An-Naba 78:5

An-Naba · from ayah 5

78:5

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ۟ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَ‏

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then, no! They are going to know.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:5

ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

دوبارہ خبردار ! انہیں بہت جل پتہ لگ جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہاں ہاں جان جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ہم) پھر (کہتے ہیں: اختلاف و انکار) ہرگز (درست) نہیں! وہ عنقریب جان جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہاں ! یقینا انہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہاں پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور پھر ہرگز ایسا نہیں (کہ قیامت نہ آئے گی) انہی کبھی معلوم ہوا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہاں کوئی بات نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

again, no indeed; soon will they come to know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Again, indeed they will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani

Again, indeed they will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, again, they will come to know!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, again, but they will come to know!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then, no! They are going to know.

— Saheeh International

Yes, indeed, before long they will learn all about it.

— Muhammad Sarwar

Nay! Nay! they shall soon know.

— Muhammad Habib Shakir

Again, by no means! anon they shall know.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, verily they shall soon (come to) know!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 3 یعنی وہ وقت دور نہیں ہے جب وہی چیز حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی جس کے بارے میں یہ فضول چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ رسول نے جو خبر ان کو دی تھی وہی صحیح تھی اور قیاس و گمان سے جو باتیں یہ بنا رہے تھے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

کلا سیعلمون .................... سیعلمون (5:78) ” ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ لفظ کلازجر آمیز اور سخت توبیخ کے ساتھ انکار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں جس قسم کی فضا پیدا کرنا مطلوب ہے ، اس کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے۔ لفظ کلا کے تکرار اور لفظ سیعلمون دونوں کے تکرار میں سخت تہدید اور ڈراوا ہے۔ اب بظاہر نظر آتا ہے کہ روئے سخن اس عظیم خبر سے پھر کر کسی دوسرے موضوع کی طرف منقل ہوگیا ہے تاکہ تھوڑے وقفے کے بعد اسے براہ راست لیا جائے ، روئے سخن دراصل ہمارے پیش پا افتادہ کائنات کے اندر موجود بعض حقائق ، مظاہر ، مناظر اور شواہد کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

3 یعنی پیغمبروں نے ابتداء دنیا سے آج تک بہت کچھ سمجھایا، مگر لوگ اپنے اختلافات اور پوچھ پاچھ سے ہرگز باز آنے والے نہیں۔ اب قریب ہے کہ وہ ہولناک منظر ان کے سامنے آجائے اس وقت جان لیں گے کہ قیامت کیا چیز ہے اور ان کے سوالات و اختلافات کی حیثیت کیا تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5{ ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہاں کوئی بات نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔“ عالم دنیا اور عالم برزخ کے درمیان صرف موت کا پردہ حائل ہے۔ جونہی کسی انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے یہ پردہ اٹھ جاتا ہے۔ قبر عالم برزخ کی پہلی منزل ہے۔ اس منزل پر پہنچتے ہی ہر انسان اصل حقیقت کو جان جاتا ہے۔ چناچہ وہ وقت دور نہیں جب ان میں سے ہر شخص پر اصل حقائق عیاں ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 یعنی اسی دنیا میں ان کی موت کے وقت آخرت سے متعلق سب حقائق پوری طرح کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

2۔ زور وجوش کے موقع پر، فقروں کی یہ تکرار عربی حسن خطابت اور اسلوب بلاغت کا ایک خاص نمونہ ہے۔ اردومح اور ہ میں بھی تو زور وجوش کے موقع پر کہتے ہیں۔ ” اجی یہ دیکھیں گے، اور پھر دیکھیں گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم کلا سیعلمون . پھر قیامت کے دن ان کو صداقت معلوم ہوگی۔ تکرار جملہ مبالغہ کے لیے ہے اور اس سے عذاب کی دھمکی دو مرتبہ ہوگئی۔ ایک بار قبر کے عذاب کی اور دوسری بار قیامت کے دن کی ‘ لفظ ثم بتارہا ہے کہ قیامت کے عذاب کی وعید قبر کی وعید سے زیادہ پرسطوت ہے۔ آئندہ آیات میں اللہ نے اپنی مصنوعات کا ذکر کر کے اپنی توحید پر ‘ قدرت حشر پر اور اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کے وجوب شکر پر استدلال کیا ہے تاکہ توحید و عبادت کے داعی کی دعوت کو لوگ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) یہ قریش کس چیز کے متعلق میں گفتگو کر رہے ہیں اس عظیم الشان قرآن حکیم کے متعلق جس کی یہ لوگ تکذیب اور بعض تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ جبریل امین جس وقت حضور کے پاس قرآن کریم لے کر آئے، اور آپ نے قریش کے سامنے اس کو پڑھا تو اس بارے میں وہ لوگ گفتو و شنید کرنے لگے، چناچہ ان میں سے بعض نے تو اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکفیر کی۔ ہرگز ایسا نہیں ان کو موت کے وقت عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے اور ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ قبر میں کیا معاملہ ہوگا۔ شان نزول : عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 4–5

(1) کلا سیعلمون …:”کلا“ کا لفظ عربی میں عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کو غلط اور بعد والے کلام کو صحیح قرار دینے کیلئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے متعلق اختلاف ڈالنا، انکار کرنا یا شک کرنا بالکل غلط ہے اور اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔ (2) سیعلمون :”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی اگر ان کی عقل قیامت کو نہیں مانتی اور اس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو مرنے سے تو نہ یہ انکار کرسکتے ہیں، نہ شک کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی کا اختلاف ہے، تو بس مرنے کی دیر ہے، اس کے ساتھ ہی قیامت اور دوسری تمام حقیقتیں جنہیں یہ لوگ خلاف عقل قرار دے رہے ہیں، سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں۔ تاکید کے لئے دوبارہ ”ثم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

الذی ھم فیہ مختلفون۔ وہ اس کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں ایک تصدیق کرتا ہے اور دوسراجھٹلاتا ہے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبا عظیم سے مراد قرآن حکیم ہے اس کی دلیل قل ھو نبوا عظیم، انتم عنہ معرضون۔ ص) کہہ دیجئے وہ عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو قرآن حکیم نبا خبر اور قصص ہے وہ عظیم الشان خبر ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانا ہے لوگ اس بارے میں دو حصوں میں بٹ گئے تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نبی کریم کا امر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ سے بہت ساری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

5۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون ثم کلا سیعلمون ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ یعنی یہ وعید ہے وعید کے بعد۔ 6۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون سے مراد ہیں کفار۔ آیت ثم کلاسیعلمون سے مراد ہیں مومن اور وہ اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر (مکرر)][ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ : ہرگز نہیں ! یہ لوگ جان لیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔ فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3:۔ ” کَلَّا “۔ یہ اختلاف و تساؤل سے ردع ہے۔ یعنی ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور جس چیز (یعنی قیامت) میں ان کو شک ہے وہ عنقریب اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا یقین کرلیں گے۔ ” ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ “ ” ثُمَّ “ تکریر بیان کے لیے ہے بطور تشدید و تہویل ردع کو مکرر فرمایا۔ کرر الردع للتشدید و ثم یشعر بان الثانی ابلغ من الاول و اشد (مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

(وقوع قیامت کے متعلق اختلاف ) فرمایا یہ لوگ اس بڑی خبر کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ جس کے متعلق وہ خود اختلاف کر رہے ہیں ۔ الذی ھم فیہ مختلفون ۔ اختلاف کی صورت یہ ہے کہ کوئی تو قیامت کو مانتا ہے اور کوئی اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مؤمنین ، انبیاء علہیم السلام کے ارشاد کے مطابق وقوع قیامت پر یقین رکھتے ہیں جب کہ کفار اس سے انکاری ہیں ۔ اور طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ کسی کو مر کر جی اٹھتے نہیں دیکھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ عذاب وثواب کوئی چیز نہیں جسم کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے کیونکہ نئی زنذگی روح کے لیے ہے ۔ جسم کے لیے نہیں ہے ۔ ان تمام شبہات واختلا فات کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 4–5

كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ۝ 4 ۙ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ۝ 5 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

3 ؎ سیعلمون قرر المجھہور بالیاء التحیۃ فی الفعلین وقری بالتا۔ علی الخطاب وقرأ الضماک الاولی بالفوقیۃ والثانی بالتحقیقۃ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ (النبا : 4، 5) (ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے۔ ) منکرین کے استہزاء کا جواب اور تنبیہ اہلِ مکہ نے جس طرح قیامت جیسی اہم حقیقت کو استہزاء کا موضوع بنا لیا تھا اور اپنی مجلسوں میں اس طرح کے سوال و جواب کیے جارہے تھے گویا یہ حقیقت نہیں بلکہ بازاری لوگوں کا بنایا ہوا کوئی قصہ ہے۔ اس پر نہایت زوردار الفاظ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ پہلے حرف تنبیہ لایا گیا پھر فعل مضارع پر حرف استقبال لا کر اس تنبیہ میں اضافہ فرمایا گیا۔ اور فعل وہ لایا گیا جو بجائے خود تنبیہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور مزید یہ کہ جملے کی تکرار کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (پھر ہرگز ایسا نہیں ان کو بھی معلوم ہوا جاتا ہے) اس میں ان کو دوبارہ دھمکی دی گئی۔ ثُمَّ بتارہا ہے۔ کہ دوسری وعید پہلی سے بلیغ تر ہے اور پہلی وعید سے زیادہ سخت ہے ( قبر سے قیامت سخت تر ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” کلا سیعلمون “ کلا نفی ہے فرماتے ہیں وہ عنقریب جان لیں گے اپنی تکذیب کا انجام جب تمام امورواضح ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اگرچہ مجاہد 1 ؎ کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ 2 ؎ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے۔ آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ اس لئے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے (اس قول کو ترجیح دی ہے۔ حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کبھی کہتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی ‘ پھر اس خاک کا پتلا کیوں کر بن جائے گا کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں ؟ چناچہ فرمایا (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ) یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اور ان کی مخالفت پھیل گئی، حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہوسکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

(3) منکرین کو سخت زور دار تنبیہ : سو منکرین کے لیے سخت زور دار تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا۔ جب حقیقت حال کھل کر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور اس وقت یہ حسرت و افسوس کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، مگر اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، کہ آخرت کے لیے کمائی کی فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہوگی۔ جو کہ یہی دنیاوی زندگی اور اس کی مہلت ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی فانک نعم المولی و نعم النصیر۔ سو اس ارشاد سے غفلت کے مارے اور ہویٰ و ہوس کے بندوں اور خواہشات نفس کے ان پجاریوں کو زور دار الفاظ میں تنبیہ کردی گئی کہ جو سہانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

بہت بڑی خبر (قیامت) تشریح : جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا تصور لوگوں کو دیا اور ساتھ ہی قیامت کا ذکر کیا اور دوبارہ زندہ کرکے حساب لینے کا ذکر کیا تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے اور بہت سے لوگ آپ کی ان باتوں کا مذاق اڑانے لگے اور دونوں باتوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا لیا۔ کچھ نے تو جان بوجھ کر اور کچھ نے کم علمی کیوجہ سے۔ دونوں ہی باتیں ان کے لیے سوائے خیالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ تو وہ لوگ اٹھتے بیٹھتے طرح طرح سے مذاق اڑاتے کہ دیکھو محمد ﷺ (نعوذ باللہ) دیوانہ ہوگیا ہے کیسی انہونی باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی دیوانے لوگوں کو خبر دے رہے ہیں کہ اگرچہ تم یقین نہیں کرتے مگر قیامت کا آنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 4 اس میں تقریع وتوبیخ ہے کہ عنقریب جب قیامت آجائے گی اور غیب سے پردہ اٹھ جائے گا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن چیزوں کے بارے میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اور جزا سزا کا انکار کررہے تھے وہ سب حقیقت تھیں۔ ویسی ہی حقیقت جیسی انبیاء (علیہم السلام) نے ان سے بیان کی تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:5) ثم کلا سیعلمون : ثم تراخی فی الرتبہ کے لئے آیا ہے پس ضرور ہی وہ بہت جلد قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی حقیقت کو جان لیں گے۔ جملہ کا تکرار مبالغہ کے لئے آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

قیامت کے بارے میں عقلی دلائل اور قدرت کے انمول عجائبات و احسانات۔ (ف 1) اگرچہ مجاہد کا قول یہ ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے ، آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے اس لیے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے، اس واسطے حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ترجیح دی ہے حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ نبی ﷺ وصحابہ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی وہ وقت دور نہیں ہے جب وہی چیز حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی جس کے بارے میں وہ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة النباء 1: قیامت کے تخیل کو اس تفصیل اور اس اہمیت کے ساتھ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے مکہ کے مادہ پرست مشرکین کو جو مذہبی معارف سے محض ناآشنا تھے ۔ یہ بات قرین عقل وثواب نظر نہیں آتی تھی ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ دنیائے زینت و آرائش یکایک ایک دن تباہی و بربادی کے ساتھ بدل جائے گی ۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ محض طبع زاد حیثیت رکھتا تھا ۔ جس سے مقصود لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرتا تھا ۔ اس لئے اس کے متعلق اکثر بحث رہتی کہ قیامت کے امکانات کیا ہیں اور وہ کب وقوع پذیر ہوگی ۔ کیونکر ایسا ہوگا کہ یہ عالم آن کی آن میں تہ وبالا ہوجائے ۔ اس پر اس سورت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) پھر سن لو ہرگز ایسا نہیں ان کو عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے - یعنی تمہارا آپس میں مختلف ہونا یا اہل حق سے جھگڑنا اور اس قیامت کا انکار کرنا یہ ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ وہ ضرور آئے گی اور تم کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے پھر تاکید کے طور پر فرمایا نہیں اس کا انکار نہ کرو عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ جس کا تم انکار اور استہزا کررہے ہو اور مذاق اڑا رہے ہو وہ کیسی ہیت ناک چیز ہے اور تمہارے اختلاف اور انکار کی حیثیت کیا ہے۔ آگے اپنی قدرت کے بعض دلائل بیان فرمائے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ جو ایسی بڑی قدرت کا مالک ہے اور جس نے اس عالم کو ترتیب دیا ہے اس کے نزدیک اس عالم کو برباد کرنا اور دوبارہ سب کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 4–5

پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ 5 ایک ہی بات کو دو تین بار جب دہرایا جاتا ہے تو وہ محض بیکار نہیں ہوتا بلکہ اس سے تاکید مزید ہوتی ہے اور وہ اس قدر پختہ ہوتی ہے کہ جس کو ہماری زبان میں ایک ایک اور دو گیارہ کہا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورتحال اس تاکید کی ہوتی ہے کہ جتنی مئوکدبات کی گئی ہے اس دس گنا مزید بڑھ کر اس کی تاکید کی جا رہی ہے کہ تم لوگ کان کھول کر سن لو کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے کہ قیامت کو ضرور آنا ہے اور پھر ضرور آنا ہے نہ تم اس کو روک سکتے ہو اور نہ تمہارے بڑے اس کو روک سکتے ہیں تم کو یہ ایک آوارہ خبر نہیں سنائی جا رہی بلکہ حقیقی خبر سنائی جا رہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (Truly, they will soon know. Again, truly, they will soon know....78:5) The particle kalla is negative, and means 'never, by no means'. It means here that this matter cannot be understood by question and answer or by disputation and debate. Its reality will be understood by them when they will face it. It is such a reality that has no room for questions, disputation or denial. The Qur'an says that soon they will come to know about it [ and this statement is repeated twice for emphasis ]. In other words, when they die, they will discover the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 That is, the time is not far off when the same thing about which they are expressing all sorts of meaningless doubts and misgivings, will appear before them as a reality. Then they will realize that what the Messenger had foretold was absolutely true and what they were saying on the basis of conjecture and speculation had no truth in it.

Read the full tafseer →