An-Naba 78:8

An-Naba · from ayah 8

78:8

وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا ۟ۙوَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا

(بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We created you in pairs

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:8

اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں ہم نے پید ا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہیں جوڑے بنایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (غور کرو) ہم نے تمہیں (فروغِ نسل کے لئے) جوڑا جوڑا پیدا فرمایا (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہیں پیدا کیا (مردوں اور عورتوں کی شکل میں) جوڑے جوڑے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم ہی نے تم کو جوڑا جوڑا بنادیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہیں ہم نے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک بنایا اور تم کو جوڑا جوڑا بھی بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and created you in pairs (as men and women),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have created you in pairs,

— Muhammad Taqi Usmani

And We have created you in pairs,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have created you in pairs.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We created you in pairs

— Saheeh International

Have We not created you in pairs,

— Muhammad Sarwar

And We created you in pairs,

— Muhammad Habib Shakir

And We have created you in pairs.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 6 انسان کو مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کرنا اپنے اندر جو عظیم حکمتیں رکھتا ہے ان کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 69، الروم، حواشی 28 تا 30۔ جلد چہارم، یسین، حاشیہ 31۔ الشوری، حاشیہ 77۔ الزخرف۔ حاشیہ 12۔ جلد ششم، القیامہ، حاشیہ 25۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَّخَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا‘۔ اگرچہ اسلوب کلام باعتبار الفاط خبریہ ہو گیا ہے لیکن معناً یہ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا‘ ہی پر معطوف ہے۔ اس کی وضاحت اوپر آیات ۱-۲ کے تحت ہو چکی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس سب سے بڑے سامان تسلی کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آدمی کے لیے مہیا کیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں تنہا نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے ساتھ تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا بھی بنایا تاکہ وہ تمہارے لیے طمانیت اور سکینت کا ذریعہ بنے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے اور یہ جوڑے آپس میں ایسی گہری وابستگی رکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی تنہا اپنے مقصد تخلیق کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ ساکن رہے، حرکت نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وخلقنکم ازواجا (8:78) ” اور ہم نے تمہیں مرد اور عورت کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا “۔ یہ بھی اس دنیا کی ایک نہایت کھلی حقیقت ہے ، جسے انسان نہایت ہی سادگی کے ساتھ پاتا ہے کہ انسانوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا گیا ہے ۔ پھر ان کو جوڑا بنایا گیا اور ان کے ملاپ سے سلسلہ حیات کو جاری رکھا گیا۔ ہر انسان اس حقیقت اور اس نظارے کو دیکھتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس نظام کے اندر کس قدر لطف ، مزہ ، خوشی اور آرام رکھا گیا ہے اور ان امور کو سمجھنے کے لئے کسی وسیع علم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اللہ نے انسانوں کے سامنے یہ حقیقت رکھی ، ہر تہذیب و تمدن کا بیٹا بھی اسے سمجھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی مرد کے سکون و راحت کے لئے عورت کو اس کا جوڑا بنایا۔ (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ) 30 ۔ الروم :21) یا ازواج سے مراد طرح طرح کی اشکال والوان وغیرہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–13

{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 مرد وزن کی تخلیق :۔ بقائے نوع کے لیے ہم نے انسان کی دو بڑی انواع مرد اور عورت پیدا کیں۔ ان انواع میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے فطری کشش رکھتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے راحت و سکون کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں محبت اور مودت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی لابدی ضرورت ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر ان کا زندگی گزارنا مشکل ہے۔ بقائے نوع انسانی کا مقصد کچھ کم اہم نہ تھا۔ ان دونوں میں کشش، سکون اور محبت پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو بڑا پر لطف بنادیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ (جو قیام حیات کیلئے لازمی ہے) ذکر یہاں خدائی نعمتوں کا اور حق تعالیٰ کی شان بندہ پروری کا ہورہا ہے۔ اسی سلسلہ میں نیند کا بھی ذکر ہے۔ اور نیند کا انسانی زندگی کے حق میں ایک نعمت عظیم ہونا بالکل ظاہر ہے۔ ضمنا اس حقیقت اور اہم حیاتیاتی حقیقت پر بھی روشنی پڑگئی کہ نیند ایک ایجابی شے ہے محض ایک سلبی کیفیت یاعدم بیداری کا نام نہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا اور ہم نے ہی تمہیں مرد و عورت بنایا اور تمہارے سونے کو تمہارے جسموں کی راحت کی چیز بنایا اور ہم نے ہی رات کو سکونت یا یہ کہ پردہ کی چیز بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وخلقنکم ازواجاً : خود اپنے آپ کو دیکھ لو، ہم نے تمہیں نر اور مادہ پیدا کیا، مختلف رنگوں، بیشمار شکلوں اور صورتوں میں پیدا کیا۔ پہلی دفعہ پیدا کرنے پر تمہاری عقل کو تعجب نہیں ہوا تو دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں ہوتا ہے ؟”ازواجاً ”زوج“ کی جمع ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وخلقنکم ازواجا۔ یعنی اصناف بنایا ان میں سے کچھ مذکر ہیں اور کچھ مونث ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجا کا معنی رنگ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں ہر جوڑا داخل ہوجاتا ہے یعنی قبیح، حسین، لمبا اور چھوٹا تاکہ احوال مختلف ہوجائیں تو اعتبار واقع ہوسکے فضیلت والا شکر بجالائے اور جس پر فضیلت حاصل کی گئی وہ صبر کرے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–12

11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا یعنی دو ، دو ، آیت وجعلنا النہار معاشا۔ اور دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا یعنی تم اللہ کے فضل کو تلاش کرتے رہو۔ آیت وجعلنا سراجا وہاجا۔ اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بنایا یعنی چمکتا ہوا۔ آیت وانزلنا من المعصرات اور ہم نے ہواؤں کو اتارا یعنی ہوا کو آیت ماء ثجاجا یعنی ایسا پانی جسے انڈیلا جائے تو وہ موسلا دھار برس پڑے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔ فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–9

(خود تخلیق انسانی قیا مت پر دلیل ہے ) پہلی سورة میں فرمایا تھا الم نخلقکم من ماء مھین کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرے آب سے پیدا نہیں کیا ؟ اس جگہ قدرت خداوندی کا ذکر کر کے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور علیم کل ہے وہ یقینا قیامت بر پاکر سکتا ہے جس نے انسان کو حقیر قطرہ آپ سے پلٹیاں دے دے کر سمیع وبصیر پیدا کیا ، وہ دوبارہ زندہ کرکے محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا ۔ (تخلیق ازواج) اس کے بعد فرمایا وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا ۔ جوڑے سے مراد مرد و زن کا جوڑا بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی دو صنف پیدا کیے ۔ اور اس سے مومن کافر ، نیکی اور بدی کا جوڑا بھی ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا۝ 8 ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : وَّ خَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا (اور ہم نے ہی تم کو جوڑا بنایا) یعنی مذکر و مؤنث (نر، مادہ)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا) یعنی ایک ہی جنس میں سے تمہیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے تب مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

(7) نعمت نیند میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے مکمل آرام کی چیز بنایا۔ تاکہ دن بھر کے کام کاج اور محنت و مشقت سے تمہاری جو قوت اور انرجی صرف اور ختم ہوتی رہتی ہے، وہ نیند کی صورت میں ملنے تمہارے اس آرام سے تمہیں واپس مل سکے، اور اس طرح تم پھر تازہ دم ہوجاؤ، سو تم روزانہ اس نعمت سے متمتع ہوتے ہو، مگر اس منعم و کریم کے اس کرم و احسان کو یاد نہیں کرتے، جس نے تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور تقاضا اور سوال کے بغیر تم کو ازخود نیند کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا اور محض اپنے فضل و کرم سے نوزا اور سرفراز فرمایا سبحانہ و تعالیٰ ، واضع رہے کہ " سبت "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6، ازواج، کے معنیٰ مختلف شکلیں اور رنگ بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ مذکر و مؤنث کے نطفہ کے اختلاط سے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:8) وخلقنکم ازواجا : اس کا عطف مضارع منفی پر ہے ازواجا حال ہے خلقنکم کی ضمیر مفعول کم سے۔ اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

ف 1: سبعا شدادا سے مراد کئی نظام کواکب ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نہایت محکم اور مضبوط ہیں ۔ سبع کا لفظ یہاں عدد کے لئے نہیں ۔ بلکہ تکثیر کے لئے ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور ہم نے تم کو جوڑا جوڑا بنایا۔ یعنی نر اور مادہ بنایا یا ہر ایک چیز کو ایک دوسرے کا جواب بنایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ۔ 8 اگر تم ان فضائوں ، خلائوں اور افلاک میں دور دور تک نظر بصیرت سے نہیں دیکھ سکتے اور زمین کے ان پہاڑوں ، دریائوں اور میدانوں کی وسعت کو تم بذریعہ بصیرت نہیں دیکھ سکتے تو کیا تمہاری نظر اتنا کام بھی نہیں کرتی کہ تم اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی حکمت کے جلوئوں کو اپنی ذات کے اندر دیکھ سکو کہ اس نے تم سب کو مرد ہی مرد نہیں بنا دیا اور نہ سب کو عورتیں ہی عوتریں بنا دیا ہے بلکہ تم کو مرد و زن کی صورت میں پیدا فرمایا ہے اور دونوں کی تخلیق ایک ہی جیسے قطرئہ آب سے کی ہے جو ایک ہی طرح ٹپکایا جاتا ہے اور ایک ہی برتن اور جار میں رکھ کر تمہاری پرورش شروع کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (Truly, they will soon know. Again, truly, they will soon know....78:5) The particle kalla is negative, and means 'never, by no means'. It means here that this matter cannot be understood by question and answer or by disputation and debate. Its reality will be understood by them when they will face it. It is such a reality that has no room for questions, disputation or denial. The Qur'an says that soon they will come to know about it [ and this statement is repeated twice for emphasis ]. In other words, when they die, they will discover the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 For explanation of the supreme wisdom that underlies the creation of men and women into pairs, see E.N. 69 of AI-Furgan, E. N.'s 28 to 30 of Ar-Rum, E.N. 31 of Ya Sin, E.N. 77 of Ash-Shura, E N.12 of Az-Zukhruf, E.N. 25 of AlQiyamah.

Read the full tafseer →