An-Naba 78:6

An-Naba · from ayah 6

78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا ۟ۙاَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have We not made the earth a resting place?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:6

کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ہم نے زمین کو ایک بچھونا نہیں بنایا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم نے زمین کو (زندگی کے) قیام اور کسب و عمل کی جگہ نہیں بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہم نے زمین کو ایک گہوارہ نہیں بنایا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم نے زمین کو گہوارہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ ہم نے بنادیا (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم نے نہیں بنا دیا زمین کو بچھونا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Have We not spread the earth like a bed,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did We not make the earth a floor,

— Muhammad Taqi Usmani

Did We not make the earth a floor,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have We not made the earth as a bed,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have We not made the earth an expanse,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have We not made the earth a resting place?

— Saheeh International

Have We not made the earth as a place to rest

— Muhammad Sarwar

Have We not made the earth an even expanse?

— Muhammad Habib Shakir

Have We not made the earth an expanse.

— Abdul Majid Daryabadi

Have We not made the earth as a wide expanse,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 4 زمین کو انسان کے لیے فرض، یعنی ایک پرسکون قیام گاہ بنانے میں قدرت و حکمت کے جو کمالات کار فرما ہیں ان پر اس سے پہلے تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر تفصیلی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر مقامات ذیل ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 29۔ المؤمن، حواشی 90۔ 91۔ الزخرف، حاشیہ 7۔ الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ 18۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

یہ سفر اس عظیم اور طویل و عریض کائنات کے اطراف و جوانب میں ہے ، اس سفر میں ہم بیشمار مناظر دیکھتے ہیں ، اور مشاہدے کرتے ہیں۔ یہ طویل مناظر اور بیشمار تخیلاتی تصاویر ہمارے سامنے نہایت ہی محدود اور مختصر الفاظ کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی محدود وقت میں ، محدود الفاظ کے ذریعہ جب یہ مناظر پردہ تخیل پر گزرتے ہیں تو فکر ونظر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ عقل وخرد کی تاروں پر مضراب اپنا کام نہایت تیزی اور تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ یہ سب تصورات ایک اثباتی استفہام کے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طاقتور ہاتھ ، نہایت ہی غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگارہا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5{ ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہاں کوئی بات نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔“ عالم دنیا اور عالم برزخ کے درمیان صرف موت کا پردہ حائل ہے۔ جونہی کسی انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے یہ پردہ اٹھ جاتا ہے۔ قبر عالم برزخ کی پہلی منزل ہے۔ اس منزل پر پہنچتے ہی ہر انسان اصل حقیقت کو جان جاتا ہے۔ چناچہ وہ وقت دور نہیں جب ان میں سے ہر شخص پر اصل حقائق عیاں ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 کیا کائنات کے چودھری حضرت انسان کی زندگی کا کچھ مقصد نہ ہونا چاہیے :۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کائنات سے چند ایسے آثار و شواہد پیش فرمائے ہیں جن سے ہر انسان کو سابقہ پڑتا ہے اور وہ ان سے متمتع ہو رہا ہے۔ انسان کو بتانا یہ مقصود ہے کہ کائنات میں یہ اشیاء کسی خاص مقصد کے لیے اور بڑی حکمت کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر چیز اپنے مقاصد کو پورا کر رہی ہے۔ اب رہا انسان جسے عقل و شعور اور ارادہ و اختیار دے کر اور اس کائنات میں چودھری بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ ان تمام اشیاء سے حسب ضرورت فائدے اٹھائے تو کیا اس کی زندگی کا کچھ بھی مقصد نہ ہونا چاہیے ؟ کیا عقل اسے باور کرتی ہے کہ انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

3۔ (جو اپنے ثقل سے توازن پیدا کئے، اور زمین کو ڈانوا ڈول حرکت سے روکے ہوئے ہیں) پہاڑوں کی اس حیثیت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” الارض مھدا “۔ زمین کے فرش ہونے کا بھی ذکر پیشتر کئی بار آچکا ہے۔ اسی فرش پر تو ہم آپ سب چلتے پھرتے، دوڑتے، بیٹھتے، اٹھتے، سوتے، کھاتے پیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم نجعل الارض مھادا . کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی استفہام کی غرض یہ ہے کہ مخاطب کو اقرار و عبادت پر آمادہ کیا جائے یا استفہام انکاری ہے اور انکار نفی مفید ثبوت ہے (مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے نہیں بنایا) یعنی زمین کو فرش بنایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا اور ہم نے ہی تمہیں مرد و عورت بنایا اور تمہارے سونے کو تمہارے جسموں کی راحت کی چیز بنایا اور ہم نے ہی رات کو سکونت یا یہ کہ پردہ کی چیز بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الم نجعل الارض مھداً :: اللہ تعالیٰ نے قیامت کا یقین دلانے کے لئے اور ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لئے اپنی قدرت کے چند عجائب پیش فرمائے ہیں کہ عقل وچھو کہ اتنے بڑے بڑے کام کرنے والے کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ اور وہ عجائب بھی خود تمہارے گرد و پیش اور تمہاری ذات میں موجود ہیں۔ (2) فرمایا جہاں رہتے ہو اسی کو دیکھ لو، کیا عقل میں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی زمین کو ہم نے کس طرح پیدا کیا اور اس کی طرح بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الم نجعل الارض۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ الفافا۔ الم نجعل الارض مھدا۔ ان کی اس بات پر راہنمائی کی کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے پر قادر ہے یعنی ان امور کو پیدا کرنے پر ہماری قدرت دوبارہ اٹھانے پر ہماری قدرت سے عظیم ہے۔ مھادا کا معنی، بستر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، الذی جعل الکم الارض فراشا۔ البقرہ 22) وہ ذات پاک جس نے زمین کو تمہارے لیے بستر بنادیا، اے مھد بھی پڑھا گیا ہے اس کا معنی ہے زمین ان کے لیے ایسی ہے جیسے بچے کے لیے پنگھوڑا ہوتا ہے مھدا اسے کہتے ہیں جسے بچھایا جاتا ہے اور اس پر سویا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھا دیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیں یعنی پہاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض مہدا۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یعنی تمہارے لیے زمین کو بچھادیا گیا۔ آیت ولجبال اوتادا۔ اور پہاڑوں کو کیلیں بنادیا۔ یعنی پاڑوں کو تمہارے لیے گاڑ دیا گیا۔ تاکہ زمین ہلنے نہ پائے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الم نجعل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَ لَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ : کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو ][ مِهٰدًا : آرادم دہ ٹھکانہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔ فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(زمین گہوارہ ہے زمین ) پہلی سورة میں فرمایا تھا کہ ہم نے زمین کو سمٹنیے والی بنایا ہے ۔ زندوں کو بھی سمیٹتی ہے ۔ اور مردوں کو بھی یہی اپنے اندر پناہ دیتی ہے ۔ اس جگہ فرمایا الم نجعل الا رض مھدا کیا ہم نے زمین کو گہوارے کی طرح نہیں بنایا ۔ انسان زمین پر بالکل اسی طرح آرام کرتے ہیں ۔ جس طرح بچہ گہوارے میں چین و سکون کے ساتھ وقت گذارتا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے زمین کو مستقر بنایا ہے ۔ تا کہ وہ اپنے تمام کاروبار آسانی کے ساتھ زمین پر انجام دے سکے ۔ زمین میں حیات انسان کے تمام لوازمات پیدا کیے اور اس کی ضروریات کی ساری چیزیں مہیا کیں تو گویا زمین انسان کے لیے بمنزلہ گہوارہ کے ہے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا۝ 6 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایجاداتِ باری تعالیٰ : 6 : اَلَمْ نجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا (کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا) (یہ استفہام انکاری ہے) جب کفار نے بعث کا انکار کیا تو ان کو مخاطب کر کے فرمایا کیا بعث کی نسبت جس کی طرف کی جارہی ہے اس نے یہ عجیب مخلوقات پیدا نہیں فرمائیں ؟ جب جواب ہاں میں ہے تو تم اس کی بعث بعد الموت پر قدرت کو کیوں نہیں مانتے حالانکہ وہ ایجاد بھی ان ایجادات سے چنداں مختلف نہیں) یا ان کو اس طرح کہا جارہا ہے کہ تم بتلائو اس نے یہ ساری اشیاء کیوں بنائیں ؟ حکیم کوئی فعل فضول کرتا ہی نہیں بعث کا انکار کرنے سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کہ اس نے جو کچھ کیا وہ بلامقصد کیا ؟ مِھٰدًا (فرش) جس کو ہم نے بچھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ثم کلا سیعلمون “ یہ ان کے لئے وعید ہے وعید کے پیچھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” کلا سیعلمون “ ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے یعنی کافر ہیں۔ ” ثم کلا سیعلمون “ یعنی مومنین۔ پھر اپنی کاریگری کو ذکر کیا تاکہ وہ اس کی توحید کو جان لیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسیے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا کیا ہم نے تمہیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا ؟ پس ہم نے تمہارے لیے (الْاَرْضَ مِهٰدًا) زمین کو ہموار اور نرم۔ یعنی تمہارے لیے اور تمہارے مصالح، مثلا کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(5) پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں سامان غور و فکر : سو پہاڑوں کی عظیم الشان میخوں میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو عظیم الشان میخیں نہیں بنادیا ؟ جن کو نہایت عظیم الشان اور پر حکمت طریقے سے زمین میں گاڑ دیا، تاکہ یہ کرہ ارضی تمہیں لے کر ڈولنے نہ لگے، اور اس کی پشت پر تمہارے لیے پرسکون زندگی گزارنا ممکن نہ ہوجائے، جیسا کہ اوپر سورة مرسلات کے حاشیہ نمبر 20, 21 میں بھی گزارا، سو یہاں پر انسان کو سب سے پہلے نظام ربوبیت اور مظاہر قدرت و حکمت کے ان ہی دو عظیم الشان نشانوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو کہ زمین کے اس عظیم الشان بچھونے اور پہاڑوں کی ان عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 5 تاکہ زمین میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہو اور وہ ڈگمگاتی نہ رہے اور زمین سھاد “ بنانا یا اصل خلقت کے اعتبار سے ہے اور یا پیدا کرنے کے بعد ہے۔ بہرحال اس کا مواد، ہوتا ” کرۃ “ ہونے کے منافی نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس میں اضطراب سا تھا۔ پھر جب پہاڑ پیدا کئے تو اس میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ (نحل :115)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 6–7

(78:6) الم نجعل الارض مھدا۔ یہاں سے لے کر آیت نمبر 16 تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو نو (9) مصنوعات کا ذکر کرکے اپنی توحید پر، قدرت حشر پر اور اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کے وجوب شکر پر دلیل ذکر کی ہے تاکہ توحید و عبادت کے داعی کی دعوت کو لوگ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے لم نجعل مضارع منفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم نے نہیں بنایا۔ الارض مفعول اول مھدا مفعول ثانی۔ جعلنا کے۔ مھدا۔ بستر، ہموار میدان۔ اس کی جمع مھد ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا ہم نے زمین کو (تمہارے رہنے چلنے پھرنے کے لئے) فرش نہیں بنادیا ہے (یعنی ضرور بنادیا ہے) جملہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی استفہام کی غرض یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ف 2: پہاڑوں کو میخیں بنانے کے معنی یہ ہیں کہ نظریہ جذب شمسی کی تائید فرمائی ہے ۔ یعنی جب یہ زمین سورج سے وزن میں کہیں کم ہے ۔ اور سورج اپنے اندر جذب و کشش رکھتا ہے ۔ تو پھر زمین کیوں سورج کی طرف نہیں پرواز کرجاتی ۔ اس کا جواب یہ مرحمت فرمایا ہے کہ پہاڑوں کی وجہ سے زمین کا ثقل اتنا بڑھ گیا ہے ۔ کہ اب سورج کی کشش اس کو اپنی طرف کھینچ کر نہیں لے جاسکتی ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک توازن سا قائم ہے اور زمین اس وجہ سے محفوظ ہوگئی ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا ؟ ۔ 6 یہ سوال کیا جا رہا ہے ان لوگوں سے جو قیامت کے روز کو تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ بتائو کیا ہم نے اس زمین کو تمہارے لئے بچھونا نہیں بنایا ، ایسا بچھونا جو تمہارے لئے فائدہ مند ہو اور تمہاری بقا اور تمہاری نشو و نما کے لئے کفایت کرے اور تمہارے رزق کا سامان ہم نے اس میں نہیں رکھ دیا کہ تم اپنی مرضی سے جب چاہو اس سے اپنا رزق حاصل کرلو اور یہ بھی کہ پہاڑوں کی نسبت ہم نے اس کو تمہارے لئے ہموار کردیا ہے اور اس کے میدانوں کو زرخیز بنا دیا ہے اور ان میں تمہارے لئے لہلہاتے ہوئے کھیت بھی موجود ہیں اور سر سبز باغات ہیں ، ابلتے ہوئے چشمے بھی ہیں اور ایسے چشمے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (Truly, they will soon know. Again, truly, they will soon know....78:5) The particle kalla is negative, and means 'never, by no means'. It means here that this matter cannot be understood by question and answer or by disputation and debate. Its reality will be understood by them when they will face it. It is such a reality that has no room for questions, disputation or denial. The Qur'an says that soon they will come to know about it [ and this statement is repeated twice for emphasis ]. In other words, when they die, they will discover the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 Enough light has been thrown at several places in The Meaning of the Qur'an on the supreme wisdom and power of Allah that underlies His making the earth a carpet, i.e. an abode of perfect peace and rest. For explanation, see E.N.'s 73, 74, 81 of An-Naml, E.N. 29 of Ya Sin, E.N.'s 90, 91 of Al-Mu'min, E.N. 7 of Az-Zukhruf, E.N. 7 of Al-Jathiyah, E.N. 18 of Surah Qaf.

Read the full tafseer →