An-Naazi'aat 79:2

An-Naazi'aat · from ayah 2

79:2

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا ۟ۙوَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] those who remove with ease

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:2

اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نرمی سے بند کھولیں)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو مادہ کے اندر سے کیمیائی جوڑوں کو نہایت نرمی اور آرام سے توڑ دیتی ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو بند کھولنے والے ہیں ! آسانی سے کھولنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کی جو بند بند کھولنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، اور شاہد ہیں آہستہ چلنے والی ہوائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کی جو بند کھول دیتے ہیں آسانی سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بندآسانی سے کھول دینے والوں کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان (فرشتوں) کی قسم جو گرہیں کھولتے ہیں آسانی سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and by those (angels) who untie the knot (of the souls of the believers) smoothly,

— Muhammad Taqi Usmani

and by those (angels) who untie the knot (of the souls of the believers) smoothly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By those who free briskly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [by] those who remove with ease

— Saheeh International

by the angels who gently release the souls of the believers,

— Muhammad Sarwar

And by those who gently draw out the souls of the blessed,

— Muhammad Habib Shakir

By the angels who release with gentle release.

— Abdul Majid Daryabadi

By those who gently draw out (the souls of the blessed);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–5

سورة النّٰزِعٰت 1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسروق، سعید بن حبیر، ابو صالح، ابوالضحیٰ اور سدی ؓ کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری صفت ہے وّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا، نشطات نشط سے متعلق ہے جس کے معنے بندھن کھول دینے کے ہیں۔ جس چیز میں پانی یا ہوا وغیرہ بھری ہوں اس کا بندھن کھول دینے سے وہ پانی وغیرہ آسانی کیساتھ نکل جاتا ہے۔ اس میں مومن کی روح نکلنے کو اس سے تشبیہ دے کر بتلایا ہے کہ جو فرشتے مومن کی قبض روح پر مقرر ہیں وہ آسانی سے اس کو قبض کرتے ہیں شدت نہیں کرتے، یہاں بھی آسانی روحانی مراد ہے جسمانی نہیں اس لئے کسی مسلمان بلکہ مرد صالح کو بوقت موت نزع روح میں دیر لگنے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس پر سختی ہو رہی ہے اگرچہ جسمانی طور پر یہ سختی دیکھی جاتی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کافر کو نزع روح کے وقت ہی سے برزخ کا عذاب سامنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’نَاشِطَاتٌ‘ سے مراد: ’نَاشِطَاتٌ‘ ’نشط‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی سے کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی رسی کی گرہ یا کسی جانور کے بندھن کو چرنے چگنے کے لیے چھوڑ دینے کے معنی میں بھی۔ یہاں قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ نرم رو اس آہستہ خرام ہواؤں کے لیے آیا ہے جس طرح سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے اس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمہ کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اس کا ذکر مستقلاً ہوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 نَشْط کے معنی گرہ کھول دینا، یعنی مومنوں کی جان فرشتے بہ سہولت سے نکالتے ہیں جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جو فرشتے مومن کے بدن سے جان کی گرہ کھول دیں، پھر وہ اپنی خوشی سے عالم پاک کی طرف دوڑے، جیسے کسی کے بند کھول دیے جائیں تو آزاد ہو کر بھاگتا ہے۔ مگر یاد رہے یہ ذکر روح کا ہے بدن کا نہیں نیک خوشی سے عالم قدس کی طرف دوڑتا ہے، بد بھاگتا ہے، پھر گھسیٹا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ } ”اور ان فرشتوں کی قسم جو گرہیں کھولتے ہیں آسانی سے۔“ یہ بھی انسان کی جان قبض ہونے کی ہی ایک کیفیت کا ذکر ہے۔ حضور ﷺ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ جب فرشتہ بندئہ مومن کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مشک کے بند منہ سے پانی کا ایک قطرہ ٹپک گیا ہے اور جب وہ کسی کافر کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے سیخ پر سے کباب کھینچا جا رہا ہے اَعاَذنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ ۔ بہرحال یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں کیفیات کا تعلق انسان کی روح سے ہے ‘ اس کے ظاہری جسم سے نہیں۔ جسمانی طور پر تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندوں پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 نشط کا لغوی مفہوم :۔ نشط لغت اضداد سے ہے نشط الحبل بمعنی رسی کو گرہ لگائی۔ اور نَشَطَ الْعُقْدَۃُ بمعنی گرہ کو مضبوط کیا اور النَّشُوْطُ بمعنی آسانی سے کھل جانے والی گرہ۔ گویا نشط کا معنی گرہ لگانا بھی ہے اور گرہ کھولنا بھی۔ یعنی اللہ نے جب انسان کو بنایا یا پیدا کیا تو ایک ایک جوڑ اور بند کو مضبوط کیا تھا۔ موت کے وقت فرشتے انہیں جوڑوں کے بند کھول کر انہیں ڈھیلا کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ مراد دونوں لفظوں سے فرشتے ہیں، جو کافروں کی جان انتہائی سختی کے ساتھ ان کے پور پور میں گھس کر، اور رگ رگ میں ڈوب کر نکالتے ہیں۔ اور مومنوں کی اس آسمانی کے ساتھ کہ گویا بند کھول دیا ہے۔ قسم کی حقیقت کے لئے ملاحظہ ہو، پ 14، سورة الحجر کا ضمیمہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

والناشطات نشطا، نشط گرہ کھولنے کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس طرح گرہ کھولنے کے بعد چیز آسانی سے نکل جاتی ہے، اسی طرح مومن کی روح بھی فرشتے آسانی سے نکالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والنشطت نشطا الناشطات نشطًا سے مراد ہیں وہ ملائکہ جو اہل ایمان کی جانیں آہستگی کے ساتھ نکالتے ہیں۔ یہ لفظ نشط الدلو۔ ڈول کو آسانی کے ساتھ بغیر تکلیف کے نکال لیا ‘ کے محاورہ سے ماخوذ ہے یا نشط الحبل سے ماخوذ ہے یعنی رسّی کو اتنا ڈھیلا چھوڑ دیا کہ وہ کھل گئی۔ درحقیقت مؤمن دنیوی مصائب میں گویا بندھا ہوا قیدی ہوتا ہے ملائکہ اس بندش سے اس کو رہا کرتے اور آسانی سے اس کی گرہ کھول دیتے ہیں ‘ جیسے اونٹ کا زانو بند کھول دیا جاتا ہے (اور اونٹ آزاد ہوجاتا ہے) حدیث میں مؤمنوں کی روح کے متعلق آتا ہے کہ گویا ان کا زانوبند کھول دیا گیا اور ان کو رہا کردیا گیا۔ حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

2(والنزعت غرقاً…:”النزعت“ اور ”الشطت“ سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وان العبد المومن اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحیء ملک الموت ؑ حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الطیبہ ! اخرجی الی مغفرۃ من اللہ و رضوان قال فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من فی السفاء …و ان العبد الکافر اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحییٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والنشطت نشطا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے نفس کو نکالتے ہیں جس طرح اونٹ کے اگلے پاؤں سے ڈھنگا کھولا جاتا ہے، فراء نے یہ قول بیان کیا پھر کہا، عربوں سے جو کچھ میں نے سنا وہ یہ کہتے ہیں انشطت کماانشطت من عقال، یعنی کھولنے کے لیے مجہول کا فعل استعمال کیا جاتا ہے باندھنے کے لیے مجرد کا فعل استعمال کیا جاتا ہے باندھنے والے کو ناشط کہتے ہیں جب تواونٹ کے بازو میں رسی باندھے گا تو کہے گا نشطتہ اور وناشط ہوگا اور جب تو اس رسی کو کھولے گا تو اس وقت کہے گا، انشطتہ، انت منشط۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس سے مراد موت کے وقت مومنوں کے نفوس ہیں وہ تیزی سے نکلتے ہیں اس کی وجہ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں۔ یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحوں کو کھینچتے ہیں آیت والنشطت نشطا۔ اور بند کھولنے والوں کی یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحون کو ناخنوں اور جلد کے درمیان سے نکالتے ہیں یہاں تک کہ اس کو نکال لیتے ہیں آیت والسبحت سبحا۔ اور تیزی سے تیرنے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے جو ایمان والوں کی روحوں کو لے کر آسمان اور زمین کے درمیان تیرتے ہیں آیت فالسبقت سبقا پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے ہیں کہ ایمان والوں کی روحوں کو لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاتے ہیں آیت فالمدبرات امرا۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّالنّٰشِطٰتِ : اور بند کھولنے والیوں کی ][ نَشْطًا : جیسے کھولنے کا حق ہے ] ن ش ط (ض۔ ن) نَشْطاً گرہ کھولنا۔ گرہ لگانا۔ بند کھولنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔ نَاشِطَۃٌ اسم الفاعل ہے۔ بند کھولنے والی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

ان آیات میں وقوع قیامت اور وقوع کے بعد والے احوال کا تذکرہ فرمایا ہے پہلے فرشتوں کی قسم کھائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ہلا دینے والی چیز ضرور واقع ہوگی (اس سے پہلی بار صور پھونکنا مراد ہے) ۔ جن فرشتوں کی قسم کھائی ہے ان میں پہلے ﴿ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ001﴾ فرمایا یعنی قسم ہے ان فرشتوں کی جو سختی سے ساتھ روح کھینچنے والے ہیں اس میں لفظ غرقًا مصدر ہے جو اغراقًا کے معنی میں ہے یعنی جسم کے ہر ہر حصہ سے فرشتے روح کو نکال لیتے ہیں اور اس میں مرنے والے کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، پھر فرمایا ﴿ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ002﴾ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو بند کھول دیتے ہیں یعنی سہولت کے ساتھ روح نکالتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” وَالنّٰزِعَاتِ غَرْقًا “۔ یہ شواہد ہیں اور اخروی ثواب و عقاب کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں فرشتے قبض روح کے وقت مومنوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اور کافروں کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں ہوگا۔ ” غرقا “ النازعات کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ اور اس کے معنی ہیں سختی اور شدت کے ساتھ کھینچنا۔ یقال اغرق النازع فی القوس ای استوفی مدھا بقوۃ و شدۃ (مظہری) ۔ اغراق، سخت کشیدن کمان (صراح) ۔ اس سے کافروں کی روحیں قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں جو شدت کے ساتھ ان کی روحیں کھینچتے ہیں۔ ” نشط “ کے معنی ہیں آسانی اور نرمی سے نکالنا جس طرح ڈول آسانی کے ساتھ کنوئیں سے نکال لیا جاتا ہے اس سے مومنوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۝ 2 ۙ نشط قال اللہ تعالی: وَالنَّاشِطاتِ نَشْطاً [ النازعات/ 2] قيل : أراد بها النّجوم الخارجات من الشَّرْق إلى الغَرْب بسَيْرِ الفَلَك أو السّائِرَاتِ من المغرب إلى المشرق بسَيْرِ أنفسها . من قولهم : ثور نَاشِطٌ: خارجٌ من أرض إلى أرض، وقیل : الملائكة التي تَنْشِطُ أرواحَ لنَّاسِ ، أي : تَنْزِعُ. وقیل : الملائكةُ التي تَعْقِدُ الأمورَ. من قولهم : نَشَطْتُ العُقْدَةَ ، وتَخْصِيصُ النَّشْطِ ، وهو العَقْدُ الذي يَسْهُلُ حَلُّه تنبيهاً علی سهولةِ الأَمْر عليهم، وبئر أَنْشَاطٌ: قریبةُ القَعْرِ يخرُجُ دَلْوُهَا بجَذْبةٍ واحدةٍ ، والنَّشِيطَةُ : ما يَنْشَطُ الرئيسُ لِأَخْذِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وللقسم جارۃ النازعات مجرور مقسم بہا و الناشطات والسابحات عطف علیہ بالوا و فالسابقات فالمد برات عطف بالفاء لکونھا مسببتہ عن التی قبلھا کانہ قیل واللاتی سبجن فسبقن کما تقول قام فذھب فضرب وانتصاب۔ غرقا علی انہ مصدر محذوف الزوائد ای اغراقا او علی الحال ای ذوات اغراق یقال اغرق فی الشیء یغرق فیہ اذا اوغل فیہ وبلغ غایۃً وکذانشطا و سبحاوسبقا مصدر والنصب علی انھا مفعول مطلق وامرا مفعول بہ وقیل حال ای یدبرون ماموراتٍ و جواب القسم محذوف ھو عند الفراء لتبعثن وقال الاخفش والزجاج لنفخن فی الصور نفختین وقال الکسائی الجواب المحذوف ھوان القیامۃ واقعۃ والدلیل علی جمیع الاقوال مابعدھامن الآیات۔ وقیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالـنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًا۔ (النازعات : 1 تا 5) (قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں۔ پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم ان آیات میں پانچ اوصاف رکھنے والی چیزوں یا ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اوصاف کا موصوف کون ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا۔ بعض اہل علم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–5

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ ( اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو بندکھول دیتے ہیں) ۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ( اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں) روح کو جسم کے بعید اطراف سے کھینچیں گے : قراءت : یہاں تک کوئی وقف نہیں اور یہاں وقف لازم ہے۔ کیونکہ اگر ملائیں گے تو یومؔ المدبرات کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ اس دن تو ملائکہ کے ذمہ جو کام لگے وہ ختم ہوچکے ہونگے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ان مختلف گروہوں کی قسم اٹھائی ہے جو اجساد سے ارواح کو ڈوب کر یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” والنازعات غرقا “ یعنی فرشتے کفار کی روحوں کو ان کے جسموں سے کھینچیں گے۔ جیسا کہ کھینچنے والا کمان کے دھاگے کو کھینچتا ہے پھر اس کو بہت زیادہ کھینچتا ہے اور غرق اسم ہے اغراق مصدر کے قائم مقام کیا گیا ہے یعنی ” والنازعات اغراقا “ اور اغراق سے مراد کھینچنے میں مبالغہ کرنا ہے۔ مومنین اور کافروں کی نزع کے متعلق روایات ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس کو ملک الموت ہر بال کے نیچے سے کھینچے گا اور ناخنوں سے اور پائوں کے نیچے اور اس کو اس کے جسم میں جکڑ دے گا جب بھی وہ نکلنے کے قریب ہوگی اس کو جسم میں واپس لوٹائے گا کھینچنے کے بعد۔ پس یہ اس کا معاملہ کفار کے ساتھ ہوگا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ملک الموت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا) اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔ اس سے بھی فرشتے مراد ہیں جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کے معنی یہ ہیں کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(2) " النشطت " کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے ان کی جو بند کھولتے ہیں آسانی سے "۔ یعنی اہل ایمان کی جان نکالتے وقت جس سے ان کی جان نہایت آسانی سے نکل جاتی ہے۔ جیسے کہ کسی بند چیز کی گرہ کھول دی جائے اور وہ بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ اس کے بندھن سے نکل جائے (روح، خازن وغیرہ) سو فرشتے اہل ایمان کی جان بھی اسی آسانی سے نکالتے ہیں، جبکہ دوسرے بعض حضرات اہل علم کے نزدیک اس کا مصداق بھی ہوائیں ہی ہیں۔ یعنی وہ سبک خرام اور نرم رو ہوائیں جو آہستہ سے چلتی ہیں۔ جن کے لئے دوسرے مقام پر " فالجریت یسرا " کے الفاظ آئے ہیں۔ سو ہواؤں کی تندی و تیزی اور ان کی نرم روی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فرشتوں کی قسم تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے مگر جس کی قسم کھارہا ہے ان کی صفات سے صحابہ مفسرین اور تابعین کی بہت بڑی تعداد نے فرشتے ہی مراد لیے ہیں۔ جیسا کہ روایت ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے ' ڈوب کر کھینچنے اور آسانی سے کھول دینے والے سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ اسی طرح احکامات الٰہی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا پیغام رسولوں تک پہنچانا ' کائنات کے مختلف امور کو انجام دینا ''۔ فرشتوں کا وجود ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے کیونکہ انسان کی طرح یہ بھی مخلوق خدا ہیں۔ جو غیبی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر ایمان لانا ہمارے اوپر یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر نکالتے ہیں۔ وہ اپنی خوشی سے عالم پاک کی طرف دوڑتی ہے۔ بدن کی تکلیف الگ ہے اس میں کافر اور مسلمان برابر ہیں۔ (ازموضح تبصرف)13 یا ” جو روحوں کو نکالنے کے لئے بدنوں میں تیرتے ہیں۔ یا جو اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر جلدی سے زمین کی طرف آتے ہیں، بعض مفسرین نے سابحات، اسے مراد گھوڑے لئے ہیں جو لڑائی میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں گویا سمندر میں تیر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:2) والنشطت نشطا واؤ عاطفہ ہے۔ واؤ تسمیہ مقدرہ ہے النشطت مقسم بہا ہے۔ نشطا مفعول مطلق تاکید کے لئے ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النشطت اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ الناشطۃ واحد۔ بند کھولنے والیاں یہ لفظ نشط الدلو۔ ڈول کو آسانی کے ساتھ بغیر تکلیف کے نکال لیا۔ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یا نشط الحبل سے ماخوذ ہے یعنی رسی کو اتنا ڈھیلا چھوڑ دیا کہ وہ کھل گئی۔ اور قسم ہے آسانی کے ساتھ گرہ کھولنے والیوں کی۔ (آسانی سے روح قبض کرنے والیوں کی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

سختی اور آسانی سے جان نکالنے کا ذکر۔ (ف 1) سورة نازعات مکیہ ہے اس میں دورکوع چھیالیس آیتیں ایک سوستانوے کلمے، سات سوترپین حروف ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

ف 1: نشطت سے وہ فرشتے جو مسلمانوں کی جان کو بسہولت قبض کرلیتے ہیں ۔ گویا کہ زندگی کی گرہ کو اپنے ناخن تدبیر سے عمدگی کے ساتھ کھول دیتے ہیں ۔ الشجحت سے وہ ملائکہ جو فضا میں طاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیرتے پھرتے ہیں ۔ اور جہاں کوئی حکم صادر ہوتا ہے تعمیل کے لئے لپکتے ہوئے جاتے ہیں ۔ فالسبقت سے وہ جو مرتبہ ومقام میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں اور فالمدبرات امر سے وہ جو نظام عالم کی دیکھ بھال پر مقرر ہیں اور جن کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ ساری کائنات کی ضروریات کی تکمیل کے لئے کوشاں رہیں ۔ اس تعبیر وتاویل کی صورت میں غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ موت وحیات اور اس کی کیفیتوں پر غور کرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ان کے رب کی قسم جو آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں کہ کوئی شور نہیں ہوتا ۔ 2 (والنشطت) اسم اعل جمع مئونث الناشطۃ واحد ، بند کھولنے والا ، (ناشطات) کی مراد مختلف فیہ ہے۔ فراء نے کہا ہے کہ آسانی سے مومنوں کی روحوں کو قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں جس طرح اونٹ کے زانو بندگی گرہ کھول دی جاتی ہے اور اس کو انشطت العقال کے نام سے موسوم کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ کے زانو بند کو کھول دیا اور نشطتہ ، میں نے اس کو باندھ دیا جس طرح اوپر (النازعات) کے مفہوم میں آپ مختلف معنی پڑھ چکے ہیں بالکل اسی طرح اس لفظ کے معنوں کی یہی پوزیشن ہے۔ اصل کا اصل مادہ ن شرط ہے لیکن یہ مادہ قرآن کریم میں صرف اس جگہ ایک ہی مقام پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second quality of the angels: وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا (and by those [ angels ] who untie the knot [ of the souls of the believers ] smoothly, [ 2] ' The word nashitat is derived from nasht and it means 'to untie the knot'. This signifies 'to untie the knot of something which contains water or air, so that it may be released easily'. This is metaphor for drawing out the souls of the believers gently, unlike the souls of the infidels which are plucked out harshly. In this case too, the adverb 'smoothly' refers to the spiritual smoothness, and not to the physical experience. Sometimes, it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

1 Here, the object for which an oath has been sworn by beings having five qualities has not been mentioned; but the theme that follows by itself leads to the conclusion that the oath has been sworn to affirm that the Resurrection is a certainty, which must come to pass, when all dead men shall be resurrected. Nor is there any mention as to what are the beings possessed of the qualities. However, a large number of the Companions and their immediate successors and most of the commentators have expressed the opinion that they are the angels. Hadrat `Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin…

Read the full tafseer →