خود ساختہ اور من گھڑت مفروضوں کی کوئی اصل نہ ہے نہ ہوسکتی ہے کہ یہ سب کچھ بےبنیاد اور اوہام و خرافات کا پلندہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے راہ حق و صواب پر مستقیم و گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین۔