An-Naba 78:40

An-Naba · from ayah 40

78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا ۖۚ۬— یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَیَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا ۟۠اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰـكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا ۖ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ وَيَقُوۡلُ الۡـكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِىۡ كُنۡتُ تُرٰبًا

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have warned you of a near punishment on the Day when a man will observe what his hands have put forth and the disbeliever will say, "Oh, I wish that I were dust!"

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:40

ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو قریب آنے والا ہے جس دن ہر شخص وہ اعمال آنکھوں سے دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے ہیں، اور کافر یہ کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم تمہیں ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلا شبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، اس دن ہر آدمی ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہیں دیکھ لے گا، اور (ہر) کافر کہے گا: اے کاش! میں مٹی ہوتا (اور اس عذاب سے بچ جاتا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہے، جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا اے کاش کہ میں مٹی ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرایا ہے جو قریب آپہنچا ہے۔ اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا : کاش میں مٹی ہوتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، ہم نے تم کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس آدمی اپنی اس کمائی کو دیکھے گا جو اس نے آگے کے لئے کی ہوگی اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے تو تمہیں پوری طرح خبردار کردیا ہے (اے لوگو !) ایک ایسے ہولناک عذاب سے جو کہ قریب ہی آلگا ہے، جس روز آدمی دیکھ لے گا وہ سب کچھ جو کہ آگے بھیجا ہوگا اس کے ہاتھوں نے (اپنی زندگی کی فرصت میں) اور کافر (اس روز) کہے گا (اور ہزار حسرت و افسوس کے ساتھ کہے گا

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے تمہیں تنبیہ کردی ہے ایک نزدیک والے عذاب کی (جو) اس دن (واقع ہوگا) جب ہر شخص دیکھ لے گا اس کو جو کچھ کہ وہ آگے بھیج چکا ہے اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوجاتا !

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھو ! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔ جس دن انسان دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا اور کافر کہے گا : کاش کہ میں مٹی ہوتا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کردیا ہے جس دن ہر شخص ان اعمال کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Lo! We warn you of a chastisement near at hand; the Day when a man will look on what his own hands have sent forth, and the unbelievers shall say: “Oh would that I were utter dust.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have warned you of an approaching torment (that will be inflicted) on a day when one will see what his hands have sent ahead, and the disbeliever will say, :O would that I had turned into dust.

— Muhammad Taqi Usmani

We have warned you of an approaching torment (that will be inflicted) on a day when one will see what his hands have sent ahead, and the disbeliever will say, :O would that I had turned into dust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have warned you of a near torment -- the Day when man will see that which his hands have sent forth, and the disbeliever will say: "Woe to me! Would that I were dust!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We warn you of a doom at hand, a day whereon a man will look on that which his own hands have sent before, and the disbeliever will cry: "Would that I were dust!"

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have warned you of a near punishment on the Day when a man will observe what his hands have put forth and the disbeliever will say, "Oh, I wish that I were dust!"

— Saheeh International

We have warned you of the approaching torment. On that day, a person will see what his hands have committed. A disbeliever will say, "Would that I had been dust".

— Muhammad Sarwar

Surely We have warned you of a chastisement near at hand: the day when man shall see what his two hands have sent before, and the unbeliever shall say: O! would that I were dust!

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We have warned you of a torment nigh at hand, a Day whereon a man shall behold that which his hands have sent forth, and the infidel will say: would that I were dust!

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, We have warned you of a Penalty near, the Day when man will see (the deeds) which his hands have sent forth, and the Unbeliever will say, "Woe unto me! Would that I were (metre) dust!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–40

روح الامین ؑ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا، جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی کون ہے جو اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 39–40

سورة النَّبَا 26 بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھو سے دیکھ لے گا خواہ اس طرح کہ نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں آجائے گا اس کو دیکھے گا، یا اس طرح کہ اعمال محشر میں مجسم اور متشکل ہو کر سامنے آجائیں گے جیسا کہ بعض روایات حدیث سے ثابت ہے اور احتمال یہ بھی ہے کہ اس روز سے مراد موت کا دن ہو اور اپنے اعمال کا دیکھنا قبر و برزخ میں مراد ہو، کمافی المظہری۔ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ قیامت کے روز ساری زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی جس میں انسان، جنات، زمین پر چلنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ایک ایسے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے جو بالکل قریب آ چکا ہے۔ یعنی رسول کی بعثت کے بعد قوم کا فیصلہ ہونا تو سنت الٰہی کے مطابق قطعی ہے اور یہ عذاب منکروں کے لیے عذاب قیامت کا پیش خیمہ ہو گا۔ یوں بھی عذاب قیامت کو دور خیال کرنا نادانی ہے۔ اس لیے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے اور جو مرا اس کی قیامت اس کے سامنے ہے۔ من مات فقد قامت قیامۃ۔ ’وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنۡتُ تُرَابًا‘۔ یعنی اس دن ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے آئیں گے اور جنھوں نے اس دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی ہو گی وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش ہم مٹی ہی رہے ہوتے، ہمارا وجود ہی نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بےسینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ چناچہ وہ مٹی ہوجائیں گے۔ اسوقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے (تفسیر ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

6: بعض روایتوں میں ہے کہ جن جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم کیا تھا، میدان حشر میں ان کو بھی جمع کرکے ان سے ان کے ظلم کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ اگر کسی سینگ والی بکری نے کسی بےسینگ والی بکری کو سینگ مارا تھا تو حشر میں اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اور جب یہ بدلہ پورا ہوجائے گا تو ان جانوروں کو مٹی میں تبدیل کردیا جائے گا، اس وقت وہ کافر لوگ جنہیں دوزخ کا انجام نظر آرہا ہوگا، وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہم بھی مٹی ہوجاتے (مسلم و ترمذی)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا ................ قریبا (40:78) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔ یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔ یوم ینظر .................... ترابا (40:78) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔ اب فضا پر خوف اور ندامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی سب اچھے برے، اگلے پچھلے اعمال سامنے ہوں گے۔ 3 یعنی مٹی ہی رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاج } ”دیکھو ! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔“ تصور کیجیے ‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے ! ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے ‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کردیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے ؟ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔ { یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰٹہُ } ”جس دن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہوگا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بےسینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہوگا۔ (مسلم کتاب، البرو الصلہ ( باب تحریم الظلم) پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (اور اس عذاب و عقاب سے بچ گیا ہوتا ! ) کافروں کی زبان پر یہ کلمہ میدان حشر میں انتہائی حسرت کے موقع پر آئے گا۔ (آیت) ” ینظر .... یدہ “۔ یعنی اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود حاظرپائے گا۔ (آیت) ” الکفر “۔ کافر یہاں بطور اسم جنس ہے۔ (آیت) ” المرء “۔ مرء سے مراد کافر شخص ہے۔ المرء الکافر (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

یوم ینظر المرء ما قدمت یداہ، ظاہر یہی ہے کہ اس دن سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا، یا اعمال نامہ کی صورت میں کہ اس کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں آجائے گا جس میں وہ بچشم خود اپنے اعمال کی تفصیل دیکھ لے گا، یا اس طرح کہ اس کے اعمال متشکل ہو کر خود اس کے سامنے آجائیں گے جیسا کہ روایات حدیث سے ثابت ہے کہ وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہوگی وہ ایک زہریلے اژدھے کی شکل میں اس پر مسلط کردیا جائے گا، اور یوم سے موت کا دن بھی مراد ہوسکتا ہے اس وقت اعمال کو دیکھنے سے عالم برزخ میں دیکھنا مراد ہوگا۔ (مظھری) ویقول الکفر یلیتنی کنت ترابا، حضرت عبد اللہ بن عمر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا انذرتاکم عذابا قریبا اے کافرو ! ہم تم کو عذاب قریب سے ڈراتے ہیں۔ عذاب قریب سے مراد یا عذاب آخرت ہے کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے یا عذاب قبر مراد ہے اور مدت جوتہ کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یوم ینظر المرئی ما قدمت یداہ . یوم ‘ عذابًا کا مفعول فیہ ہے کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے۔ ما قدمت میں مَا سوالیہ ہے اور قدمت (کا مفعول ہونے) کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے اور صلہ میں ضمیر محذوف ہے یعنی قَدَّمَتْہُ ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص قیامت کے دن اپنے اس عمل کو جو پہلے اس نے دنیا سے بھیجا ہوگا اپنے اعمالنامہ میں دیکھے گا یا اس کا بدلہ آخرت میں دیکھے گا یا قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے مکہ والو ! ہم نے تمہیں ایک آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے جس دن مومن یا کافر اپنی کی ہوئی نیکی یا برائی کو دیکھ لے گا اور کافر قیامت کے عذاب و سختیوں کو دیکھ کر تمنا کرے گا کہ کاش میں مٹی ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) انا انذر نکم عذاباً قریباً…: آخرت کے عذاب کو قریب فرمایا، کیونکہ عمر خواہ کتنی بھی ہو ختم ہونے والی ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ قیامت کو جب اٹھیں گے تو انہیں دنیا میں قیامت اکا وقت ایسے معلوم ہوگا جیسے دن کا ایک پہر گزرا ہو۔ (دیکھیے نازعات : 46) بلکہ قیامت کے دن مجرم قسم اٹھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ دیکھیے سورة روم (55)۔ (2) یلیتنی کنت ترباً : اے کاش کہ میں مٹی ہوتا، یعنی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، نہ حساب ہوتا نہ کتاب۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش ! میں مر کر مٹی ہوجاتا تو نہ حساب ہوتا نہ عذاب۔ بعض مفسرین نے ایک عجیب معنی کیا ہے کہ ”الکفر“ سے مراد یہاں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اناانذرنکم عذابا قریبا۔ قریش کے کفار اور عرب کے مشرکوں سے خطاب فرمایا کیونکہ انہوں نے کہا، ہم کو دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا جبکہ عذاب آخرت کا عذاب ہے ہر وہ چیز جو ہوکررہنے والی ہو وہ قریب ہوا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا۔ النازعات) گویا جس روز وہ اسے دیکھیں گے وہ کہیں گے وہ اسمیں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات یا اس کا ایک دن، یہ کلبی اور دوسرے علماء نے معنی کیا ہے، قتادہ نے کہا، یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ دونوں عذابوں میں سے یہ زیادہ قریبی ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد بدر کے دن قریش کا قتل ہے۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے یہی موت اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

41۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ینظر المرء جس دن آدمی دیکھے گا میں المرء سے مراد ہے مومن۔ 42۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت یوم ینظر لمرء ما قدم یدہ جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے بھیجا تھا پڑھی اور فرمایا اس مراد وہ مومن ہے جو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے مطابق عمل کرتا ہے۔ 43۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث فی النشور میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا تمام مخلوق کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا یعنی جانور، چوپائے پرندے اور ہر چیز کو، بس اللہ کا انصاف ان تک پہنچے گا۔ اس طرح پر کہ ایسا جانور جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انآ انذَرْنٰكُمْ : بیشک ہم نے خبردار کردیا تم لوگوں کو ][ عَذَابًا قَرِيْبًا : ایک قریبی عذاب سے ][ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ : جس دن دیکھ لے گا ہر آدمی ][ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ : اس کو جو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے ][ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ : اور کہے گا ہر کافر ][ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا : اے کاش میں ہوتا کوئی مٹی ] (آیت۔ 40) اَلْمَرْئُ اور اَلکَافِرُ دونوں پر لام جنس ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا 1ۖۚ۬﴾ (بلاشبہ ہم نے تمہیں ایسے عذاب سے ڈرایا ہے جو عنقریب آنے والا ہے) یعنی آخرت کا عذاب، اس کو قریب اس لیے فرمایا کہ جو چیز آنے والی ہے وہ ضرور آ کر ہی رہے گا۔ ﴿ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ﴾ (جس دن انسان دیکھ لے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی دنیا میں جو کچھ اعمال کیے ہوں گے انہیں اپنے اعمال نامہ میں پالے گا۔ سورة ٴ کہف میں فرمایا ﴿ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ﴾ (اور جو کچھ عمل انہوں نے کیے تھے انہیں موجود پائیں گے) اور سورة زلزال میں فرمایا : ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–40

انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔ بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” اِنَّا اَنْذَرْنٰکُمْ “ عذاب قریب سے عذاب آخرت مراد ہے کیونکہ جو چیز آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے اور جو چیز گذر گئی وہ بعید ہے۔ و قربہ لتحقق اتیانہ فقد قیل ما ابعد ما فات و ما اقرب ما ھو اٰت (روح ج 30 ص 21) ۔ ” یَوْمَ یَنْظُرُ “ ” عَذَابًا “ سے متعلق ہے ہم تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کرچکے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے جس دن ہر انسان اپنا تمام کیا دھرا اپنے سامنے دیکھ لے گا اور اپنے تمام اعمال خیر و شر کا مشاہدہ کرلے گا۔ مومنین اپنے اعمال صالحہ کو دیکھ کر خوش ہوں گے لیکن کافر جب اپنی بد اعمالیوں کے پلندے اپنے سامنے دیکھیں گے اور ان کو اپنے عبرتناک انجام کا یقین ہوجائیگا تو حسرت و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(کفار کی آخری حسرت) اس دن کفار کی حالت یہ ہوگی ویقول الکافر یلتنی کنت ترابا کافر یوں کہے گا کاش میں مٹی ہوتا ۔ تاکہ میرا حساب کتاب نہ ہوتا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے (ب 1 درمنثور ص 310 ج 2 ترمذی ص 348) ۔ کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ جانوروں کو بھی انصاف دلائیں گے ۔ جس جانور نے دنیا میں کسی دوسرے جانور پر زیادتی کی ہوگی۔ اسے اس کا بدلہ دلایا جائے گا۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کونوا ترابا “ مٹی ہوجاؤ ۔ پھر ان کی ضرورت نہیں رہے گی ، ان کو فنا کردیا جائے گا ۔ جانوروں کی پیدائش کا مقصد دنیا میں انسانوں کی خدمت گذاری ہے ۔ قیامت کے بعد ان کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اسی طرح کافر قیامت کے روزجب اپنا اعمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا۝ 0ڂ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰہُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا۝ 40 ۧ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–40

ترکیب ¦ یوم منصوب بلا یملکون او ‘ بلایتکلمون صفا حال ای صافین او مصدر ای یعفون صفا والجملتہ مستانفۃ او حالیۃ الامن استثناء من قولہ لایتکلمون ای لایتکلم احد الا الماذون من الرحمن فلاستثناء متصل وقال معطوف علی قولہ اذن ذلک مبتداء الیوم الحق خبرہ الی ربہ ما با الی متعلقہ بماٰبا قدم علیہ اھتماما ورعایۃ للفواصل فمن شاء المفعول محذوف شرط اتخذ جو ابہ ‘ یوم ینظر یوم منصوب علی انہ بدل من عذابا او ظرف لمضمر ھو صفۃ لہ ای عذابا کائنا ‘ یوم ینظر المرء موصولۃ قدمت یداہ صلۃ والعائد محذوف والصلۃ والموصول المجموع منصوب محلا علی انہ مفعول ینظر والمرء فاعلہ ویقول معطوف علی ینظر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْـبًاصلے ج 5 یَّوْمَ یَنْظُرُالْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰـلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰ بًا۔ (النبا : 40) (ہم نے تم لوگوں کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا، کاش ! میں مٹی ہوتا۔ ) آخری تنبیہ یہ آخری تنبیہ ہے اور اتمامِ حجت بھی۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو بالکل قریب آچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–40

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔ جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40 : اِنَّآ اَنْذَرْ نٰکُمْ (ہم نے تم کو ڈرایا ہے) اے کافرو ! عَذَابًا قَرِیْبًا (ایک نزدیک آنے والے عذاب سے) جو آخرت میں پیش آئے گا کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ (جس دن ہر شخص ان اعمال کو دیکھ لے گا) المرء سے کافر مراد ہے۔ جیسا کہ انا انذرناکم عذابا قریبا اس پر دلالت کررہا ہے۔ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ (جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہونگے) برائیاں۔ جیسا دوسرے مقام میں فرمایا۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ ] آل عمران : 181۔ 182[ وجہ تخصیص : ایدیکو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اعمال ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی احتمال ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” ذلک الیوم الحق “ ہونے والا جو واقع ہو یعنی قیامت کا دن۔ ” فمن شاء اتخذ الی ربہ مآبا “ مرجع و راستہ اس کی طاعت کے ذریعے یعنی پس جو چاہے اللہ کی طرف لوٹے اس کی طاعت کرکے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–40

37۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا) بلاشبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے، کیونکہ وہ عذاب قریب آگیا ہے اور جو چیز آرہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ) اس دن آدمی ان (اعمال) کو دیکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے ؟ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یا ایھا الذین آمنواتقواللہ والتنظر نفس ماقدمت لغد واتقواللہ ان اللہ خبیر بماتعملون۔ الحشر۔ 18) اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(35) عذاب قریب سے انذار و آگہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے لیے آخری تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے خبردار کردیا تم سب لوگوں کو قریب آلگنے والے عذاب سے۔ نصح و خیر خواہی کے ہر پہلو اور ہر اعتبار سے تاکہ تم لوگ بچ سکو برے انجام سے، قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور تم لوگوں کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے، آگے ماننا نہ ماننا تمہارے اپنے ارادہ و اختیار پر موقوف ہے، اگر صدق دل سے اس کو مان کر اس عذاب قریب سے بچنے کی فکر وسعی کروگے، قبل اس کے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، پس ایمان و اطاقت میں تو تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا ورنہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–40

قیامت کا منظر تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27) جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی آدمی نہ ہوتا تو آج اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوقات حتیٰ کہ جانوروں، چرندوں اور پرندوں تک کو جمع کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ کا انصاف اس قدر ہوگا کہ بن سینگ والی بکری کو بھی سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ مٹی ہوجائو۔ اس وقت کافر کہے گا کہ کاش میں بھی آج مٹی ہوجاتا۔ بہائم کا حشر اور ان کا ایک دوسرے سے بدلہ لینا حدیث و آثار سے ثابت ہے اور جمہور اس کے قائل ہیں۔ (روح شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:40) انا انذرنکم عذابا قریبا : انذرنا ماضی جمع متکلم انذار (افعال) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تم کو ڈرایا۔ ہم نے تم کو ڈر سنایا۔ عذابا قیبا موصوف و صفت ۔ مل کر انذرنا کا مفعول ثانی۔ عذاب قریب اس سے مراد عذاب آخرت ہے۔ کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یا اس سے مراد عذاب قبر ہے اور موت جوتے کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے (تفسیر مظہری) یوم ینظر المرء ما قدمت یدیہ۔ اس کی تفسیر میں علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ یوم : عذابا کا مفعول فیہ ہے۔ کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے ما قدمت میں ما یا تو سوالیہ ہے اور قدمت کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–40

شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔ (ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی مٹی میں رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–40

ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) ہم نے تم کو ایک ایسے قریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو اس دن واقع ہوگا جس دن آدمی اپنے ان اعمال کو دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں کے آگے پیچھے ہوں گے اور اس دن منکر حق یوں کہے گا اے کاش میں کسی طرح مٹی ہوجاتا۔ عذاب قریب اگر قیامت کا عذاب ہو تو مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب ہی ہے اور اگر برزخ کا عذاب مراد ہو تو اس کا قریب ہونا ظاہر ہی ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے اس دن انسان کے تمام اعمال روبرو ہونگے اور اس کا نامہ عمل ہاتھ میں دے دیا جائیگا اور جو کچھ اس نے دنیوی زندگی میں آگے بھیجا تھا وہ سب دیکھ لے گا اس دن یہ حال ہوگا کہ دین حق کا منکر یہ خواہش کرے گا کہ اے کاش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اور یہ اس وقت کہے گا جب بہائم مٹی کردیئے جائیں گے۔ رواہ فی الدر عن ابی ہریرہ یا وہ معنی مراد ہوں جو سورة نساء لو تسوی بھم الارض میں گزرے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم نے تم کو فریب آنے والے دن کے عذاب سے ڈرایا ہے ۔ 40 مقرر وقت کوئی بھی ہو وہ قریب ہی ہوتا ہے دور نہیں ہوتا لیکن اس جگہ (عذاباً قریباً ) سے مراد موت کا دن ہے جو ہر ایک انسان کے لئے انفرادی طور پر مقرر کیا گیا ہے اور جو اتنا قریب ہے کہ بس ابھی آیا کہ آیا اور جوں ہی کسی شخص کی موت واقع ہوگئی اس کی قیامت واقع ہوگئی کیونکہ اب موت کے بعد خواہ کروڑوں سال گزر جائیں یا ایک دن ؟ مرنے والے کے لئے ان کی نوعیت ایک ہی جیسی ہے کیونکہ اس کے لئے اب دوبارہ پیدا ہونا ایک ہی بار ہے اور وہ وہی آخرت کا مقررہ دن ہے۔ رہی یہ بات کہ موت کے دن کو (عذاباً ) کیوں کہا گیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ موت فی الواقع ایک عذاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَوْمَ يَنظُرُ‌ الْمَرْ‌ءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ day when one will see what his hands have sent ahead....78:40) Apparently, this refers to the Day of Judgment. Every person will see his deeds with his own eyes in the Plane of Gathering. This might happen in one of two ways: [ 1] his ledger of deeds will be given in his hands and he will see it; or [ 2] his deeds will appear in the Plane of Gathering, epitomized in a visible shape, as certain narratives confirm this. Still a third possibility exists. The word 'day' may refer to 'the day of death'. And the words 'will see' means to see in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–40

26 Apparently, one might think that the people who were the audience of this verse died fourteen centuries ago, ,and even now it cannot be said how many hundreds or thousands or millions of years Resurrection will take to come. Then, in what sense has it been said: "The torment of which you have been warned, has approached near at hand?" And what is the meaning of saying in the beginning of the Surah: "Soon they shall know?" The answer is that man can have the feeling of time only until he is passing a physical life in the world within the bounds of space and time. After death when only the…

Read the full tafseer →