Explained with ayahs 37–40
روح الامین ؑ
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا، جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی کون ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة النَّبَا 26
بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(آیت) يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل امین ہیں، ان کا ذکر عام ملائکہ سے پہلے ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے ہے اور بعض روایات مرفوعہ میں ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان لشکر ہے جو فرشتے نہیں، ان کے سر اور ہاتھ پاؤں ہیں۔ اس تفسیر پر گویا دو صفیں ہوں گی ایک صف روح کی دوسری فرشتوں کی۔
Read the full tafseer →یہ براء ت ذمہ کا اعلان ہے کہ لوگوں کو اس دن کی آمد سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ سو یہ کام کر دیا گیا۔ اب لوگوں کی ذمہ داری اپنی ہے۔ فرمایا کہ جس دن کی آمد سے یہ ڈرایا جا رہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے۔ وہ آ کے رہے گا۔ نہ کوئی اس کو ٹال سکتا، نہ کوئی اس دن کسی کے کام آنے والا بنے گا تو جو اپنی خیر چاہے وہ اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے۔
’فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہِ مَآبًا‘ سے ایک بات تو یہ نکلی کہ اس معاملہ میں اللہ اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دیا جائے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کا خوف اتار بھی دیا جائے۔
دوسری بات یہ نکلی کہ اس دن پناہ صرف…
Read the full tafseer →39۔ 1 اس آنے والے دن کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان وتقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانا مل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
6: بعض روایتوں میں ہے کہ جن جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم کیا تھا، میدان حشر میں ان کو بھی جمع کرکے ان سے ان کے ظلم کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ اگر کسی سینگ والی بکری نے کسی بےسینگ والی بکری کو سینگ مارا تھا تو حشر میں اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اور جب یہ بدلہ پورا ہوجائے گا تو ان جانوروں کو مٹی میں تبدیل کردیا جائے گا، اس وقت وہ کافر لوگ جنہیں دوزخ کا انجام نظر آرہا ہوگا، وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہم بھی مٹی ہوجاتے (مسلم و ترمذی)۔
Read the full tafseer →یہ ایک شدید جھٹکا ہے ، ان لوگوں کو نہایت شدت سے جھنجھوڑا جاتا ہے جو اس حق دن کے بارے میں شک میں مبتلا تھے اور تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے تھے۔
ذلک الیوم الحق (39:78) ” وہ دن برحق ہے “۔ لہٰذا اس کے بارے میں شکی سوالات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگو ! ابھی فرصت کے اوقات موجود ہیں ، مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔
فمن شآء اتخذالی ربہ مابا (39:78) ” جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے “۔ قبل اس کے کہ جہنم گھات لگا کر بیٹھے اور تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔
یہ سخت ڈراوا ہے ۔ اگر کوئی خواب خرگوش میں بھی ہو ، وہ بھی بیدار ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →1 یعنی وہ دن آنا تو ضروری ہے۔ اب جو کوئی اپنی بہتری چاہے اس وقت کی تیاری کر رکھے۔
Read the full tafseer →آیت 39{ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ } ”یہ دن حق ہے !“
یعنی قیامت کا دن ایک اٹل حقیقت ہے ‘ جیسا کہ سورة الواقعہ میں فرمایا گیا : { اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ - لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ۔ } ”جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔ اور جان لو اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے“۔ سورة الحاقہ میں قیامت کے اٹل ہونے کا ذکر اس طرح آیا ہے : { اَلْحَآقَّۃُ - مَا الْحَآقَّۃُ - وَمَآ اَدْرٰٹکَ مَا الْحَآقَّۃُ۔ } ”وہ حق ہوجانے والی۔ کیا ہے وہ حق ہوجانے والی ؟ اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے ؟“
{ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا۔ } ”تو جو چاہے اپنے رب کی طرف اپنا ٹھکانہ بنا…
Read the full tafseer →26 یعنی مرنے کے بعد اور قیامت کے دن جو جو حالات پیش آنے والے ہیں وہ کھول کر بیان کیے جارہے ہیں ان کی رو سے دو راہیں انسان کے سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان جوابدہی کے تصور سے محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی اختیار کرے۔ دوسری یہ کہ وہ آنے والے حالات سے آنکھیں بند کرکے دنیا کی زندگی ہی پر مست و شیدا رہے۔ اب انسان کو اختیار ہے کہ جونسی راہ وہ پسند کرتا ہے اختیار کرے۔
Read the full tafseer →16۔ یعنی جو چاہے ایمان تصدیق اختیار کرکے اور اچھے عمل کر کرکے اچھے ٹھکانے کیلئے اپنا استحقاق پیدا کرلے۔ (آیت) ” اتخذا “۔ اس سے صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ جو کوئی اس راہ کو ڈھونڈے گا اسے وہ مل کررہے گی ، (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اسی یوم قیامت کی جانب ہے۔ اور اشارہ بعید مشار الیہ کی عظمت کے اظہار کیلئے ہے۔ للایذان لعلو درجتہ وبعد منزلتہ فی الھول والفخامۃ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
یوم یقوم الروح و الملائکۃ صفا، روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل (علیہ السلام) ہیں چونکہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا ملائکہ میں ایک خاص امتیازی مقام ہے اس وجہ سے عام ملائکہ سے الگ ان کا ذکر فرمایا، اور بعض روایات میں ہے کہ روح، اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان مخصوص لشکر ہے جو فرشتے نہیں ہیں، اس تفسیر کی رو سے دو صفیں ہوں گی ایک روح کی اور دوسری فرشتوں کی۔ (معارف ملخصًا)
لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا، یہاں کلام نہ کرنے سے مراد شفاعت نہ کرنا ہے، شفاعت کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی، ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی…
Read the full tafseer →ذلک الیوم . یہ دن یعنی مذکورۂ بالا احوال والا دن۔
الحق . حق ہی ہے ‘ بلا ریب حقانیت اور صداقت پر یہ دن مقصور ہے (یعنی الحق خبر ہے اور خبر پر الف لام مفید
قصر ہوتا ہے ‘ پس مطلب یہ ہوگا کہ قیامت کا دن یقیناً حق ہی ہے) ۔
فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا . مآب ‘ جائے رجوع۔ اللہ کے قرب تک۔ پہنچانے والا راستہ یعنی جو چاہے
طاعات ‘ اتباع انبیاء اور مجذوب و سالک اہل ہدایت کی پیروی کر کے اللہ کے قرب کا راستہ اختیار کرے۔ فمن میں فاء سببی ہے کیونکہ اللہ تک پہنچانے والا راستہ اختیار کرنے کا سبب قیامت کا برحق ہونا ہے۔ الی ربہٖ ماٰبًا کے متعلق ہے یا حال ہے۔
Read the full tafseer →یہ دن جس کا اوپر ذکر ہوا یقینی دن ہے سو جس کا دل چاہے توحید اختیار کر کے اس کے ذریعے سے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے۔
Read the full tafseer →ذلک الیوم الحق…: یہ وہ دن ہے جو حق ہے، یعنی آکر رہے گا۔ تو جب اس دن کا آنا یقینی ہے تو آدمی کو چاہیے کہ اپنے مولا کو منہ دکھانے کے قابل بننے اور اس کے پاس ٹھکانا بنانے کے لئے ابھی تیاری کرلے، مرنے کے بعد اس کا موقع نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →ذالک الیوم الحق، فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا۔ حق کا معنی ہے جو واقع ہونا ہے مابا کا معنی مرجعا ہے یعنی جو چاہے عمل صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہاں لوٹنے والی جگہ بنالے۔ گویا جب وہ اچھا عمل کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹاتا ہے اور جب وہ براعمل کرتا ہے تو اسے اپنے میں سے شمار کرتا ہے رسول اللہ کا یہ فرمان یہی رہنمائی کرتا ہے، بھلائی سب کی سب تیرے قبضہ میں ہے اور شرتیری طرف لوٹنے والا نہیں، قتادہ نے کہا، مابا کا معنی راستہ ہے۔
Read the full tafseer →40۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت فمن شاء اتخذ الی ربہ ماٰبا۔ جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔ سے مراد ہے راستہ۔
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۚ: یہ ہوگا وہ برحق دن ][ فَمَنْ شَاۗءَ : تو (اب) جس کا جی چاہے ][ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ مَاٰبًا : وہ بنا لے اپنے رب کی طرف واپس ہونے کی ایک جگہ ]
Read the full tafseer →﴿ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ 1ۚ﴾ (یہ دن یقینی ہے) ﴿ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا 0039﴾ (سو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے) یعنی ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے اور موت تک اسی پر باقی رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔
بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →11:۔ ” یَوْمَ یَقُوْمُ “ اس دن جبریل (علیہ السلام) اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوں گے اور اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی۔ ” لَایَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰن “ اس میں شفاعت قہریہ کی نفی کی گئی ہے۔ ” لَا یَتَکَلَّمُوْنَ “ تمام خلائق سے کنایہ ہے۔ ” صَوَابًا “ حَقًّا، مراد کلمہ توحید ہے۔ ” مَنْ اَذِنَ لَهُ “ سے شافع مراد ہے۔ یعنی شفاعت وہی کرے گا جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے کا اذن دے گا اور جس نے دنیا میں کلمہ توحید کو مانا ہوگا لہذا کافروں اور مشرکوں کو شفاعت کا اذن نہ ملے گا۔ (قال صوابا) القول ھہنا کانہ کنایۃ عن الاعتقاد۔ وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(لقط روح کی تشریح )
روز قیامت کی مزید تشریح بیان کی گئی ہے ۔ یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا جس دن روح اور فرشتے قطار میں کھڑے ہوں گے ۔ قیامت کا دوسرا بگل بج جائے گا۔ انسان فوج در فوج آئیں گیں۔ ملائکہ صف درصف کھڑے ہوں گے اور روح بھی حاضر ہوگی ۔ روح کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ قرآن پاک کو بھی لفظ روح سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو امر کیا ۔ قیامت والے دن روح یعنی قرآن پاک سفارشی بن کر آئے گا ان لوگوں کے لیے جو دنیا میں اس کو مانتے تھے اور اسکی تلاوت کرتے تھے ۔ روح سے مراد جبرائیل امین (علیہ السلام) بھی ہیں ۔…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ 0 ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّہٖ مَاٰبًا 39
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب ¦ یوم منصوب بلا یملکون او ‘ بلایتکلمون صفا حال ای صافین او مصدر ای یعفون صفا والجملتہ مستانفۃ او حالیۃ الامن استثناء من قولہ لایتکلمون ای لایتکلم احد الا الماذون من الرحمن فلاستثناء متصل وقال معطوف علی قولہ اذن ذلک مبتداء الیوم الحق خبرہ الی ربہ ما با الی متعلقہ بماٰبا قدم علیہ اھتماما ورعایۃ للفواصل فمن شاء المفعول محذوف شرط اتخذ جو ابہ ‘ یوم ینظر یوم منصوب علی انہ بدل من عذابا او ظرف لمضمر ھو صفۃ لہ ای عذابا کائنا ‘ یوم ینظر المرء موصولۃ قدمت یداہ صلۃ والعائد محذوف والصلۃ والموصول المجموع منصوب محلا علی انہ مفعول ینظر والمرء فاعلہ ویقول معطوف علی ینظر۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ اس سے…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ ج فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ بًا۔ (النبا : 39)
(وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔ )
اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس قوم پر عذاب نہیں بھیجتا اور نہ قیامت کے روز ان سے بازپرس کرے گا جن پر اتمامِ حجت نہ ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے محض اپنے فضل و کرم سے یہ بات لے رکھی ہے کہ میں کسی کو بھی پکڑنے سے پہلے کسی نہ کسی ڈرانے والے کو اس قوم میں ضرور بھیجوں گا۔ وہ ان کے سامنے ضروریاتِ دین کو واضح کرے گا اور اس نظام حق کی ایک ایک بات کو کھولے گا جس پر عمل کرنے سے آخرت میں سرخروئی ملتی ہے۔ اور جب کسی پیغمبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔
جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ…
Read the full tafseer →39 : ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ (یہ یقینی دن ہے) اس کا وقوع ثابت ہے۔ فَمَنْ شَآ ئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا (پس جس کا جی چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانہ بنارکھے) ماٰباؔ اعمال صالحہ کے ساتھ لوٹنا۔
Read the full tafseer →38 ۔” یوم یتموم الروح “ یعنی اس دن میں۔ ” والملائکۃ صفا “ اس روح میں اختلاف ہوا ہے۔ شعبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے الروح فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ تنہا ایک صف میں کھڑا ہوگا اور سارے فرشتے ایک صف میں تو اس کے جسم کی بڑائی ان کی مثل ہوگی۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ الروح فرشتہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے بڑا ہے اور فرشتوں سے اور وہ چوٹھے آسمان میں ہے ہر دن بارہ ہزار تسبیح کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر تسبیح سے ایک فرشتہ پیدا کرتے ہیں وہ قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم…
Read the full tafseer →اس لیے کہ (ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۚ ) یہ دن ہی سچا (دن) ہے۔ جس میں باطل رائج ہوسکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے یہ وہ دن ہے (یقوم الروح) جس میں روح الامین کھڑا ہوگا۔ روح سے مراد جبرائیل ہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ (والملائکۃ) اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے (صفا) صف باندھے، اللہ کے حضور سرافگندہ ہو کر (لایتکلمون) وہ کلام نہیں کرسکیں گے۔ سوائے اس بات کے جس کی اللہ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر وانداز کے بعد فرمایا ( فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا) پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے۔ یعنی عمل اور اچھی بات کرلے جو قیامت کے دن اس کیط رف لوٹے گی۔
Read the full tafseer →(34) آزادی ارادہ و اختیار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے وہ برحق دن، یعنی وہ یوم حق جس کے احوال و اھوال میں سے کچھ کا ذکر یہاں ہوا اور جس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے، اب جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے کہ اس میں خود اسی کا بھلا ہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے اس یوم عظیم کے حق اور واقع ہونے میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ بلکہ یہ ماننا یا نہ ماننا انسان کے اپنے ہی نفع و نقصان کی بات ہے اور بس، بہرکیف وہ یوم عظیم جس کے بارے میں خبردار کیا جارہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے، اس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، نہ کوئی اس کو ٹال سکتا ہے اور نہ اس میں کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
قیامت کا منظر
تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27)
جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔
حور۔
حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →۔ “8 یعنی اس دن کا آنا یقینی ہے۔ اگر کسی کو اپنی بھلائی مطلوب ہے تو اسے چاہیے کہ اس کے لئے تیاری کرے۔
Read the full tafseer →(78:39) ذلک الیوم الحق : ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مبتداء الیوم الحق موصوف و صفت مل کر خبر۔ وہ برحق دن ہے۔ یا ذلک الیوم (مذکورہ بال احوال والا دن) اسم اشارہ۔ ومشار الیہ مل کر مبتداء الحق اس کی خبر، (حق ہی ہے۔ بلاریب) حقانیت اور صداقت پر یہ دن مبنی مقصود ہے۔ یعنی الحق خبر ہے۔ اور خبر پر الف لام مفید حصر ہی ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ قیامت کا دن یقینا حق ہی ہے (تفسیر مظہری)
فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا۔سببیہ ہے کیونکہ اللہ تک پہنچانے کا راستہ اختیار کرنے کا سبب قیامت کا برحق ہونا ہے۔
مابا مفعول ہے اتخذ کا اور الی ربہ متعلق مابا ہے۔ اتخذ ماضی واحد مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اختیار کرنا۔ مابا مفعول اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا…
Read the full tafseer →[12] یعنی ایسے عمل کرے جن کے ذریعے سے اللہ کے ہاں اس کو امن کی جگہ ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔
Read the full tafseer →(39) یہ دن جس کا ذکر ہوا ایک ایسا دن ہے جس کا واقع ہونا یقینی ہے اور یہ دن ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف اپنا ٹھکانا اور رجوع ہونے کی جگہ بنالے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن تو یقینی ہے اب جو شخص اپنے پروردگار کے پاس اپنا اچھا ٹھکانا چاہتا ہے اور اپنی باز گشت بہترین چاہتا ہے تو وہ اچھے کام کرے اور نیک کام کرکے اپنے پروردگار کے پاس اچھا ٹھکانا حاصل کرے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ ٹھیک بات سے وہ بات مراد ہے جس کی اجازت دی گئی ہو یعنی بولنا بھی محدود و مقید ہوگا یہ نہیں کہ جو چاہے بولنے لگے۔
Read the full tafseer →وہ حق ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے
۔ 39 (ذلک) یہ (الیوم الحق) بالکل حق ہے یعنی قیامت کا دن حق ہے اور اس کا آنا لازم اور ضروری ہے۔ جو شخص اس کے حق ہونے میں شک کرتا ہے وہ اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس دن کافی نفسہ کوئی نقصان ہوگا کہ اگر سب مانیں گے تو وہ آئے گا ورنہ رک جائے گا نہیں ایسا کوئی معاملہ نہیں کوئی مانے یا نہ مانے کسی کے ماننے نہ ماننے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دن کو ہر حال میں آنا ہے اور وہ آ کر رہے گا اس کے لئے نہ تو اس کو کسی سے مشورہ کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نفع یا نقصان ہے یہ تو محض انسان کی اپنی مرضی کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
یوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (on the Day when the Spirit and the angels will stand in rows. They will not speak, except the one who is permitted by the Rahman [ the All-Merciful ] and speaks aright -78:38). Ruh (Spirit), according to some of the commentators, refers to the angel Jibra'il He has been mentioned before the other angels in general in order to show the greatness of his status. According to certain Prophetic traditions, Ruh is not an angel but a huge army of Allah. They have heads,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
26 Apparently, one might think that the people who were the audience of this verse died fourteen centuries ago, ,and even now it cannot be said how many hundreds or thousands or millions of years Resurrection will take to come. Then, in what sense has it been said: "The torment of which you have been warned, has approached near at hand?" And what is the meaning of saying in the beginning of the Surah: "Soon they shall know?" The answer is that man can have the feeling of time only until he is passing a physical life in the world within the bounds of space and time. After death when only the…
Read the full tafseer →