Explained with ayahs 37–40
روح الامین ؑ
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا، جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی کون ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة النَّبَا 26
بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے…
Read the full tafseer →(آیت) يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھو سے دیکھ لے گا خواہ اس طرح کہ نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں آجائے گا اس کو دیکھے گا، یا اس طرح کہ اعمال محشر میں مجسم اور متشکل ہو کر سامنے آجائیں گے جیسا کہ بعض روایات حدیث سے ثابت ہے اور احتمال یہ بھی ہے کہ اس روز سے مراد موت کا دن ہو اور اپنے اعمال کا دیکھنا قبر و برزخ میں مراد ہو، کمافی المظہری۔ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ قیامت کے روز ساری زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی جس میں انسان، جنات، زمین پر چلنے…
Read the full tafseer →یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ایک ایسے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے جو بالکل قریب آ چکا ہے۔ یعنی رسول کی بعثت کے بعد قوم کا فیصلہ ہونا تو سنت الٰہی کے مطابق قطعی ہے اور یہ عذاب منکروں کے لیے عذاب قیامت کا پیش خیمہ ہو گا۔ یوں بھی عذاب قیامت کو دور خیال کرنا نادانی ہے۔ اس لیے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے اور جو مرا اس کی قیامت اس کے سامنے ہے۔ من مات فقد قامت قیامۃ۔
’وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنۡتُ تُرَابًا‘۔ یعنی اس دن ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے آئیں گے اور جنھوں نے اس دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی ہو گی وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش ہم مٹی ہی رہے ہوتے، ہمارا وجود ہی نہ…
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بےسینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ چناچہ وہ مٹی ہوجائیں گے۔ اسوقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے (تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
6: بعض روایتوں میں ہے کہ جن جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم کیا تھا، میدان حشر میں ان کو بھی جمع کرکے ان سے ان کے ظلم کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ اگر کسی سینگ والی بکری نے کسی بےسینگ والی بکری کو سینگ مارا تھا تو حشر میں اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اور جب یہ بدلہ پورا ہوجائے گا تو ان جانوروں کو مٹی میں تبدیل کردیا جائے گا، اس وقت وہ کافر لوگ جنہیں دوزخ کا انجام نظر آرہا ہوگا، وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہم بھی مٹی ہوجاتے (مسلم و ترمذی)۔
Read the full tafseer →انا ................ قریبا (40:78) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔
یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔
یوم ینظر .................... ترابا (40:78) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔
اب فضا پر خوف اور ندامت…
Read the full tafseer →2 یعنی سب اچھے برے، اگلے پچھلے اعمال سامنے ہوں گے۔
3 یعنی مٹی ہی رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔
Read the full tafseer →آیت 40{ اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاج } ”دیکھو ! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔“
تصور کیجیے ‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے ! ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے ‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کردیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے ؟ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔
{ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰٹہُ } ”جس دن…
Read the full tafseer →27 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہوگا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بےسینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہوگا۔ (مسلم کتاب، البرو الصلہ ( باب تحریم الظلم) پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔
Read the full tafseer →17۔ (اور اس عذاب و عقاب سے بچ گیا ہوتا ! ) کافروں کی زبان پر یہ کلمہ میدان حشر میں انتہائی حسرت کے موقع پر آئے گا۔ (آیت) ” ینظر .... یدہ “۔ یعنی اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود حاظرپائے گا۔ (آیت) ” الکفر “۔ کافر یہاں بطور اسم جنس ہے۔ (آیت) ” المرء “۔ مرء سے مراد کافر شخص ہے۔ المرء الکافر (مدارک)
Read the full tafseer →یوم ینظر المرء ما قدمت یداہ، ظاہر یہی ہے کہ اس دن سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا، یا اعمال نامہ کی صورت میں کہ اس کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں آجائے گا جس میں وہ بچشم خود اپنے اعمال کی تفصیل دیکھ لے گا، یا اس طرح کہ اس کے اعمال متشکل ہو کر خود اس کے سامنے آجائیں گے جیسا کہ روایات حدیث سے ثابت ہے کہ وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہوگی وہ ایک زہریلے اژدھے کی شکل میں اس پر مسلط کردیا جائے گا، اور یوم سے موت کا دن بھی مراد ہوسکتا ہے اس وقت اعمال کو دیکھنے سے عالم برزخ میں دیکھنا مراد ہوگا۔ (مظھری)
ویقول الکفر یلیتنی کنت ترابا، حضرت عبد اللہ بن عمر…
Read the full tafseer →انا انذرتاکم عذابا قریبا اے کافرو ! ہم تم کو عذاب قریب سے ڈراتے ہیں۔ عذاب قریب سے مراد یا عذاب
آخرت ہے کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے یا عذاب قبر مراد ہے اور مدت جوتہ کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
یوم ینظر المرئی ما قدمت یداہ . یوم ‘ عذابًا کا مفعول فیہ ہے کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے۔ ما
قدمت میں مَا سوالیہ ہے اور قدمت (کا مفعول ہونے) کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے اور صلہ میں ضمیر محذوف ہے یعنی قَدَّمَتْہُ ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص قیامت کے دن اپنے اس عمل کو جو پہلے اس نے دنیا سے بھیجا ہوگا اپنے اعمالنامہ میں دیکھے گا یا اس کا بدلہ آخرت میں دیکھے گا یا قبر…
Read the full tafseer →اے مکہ والو ! ہم نے تمہیں ایک آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے جس دن مومن یا کافر اپنی کی ہوئی نیکی یا برائی کو دیکھ لے گا اور کافر قیامت کے عذاب و سختیوں کو دیکھ کر تمنا کرے گا کہ کاش میں مٹی ہوجاتا۔
Read the full tafseer →(1) انا انذر نکم عذاباً قریباً…: آخرت کے عذاب کو قریب فرمایا، کیونکہ عمر خواہ کتنی بھی ہو ختم ہونے والی ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ قیامت کو جب اٹھیں گے تو انہیں دنیا میں قیامت اکا وقت ایسے معلوم ہوگا جیسے دن کا ایک پہر گزرا ہو۔ (دیکھیے نازعات : 46) بلکہ قیامت کے دن مجرم قسم اٹھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ دیکھیے سورة روم (55)۔
(2) یلیتنی کنت ترباً : اے کاش کہ میں مٹی ہوتا، یعنی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، نہ حساب ہوتا نہ کتاب۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش ! میں مر کر مٹی ہوجاتا تو نہ حساب ہوتا نہ عذاب۔ بعض مفسرین نے ایک عجیب معنی کیا ہے کہ ”الکفر“ سے مراد یہاں…
Read the full tafseer →اناانذرنکم عذابا قریبا۔ قریش کے کفار اور عرب کے مشرکوں سے خطاب فرمایا کیونکہ انہوں نے کہا، ہم کو دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا جبکہ عذاب آخرت کا عذاب ہے ہر وہ چیز جو ہوکررہنے والی ہو وہ قریب ہوا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا۔ النازعات) گویا جس روز وہ اسے دیکھیں گے وہ کہیں گے وہ اسمیں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات یا اس کا ایک دن، یہ کلبی اور دوسرے علماء نے معنی کیا ہے، قتادہ نے کہا، یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ دونوں عذابوں میں سے یہ زیادہ قریبی ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد بدر کے دن قریش کا قتل ہے۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے یہی موت اور…
Read the full tafseer →41۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ینظر المرء جس دن آدمی دیکھے گا میں المرء سے مراد ہے مومن۔
42۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت یوم ینظر لمرء ما قدم یدہ جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے بھیجا تھا پڑھی اور فرمایا اس مراد وہ مومن ہے جو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے مطابق عمل کرتا ہے۔
43۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث فی النشور میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا تمام مخلوق کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا یعنی جانور، چوپائے پرندے اور ہر چیز کو، بس اللہ کا انصاف ان تک پہنچے گا۔ اس طرح پر کہ ایسا جانور جس…
Read the full tafseer →[انآ انذَرْنٰكُمْ : بیشک ہم نے خبردار کردیا تم لوگوں کو ][ عَذَابًا قَرِيْبًا : ایک قریبی عذاب سے ][ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ : جس دن دیکھ لے گا ہر آدمی ][ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ : اس کو جو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے ][ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ : اور کہے گا ہر کافر ][ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا : اے کاش میں ہوتا کوئی مٹی ]
(آیت۔ 40) اَلْمَرْئُ اور اَلکَافِرُ دونوں پر لام جنس ہے۔
Read the full tafseer →﴿اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا 1ۖۚ۬﴾ (بلاشبہ ہم نے تمہیں ایسے عذاب سے ڈرایا ہے جو عنقریب آنے والا ہے) یعنی آخرت کا عذاب، اس کو قریب اس لیے فرمایا کہ جو چیز آنے والی ہے وہ ضرور آ کر ہی رہے گا۔ ﴿ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ﴾ (جس دن انسان دیکھ لے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی دنیا میں جو کچھ اعمال کیے ہوں گے انہیں اپنے اعمال نامہ میں پالے گا۔ سورة ٴ کہف میں فرمایا ﴿ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ﴾ (اور جو کچھ عمل انہوں نے کیے تھے انہیں موجود پائیں گے) اور سورة زلزال میں فرمایا : ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔
بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →12:۔ ” اِنَّا اَنْذَرْنٰکُمْ “ عذاب قریب سے عذاب آخرت مراد ہے کیونکہ جو چیز آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے اور جو چیز گذر گئی وہ بعید ہے۔ و قربہ لتحقق اتیانہ فقد قیل ما ابعد ما فات و ما اقرب ما ھو اٰت (روح ج 30 ص 21) ۔ ” یَوْمَ یَنْظُرُ “ ” عَذَابًا “ سے متعلق ہے ہم تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کرچکے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے جس دن ہر انسان اپنا تمام کیا دھرا اپنے سامنے دیکھ لے گا اور اپنے تمام اعمال خیر و شر کا مشاہدہ کرلے گا۔ مومنین اپنے اعمال صالحہ کو دیکھ کر خوش ہوں گے لیکن کافر جب اپنی بد اعمالیوں کے پلندے اپنے سامنے دیکھیں گے اور ان کو اپنے عبرتناک انجام کا یقین ہوجائیگا تو حسرت و…
Read the full tafseer →(کفار کی آخری حسرت)
اس دن کفار کی حالت یہ ہوگی ویقول الکافر یلتنی کنت ترابا کافر یوں کہے گا کاش میں مٹی ہوتا ۔ تاکہ میرا حساب کتاب نہ ہوتا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے (ب 1 درمنثور ص 310 ج 2 ترمذی ص 348) ۔ کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ جانوروں کو بھی انصاف دلائیں گے ۔ جس جانور نے دنیا میں کسی دوسرے جانور پر زیادتی کی ہوگی۔ اسے اس کا بدلہ دلایا جائے گا۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کونوا ترابا “ مٹی ہوجاؤ ۔ پھر ان کی ضرورت نہیں رہے گی ، ان کو فنا کردیا جائے گا ۔ جانوروں کی پیدائش کا مقصد دنیا میں انسانوں کی خدمت گذاری ہے ۔ قیامت کے بعد ان کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
اسی طرح کافر قیامت کے روزجب اپنا اعمال…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا 0ڂ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰہُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا 40 ۧ
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب ¦ یوم منصوب بلا یملکون او ‘ بلایتکلمون صفا حال ای صافین او مصدر ای یعفون صفا والجملتہ مستانفۃ او حالیۃ الامن استثناء من قولہ لایتکلمون ای لایتکلم احد الا الماذون من الرحمن فلاستثناء متصل وقال معطوف علی قولہ اذن ذلک مبتداء الیوم الحق خبرہ الی ربہ ما با الی متعلقہ بماٰبا قدم علیہ اھتماما ورعایۃ للفواصل فمن شاء المفعول محذوف شرط اتخذ جو ابہ ‘ یوم ینظر یوم منصوب علی انہ بدل من عذابا او ظرف لمضمر ھو صفۃ لہ ای عذابا کائنا ‘ یوم ینظر المرء موصولۃ قدمت یداہ صلۃ والعائد محذوف والصلۃ والموصول المجموع منصوب محلا علی انہ مفعول ینظر والمرء فاعلہ ویقول معطوف علی ینظر۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ اس سے…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْـبًاصلے ج 5 یَّوْمَ یَنْظُرُالْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰـلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰ بًا۔ (النبا : 40)
(ہم نے تم لوگوں کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا، کاش ! میں مٹی ہوتا۔ )
آخری تنبیہ
یہ آخری تنبیہ ہے اور اتمامِ حجت بھی۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو بالکل قریب آچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔
جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ…
Read the full tafseer →40 : اِنَّآ اَنْذَرْ نٰکُمْ (ہم نے تم کو ڈرایا ہے) اے کافرو ! عَذَابًا قَرِیْبًا (ایک نزدیک آنے والے عذاب سے) جو آخرت میں پیش آئے گا کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ (جس دن ہر شخص ان اعمال کو دیکھ لے گا) المرء سے کافر مراد ہے۔ جیسا کہ انا انذرناکم عذابا قریبا اس پر دلالت کررہا ہے۔ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ (جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہونگے) برائیاں۔ جیسا دوسرے مقام میں فرمایا۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ ] آل عمران : 181۔ 182[
وجہ تخصیص :
ایدیکو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اعمال ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی احتمال ہے…
Read the full tafseer →39 ۔” ذلک الیوم الحق “ ہونے والا جو واقع ہو یعنی قیامت کا دن۔ ” فمن شاء اتخذ الی ربہ مآبا “ مرجع و راستہ اس کی طاعت کے ذریعے یعنی پس جو چاہے اللہ کی طرف لوٹے اس کی طاعت کرکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم…
Read the full tafseer →(اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا) بلاشبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے، کیونکہ وہ عذاب قریب آگیا ہے اور جو چیز آرہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ) اس دن آدمی ان (اعمال) کو دیکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے ؟ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یا ایھا الذین آمنواتقواللہ والتنظر نفس ماقدمت لغد واتقواللہ ان اللہ خبیر بماتعملون۔ الحشر۔ 18) اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا…
Read the full tafseer →(35) عذاب قریب سے انذار و آگہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے لیے آخری تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے خبردار کردیا تم سب لوگوں کو قریب آلگنے والے عذاب سے۔ نصح و خیر خواہی کے ہر پہلو اور ہر اعتبار سے تاکہ تم لوگ بچ سکو برے انجام سے، قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور تم لوگوں کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے، آگے ماننا نہ ماننا تمہارے اپنے ارادہ و اختیار پر موقوف ہے، اگر صدق دل سے اس کو مان کر اس عذاب قریب سے بچنے کی فکر وسعی کروگے، قبل اس کے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، پس ایمان و اطاقت میں تو تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
قیامت کا منظر
تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27)
جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔
حور۔
حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی آدمی نہ ہوتا تو آج اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوقات حتیٰ کہ جانوروں، چرندوں اور پرندوں تک کو جمع کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ کا انصاف اس قدر ہوگا کہ بن سینگ والی بکری کو بھی سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ مٹی ہوجائو۔ اس وقت کافر کہے گا کہ کاش میں بھی آج مٹی ہوجاتا۔ بہائم کا حشر اور ان کا ایک دوسرے سے بدلہ لینا حدیث و آثار سے ثابت ہے اور جمہور اس کے قائل ہیں۔ (روح شوکانی)
Read the full tafseer →(78:40) انا انذرنکم عذابا قریبا : انذرنا ماضی جمع متکلم انذار (افعال) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تم کو ڈرایا۔ ہم نے تم کو ڈر سنایا۔
عذابا قیبا موصوف و صفت ۔ مل کر انذرنا کا مفعول ثانی۔ عذاب قریب اس سے مراد عذاب آخرت ہے۔ کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یا اس سے مراد عذاب قبر ہے اور موت جوتے کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے (تفسیر مظہری)
یوم ینظر المرء ما قدمت یدیہ۔ اس کی تفسیر میں علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔
یوم : عذابا کا مفعول فیہ ہے۔ کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے ما قدمت میں ما یا تو سوالیہ ہے اور قدمت کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا…
Read the full tafseer →[13] یعنی مٹی میں رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔
Read the full tafseer →(40) ہم نے تم کو ایک ایسے قریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو اس دن واقع ہوگا جس دن آدمی اپنے ان اعمال کو دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں کے آگے پیچھے ہوں گے اور اس دن منکر حق یوں کہے گا اے کاش میں کسی طرح مٹی ہوجاتا۔
عذاب قریب اگر قیامت کا عذاب ہو تو مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب ہی ہے اور اگر برزخ کا عذاب مراد ہو تو اس کا قریب ہونا ظاہر ہی ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے اس دن انسان کے تمام اعمال روبرو ہونگے اور اس کا نامہ عمل ہاتھ میں دے دیا جائیگا اور جو کچھ اس نے دنیوی زندگی میں آگے بھیجا تھا وہ سب دیکھ لے گا اس دن یہ حال ہوگا کہ دین حق کا منکر یہ خواہش کرے گا کہ اے کاش…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور یہ اس وقت کہے گا جب بہائم مٹی کردیئے جائیں گے۔ رواہ فی الدر عن ابی ہریرہ یا وہ معنی مراد ہوں جو سورة نساء لو تسوی بھم الارض میں گزرے ہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم نے تم کو فریب آنے والے دن کے عذاب سے ڈرایا ہے
۔ 40 مقرر وقت کوئی بھی ہو وہ قریب ہی ہوتا ہے دور نہیں ہوتا لیکن اس جگہ (عذاباً قریباً ) سے مراد موت کا دن ہے جو ہر ایک انسان کے لئے انفرادی طور پر مقرر کیا گیا ہے اور جو اتنا قریب ہے کہ بس ابھی آیا کہ آیا اور جوں ہی کسی شخص کی موت واقع ہوگئی اس کی قیامت واقع ہوگئی کیونکہ اب موت کے بعد خواہ کروڑوں سال گزر جائیں یا ایک دن ؟ مرنے والے کے لئے ان کی نوعیت ایک ہی جیسی ہے کیونکہ اس کے لئے اب دوبارہ پیدا ہونا ایک ہی بار ہے اور وہ وہی آخرت کا مقررہ دن ہے۔ رہی یہ بات کہ موت کے دن کو (عذاباً ) کیوں کہا گیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ موت فی الواقع ایک عذاب…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ day when one will see what his hands have sent ahead....78:40) Apparently, this refers to the Day of Judgment. Every person will see his deeds with his own eyes in the Plane of Gathering. This might happen in one of two ways: [ 1] his ledger of deeds will be given in his hands and he will see it; or [ 2] his deeds will appear in the Plane of Gathering, epitomized in a visible shape, as certain narratives confirm this. Still a third possibility exists. The word 'day' may refer to 'the day of death'. And the words 'will see' means to see in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
26 Apparently, one might think that the people who were the audience of this verse died fourteen centuries ago, ,and even now it cannot be said how many hundreds or thousands or millions of years Resurrection will take to come. Then, in what sense has it been said: "The torment of which you have been warned, has approached near at hand?" And what is the meaning of saying in the beginning of the Surah: "Soon they shall know?" The answer is that man can have the feeling of time only until he is passing a physical life in the world within the bounds of space and time. After death when only the…
Read the full tafseer →