وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ۟ۙوَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا
اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] those who glide [as if] swimming
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ۟ۙوَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا
اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] those who glide [as if] swimming
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!
پھر (فضا میں) تیرے ہوئے جاتے ہیں۔
اور آسانی سے پیریں
اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو آسمانی خلا و فضا میں بلا روک ٹوک چلتی پھرتی ہیں)،
اور جو تیرنے والے ہیں ! تیزی سے تیرنا۔
اور ان کی جو (کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
اور شاہد ہیں فضاؤں میں تیرنے والے بادل
اور ان کی جو چلتے ہیں تیرتے ہوئے
اور پیرتے ہوئے چلنے والوں کی
اور ان (فرشتوں) کی قسم جو تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔
اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں
and by those that speedily glide along (the cosmos),
and by those who float (in the atmosphere) swiftly,
and by those who float (in the atmosphere) swiftly,
And by the swimmers, swimming.
By the lone stars floating,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] those who glide [as if] swimming
by the angels who float (in the heavens by the will of God),
And by those who float in space,
By the angels who glide swimmingiy,
And by those who glide along (on errands of mercy),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة النّٰزِعٰت 1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسروق، سعید بن حبیر، ابو صالح، ابوالضحیٰ اور سدی ؓ کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ…
Read the full tafseer →تیسری صف فرشتوں کی وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ہے۔ سبح کے لغوی معنی تیرنے کے آتے ہیں، مراد اس جگہ تیزی سے چلنا ہے جیسے دریا میں کوئی آڑ پہاڑ نہیں ہوتا، تیرنے والا یا کشتی وغیرہ میں چلنے والا سیدھا اپنی منزل مقصود کی طرف جاتا ہے فرشتوں کی یہ صفت کہ تیز جانے والے ہیں یہ بھی ملائکہ موت سے متعلق ہے کہ انسان کی روح قبض کرنے کے بعد اس کو تیزی سے آسمان کی طرف لیجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →’سٰبِحٰتٌ‘ ’سَبْحٌ‘ سے ہے جس کے معنی تیرنے کے بھی آتے ہیں۔ قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ یہاں یہ بادلوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اول تو ہواؤں اور بادلوں کا تعلق ہے ہی کچھ لازم و ملزوم سی چیز لیکن ایک واضح قرینہ یہاں یہ ہے کہ اس کے بعد اس کی دو صفتیں جو مذکور ہوئی ہیں وہ ’ف‘ کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں جو عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صفتیں ’سٰبِحٰتٌ‘ ہی کی ہیں اور ان میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔ اس قاعدے کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔
Read the full tafseer →3۔ 1 سَبْح کے معنی تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
6 یعنی جو فرشتے روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بےروک ٹوک پانی پر تیر رہے ہیں۔ پھر ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے تیزی کے ساتھ دوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 3{ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ } ”اور ان فرشتوں کی قسم جو تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔“ فرشتے تیرتے ہوئے ان ارواح کو لے کر کہاں جاتے ہیں اور انہیں کہاں رکھا جاتا ہے ؟ اس بارے میں وضاحت آگے سورة المُطفِّفین میں آئے گی۔
Read the full tafseer →3 سَبَحَ بمعنی کسی چیز کا پانی یا ہوا میں تیرنا اور تیز رفتاری سے گزر جانا۔ اور سباّح بمعنی ماہر تیراک۔ یعنی وہ فرشتہ جو روح کو نکال کر زمین سے آسمان کی طرف اس قدر سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بےروک ٹوک ہوا میں تیرتے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ ان تینوں لفظوں میں سے بھی اشارہ فرشتوں ہی کی جانب ہے۔ جو روحوں کو لیکر آسمان کی طرف تیز گویا ہوا میں پیرتے جاتے ہیں، اور ہر حکم کی تعمیل کے لئے تیزی سے دوڑتے رہتے ہیں۔ ، گویا کہ ایک دوسرے کے آگے نکل جائیں گے اور ثواب و عقاب ہر امر انتظامی وتکوینی کی تدبیر کرتے رہتے ہیں، ملائکہ کا یہ سارا نظم ونظام بجائے خود اسکا گواہ اور اس کی دلیل ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی۔
Read the full tafseer →والسابحات سبحا، سبح کے لغوی معنی تیرنے کے ہیں، یہاں تیزی سے چلنا مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ روح قبض کرنے کے بعد فرشتے روح کو لے کر تیزی سے بلا روک ٹوک آسمانوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →والسبحت سبحا . سیر کرنے والوں کی یا تیرنے والوں کی قسم ! مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو تیزی کے ساتھ اعلیٰ گھوڑے کی رفتار کی طرح اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
والسبحت سبحاً …:”سبح یسبح سبحاً“ (ف) تیرنا۔ ”السبحت“ تیرنے والے ”سبحاً“ مصدر تاکید کیلئے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ”خوب تیزی سے“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکام الٰہی کی تعمیل کے لئے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →والسبحت سبحا۔ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی روحوں کے ساتھ تیرتے ہیں۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرتے ہیں جس طرح ایک آدمی پانی میں تیرتا ہے کبھی وہ نیچے چلے آتے ہیں اور کبھی وہ اوپر اٹھ آتے ہیں وہ نرمی سے اسے نکالتے ہیں پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ آرام کرسکیں۔ مجاہد اور ابوصالح نے کہا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے آسمان سے جلدی آتے ہیں جس طرح تیز رفتار گھوڑے کو سابح کہتے ہیں جب وہ تیز دوڑے۔ مجاہد سے مروی ہے، فرشتے اترنے اور اوپرچڑھنے میں تیزی کرتے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ السابحات سے مراد موت ہے جو بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
15۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسبحت سبحا سے سارے ستارے مراد ہیں۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ابن الکوا (رح) نے ان سے آیت فالمدبرات امرا کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ فرشتے ہیں جو رحمن کے ذکر اور اس کے امر کی تدبیر کرتے ہیں دنیا کی تدبیر چار فرشتوں کے ذمہ ہے 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحم بن سابط (رح) سے روای کیا کہ دنیا کے کام کی تبدیر چار فرشتے کرتے، جبیر میکائیل ملک الموت اور اسرائیل فیل (علیہ السلام) ۔ جبریل مقرر ہیں ہواؤں اور لشکروں پر اور میکائیل مقرر ہیں بارش اور سبزہ اگانے پر اور ملک الموت…
Read the full tafseer →[وَّالسّٰبِحٰتِ : اور تیرنے والیوں کی ][ سَبْحًا : جیسے تیرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
﴿وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ003 ﴾ یہ ” سبح یسبح “ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو تیرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ فرشتے مومنین کی روحوں کو آسمان کی طرف بڑی سرعت و سہولت کے ساتھ لے جاتے ہیں گویا تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ ﴿فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ004﴾ پھر یہ فرشتے تیزی کے ساتھ دوڑنے والے ہیں، وہ جب روحوں کو لے کر اوپر پہنچتے ہیں تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ کا حکم جو ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرنے میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3:۔ ” وَالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا “ فضاء آسمانی میں تیرنے والے۔ سرعتِ سیر کو تیرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ” فَالسّٰبِقٰتِ “ اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے والے۔ ” فَالْمُدَبِّرَاتِ “ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تدبیریں سوچنے والے۔ التی تسیح فی مضیھا (ای تسرع فتسبق الی ما امروا بہ فتدبر امرا من امور العباد مما یصلحہم فی دینہم کما رسم لھم (مدارک) ۔ یہ قیامت کے حق ہونے پر قسمیں اور شواہد ہیں اور جواب قسم محذوف ہے۔ اقسم سبحانہ لہذہ الاشیاء التی ذکرھا علی ان القیامۃ حق (قرطبی ج 19 ص 188) ۔ و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری ج 10 ص 185) ۔ یا لتسلطن علیکم الملائکۃ یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…
Read the full tafseer →وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا 3 ۙ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ وللقسم جارۃ النازعات مجرور مقسم بہا و الناشطات والسابحات عطف علیہ بالوا و فالسابقات فالمد برات عطف بالفاء لکونھا مسببتہ عن التی قبلھا کانہ قیل واللاتی سبجن فسبقن کما تقول قام فذھب فضرب وانتصاب۔ غرقا علی انہ مصدر محذوف الزوائد ای اغراقا او علی الحال ای ذوات اغراق یقال اغرق فی الشیء یغرق فیہ اذا اوغل فیہ وبلغ غایۃً وکذانشطا و سبحاوسبقا مصدر والنصب علی انھا مفعول مطلق وامرا مفعول بہ وقیل حال ای یدبرون ماموراتٍ و جواب القسم محذوف ھو عند الفراء لتبعثن وقال الاخفش والزجاج لنفخن فی الصور نفختین وقال الکسائی الجواب المحذوف ھوان القیامۃ واقعۃ والدلیل علی جمیع الاقوال مابعدھامن الآیات۔ وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالـنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًا۔ (النازعات : 1 تا 5) (قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں۔ پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم ان آیات میں پانچ اوصاف رکھنے والی چیزوں یا ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اوصاف کا موصوف کون ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا۔ بعض اہل علم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ ( اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو بندکھول دیتے ہیں) ۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ( اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں) روح کو جسم کے بعید اطراف سے کھینچیں گے : قراءت : یہاں تک کوئی وقف نہیں اور یہاں وقف لازم ہے۔ کیونکہ اگر ملائیں گے تو یومؔ المدبرات کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ اس دن تو ملائکہ کے ذمہ جو کام لگے وہ ختم ہوچکے ہونگے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ان مختلف گروہوں کی قسم اٹھائی ہے جو اجساد سے ارواح کو ڈوب کر یعنی…
Read the full tafseer →2 ۔” والناشطات نشطا “ وہ فرشتے جو مومن کے جی کو نرمی سے نکالتے ہیں۔ یعنی نرمی سے اترتے ہیں پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔ جیسا کہ بیڑی اونٹ کے ہاتھ سے نکالی جاتی ہے یعنی نرمی سے اتاری جاتی ہے۔ فراء نے یہ قول نقل کیا ہے پھر فرمایا جو میں نے عرب سے سنا وہ یہ کہتے ہیں ” انشطت العقال “ جب تو اس کی گرہ کھولے اور ” نشطتہ “ جب تونے نرم گروہ سے اس کو باندھا ہوا اور حدیث میں ہے ” کانما انشط من عقال “ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مومن کا نفس ہے جو موت کے وقت نکلنے کے لئے چست ہوتا ہے اس کی وجہ سے جو وہ اعزاز دیکھتا ہے اس لئے کہ اس پر جنت پیش کی جاتی ہے موت سے پہلے۔ اور علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور…
Read the full tafseer →(وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا) یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم۔
Read the full tafseer →(3) " سبحت " کی قسم اور اس کا معنی و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے ان کی جو چلتے ہیں تیرتے ہوئے " یعنی اس قدر تیز چلتے ہیں کہ گویا کہ تیرتے جارہے ہیں جس طرح پانی میں کوئی بغیر کسی رکاوٹ کے تیرتا جاتا ہے، یا جیسے کشتی چلتی ہے، ایسے ہی یہ فرشتے بھی اپنے فرائض کی تعمیل و تکمیل کے لیے تیز چلتے ہیں۔ (محاسن، مدارک اور معارف وغیرہ) جبکہ دوسرا قول بعض حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ اس سے اس کی بعد والی صفات دونوں سے بادل مراد ہیں۔ جیسا کہ قرینے سے ظاہر ہورہا ہے کہ اول تو ہواؤں اور بادلوں کا باہمی تعلق کچھ لازم و ملزوم کا سا ہے۔ اور مزید یہ کہ یہاں پر اس کے بعد والی دو صفتوں کا عطف حرف " واؤ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فرشتوں کی قسم تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے مگر جس کی قسم کھارہا ہے ان کی صفات سے صحابہ مفسرین اور تابعین کی بہت بڑی تعداد نے فرشتے ہی مراد لیے ہیں۔ جیسا کہ روایت ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے ' ڈوب کر کھینچنے اور آسانی سے کھول دینے والے سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ اسی طرح احکامات الٰہی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا پیغام رسولوں تک پہنچانا ' کائنات کے مختلف امور کو انجام دینا ''۔ فرشتوں کا وجود ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے کیونکہ انسان کی طرح یہ بھی مخلوق خدا ہیں۔ جو غیبی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر ایمان لانا ہمارے اوپر یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کائنات کا نظام چلاتے ہیں۔ اس آیت میں ” مدتبرات “ سے فرشتے ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(79:3) والسبحت سبحا واؤ عاطفہ، (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) السبحت مقسم بہا۔ سبحا مفعول مطلق۔ سبح (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ تیرنے والیاں۔ اور قسم ہے تیرنے والیوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور صانی سے جان کھینچے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے اور ابوداؤد کی روایتوں میں جو النازعات اور الناشطات کی پوری تفسیر ہے ۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فرمانبردار لوگوں کی قبض روح کے وقت اچھی شکل کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے نیک روح اللہ کی رضامندی اور مغفرت کی ہم تجھ کو خبر دیتے ہیں جلدی سے جسم کو چھوڑ دے، یہ خوش خبری سن کر وہ نیک روح جسم کو چھوڑ کر اس طرح آسانی سے نکل جاتی ہے جس طرح مشک کا دہانہ کھول دینے سے مشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 1: نشطت سے وہ فرشتے جو مسلمانوں کی جان کو بسہولت قبض کرلیتے ہیں ۔ گویا کہ زندگی کی گرہ کو اپنے ناخن تدبیر سے عمدگی کے ساتھ کھول دیتے ہیں ۔ الشجحت سے وہ ملائکہ جو فضا میں طاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیرتے پھرتے ہیں ۔ اور جہاں کوئی حکم صادر ہوتا ہے تعمیل کے لئے لپکتے ہوئے جاتے ہیں ۔ فالسبقت سے وہ جو مرتبہ ومقام میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں اور فالمدبرات امر سے وہ جو نظام عالم کی دیکھ بھال پر مقرر ہیں اور جن کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ ساری کائنات کی ضروریات کی تکمیل کے لئے کوشاں رہیں ۔ اس تعبیر وتاویل کی صورت میں غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ موت وحیات اور اس کی کیفیتوں پر غور کرو…
Read the full tafseer →(3) اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو تیرتے پھرتے ہیں ہوا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔
Read the full tafseer →اور ان فرشتوں کے رب کی قسم جو فضا میں تیزی کے ساتھ تیرتے پھرتے ہیں ۔ 3 (السبحت) کا اصل مادہ س ب ح ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کیم میں عام بیان ہوئے ہیں۔ (سابحات) کے معنی ہیں تیرنے والیاں۔ سبح سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مئونث سابحۃ کی جمع ہے اس کا استعمال تیز رفتار گھوڑے پر بھی ہوتا ہے اور بادلوں کو فضا میں تیرنے یا تیرا نے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوا ہے ۔ جیسے (1) آسمان میں ستاروں کی گردش کے لئے بولا گیا ہے (وکل فی فلک یسبحون) (2) گھوڑے کے دوڑنے کے لئے استعمال ہوا ہے (والسابحات سبحا) اور قسم ہے ان مجاہدین کی جماعتوں کے رب کی جو اللہ کی رضا کے لئے تیز رفتار گھوڑوں کو دوڑاتے ہیں۔ (3) کام میں…
Read the full tafseer →The third quality of the angels: وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا (and by those who float [ in the atmosphere ] swiftly... 79:3). The word sabh literally means to 'swim' or 'float'. Here it signifies 'to glide along swiftly as in the sea where there is no mountain barrier'. The one who swims fast and goes far in swimming or a boatman who moves directly towards his final destination. The 'angels who float swiftly' refer to the quality of the angels of death who extract human souls and take them quickly towards the sky.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 Here, the object for which an oath has been sworn by beings having five qualities has not been mentioned; but the theme that follows by itself leads to the conclusion that the oath has been sworn to affirm that the Resurrection is a certainty, which must come to pass, when all dead men shall be resurrected. Nor is there any mention as to what are the beings possessed of the qualities. However, a large number of the Companions and their immediate successors and most of the commentators have expressed the opinion that they are the angels. Hadrat `Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin…
Read the full tafseer →