An-Naba 78:7

An-Naba · from ayah 7

78:7

وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا ۟وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا

اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the mountains as stakes?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:7

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہاڑوں کو (زمین میں گڑی ہوئی) میخیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہاڑوں کو میخیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (کیا) پہاڑوں کو (اس میں) ابھار کر کھڑا (نہیں) کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پہاڑوں کو میخیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پہاڑوں کو اس کی میخیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنادیا ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہاڑوں کو میخیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پہاڑوں کو (اس کی) میخیں نہیں ٹھہرایا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

and fixed the mountains like pegs,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the mountains bulwarks?

— Muhammad Taqi Usmani

and the mountains bulwarks?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the mountains as pegs

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the mountains as stakes?

— Saheeh International

and the mountains as pegs (to anchor the earth)?

— Muhammad Sarwar

And the mountains as projections (thereon)?

— Muhammad Habib Shakir

And the mountains as stakes?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 5 زمین پر پہاڑ پیدا کرنے کی حکمتوں کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حاشیہ 12، جلد سوم، النحل، حاشیہ 74۔ جلد ششم، المرسلات، حاشیہ 15۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ ساکن رہے، حرکت نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

یہ سفر اس عظیم اور طویل و عریض کائنات کے اطراف و جوانب میں ہے ، اس سفر میں ہم بیشمار مناظر دیکھتے ہیں ، اور مشاہدے کرتے ہیں۔ یہ طویل مناظر اور بیشمار تخیلاتی تصاویر ہمارے سامنے نہایت ہی محدود اور مختصر الفاظ کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی محدود وقت میں ، محدود الفاظ کے ذریعہ جب یہ مناظر پردہ تخیل پر گزرتے ہیں تو فکر ونظر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ عقل وخرد کی تاروں پر مضراب اپنا کام نہایت تیزی اور تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ یہ سب تصورات ایک اثباتی استفہام کے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طاقتور ہاتھ ، نہایت ہی غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگارہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جیسا کسی چیز میں میخ لگا دینے سے وہ چیز اپنی جگہ سے نہیں ملتی۔ ایسے ہی ابتداء میں زمین جو کانپتی اور لرزتی تھی، اللہ نے پہاڑ پیدا کر کے اس کے اضطراب اور کپکپی کو دور کیا۔ گویا زمین کو ایک طرح کا سکون پہاڑوں سے حاصل ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–13

{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 پہاڑوں کی تنصیب :۔ زمین جب پیدا کی گئی تو ابتداً لرزتی رہتی تھی، ڈولتی تھی، جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ ایسی صورت میں انسان کا اس پر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ ہم نے اس کی پشت پر جابجا پہاڑوں کے طویل سلسلے میخوں کی طرح گاڑ دیئے اور انہیں اس تناسب سے جا بجا مقامات پر پیدا کیا جس سے زمین میں لرزش اور جھول بند ہوگئی اور وہ اس قابل بنادی گئی کہ انسان اس پر اطمینان سے چل پھر سکے۔ اس پر مکانات وغیرہ تعمیر کرسکے اور سکون سے پوری زندگی بسر کرسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

3۔ (جو اپنے ثقل سے توازن پیدا کئے، اور زمین کو ڈانوا ڈول حرکت سے روکے ہوئے ہیں) پہاڑوں کی اس حیثیت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” الارض مھدا “۔ زمین کے فرش ہونے کا بھی ذکر پیشتر کئی بار آچکا ہے۔ اسی فرش پر تو ہم آپ سب چلتے پھرتے، دوڑتے، بیٹھتے، اٹھتے، سوتے، کھاتے پیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والجبال اوتادا . اور کیا ہم نے پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا تاکہ زمین میں ارتعاشی جنبش نہ ہو

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا اور ہم نے ہی تمہیں مرد و عورت بنایا اور تمہارے سونے کو تمہارے جسموں کی راحت کی چیز بنایا اور ہم نے ہی رات کو سکونت یا یہ کہ پردہ کی چیز بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

7 والجبال اوتاداً : اور زمین کا توازن قائم رکھنے اور اسے مسلسل زلزلے کی کیفیت سے بچانے کے لئے اس میں پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ ”اوتاداً“”وتد“ کی جمع ہے، میخیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والجبال اوتادا۔ پہاڑوں کو میخیں بنایا تاکہ وہ پرسکون ہوجائے اور اپنے مکینوں کے ساتھ ایک طرف مائل نہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھا دیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیں یعنی پہاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھادیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا۔ اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیا۔ یعنی پاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا۔ تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الم نجعل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔ فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(پہاڑ کیل ہیں ) فرمایا صرف زمین کو گہوارہ ہی نہیں بنایا بلکہ والجبال اوتادا پہاڑوں کو زمین پر کیل بنا دیا ہے ۔ حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 486) میں آتا ہے کہ زمین میں اضطراب تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جگہ جگہ وزنی پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین کا توازن درست رہے اور یہ ڈولنے نہ پائے ۔ پہاڑوں کی تخلیق کا مقصدیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ میدانی زمین میں چونکہ تمام لوازمات زندگی مہیا نہیں ہوتے لہذا پہاڑ پیدا کردیے ۔ ان پر درخت کثرت سے ہوتے ہیں ۔ پہاڑوں سے چشمے ابلتے ہیں مع دنیات حاصل ہوتی ہیں ۔ جڑی بو ٹیاں ملتی ہیں اور پتھر وغیرہ ملتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں انسانی ضروریات کی ہیں مگر عام طور پر میدان میں نہیں ملتیں لہذا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۝ 7 ۠ ۙ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ وتد الوَتِدُ والوَتَدُ ، وقد وَتَدْتُهُ أَتِدُهُ وَتْداً. قال تعالی: وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 7] وكيفية كون الجبال أوتادا يختصّ بما بعد هذا الباب، وقد يسكّن التاء ويدغم في الدال فيصير ودّا، والوَتِدَان من الأذن تشبيها بالوتد للنّتوّ فيهما . ( و ت د )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا (اور پہاڑوں کو میخیں) زمین کیلئے تاکہ زمین میں ارتعاشی جنبش نہ ہو۔ لِئَلَّا تَمِیْدَ بِکُمْ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا) اور پہاڑوں کو میخیں۔ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ وہ تمہیں لے کر متحرک نہ ہوجائے اور ڈھلک نہ جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(5) پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں سامان غور و فکر : سو پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو عظیم الشان میخیں نہیں بنادیا ؟ جن کو نہایت عظیم الشان اور پر حکمت طریقے سے زمین میں گاڑ دیا، تاکہ یہ کرہ ارضی تمہیں لے کر ڈولنے نہ لگے، اور اس کی پشت پر تمہارے لیے پرسکون زندگی گزارنا ممکن نہ ہوجائے، جیسا کہ اوپر سورة مرسلات کے حاشیہ نمبر 20, 21 میں بھی گزارا، سو یہاں پر انسان کو سب سے پہلے نظام ربوبیت اور مظاہر قدرت و حکمت کے ان ہی دو عظیم الشان نشانوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو کہ زمین کے اس عظیم الشان بچھونے اور پہاڑوں کی ان عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 5 تاکہ زمین میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہو اور وہ ڈگمگاتی نہ رہے اور زمین سھاد “ بنانا یا اصل خلقت کے اعتبار سے ہے اور یا پیدا کرنے کے بعد ہے۔ بہرحال اس کا مواد، ہوتا ” کرۃ “ ہونے کے منافی نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس میں اضطراب سا تھا۔ پھر جب پہاڑ پیدا کئے تو اس میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ (نحل :115)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 6–7

(78:6) الم نجعل الارض مھدا۔ یہاں سے لے کر آیت نمبر 16 تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو نو (9) مصنوعات کا ذکر کرکے اپنی توحید پر، قدرت حشر پر اور اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کے وجوب شکر پر دلیل ذکر کی ہے تاکہ توحید و عبادت کے داعی کی دعوت کو لوگ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے لم نجعل مضارع منفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم نے نہیں بنایا۔ الارض مفعول اول مھدا مفعول ثانی۔ جعلنا کے۔ مھدا۔ بستر، ہموار میدان۔ اس کی جمع مھد ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا ہم نے زمین کو (تمہارے رہنے چلنے پھرنے کے لئے) فرش نہیں بنادیا ہے (یعنی ضرور بنادیا ہے) جملہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی استفہام کی غرض یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ف 2: پہاڑوں کو میخیں بنانے کے معنی یہ ہیں کہ نظریہ جذب شمسی کی تائید فرمائی ہے ۔ یعنی جب یہ زمین سورج سے وزن میں کہیں کم ہے ۔ اور سورج اپنے اندر جذب و کشش رکھتا ہے ۔ تو پھر زمین کیوں سورج کی طرف نہیں پرواز کرجاتی ۔ اس کا جواب یہ مرحمت فرمایا ہے کہ پہاڑوں کی وجہ سے زمین کا ثقل اتنا بڑھ گیا ہے ۔ کہ اب سورج کی کشش اس کو اپنی طرف کھینچ کر نہیں لے جاسکتی ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک توازن سا قائم ہے اور زمین اس وجہ سے محفوظ ہوگئی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا۔ یعنی زمین کو اس طرح نہیں پھیلایا جیسے فرش اور بچھونا پھیلا ہوا ہوتا ہے اگرچہ زمین گول ہے لیکن اس کا پھیلائو اتنا وسیع ہے کہ ہر جگہ پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے جب زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلتی تھی اس پر پہاڑوں کو قائم کیا اور ایسا جما دیا جیسے میخیں جمی ہوئی ہوتی ہیں اور فرش پر میر فرش رکھے ہوئے ہوتے ہیں اس کے بعد زمین قائم ہوگئی اور ہلنا جلنا بلند ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح نہیں گاڑ دیا ۔ 7 تم نے اپنی زندگی کی ایک آسائش کی طرف نگاہ کیوں نہ دوڑا دی تاکہ تم پر ایک چیز کا جواب کے متعقل سوال کرنے سے پہلے ہی جواب تیار رکھتے تم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ذرا اس سلسلہ ہائے کوہ کی طرف نگاہ اٹھائو اور ان کو اچھی طرح دیکھو کہ کیا اس دھرتی میں اللہ نے ان کو کیل کی طر گاڑ نہیں دیا تاکہ اس کے گاڑنے کے باعث اور ان پہاڑوں کے وزن کے باعث اس کی اضطراری حالت رک جائے اور وہ کپکپانا بند کر دے۔ پھر ان پہاڑوں کو جن کو کیل کی طرح گاڑ دیا ہے ان کے اندر تمہارے لئے کیا کیا ذخیرے بند کر کے رکھ دیئے ہیں کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود وہ محفوظ کے محفوظ پڑے ہیں اور ابھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (Truly, they will soon know. Again, truly, they will soon know....78:5) The particle kalla is negative, and means 'never, by no means'. It means here that this matter cannot be understood by question and answer or by disputation and debate. Its reality will be understood by them when they will face it. It is such a reality that has no room for questions, disputation or denial. The Qur'an says that soon they will come to know about it [ and this statement is repeated twice for emphasis ]. In other words, when they die, they will discover the…

Read the full tafseer →