An-Naazi'aat 79:1

79. An-Naazi'aatالنازعات

Those who drag forth · Meccan · 46 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

79:1

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا ۟ۙوَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

By those [angels] who extract with violence

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:1

قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قسم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان (فرشتوں) کی قَسم جو (کافروں کی جان ان کے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو مادہ کے اندر گھس کر کیمیائی جوڑوں کو سختی سے توڑ پھوڑ دیتی ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے (جان) کھینچ لینے والے ہیں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(جسم میں) غرق ہو کر (جان) کھینچ لینے والے (فرشتوں) کی قسم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شاہد میں جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والی ہوائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان نکالتے ہیں گھس کر

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے جان سختی سے نکالنے والوں کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

By those (angels) that pluck out the soul from depths,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I swear by those (angels) who pull out (the souls of the infidels) with extreme force,

— Muhammad Taqi Usmani

I swear by those (angels) who pull out (the souls of the infidels) with extreme force,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By those who pull out, drowning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By those who drag forth to destruction,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

By those [angels] who extract with violence

— Saheeh International

By the angels who violently tear-out the souls of the disbelievers from their bodies,

— Muhammad Sarwar

I swear by the angels who violently pull out the souls of the wicked,

— Muhammad Habib Shakir

By the angels who drag forth vehemently.

— Abdul Majid Daryabadi

By the (angels) who tear out (the souls of the wicked) with violence;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–5

سورة النّٰزِعٰت 1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسروق، سعید بن حبیر، ابو صالح، ابوالضحیٰ اور سدی ؓ کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان فرشتوں کی جو (کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو (مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں گویا ان کا) بند کھول دیتے ہیں اور جو (روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس طرح سرعت ہو سہولت سے چلتے ہیں جیسے گویا) تیرتے ہوئے چلتے ہیں پھر (جب روحوں کو لے کر پہنچتے ہیں تو ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے) تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں پھر (ن ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے) ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں (ان سب کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ) قیامت ضرور آوے گی جس روز ہلا دینے والی چیز ہلا ڈالے گی (مراد نفخہ اولیٰ ہے) جس کے بعد ایک پیچھے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’نَازِعَاتٌ‘ سے مراد: ’نَازِعَاتٌ‘ اور ’نَاشِطَاتٌ‘ کی تاویل میں یوں تو متعدد اقوال منقول ہیں لیکن غالب رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی جانیں سختی سے اور اہل ایمان کی جانیں نہایت نرمی سے نکالتے ہیں۔ اگرچہ اس قول کو شہرت حاصل ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس باب میں جو روایات ہیں وہ بالکل تفسیری نوعیت کی ہیں۔ جن کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکے۔ قرآن میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے اس قول کے حق میں کوئی تائید نکلتی ہو۔ اہل کفر اور اہل ایمان کی جانوں کے نکالنے کا معاملہ تمام تر ایک روحانی و باطنی کیفیت سے تعلق رکھنے والا معاملہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 نَزْع کے معنی سختی سے کھنچنا، غَرْقًا ڈوب کر، یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کافر کی رگوں میں گھس کر اس کی جان سختی سے گھسیٹ کر نکالیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں۔“ نزع کے معنی سختی سے کھینچنے کے ہیں۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انسان کے وجود کی گہرائی میں اتر کر بڑی سختی اور شدت سے اس کی جان کو کھینچ نکالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو موت کے وقت میت کے ایک ایک رگ و ریشہ میں ڈوب کر وہاں سے اس کی روح کو کھینچ لاتے ہیں۔ واضح رہے کہ نزع کا لغوی معنی کسی چیز کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ مراد دونوں لفظوں سے فرشتے ہیں، جو کافروں کی جان انتہائی سختی کے ساتھ ان کے پور پور میں گھس کر، اور رگ رگ میں ڈوب کر نکالتے ہیں۔ اور مومنوں کی اس آسمانی کے ساتھ کہ گویا بند کھول دیا ہے۔ قسم کی حقیقت کے لئے ملاحظہ ہو، پ 14، سورة الحجر کا ضمیمہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان فرشتوں کی جو کفار کی روح کو ڈوب کر سختی سے کھینچنے والے ہیں، قسم ہے ان فرشتوں کی جو نرمی سے مسلمانوں کی (روح) کو نکالنے والے ہیں یعنی روح کو آسانی کے ساتھ نکالنے والے ہیں، قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان میں تیزی سے تیرنے والے ہیں یعنی نازل ہوتے ہیں، پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو مومنین کی روحوں کو لے کر جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں، پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو دنیاوی معاملات کی تدبیر کرتے ہیں یعنی اس کی تدبیر کو لے کر نازل ہوتے ہیں، ان قسموں کا جواب محذوف ہے اور وہ لتبعثن یا کفار مکۃ ہے، (اے کفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والنزعت غرقا . واؤ قسمیہ ہے ‘ جواب قسم محذوف ہے ‘ یعنی قسم ہے نازعات اور اور ناشطات کی ‘ تم کو ضرور اٹھایا جائے گا اور بلاشبہ تم سے حساب فہمی ہوگی ‘ محذوف جواب پر آئندہ آیت دلالت کر رہی ہے۔ النّٰزِعٰت غرقًا سے مراد ہیں وہ ملائکہ جو کافروں کی جانیں پوری قوّت اور شدت سے نکالتے ہیں۔ . غرقًا اسم ہے لیکن بجائے مصدر کے مستعمل ہے یعنی مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جیسے : قَعَدْتُّ جلوسًا میں جلوسًا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ اغرق النازع فی القوس ‘ کمان کھینچنے والے نے پوری قوت اور شدت کے ساتھ جہاں تک کھنچاؤ ممکن تھا ‘ کمان کو کھینچا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

2(والنزعت غرقاً…:”النزعت“ اور ”الشطت“ سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وان العبد المومن اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحیء ملک الموت ؑ حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الطیبہ ! اخرجی الی مغفرۃ من اللہ و رضوان قال فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من فی السفاء …و ان العبد الکافر اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحییٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والنازعات غرقا۔۔۔ تا۔۔۔۔ بالساھرۃ۔ والنازعات غرقا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ چیزوں کی قسم اٹھائی کہ قیامت برحق ہے۔ النازعات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روحوں کو نکالتے ہیں، یہ حضرت علی کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور مسروق ومجاہد نے کہا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسانوں کے نفوس کو نکالتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، اس سے مراد کفار کے نفوس ہیں جنہیں ملک الموت ان کے جسموں سے نکالا ہے ان کے ہر بال کے نیچے سے، ناخنوں کے نیچے اور قدموں کی جڑ سے اس طرح جس طرح گوشت بھوننے والی سیخ تر اون سے نکالی جاتی ہے پھر وہ انہیں جسموں میں داخل کرتے ہیں پھر اسے باہر نکالتے ہیں یہ کفار کے ساتھ اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں۔ یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحوں کو کھینچتے ہیں آیت والنشطت نشطا۔ اور بند کھولنے والوں کی یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحون کو ناخنوں اور جلد کے درمیان سے نکالتے ہیں یہاں تک کہ اس کو نکال لیتے ہیں آیت والسبحت سبحا۔ اور تیزی سے تیرنے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے جو ایمان والوں کی روحوں کو لے کر آسمان اور زمین کے درمیان تیرتے ہیں آیت فالسبقت سبقا پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے ہیں کہ ایمان والوں کی روحوں کو لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاتے ہیں آیت فالمدبرات امرا۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالنّٰزِعٰتِ : قسم ہے کھینچ نکالنے والیوں کی ][ غَرْقًا : ڈوب کر ] نوٹ۔ 1: یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن آگے کا مضمون اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کِن ہستیوں کے ہیں۔ لیکن صحابہ اکرام ؓ اور تابعین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر فرشتوں کی قسم کیوں کھائی گئی، جبکہ یہ خود بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

ان آیات میں وقوع قیامت اور وقوع کے بعد والے احوال کا تذکرہ فرمایا ہے پہلے فرشتوں کی قسم کھائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ہلا دینے والی چیز ضرور واقع ہوگی (اس سے پہلی بار صور پھونکنا مراد ہے) ۔ جن فرشتوں کی قسم کھائی ہے ان میں پہلے ﴿ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ001﴾ فرمایا یعنی قسم ہے ان فرشتوں کی جو سختی سے ساتھ روح کھینچنے والے ہیں اس میں لفظ غرقًا مصدر ہے جو اغراقًا کے معنی میں ہے یعنی جسم کے ہر ہر حصہ سے فرشتے روح کو نکال لیتے ہیں اور اس میں مرنے والے کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، پھر فرمایا ﴿ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ002﴾ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو بند کھول دیتے ہیں یعنی سہولت کے ساتھ روح نکالتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” وَالنّٰزِعَاتِ غَرْقًا “۔ یہ شواہد ہیں اور اخروی ثواب و عقاب کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں فرشتے قبض روح کے وقت مومنوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اور کافروں کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں ہوگا۔ ” غرقا “ النازعات کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ اور اس کے معنی ہیں سختی اور شدت کے ساتھ کھینچنا۔ یقال اغرق النازع فی القوس ای استوفی مدھا بقوۃ و شدۃ (مظہری) ۔ اغراق، سخت کشیدن کمان (صراح) ۔ اس سے کافروں کی روحیں قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں جو شدت کے ساتھ ان کی روحیں کھینچتے ہیں۔ ” نشط “ کے معنی ہیں آسانی اور نرمی سے نکالنا جس طرح ڈول آسانی کے ساتھ کنوئیں سے نکال لیا جاتا ہے اس سے مومنوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۝ 1 نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وللقسم جارۃ النازعات مجرور مقسم بہا و الناشطات والسابحات عطف علیہ بالوا و فالسابقات فالمد برات عطف بالفاء لکونھا مسببتہ عن التی قبلھا کانہ قیل واللاتی سبجن فسبقن کما تقول قام فذھب فضرب وانتصاب۔ غرقا علی انہ مصدر محذوف الزوائد ای اغراقا او علی الحال ای ذوات اغراق یقال اغرق فی الشیء یغرق فیہ اذا اوغل فیہ وبلغ غایۃً وکذانشطا و سبحاوسبقا مصدر والنصب علی انھا مفعول مطلق وامرا مفعول بہ وقیل حال ای یدبرون ماموراتٍ و جواب القسم محذوف ھو عند الفراء لتبعثن وقال الاخفش والزجاج لنفخن فی الصور نفختین وقال الکسائی الجواب المحذوف ھوان القیامۃ واقعۃ والدلیل علی جمیع الاقوال مابعدھامن الآیات۔ وقیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالـنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًا۔ (النازعات : 1 تا 5) (قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں۔ پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم ان آیات میں پانچ اوصاف رکھنے والی چیزوں یا ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اوصاف کا موصوف کون ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا۔ بعض اہل علم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–5

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ ( اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو بندکھول دیتے ہیں) ۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ( اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں) روح کو جسم کے بعید اطراف سے کھینچیں گے : قراءت : یہاں تک کوئی وقف نہیں اور یہاں وقف لازم ہے۔ کیونکہ اگر ملائیں گے تو یومؔ المدبرات کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ اس دن تو ملائکہ کے ذمہ جو کام لگے وہ ختم ہوچکے ہونگے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ان مختلف گروہوں کی قسم اٹھائی ہے جو اجساد سے ارواح کو ڈوب کر یعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی قسمیں یہ جو اللہ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت موت سے پہلے یا موت کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) النازعات کی قسم اور اس کا معنی و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان نکالتے ہیں ڈوب کر " یعنی کافروں کی رگ رگ میں گھس کر اور ان کے پور پور تک پہنچ کر۔ اس سے مراد ہیں وہ فرشتے جو کافروں کی جان نکالتے ہیں نہایت سختی کے ساتھ۔ (روح، صفوہ، ابن کثیر، قرطبی، وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ چناچہ روایات میں کافر کی جانکنی کی سختی اس مثال سے بیان کی گئی ہے کہ ایک خاردار جھاڑی کو بھیگی ہوئی روئی کے اندر ڈال کر زور سے کھینچ کر نکالا جائے، اور بعض نے کہا کہ نازعات سے مراد وہ زوردار ہوائیں جو جھکڑ بن کر چلتی ہیں۔ اور وہ درختوں، مکانوں، چھتوں اور مختلف دوسری چیزوں کو اپنے زور سے اکھاڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فرشتوں کی قسم تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے مگر جس کی قسم کھارہا ہے ان کی صفات سے صحابہ مفسرین اور تابعین کی بہت بڑی تعداد نے فرشتے ہی مراد لیے ہیں۔ جیسا کہ روایت ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے ' ڈوب کر کھینچنے اور آسانی سے کھول دینے والے سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ اسی طرح احکامات الٰہی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا پیغام رسولوں تک پہنچانا ' کائنات کے مختلف امور کو انجام دینا ''۔ فرشتوں کا وجود ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے کیونکہ انسان کی طرح یہ بھی مخلوق خدا ہیں۔ جو غیبی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر ایمان لانا ہمارے اوپر یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی وہ نکلنا نہیں چاہتیں تو انہیں زبردستی باہر گھسیٹتے ہیں۔ اس آیت میں ” نازعات “ (نکالنے والوں) سے مراد فرشتے ہیں۔ جمہور مفسرین کا اس پر اتفاق ہے اور اسی طرح اگلی آیات میں ” ناشطات “ سابحات، اور سابقات، سے بھی تمام مفسرین نے فرشتے مراد لئے ہیں مگر بعض نے ” نازعات “ سے مراد موت لی ہے جو جان کو بدن سے نکالتی ہے۔ بعض نے ستارے جو ایک افق سے دوسرے افق تک ڈوب کر جاتے ہیں، بعض نے کمانیں جو زور سے کھینچی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ سارا تیر پیکان تک ان کے اندر چلا جاتا ہے اور بعض نے تیر انداز مجاہدین جو کمان کو پورا کھینچتے ہیں۔ (قرطبی۔ رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:1) والنزعت غرقا : واؤ قسمیہ ہے : النزعت مقسم بہا ہے۔ غرقا اسم ہے لیکن بجائے مصدر کے مستعمل ہے یعنی مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جیسے قعدت جلوسا میں جلوسا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النزعت اسم فاعل جمع مؤنث النازعۃ واحد۔ نزع (باب ضرب) مصدر سے۔ کھینچنے والیاں۔ کھینچ کر نکلانے والیاں۔ نزع کھینچنا، نکالنا، جان نکالنا۔ منازعۃ (مفاعلۃ) باہم کشیدگی ۔ خصومت۔ تنازع (تفاعل) باہم خصومت کرنا۔ غرقا۔ ڈوبنا، گہرائی سے شدت کے ساتھ کھینچنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے گہرائی میں جاکر شدت کے ساتھ کھینچنے والیوں کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

سختی اور آسانی سے جان نکالنے کا ذکر۔ (ف 1) سورة نازعات مکیہ ہے اس میں دورکوع چھیالیس آیتیں ایک سوستانوے کلمے، سات سوترپین حروف ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

سورة النزعت 2: مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی جس مسئلہ میں زیادہ اہمیت کے ساتھ بحث کی گئی ہے ، وہ مسئلہ حشرونشر کا ہے ۔ ان سواہید سے جن کو قسموں کی شکل میں پیش کیا ہے ، یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ بعثت وحشر کے نظریہ میں کوئی عقلی استحالہ نہیں ہے ۔ وجوہ تاویل میں اختلاف ہے ۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ان سے مراد فرشتے ہیں اور ان کے مقنوع اوصاف وفرائض کی توضیح ہے ۔ النزعت سے تعبیر ہوں گے وہ فرشتے جو کفار کی روح کو ان کی بداعمالیوں کے سبب سے بدن کے گوشے گوشے اور بال سے بتکلیف کھینچ کر لاتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے ان (فرشتوں کے رب) کی جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں 1۔ (النزعت) اسم فاعل جمع مئونث النازعۃ واحد نزع مصدر باب ضرب کھینچنے والیاں ، کھینچ کر نکالنے والیاں۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اس آیت میں ملائکہ مراد ہیں جو انتہائی طور پر کافروں کی جانیں ان کے بدنوں سے اس طرح کھینچتے ہیں کہ جس طرح کمان کھینچنے والا آخری حد تک تانت کو کھینچتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود نے فرمایا کہ موت کا فرشتہ ہر بال اور ناخن کی نوک کے اندر سے جان کو اکھیڑتا ہے پھر چھوڑ دیتا ہے کافروں کے ساتھ اس کا یہ عمل یونہی جاری رہتا ہے۔ مقاتل نے کہا فرشتہ ، موت اور اس کے کارندے کافروں کی روحوں کو اس طرح کھینچتے ہیں جیسے شاندار انکڑا دھنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَالنَّازِعَاتِ غَرْ‌قًا (I swear by those [ angels ] who pull out [ the souls of the infidels ] vigorously ...79:1). The word naziat is derived from naz' and it means 'to draw vigorously'. The word gharqan is its corroborative because the word gharq is used here in the sense of ighraq and means 'to exert oneself much or to the utmost extent in the thing'. The Arabic idiom has it اغرق النّازع فی القوس 'He drew the bow with great vigour'. The Surah begins with an oath by certain characteristics of the angels to affirm that the Resurrection is a certainty. The subject of the oath,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

1 Here, the object for which an oath has been sworn by beings having five qualities has not been mentioned; but the theme that follows by itself leads to the conclusion that the oath has been sworn to affirm that the Resurrection is a certainty, which must come to pass, when all dead men shall be resurrected. Nor is there any mention as to what are the beings possessed of the qualities. However, a large number of the Companions and their immediate successors and most of the commentators have expressed the opinion that they are the angels. Hadrat `Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin…

Read the full tafseer →