An-Naba 78:3

An-Naba · from ayah 3

78:3

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَ ۟ؕالَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؕ

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That over which they are in disagreement.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:3

جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس میں خود ان کی باتیں مختلف ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس میں وہ کئی راہ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس میں کوئی کچھ کہہ رہا ہے کوئی کچھ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس میں یہ لوگ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

جس کے بارے میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس کے بارے میں یہ اختلافِ رائے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

that they are in utter disagreement?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

in which they dispute!

— Muhammad Taqi Usmani

in which they dispute!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

About which they are in disagreement.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Concerning which they are in disagreement.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That over which they are in disagreement.

— Saheeh International

concerning which they have disputes.

— Muhammad Sarwar

About which they differ?

— Muhammad Habib Shakir

Concerning which they differ.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة النَّبَا 1 بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اہل مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں۔ پوچھ گچھ سے مراد یہی چہ میگوئیاں ہیں۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی، کبھی پہلے بھی تم نے سنا ہے کہ مر کے کوئی دوباہ زندہ ہوگا ؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑ کر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوچکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی ؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے ؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ چاند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین قیامت کا تناقض فکر: ’اَلَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوۡنَ‘۔ لفظ ’اختلاف‘ بیک وقت دو معنوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اختلاف رائے کو دوسرے تناقض فکر کو اور یہ دونوں معانی غور کیجیے تو معلوم ہو گا لازم و ملزوم ہیں۔ اختلاف رائے تناقض فکر ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ مشرکین عرب سے متعلق ہم جگہ جگہ اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ قیامت کے باب میں وہ نہایت شدید قسم کے تناقض فکر میں مبتلا تھے۔؂۱ ایک گروہ ان کے اندر اس کا کھلم کھلا انکار کرتا تھا اور دوسرا، جس کی تعداد زیادہ تھی، صریح انکار کے بجائے اس پر مختلف قسم کے شبہات وارد کرتا تھا۔ ان کا گمان تھا کہ اول تو اس کا ہونا ہی بہت مستبعد اور بعید از قیاس ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعرا اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اسکا ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار بعض کہتے تھے کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین یا بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا جھٹلانا اور مذاق کے طور پر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس سے قیامت اور آخرت مراد ہے۔ کافر لوگ قیامت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنایا کرتے تھے۔ کوئی اس کا مذاق اڑاتا، کوئی اس کے خلاف دلیلیں پیش کرتا، کوئی مسلمانوں سے اس کی تفصیلات کے بارے میں سوالات کرتا، اور سوال کرنے کا مقصد حق کی تلاش نہیں، بلکہ استہزاء ہوتا تھا۔ ان آیتوں میں ان کے اسی طرز عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، تو اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے میں تمہیں کیوں مشکل پیش آرہی ہے کہ وہ اس عالم کو ایک مرتبہ ختم کر کے دوبارہ پیدا فرما دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–3

عن النبا ............................ مختلفون (3:78) ” کیا اس بڑی خبر کے سارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں “۔ یہاں اس عظیم حقیقت کا نام نہیں لیا گیا ، صرف اسے نباء عظیم کہا گیا ، جو اس کی صفت ہے ۔ اس لئے کہ تعجب اور مبالغے کے انداز کو جاری رکھا جائے۔ اس دن کے بارے میں ، اختلافات اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان تھے۔ ان لوگوں کے درمیان جو اس پر ایمان لائے تھے اور ایسے لوگوں کے درمیان جو اس کا انکار کرتے تھے ، سوالات دراصل انکار کرنے والوں ہی کی طرف سے تھے۔ پھر اس سوال اور قیل وقال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے اور نہ اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ یہ سوال و جواب کس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

2 یعنی قیامت کی خبر جس میں لوگوں کا اختلاف ہے، کوئی اس کے آنے پر یقین رکھتا ہے، کوئی منکر ہے کوئی شک میں پڑا ہے، کوئی کہتا ہے بدن اٹھے گا، کوئی کہتا ہے کہ سب عذاب وثواب روح پر گزرے گا بدن سے کچھ تعلق نہیں۔ الیٰ غیر ذٰلک من الاختلافات۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ۔ } ”جس کے بارے میں یہ اختلافِ رائے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔“ قیامت کے بارے میں تفصیلات سن کر ان میں سے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمارے معبودوں کے ہوتے ہوئے ہم سے کوئی محاسبہ نہیں ہوسکتا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ! ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

2 دور نبوی میں عقیدہ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے۔ ان کے لیے عقیدہ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔ عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب وثواب صرف روح پر وارد ہوگا۔ بدن جو گل سڑ چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لا ادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (اہل حق سے) (آیت) ” یتسآء لون “۔ یعنی یہ منکرین حشر اہل جاہلیت بطور طنز وتعریض سوال کررہے ہیں، سوالات اور سوالیہ فقروں سے خطبات کی ابتداء کرنا دوسری زبانوں کی طرح خطبات عرب میں حسن انشاء وخطابت کا ایک بہترین نمونہ سمجھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی ھم فیہ مختلفون . الذی بعد کو آنے والے صلہ سے مل کر نبأ کی صفت ہے۔ یتسآء لون کی ضمیر کی طرح ھُمْ ضمیر جمع بھی کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یہ اس صورت میں ہوگا کہ سوال کو استہزائی یا انکاری قرار دیا جائے۔ اس حالت میں نباء عظیم کے متعلق کفار مکہ کے مختلف ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کچھ لوگ نباء عظیم کی صداقت کے قطعی منکر ہیں اور کچھ تردد میں پڑے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یتساء لون اور ھُمْ کی ضمیریں اہل مکہ کی طرف راجع ہوجائیں۔ اہل مکہ میں کچھ مؤمن تھے ‘ کچھ کافر ‘ نباء عظیم کے متعلق سوال کرنے والے دونوں گروہ تھے۔ ایک گروہ تصدیق کرتا تھا لیکن زیادتی یقین اور انکشاف حالات کے لیے سوال کرتا تھا ‘ دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) یہ قریش کس چیز کے متعلق میں گفتگو کر رہے ہیں اس عظیم الشان قرآن حکیم کے متعلق جس کی یہ لوگ تکذیب اور بعض تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ جبریل امین جس وقت حضور کے پاس قرآن کریم لے کر آئے، اور آپ نے قریش کے سامنے اس کو پڑھا تو اس بارے میں وہ لوگ گفتو و شنید کرنے لگے، چناچہ ان میں سے بعض نے تو اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکفیر کی۔ ہرگز ایسا نہیں ان کو موت کے وقت عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے اور ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ قبر میں کیا معاملہ ہوگا۔ شان نزول : عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

(2) ”عن النبا العظیم“ سے مرادقیامت ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی تو مانتا ہی نہیں کہ قیامت ہوگی، کوئی مانتا ہے مگر اسے یقین نہیں، کوئی کہتا ہے مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ یہ تو عقل ہی کے خلاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ جسم زندہ نہیں ہوں گے بلکہ سب خوشی اور غم روح ہی پر گزرے گا، وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

الذی ھم فیہ مختلفون۔ وہ اس کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں ایک تصدیق کرتا ہے اور دوسراجھٹلاتا ہے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبا عظیم سے مراد قرآن حکیم ہے اس کی دلیل قل ھو نبوا عظیم، انتم عنہ معرضون۔ ص) کہہ دیجئے وہ عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو قرآن حکیم نبا خبر اور قصص ہے وہ عظیم الشان خبر ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانا ہے لوگ اس بارے میں دو حصوں میں بٹ گئے تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نبی کریم کا امر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ سے بہت ساری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ بھیجے گئے تو لوگ آپس میں سوال کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت عم یتساء لون۔ عن النبا العظیم۔ کس چیز کی بابت وہ آپس میں سوال کرتے ہیں اس بڑی خبر کے بارے میں۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یساء لون عن النبا العظیم کے بارے میں روایت کیا کہ بڑی خبر سے مراد ہے قرآن۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عم یتساء لون عن النبا العظیم سے مراد ہے قرآن مجید اور فرمایا آیت الذی ہم فیہ مختلفون۔ جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یعنی کوئی اس کی تصدیق کرنے والا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِي هُمْ فِيْهِ : وہ، یہ لوگ جس میں ][ مُخْـتَلِفُوْنَ : اختلاف کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

یہاں سے سورة النباء شروع ہو رہی ہے اس کے ابتداء میں لفظ عم ہے یہ عن حرف جار اور ما استفہامیہ سے مرکب ہے اس میں آخر سے الف ساقط ہوگیا اور نون ساکن کا میم میں ادغام کردیا گیا۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو قریش مکہ آپس میں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے (قرآن مجید میں قیامت کا ذکر بھی ہوتا تھا) اسے سن کر بعض لوگ تصدیق کرتے اور بعض تکذیب کرتے تھے اور معالم التنزیل میں ہے کہ وہ لوگ قیامت کی باتیں سن کر کہتے تھے : ما جاء بہ محمد ﷺ کہ (محمد ﷺ کیا لے کر آئے ہیں ؟ ) ان لوگوں کی اس گفتگو پر ﴿ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۚ001 ﴾ نازل ہوئی کہ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ “۔ منکرین حشر و نشر پر زجر ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی اور ان کو بعث بعد الموت کا مسئلہ بتایا تو وہ قیامت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ محمد ﷺ یہ کیا کہتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ ” عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ “ یہ ” یَتَسَاءَلُوْنَ “ مقدر سے متعلق ہے ہاں وہ ایک عظیم خبر کے بارے میں سوال و جواب کر رہے ہیں یا آپس میں اختلاف کر رہے ہیں۔ بعض تو اس کا صاف صاف انکار کرتے ہیں اور بعض شک میں پڑتے ہیں (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

(وقوع قیامت کے متعلق اختلاف ) فرمایا یہ لوگ اس بڑی خبر کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ جس کے متعلق وہ خود اختلاف کر رہے ہیں ۔ الذی ھم فیہ مختلفون ۔ اختلاف کی صورت یہ ہے کہ کوئی تو قیامت کو مانتا ہے اور کوئی اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مؤمنین ، انبیاء علہیم السلام کے ارشاد کے مطابق وقوع قیامت پر یقین رکھتے ہیں جب کہ کفار اس سے انکاری ہیں ۔ اور طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ کسی کو مر کر جی اٹھتے نہیں دیکھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ عذاب وثواب کوئی چیز نہیں جسم کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے کیونکہ نئی زنذگی روح کے لیے ہے ۔ جسم کے لیے نہیں ہے ۔ ان تمام شبہات واختلا فات کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ ہُمْ فِيْہِ مُخْـتَلِفُوْنَ۝ 3 ۭ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ عم اصلہ عن ما فادغمت النون فی المیم وحذفت الالف لیتمیز الخبر عن الاستفھام وکذلک فیم وبم۔ والاستفھام فی اللفظ وفی المعنی تفخیم القصۃ کما تقول ای شیء ترید اذا عظّمت شانہ عن النباء العظیم عن بدل من الاولی والف الاستفہام التی ینبغی ان تعادمحذوفۃ وعن الاولیٰ متعلقہ بیتساء لون وقیل عن الثانیۃ متعلقۃ بفعل محذوف غیر مستفھم عنہ ای یتساء لون عن النباء علی ھذا التقدیر عن النباء جواب الاستفھام کما فی قولہ تعالیٰ لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار الذی ھم فیہ مختلفون الموصول صفۃ للنباء بعد وصفہ بکونہ عظیمًا۔ تفسیر ¦ اس سورت کو سورة تساؤل اور سورة نباء بھی کہتے ہیں۔ یہ بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

عَنِ النَّـبَاِ الْعَظِیْمِ ۔ الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ ۔ (النبا : 2، 3) (اس بڑی خبر کے بارے میں۔ جس میں وہ خود اختلاف رکھتے ہیں۔ ) قیامت کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے نَـبَا …کسی بڑے واقعہ یا اہم خبر کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے اس لفظ کی معنویت کو نمایاں کرنے کے لیے تاکہ اس کے مصداق کی اہمیت دلوں میں اتر جائے العظیم کی صفت بھی ذکر فرمائی ہے۔ یعنی وہ خبر جس کے بارے میں یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کررہے ہیں وہ بہت بڑی خبر ہے۔ مراد اس سے آخرت ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی اور اہم خبر جسے سن کر سینہ شق اور جگر پھٹ جانا چاہیے اور جس کی فکر سے خواب و خور کی لذت جاتی رہنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مومن مشیت کے لئے اور کافر استہزاء کے لئے : 3 : الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ (جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں) پس بعض ان میں سے قطعی انکار کرنے والے تھے۔ جبکہ بعض دوسرے شک کرتے تھے۔ ایک اور قول ہے کہ ھمؔ کی ضمیر مسلمانوں اور کفار دونوں کی طرف راجع ہے۔ اور تمام ہی قیامت کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ مسلمان تو اس لئے پوچھتے تاکہ خشیت میں اضافہ ہو اور کافر اس لئے پوچھتے تاکہ استہزاء کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔ پھر ذکر کیا کہ ان کا باہم سوال و جواب کسی چیز کے بارے میں تھا تو فرمایا ” عن النبا العظیم “ مجاہد اور اکثر حضرات فرماتے ہیں وہ قرآن ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” قل ھو نبا عظیم “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ بعث ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اگرچہ مجاہد 1 ؎ کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ 2 ؎ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے۔ آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ اس لئے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے (اس قول کو ترجیح دی ہے۔ حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کبھی کہتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی ‘ پھر اس خاک کا پتلا کیوں کر بن جائے گا کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں ؟ چناچہ فرمایا (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ) یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اور ان کی مخالفت پھیل گئی، حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہوسکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(2) منکرین کے اختلاف اور تناقض فکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اسی عظیم الشان خیر کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں جس کے بارے میں یہ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔ چناچہ ان میں سے کچھ تو اس کو ناممکن سمجھتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ بھلا اب گلی سڑی اور بوسیدہ ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ کون زندہ کرے گا ؟ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَہُ قَالَ مَنْ یُحْیِیْ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ ( یسین 78 پ 23) اور کچھ ان میں سے دہریے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ " دھر " (زمانے) کی کرشمہ سازیاں ہیں اور بس، وَقَالُوا مَا ہِیَ إِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

بہت بڑی خبر (قیامت) تشریح : جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا تصور لوگوں کو دیا اور ساتھ ہی قیامت کا ذکر کیا اور دوبارہ زندہ کرکے حساب لینے کا ذکر کیا تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے اور بہت سے لوگ آپ کی ان باتوں کا مذاق اڑانے لگے اور دونوں باتوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا لیا۔ کچھ نے تو جان بوجھ کر اور کچھ نے کم علمی کیوجہ سے۔ دونوں ہی باتیں ان کے لیے سوائے خیالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ تو وہ لوگ اٹھتے بیٹھتے طرح طرح سے مذاق اڑاتے کہ دیکھو محمد ﷺ (نعوذ باللہ) دیوانہ ہوگیا ہے کیسی انہونی باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی دیوانے لوگوں کو خبر دے رہے ہیں کہ اگرچہ تم یقین نہیں کرتے مگر قیامت کا آنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 3 قیامت، قرآن یا خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں مگر جمہور علما نے اس سے قیامت ہی مراد لی ہے۔ یعنی کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس سے بالکل انکار کرتا ہے۔ قرآن میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی قرآن کو سحر کہتا ہے اور کوئی پہلوں کے افسانے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی وہ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے کبھی آپ ﷺ کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنوں کہتے ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:3) الذی ہم فیہ مختلفون : الذی اسم موصول باقی جملہ اس کا صلہ ہے۔ موصول و صلہ مل کرنبأ کی صفت ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب یتساء لون کی ضمیر کی طرح کفار مکہ کی طرف راجع ہے یہ اس صورت میں ہوگا جب کہ سوال استہزائی یا انکاری قرار دیا جائے۔ اس حالت میں نبأ عظیم کے متعلق کفار مکہ کے مختلف ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کچھ لوگ نبأ عظیم کی صداقت کے قطعی منکر ہیں اور کچھ تردد میں پڑے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یتساء لون اور ہم کی ضمیریں اہل مکہ کی طرف راجع ہوں اہل مکہ میں کچھ مومن تھے اور کچھ کافر نبأ عظیم کے متعلق سوال کرنے والے دونوں گروہ تھے۔ ایک گروہ تصدیق کرتا تھا ۔ لیکن زیادتی یقین اور انکشاف حالات…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

قیامت کے بارے میں عقلی دلائل اور قدرت کے انمول عجائبات و احسانات۔ (ف 1) اگرچہ مجاہد کا قول یہ ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے ، آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے اس لیے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے، اس واسطے حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ترجیح دی ہے حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ نبی ﷺ وصحابہ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] قیامت کے بارے میں مشرکین عرب شدید قسم کے تناقص فکر میں مبتلا تھے۔ ایک گروہ کھلم کھلا اس کا انکار کرتا تھا۔ ایک دوسرا گروہ صریح انکار کے بجائے مختلف شبہات وارد کرتا تھا۔ اس کا گمان تھا کہ اول تو قیامت کا ہونا ہی بعید ازقیاس ہے اور ہوئی بھی تو اس کے لئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا لوٹنا ہمارے دیوتاؤں کی طرف ہوگا جو ہمیں اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ یہ لوگ اس خبط میں بھی مبتلا تھے کہ ان کا خوشحال ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی نظروں میں وہ اچھے ہیں لہذا کوئی وجہ نہیں کہ جو عزت و سرفرازی اللہ نے ان کو دنیا میں دے رکھی ہے قیامت میں ان کو اس سے محروم کر دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة النباء 1: قیامت کے تخیل کو اس تفصیل اور اس اہمیت کے ساتھ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے مکہ کے مادہ پرست مشرکین کو جو مذہبی معارف سے محض ناآشنا تھے ۔ یہ بات قرین عقل وثواب نظر نہیں آتی تھی ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ دنیائے زینت و آرائش یکایک ایک دن تباہی و بربادی کے ساتھ بدل جائے گی ۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ محض طبع زاد حیثیت رکھتا تھا ۔ جس سے مقصود لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرتا تھا ۔ اس لئے اس کے متعلق اکثر بحث رہتی کہ قیامت کے امکانات کیا ہیں اور وہ کب وقوع پذیر ہوگی ۔ کیونکر ایسا ہوگا کہ یہ عالم آن کی آن میں تہ وبالا ہوجائے ۔ اس پر اس سورت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) جس کے بارے میں یہ اختلاف رکھتے ہیں یعنی اہل حق سے یا آپس میں۔ علم اصل میں عن ما ہے ما عام طور پر سوال کسی شئے کی حقیقت اور ماہیت کے لئے ہوتا ہے لیکن کبھی اس کا استعمال حال اور اوصاف کو دریافت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جیسے مازید کے جواب میں کہا کرتے ہیں طبیب یا عالم ، پوچھ گچھ کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں سوال کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ چیز کب آنے والی ہے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نباء عیم اور عظیم الشان واقعہ سے مراد قیامت ہے اگرچہ بعض نے عظیم قرآن کو بھی کہا ہے ، اور بعض حضرات نے نبی کریم ﷺ کی رسالت مرال دی ہے لیکن عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ نباء…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 5۔ مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعد الابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ 4 (کلا) کا مفوہم ہم نے پیچھے سورة المدثر کی آیت 35 کے تحت بیان کردیا ہے اسی مضمون پر ایک نظر ڈال لی جائے اور اس کے بعد یہ لفظ بار بار آئے گا اور ہر جگہ اسی مضمون پر نگاہ ضروری ہے اگر آپ نے اس مضمون کو نگاہ میں رکھا تو ان شاء اللہ اعلزیز اس کا مفہوم متعن کرنے میں آپ کو دشواری نہیں ہوگی۔ گزشتہ آیات میں منکرین قیاتم نے جتنے فرضی دلائل بیان کئے ، جتنے اختلاف ان کے سامنے آئے اور جو جو باتیں انہوں نے کیں ان سب کی تردید صرف ایک دو الفاظ بول کر کردی کہ ہرگز ایسا نہیں ، جس طرح کی باتیں تم بنا رہے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں اس بحث و تمحیث کا کچھ فائدہ نہیں ، اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ (About the Great Event in which they dispute!...78:2, 3). The word naba' means 'news' but not every news is naba'. It means a 'momentous news of a great event'. This refers to the news of the Day of Judgment. The verse purports to convey that the inhabitants of Makkah ask about the Day of Judgment in which they dispute [ while some of them believed in Resurrection, others did not.] Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that when the revelation of Qur'an started, the pagan Arabs used to form circles and discuss and criticise it, especially…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 "The Great News": the news of the Resurrection and Hereafter, which the people of Makkah heard with amazement, then raised questions and doubts about it in their assemblies. When they met each other they would ask: "Did you ever hear that the dead will be resurrected to life? Is it credible that life will be infused once again into the bones which have decayed and become rotten? Does it stand to reason that the former and the latter generations will rise up and gather together at one place? Is it possible that these huge mountains which are so firmly set in the earth will fly about like…

Read the full tafseer →