An-Naba 78:4

An-Naba · from ayah 4

78:4

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ۟ۙكَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَۙ

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! They are going to know.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:4

ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائیگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً یہ ابھی جان لیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

خبردار ! انہیں بہت جلد پتہ لگ جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہاں ہاں اب جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہرگز (وہ خبر لائقِ انکار) نہیں! وہ عنقریب (اس حقیقت کو) جان جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہرگز نہیں، جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، عنقریب جان لیں گے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز ایسا نہیں (جیسا کہ یہ سمجھ رہے ہیں) عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز ایسا نہیں (کہ قیامت نہ آئے گی) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

No indeed; soon will they come to know;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed they will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed they will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, they will come to know!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No! They are going to know.

— Saheeh International

(What they think is certainly despicable!). They will soon come to know (the reality).

— Muhammad Sarwar

Nay! they shall soon come to know

— Muhammad Habib Shakir

By no means! anon they shall know.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 2 یعنی آخرت کے متعلق جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں سب غلط ہیں۔ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز صحیح نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعرا اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اسکا ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار بعض کہتے تھے کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین یا بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا جھٹلانا اور مذاق کے طور پر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

کلا سیعلمون .................... سیعلمون (5:78) ” ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ لفظ کلازجر آمیز اور سخت توبیخ کے ساتھ انکار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں جس قسم کی فضا پیدا کرنا مطلوب ہے ، اس کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے۔ لفظ کلا کے تکرار اور لفظ سیعلمون دونوں کے تکرار میں سخت تہدید اور ڈراوا ہے۔ اب بظاہر نظر آتا ہے کہ روئے سخن اس عظیم خبر سے پھر کر کسی دوسرے موضوع کی طرف منقل ہوگیا ہے تاکہ تھوڑے وقفے کے بعد اسے براہ راست لیا جائے ، روئے سخن دراصل ہمارے پیش پا افتادہ کائنات کے اندر موجود بعض حقائق ، مظاہر ، مناظر اور شواہد کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

3 یعنی پیغمبروں نے ابتداء دنیا سے آج تک بہت کچھ سمجھایا، مگر لوگ اپنے اختلافات اور پوچھ پاچھ سے ہرگز باز آنے والے نہیں۔ اب قریب ہے کہ وہ ہولناک منظر ان کے سامنے آجائے اس وقت جان لیں گے کہ قیامت کیا چیز ہے اور ان کے سوالات و اختلافات کی حیثیت کیا تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۔ } ”نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔“ عنقریب اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہوجائے گی۔ وقت آنے پر یہ لوگ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں گے۔ سورة قٓ میں اس کیفیت کا ذکر اس طرح ہوا ہے : { لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا فَـکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۔ } ”اللہ فرمائے گا : اے انسان ! تو اس دن سے غفلت میں رہاتھانا ! تو آج ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے ‘ تو آج تمہاری نگاہ کتنی تیز ہوگئی ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

2 دور نبوی میں عقیدہ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے۔ ان کے لیے عقیدہ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔ عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب وثواب صرف روح پر وارد ہوگا۔ بدن جو گل سڑ چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لا ادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

2۔ زور وجوش کے موقع پر، فقروں کی یہ تکرار عربی حسن خطابت اور اسلوب بلاغت کا ایک خاص نمونہ ہے۔ اردومح اور ہ میں بھی تو زور وجوش کے موقع پر کہتے ہیں۔ ” اجی یہ دیکھیں گے، اور پھر دیکھیں گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا سیعلمون . کَلَّا سے اختلاف مذکور کو روکا گیا ہے کیونکہ اختلاف کی بناء انکار پر تھی۔ خواہ کل اہل مکہ منکر تھے (اور قطعیت و تردد میں ایک دوسرے سے مختلف تھے) یا بعض منکر تھے اور بعض نہ تھے۔ یعنی ان کو اختلاف نہ کرنا چاہیے ‘ کافروں اور منکروں کو اس کی حقانیت عنقریب (دُنیا میں اور) قبر میں معلوم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) یہ قریش کس چیز کے متعلق میں گفتگو کر رہے ہیں اس عظیم الشان قرآن حکیم کے متعلق جس کی یہ لوگ تکذیب اور بعض تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ جبریل امین جس وقت حضور کے پاس قرآن کریم لے کر آئے، اور آپ نے قریش کے سامنے اس کو پڑھا تو اس بارے میں وہ لوگ گفتو و شنید کرنے لگے، چناچہ ان میں سے بعض نے تو اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکفیر کی۔ ہرگز ایسا نہیں ان کو موت کے وقت عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے اور ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ قبر میں کیا معاملہ ہوگا۔ شان نزول : عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 4–5

(1) کلا سیعلمون …:”کلا“ کا لفظ عربی میں عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کو غلط اور بعد والے کلام کو صحیح قرار دینے کیلئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے متعلق اختلاف ڈالنا، انکار کرنا یا شک کرنا بالکل غلط ہے اور اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔ (2) سیعلمون :”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی اگر ان کی عقل قیامت کو نہیں مانتی اور اس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو مرنے سے تو نہ یہ انکار کرسکتے ہیں، نہ شک کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی کا اختلاف ہے، تو بس مرنے کی دیر ہے، اس کے ساتھ ہی قیامت اور دوسری تمام حقیقتیں جنہیں یہ لوگ خلاف عقل قرار دے رہے ہیں، سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں۔ تاکید کے لئے دوبارہ ”ثم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

الذی ھم فیہ مختلفون۔ وہ اس کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں ایک تصدیق کرتا ہے اور دوسراجھٹلاتا ہے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبا عظیم سے مراد قرآن حکیم ہے اس کی دلیل قل ھو نبوا عظیم، انتم عنہ معرضون۔ ص) کہہ دیجئے وہ عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو قرآن حکیم نبا خبر اور قصص ہے وہ عظیم الشان خبر ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانا ہے لوگ اس بارے میں دو حصوں میں بٹ گئے تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نبی کریم کا امر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ سے بہت ساری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

5۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون ثم کلا سیعلمون ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ یعنی یہ وعید ہے وعید کے بعد۔ 6۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سیعلمون سے مراد ہیں کفار۔ آیت ثم کلاسیعلمون سے مراد ہیں مومن اور وہ اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

مزید فرمایا﴿كَلَّا ﴾ (خبردار) اس میں زجر اور توبیخ ہے کہ قیامت کا انکار کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا اور تکذیب کی سزا سامنے آجائے گی اس کو دو مرتبہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی قدرت کے مظاہر بیان کیے جو لوگوں کے سامنے ہیں اور وہ اقراری ہیں کہ یہ چیزیں اللہ نے بنائی ہیں جو اس کی قدرت باہرہ پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ قال القرطبی ولھم علٰی قدرتہ علی البعث ای قدرتنا علی ایجاد ھذا الامور اعظم من قدرتنا علٰی الاعادة۔ فرمایا کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور کیا پہاڑوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3:۔ ” کَلَّا “۔ یہ اختلاف و تساؤل سے ردع ہے۔ یعنی ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور جس چیز (یعنی قیامت) میں ان کو شک ہے وہ عنقریب اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا یقین کرلیں گے۔ ” ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ “ ” ثُمَّ “ تکریر بیان کے لیے ہے بطور تشدید و تہویل ردع کو مکرر فرمایا۔ کرر الردع للتشدید و ثم یشعر بان الثانی ابلغ من الاول و اشد (مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

(وقوع قیامت کے متعلق اختلاف ) فرمایا یہ لوگ اس بڑی خبر کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ جس کے متعلق وہ خود اختلاف کر رہے ہیں ۔ الذی ھم فیہ مختلفون ۔ اختلاف کی صورت یہ ہے کہ کوئی تو قیامت کو مانتا ہے اور کوئی اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مؤمنین ، انبیاء علہیم السلام کے ارشاد کے مطابق وقوع قیامت پر یقین رکھتے ہیں جب کہ کفار اس سے انکاری ہیں ۔ اور طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ کسی کو مر کر جی اٹھتے نہیں دیکھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ عذاب وثواب کوئی چیز نہیں جسم کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے کیونکہ نئی زنذگی روح کے لیے ہے ۔ جسم کے لیے نہیں ہے ۔ ان تمام شبہات واختلا فات کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 4–5

كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ۝ 4 ۙ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ۝ 5 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

3 ؎ سیعلمون قرر المجھہور بالیاء التحیۃ فی الفعلین وقری بالتا۔ علی الخطاب وقرأ الضماک الاولی بالفوقیۃ والثانی بالتحقیقۃ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ (النبا : 4، 5) (ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے۔ ) منکرین کے استہزاء کا جواب اور تنبیہ اہلِ مکہ نے جس طرح قیامت جیسی اہم حقیقت کو استہزاء کا موضوع بنا لیا تھا اور اپنی مجلسوں میں اس طرح کے سوال و جواب کیے جارہے تھے گویا یہ حقیقت نہیں بلکہ بازاری لوگوں کا بنایا ہوا کوئی قصہ ہے۔ اس پر نہایت زوردار الفاظ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ پہلے حرف تنبیہ لایا گیا پھر فعل مضارع پر حرف استقبال لا کر اس تنبیہ میں اضافہ فرمایا گیا۔ اور فعل وہ لایا گیا جو بجائے خود تنبیہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور مزید یہ کہ جملے کی تکرار کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (ہر گزایسا نہیں ان کو بھی معلوم ہوا جاتا ہے) کلاؔ یہ اختلاف پر ردع کیلئے ہے۔ نمبر 2۔ استہزاء کے طور پر سوال قیامت پر ردع ہے۔ سَیَعْلَمُوْنَ اس میں کفار کیلئے وعید ہے کہ عنقریب ان کو آنکھوں دیکھ کر حال معلوم ہوجائے گا کہ جس کے متعلق وہ مذاق اڑانے کیلئے سوال کرتے تھے وہ برحق ہے (گویا یہ وعید قبر ہے کہ ان کو قبر میں معلوم ہوجائے گا)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اگرچہ مجاہد 1 ؎ کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ 2 ؎ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے۔ آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ اس لئے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے (اس قول کو ترجیح دی ہے۔ حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کبھی کہتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی ‘ پھر اس خاک کا پتلا کیوں کر بن جائے گا کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں ؟ چناچہ فرمایا (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ) یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اور ان کی مخالفت پھیل گئی، حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہوسکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

(3) منکرین کو سخت زور دار تنبیہ : سو منکرین کے لیے سخت زور دار تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا۔ جب حقیقت حال کھل کر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور اس وقت یہ حسرت و افسوس کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، مگر اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، کہ آخرت کے لیے کمائی کی فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہوگی۔ جو کہ یہی دنیاوی زندگی اور اس کی مہلت ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی فانک نعم المولی و نعم النصیر۔ سو اس ارشاد سے غفلت کے مارے اور ہویٰ و ہوس کے بندوں اور خواہشات نفس کے ان پجاریوں کو زور دار الفاظ میں تنبیہ کردی گئی کہ جو سہانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

بہت بڑی خبر (قیامت) تشریح : جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا تصور لوگوں کو دیا اور ساتھ ہی قیامت کا ذکر کیا اور دوبارہ زندہ کرکے حساب لینے کا ذکر کیا تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے اور بہت سے لوگ آپ کی ان باتوں کا مذاق اڑانے لگے اور دونوں باتوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا لیا۔ کچھ نے تو جان بوجھ کر اور کچھ نے کم علمی کیوجہ سے۔ دونوں ہی باتیں ان کے لیے سوائے خیالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ تو وہ لوگ اٹھتے بیٹھتے طرح طرح سے مذاق اڑاتے کہ دیکھو محمد ﷺ (نعوذ باللہ) دیوانہ ہوگیا ہے کیسی انہونی باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی دیوانے لوگوں کو خبر دے رہے ہیں کہ اگرچہ تم یقین نہیں کرتے مگر قیامت کا آنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 4 اس میں تقریع وتوبیخ ہے کہ عنقریب جب قیامت آجائے گی اور غیب سے پردہ اٹھ جائے گا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن چیزوں کے بارے میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اور جزا سزا کا انکار کررہے تھے وہ سب حقیقت تھیں۔ ویسی ہی حقیقت جیسی انبیاء (علیہم السلام) نے ان سے بیان کی تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:4) کلا سیعلمون : جمہور کے نزدیک کلا حرف بسیط (سادہ غیر مرکب ہے) ثعلب نحوی کے نزدیک مرکب ہے کاف تشبیہ اور لا نافیہ سے۔ حالت ترکیب میں ک اور لا کے انفرادی معنی باقی نہیں رہے اسی لئے لام کو مشدد کردیا گیا۔ سیبویہ، خلیل، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی حرف ردع اور روکنے کے ہیں۔ خواہ زجرو تو بیخ کے طور پر ہو یا بطور ترتیب اور ادب آموزی کے۔ اسی لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے ہر جگہ کلا پر وقف کرنا جائز ہے۔ لیکن مغنی اللبیب کے مصنف نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ کسائی اور ابو حاتم کا قول ہے کہ کلا اکثر زجر ومنع کے لئے آتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

قیامت کے بارے میں عقلی دلائل اور قدرت کے انمول عجائبات و احسانات۔ (ف 1) اگرچہ مجاہد کا قول یہ ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے ، آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے اس لیے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے، اس واسطے حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ترجیح دی ہے حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ نبی ﷺ وصحابہ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة النباء 1: قیامت کے تخیل کو اس تفصیل اور اس اہمیت کے ساتھ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے مکہ کے مادہ پرست مشرکین کو جو مذہبی معارف سے محض ناآشنا تھے ۔ یہ بات قرین عقل وثواب نظر نہیں آتی تھی ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ دنیائے زینت و آرائش یکایک ایک دن تباہی و بربادی کے ساتھ بدل جائے گی ۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ محض طبع زاد حیثیت رکھتا تھا ۔ جس سے مقصود لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرتا تھا ۔ اس لئے اس کے متعلق اکثر بحث رہتی کہ قیامت کے امکانات کیا ہیں اور وہ کب وقوع پذیر ہوگی ۔ کیونکر ایسا ہوگا کہ یہ عالم آن کی آن میں تہ وبالا ہوجائے ۔ اس پر اس سورت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 5۔ مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعد الابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 4–5

پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ 5 ایک ہی بات کو دو تین بار جب دہرایا جاتا ہے تو وہ محض بیکار نہیں ہوتا بلکہ اس سے تاکید مزید ہوتی ہے اور وہ اس قدر پختہ ہوتی ہے کہ جس کو ہماری زبان میں ایک ایک اور دو گیارہ کہا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورتحال اس تاکید کی ہوتی ہے کہ جتنی مئوکدبات کی گئی ہے اس دس گنا مزید بڑھ کر اس کی تاکید کی جا رہی ہے کہ تم لوگ کان کھول کر سن لو کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے کہ قیامت کو ضرور آنا ہے اور پھر ضرور آنا ہے نہ تم اس کو روک سکتے ہو اور نہ تمہارے بڑے اس کو روک سکتے ہیں تم کو یہ ایک آوارہ خبر نہیں سنائی جا رہی بلکہ حقیقی خبر سنائی جا رہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (Truly, they will soon know. Again, truly, they will soon know....78:5) The particle kalla is negative, and means 'never, by no means'. It means here that this matter cannot be understood by question and answer or by disputation and debate. Its reality will be understood by them when they will face it. It is such a reality that has no room for questions, disputation or denial. The Qur'an says that soon they will come to know about it [ and this statement is repeated twice for emphasis ]. In other words, when they die, they will discover the…

Read the full tafseer →