Explained with ayahs 37–40
روح الامین ؑ
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا، جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی کون ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 24
اہل تفسیر کی اکثریت کا خیال یہی ہے کہ اس سے مراد جبرئیل ؑ ہیں اور ان کا جو بلند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے اس کی وجہ سے ملائکہ سے الگ ان کا ذکر کیا گیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المعارج، حاشیہ 3)۔
سورة النَّبَا 25
بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اسی کے حق میں شفاعت کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست بات کہے، بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(آیت) يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل امین ہیں، ان کا ذکر عام ملائکہ سے پہلے ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے ہے اور بعض روایات مرفوعہ میں ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان لشکر ہے جو فرشتے نہیں، ان کے سر اور ہاتھ پاؤں ہیں۔ اس تفسیر پر گویا دو صفیں ہوں گی ایک صف روح کی دوسری فرشتوں کی۔
Read the full tafseer →مشرکین کو سب سے زیادہ اعتماد فرشتوں کی سفارش پر تھا جن کو وہ اپنے زعم کے مطابق خدا کی بیٹیاں فرض کر کے پوجتے تھے۔ فرمایا کہ اس دن ان کا حال یہ ہو گا کہ جبریلؑ اور دوسرے ملائکہ رب العزت کے سامنے اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح خدام اپنے آقا کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی زبان کھولنے میں پہل نہیں کرے گا بلکہ وہی بات کرنے کی جرأت کریں گے جن کو خدائے رحمان کی طرف سے اجازت مرحمت ہو گی اور وہی بات کہیں گے جو بالکل ٹھیک ہو گی۔۔۔ یعنی اگر مشرکین اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ان کے دیوی دیوتا خدا سے جو بات چاہیں گے ناز و تدلل سے منوا لیں گے اور ان کے حق میں جو سفارش چاہیں گے کر دیں گے تویہ…
Read the full tafseer →38۔ 1 یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گے حق و صواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ اجازت صرف اس کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔
Read the full tafseer →5: اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان یا فرشتہ کسی کی سفارش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کچھ بول نہیں سکے گا، اور وہ بھی اس وقت جب وہ سفارش بھی ٹھیک کرے، یعنی اس طریقے سے کرے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور
رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا…
Read the full tafseer →14 روح فرمایا جانداروں کو یا " روح القدس " ( جبرائیل) مراد ہوں اور بعض مفسرین کے نزدیک وہ روح اعظم مراد ہے جس سے بیشمار روحوں کا انشعاب ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔
15 یعنی اس کے دربار میں جو بولے گا اس کے حکم سے بولے گا۔ اور بات بھی وہ ہی کہے گا، جو ٹھیک اور معقول ہو مثلاً کسی غیر مستحق کی سفارش نہ کرے گا۔ مستحق سفارش کے وہ ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں سب باتوں سے زیادہ سچی اور ٹھیک بات کہی تھی یعنی لا الہٰ الا اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36{ جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآئً حِسَابًا۔ } ”یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے ‘ دیا ہوا حساب سے۔“
یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →25 وقال صوابا کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ سفارش کرنے والا ایسے شخص کے حق میں ہی سفارش کرسکے گا جس نے دنیا میں درست بات کہی ہوگی اور درست بات سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ یعنی سفارش ایسے گنہگار کے حق میں تو کی جاسکے گی جو توحید پر قائم اور اللہ کا فرمانبردار رہا ہو۔ مگر کسی مشرک یا اللہ کے باغی کے حق میں سفارش نہ کی جاسکے گی اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ دونوں صفات سفارش کرنے والے کی ہیں۔ یعنی سفارش وہی شخص کرسکے گا جسے اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی اور سفارش کرتے وقت وہ درست بات ہی کرے گا جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ اس گنہگار کے جس جرم کے متعلق سفارش قبول…
Read the full tafseer →15۔ (حق تعالیٰ کے حضور میں ادب وخشوع کے لوازم کے ساتھ (آیت) ” الروح “۔ روح سے اس سیاق میں مراد زی روح مخلوقات لی گئی ہے۔ (آیت) ” لا ..... الرحمن “۔ مسیحیوں اور بعض باطل مذہب والوں کے ہاں مرکزی عقیدہ شفاعت کا ہے۔ اور ” خدا کا بیٹا “۔ تو گویا شفیع ہی کے مستقل منصب پر فائز ہے۔ قرآن مجید اس باطل عقیدہ پر مختلف عنوانات سے مختلف مقامات میں ضرب لگاتا گیا ہے۔ (آیت) ” وقال صوابا “۔ یعنی اجازت حاصل کرنیکے بعد جب بولنا ہوگا، وہ بھی محدود ومقید ہوگا۔ یہ نہیں کہ جو کچھ اور جس طرح وہ چاہے بولنے لگ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
یوم یقوم الروح و الملائکۃ صفا، روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل (علیہ السلام) ہیں چونکہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا ملائکہ میں ایک خاص امتیازی مقام ہے اس وجہ سے عام ملائکہ سے الگ ان کا ذکر فرمایا، اور بعض روایات میں ہے کہ روح، اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان مخصوص لشکر ہے جو فرشتے نہیں ہیں، اس تفسیر کی رو سے دو صفیں ہوں گی ایک روح کی اور دوسری فرشتوں کی۔ (معارف ملخصًا)
لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا، یہاں کلام نہ کرنے سے مراد شفاعت نہ کرنا ہے، شفاعت کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی، ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی…
Read the full tafseer →یوم یقوم الروح والملٰئکۃ صفا . یوم کا تعلق لا یملکون سے ہے یعنی جس روز روح و ملائکہ کا قیام ہوگا ‘ اس روز اللہ سے کوئی خطاب نہ کرسکے گا یا لا یتکلمون سے متعلق ہے ‘ یعنی اس روز سوائے اس کے جس کو خدا اذن دے اور کوئی اللہ سے کلام نہیں کرسکے گا ‘ اوّل صورت زیادہ ظاہر ہے۔
روح کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ ابن جریر ؓ نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ روح چوتھے آسمان پر ہے ‘ تمام آسمانوں سے ‘ پہاڑوں سے اور ملائکہ سے بڑا ہے۔ بغوی نے اتنا اور بھی بیان کیا ہے کہ وہ روزانہ بارہ ہزار تسبیح (سبحان اللہ) پڑھتا ہے اور اس کی ہر ایک تسبیح سے اللہ ایک فرشتہ کو پیدا کردیتا ہے۔ قیامت کے دن روح تنہا ایک…
Read the full tafseer →اور جس روز جبریل امین اور تمام فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی کسی کی سفارش کے لیے بول نہ سکے گا، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک کہے یعنی کلمہ طیبہ۔
اور کہا گیا ہے کہ روح سے مراد ایک مخلوق ہے، جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ وہ عرش خداوندی کے علاوہ ہر ایک چیز سے بڑا فرشتہ ہے یومیہ بارہ ہزار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی ہر ایک تسبیح سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو کہ قیامت تک مومنین کے لیے استغفار کرتا رہے گا۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں میں سے ایک مخلوق ہے جس کے…
Read the full tafseer →38۔ (1) یوم یقوم الروح والملٓئکۃ صفاً…:”الروح“ سے مراد جبریل ؑ ہیں جیسا کہ فرمایا :(نزل بہ الروح الامین) (الشعرائ : 193)”اس (قرآن) کو امانت دار روح لے کر اترا ہے۔“ ان کا الگ ذکر ان کی شان کی عظمت کے اظہار کے لئے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے :(من کان عدواً للہ و ملٓئکتہ ورسلہ و جبرئیل ومیکل فان اللہ عدو للکفرین) (البقرۃ : 98)”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بیشک اللہ سب کافروں کا دشمن ہے۔“ دوسرا معنی جو لفظ سے ظاہر ہے بنو آدم کی ارواح ہیں۔
(2) صحیح احادیث کے مطابق یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نیک و بد کے فیصلے کے لئے آسمان سے زمین…
Read the full tafseer →یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا۔ یوم ظرف کی حیثیت سے منصوب ہے معنی یہ ہوگا کہ وہ گفتگو کا اختیار نہیں رکھیں گے روح کے بارے میں آٹھ قول ہیں، یہ بھی فرشتوں میں سے ایک ہے حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق تخلیق نہ کی جو عرش کے بعد اس سے بڑی ہو جب قیامت کا روز ہوگا تو وہ تنہا صف باندھ کر کھڑا ہوجائے گا اور تمام فرشتے دوسری صف میں ہوں گے اس کی مخلوق کی عظمت ان کی صفوں کے اعتبار سے ہوگی، اس کی مثل حضرت ابن مسعود سے مروی ہے، روح ساتوں آسمانوں سے، ساتوں زمینوں اور پہاڑوں میں سے بڑی مخلوق ہے وہ چوتھے آسمان کے بالمقابل ہوگی وہ ہر روز بارہ ہزار دفعہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے گی اللہ تعالیٰ ہر…
Read the full tafseer →19۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا روح، اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے وہ فرشتے نہیں ہیں ان کے سر، ہاتھ اور پاؤں ہیں پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا جس دن جبریل اور سب فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے پھر فرمایا یہ روح بھی لشکر ہیں اور یہ فرشتے بھی لشکر ہیں۔
20۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ روح بنی آدمی کی صورت پر ایک مخلوق ہے۔
21۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ روح کھاتے ہیں۔…
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَقُوْمُ : جس دن کھڑے ہوں گے ][ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : وہ روح (جبریل (علیہ السلام) ) اور سارے فرشتے ][ صَفًّا : صف بنائے ہوئے ][ ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ : لوگ بول نہیں پائیں گے سوائے اس کے ][ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ : اجازت دے گا جس کے لیے رحمن ][ وَقَالَ صَوَابًا : اور وہ کہے گا بےلاگ بات ]
Read the full tafseer →﴿يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا ﴾ (یعنی روح والی مخلوق اور فرشتے سب صف بنا کر کھڑے ہوں گے) اور بہت سی صفیں ہوں گی۔
﴿لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا 0038﴾ (یہ حاضر ہونے والے بات نہ کرسکیں گے مگر وہی شخص بول سکے گا جسے رحمٰن جل مجدہ اجازت دے اور اجازت ملنے پر ٹھیک بولے) ۔
یعنی جسے اجازت ملے گی وہ بھی مقید ہوگی ایسا نہیں کہ جو چاہے بولنے لگے، ٹھیک بات میں سے ایک یہ ہے کہ جس کے لیے سفارش کی اجازت دی جائے اسی کے لیے سفارش کی جاسکے گی۔ سورة الانبیاء میں فرمایا ﴿ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ 1ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔
بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →10:۔ ” رَبُّ السَّمٰوَاتِ “ یہ وہاں سے بدل ہیں اور اس میں سورة دہر کی نسبت مسئلہ توحید کو ترقی بیان کیا گیا ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک اور پروردگار ہے وہ رحمان ہے دنیا میں اس کی انعامات و احسانات عام اور غیر مخصوص ہیں، مومن اور کافر سب ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ قیامت کے دن اس کی ہیبت و جلال کی وجہ سے کوئی اس کے سامنے بول نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(لقط روح کی تشریح )
روز قیامت کی مزید تشریح بیان کی گئی ہے ۔ یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا جس دن روح اور فرشتے قطار میں کھڑے ہوں گے ۔ قیامت کا دوسرا بگل بج جائے گا۔ انسان فوج در فوج آئیں گیں۔ ملائکہ صف درصف کھڑے ہوں گے اور روح بھی حاضر ہوگی ۔ روح کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ قرآن پاک کو بھی لفظ روح سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو امر کیا ۔ قیامت والے دن روح یعنی قرآن پاک سفارشی بن کر آئے گا ان لوگوں کے لیے جو دنیا میں اس کو مانتے تھے اور اسکی تلاوت کرتے تھے ۔ روح سے مراد جبرائیل امین (علیہ السلام) بھی ہیں ۔…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ صَفًّا 0 ۭ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا 38
روح ( فرشته)
وسمّي أشراف الملائكة أَرْوَاحاً ، نحو : يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفًّا[ النبأ/ 38] ، تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] ، سمّي به جبریل، وسمّاه بِرُوحِ القدس في قوله : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] ، وَأَيَّدْناهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ البقرة/ 253] ، وسمّي عيسى عليه السلام روحاً في قوله : وَرُوحٌ مِنْهُ [ النساء/ 171] ، وذلک لما کان له من إحياء الأموات،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب ¦ یوم منصوب بلا یملکون او ‘ بلایتکلمون صفا حال ای صافین او مصدر ای یعفون صفا والجملتہ مستانفۃ او حالیۃ الامن استثناء من قولہ لایتکلمون ای لایتکلم احد الا الماذون من الرحمن فلاستثناء متصل وقال معطوف علی قولہ اذن ذلک مبتداء الیوم الحق خبرہ الی ربہ ما با الی متعلقہ بماٰبا قدم علیہ اھتماما ورعایۃ للفواصل فمن شاء المفعول محذوف شرط اتخذ جو ابہ ‘ یوم ینظر یوم منصوب علی انہ بدل من عذابا او ظرف لمضمر ھو صفۃ لہ ای عذابا کائنا ‘ یوم ینظر المرء موصولۃ قدمت یداہ صلۃ والعائد محذوف والصلۃ والموصول المجموع منصوب محلا علی انہ مفعول ینظر والمرء فاعلہ ویقول معطوف علی ینظر۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ اس سے…
Read the full tafseer →یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٓئِکَۃُ صَفًّا لا ق ط لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَـہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ (النبا : 38)
(جس دن روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کرے گا بجز اس کے جس کو رحمن اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کرے گا۔ )
آیتِ کریمہ میں روح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان کے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا مطاع اور گل سرسبد بنایا ہے۔ ان کا پہلے ذکر عام سے پہلے خاص کے ذکر کے طور پر ہے۔ اس کے بعد ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ سب سے زیادہ فرشتوں کی سفارش پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔
جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ…
Read the full tafseer →منظر محشر :
38 : یَوْمَ یَقُوْمُ (جس دن کھڑے ہونگے)
نحو : نمبر 1۔ اگر اس کو لایملکون کا ظرف بنائیں۔ تو خطاباً پر وقف نہ ہوگا۔ نمبر 2۔ اگر لا یتکلمون کا ظرف بنائو تو پھر وقف خطابًا پر کریں گے۔ الرُّوْحُ (تمام ذی ارواح) جمہور کے نزدیک روحؔ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ ہے یہ ایک بہت بڑا فرشتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کے بعد اس سے بڑی مخلوق کوئی نہیں بنائی۔ وَالْمَلٰٓپکَۃُ صَفًّا (اور فرشتے صف بستہ)
نحو : صفًا یہ حال ہے۔ اے مصطفّین لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ (کوئی بول نہ سکے گا) خوف کی وجہ سے اس جگہ مخلوق بول نہ سکے گی۔ اِلَّامَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ (بجز اس کے جس کو رحمان اجازت دے)…
Read the full tafseer →37 ۔” رب السموات والارض وما بینھما الرحمن “ اہل حجاز اور ابوعمر ورحمہم اللہ نے (رب) استئناف کی بناء پر مرفوع پڑھا ہے اور الرحمن اس کی خبر ہے۔ اور دیگر حضرات نے جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” من ربک “ کے تابع کرتے ہوئے اور ابن عامر، عاصم اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” الرحمن “ جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” رب السماوات والارض “ کے تابع کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” رب “ جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” جزاء من ربک “ سے قریب ہونے کی وجہ سے اور ان دونوں نے ” رحمن “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس دور ہونے کی وجہ سے استئناف پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم…
Read the full tafseer →(اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا) یعنی کوئی شخص بات نہیں کرسکے گا مگر دو شرطوں کے ساتھ۔ اول جیسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ ثانی۔ اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔
Read the full tafseer →(33) قیامت کے روز کوئی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کے حضور بول بھی نہیں سکے گا، سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہاں پر بول بھی نہیں سکیں گے، جب تک کہ ان کو خدائے رحمن کی طرف سے اس کی اجازت نہ مل جائے اور وہ بات بھی صحیح نہ کہیں، اور جب فرشتوں کو بھی باوجود اتنی عظمت شان کے اس کا یارا، اور اس کی ہمت اور گنجائش نہ ہوگی تو پھر اور کون ہے جو وہاں بول سکے ؟ (المراغی وغیرہ) یا اڑ کے بیٹھ جائے اور مطالبہ منوا کر چھوڑے جس طرح کے کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرکوں کا بھی کہنا ہے۔ سو مشرکین نے جو اپنے زعم باطل کے مطابق فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر انہی پر اعتماد کر رکھا تھا اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
قیامت کا منظر
تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27)
جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔
حور۔
حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →ف 6 روح کہا جانداروں کو یا نام جبریل ( علیہ السلام) کا ہے “ (موضح)7 اگر شفاعت کرے گا تو اسی کی جو واقعی شفاعت کا مستحق ہوگا اور ظاہر ہے کہ شفاعت کا مستحق وہی ہوگا جس نے دنیا میں ٹھیک بات کہی تھی۔ یعنی کلمہ توحید۔ اگرچہ اس سے بعض کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہوں یا وہی شخص بات کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور صحیح بات کہے یعنی غیر مستحق کی شفاعت نہ کرے۔ (کذانی جامع البیان) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” جو مسلمان قابل سفارش کے ہے اسی کے واسطے کہا
Read the full tafseer →(78:38) یوم یقوم القروح والملئکۃ صفا : آیت سابقہ نمبر 37 میں خطابا پر علامت وقف ج ہے جو وقف جائز کی علامت ہے اور یہاں ٹھہرنا بہتر ہے۔ اس صورت میں یوم ظرف ہے لا یتکلمون کا۔ بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ اس دن۔
یقوم مضارع واحد مذکر غائب۔ قیام مصدر (باب نصر) سے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوگا یہاں بمعنی جمع ہے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
الروح : کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) اس سے مراد ہے ارواح بنی آدم۔
(2) بنی آدم فی انفسہم۔
(3) خدا کی مخلوق میں سے بنی آدم کی شکل کی ایک مخلوق جو نہ فرشتے ہیں نہ بشر۔
(4) حضرت جبرئیل علیہ السلام۔
(5) القران
(6) جمیع مخلوق کے بقدر ایک عظیم فرشتہ وغیرہ۔ (اضواء البیان)
ا۔ ابن جریر نے ان جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
[11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔
Read the full tafseer →(38) جس دن روح کھڑی ہو اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں اس روز کوئی شخص کلامنہ کرسکے گا مگر ہاں جس کو رحمن اجازت دیدے اور وہ شخص بات بھی ٹھیک کہے۔ روح کے متعلق مفسرین کے کئی قول ہیں روح کسی فرشتے کا نام ہے جو آسمانوں اور زمین سے بڑا ہے بعض نے کہا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں، مجاہد کا قول ہے اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو فرشتوں میں سے نہیں ہے ۔ مقاتل نے کہا وہ اشراف ملائکہ ہیں، حسن اور قتادہ کا قول ہے روح سے مراد بنی آدم ہیں۔
بعض نے کہا بنی آدم کی ارواح ہیں اور بظاہر یہی راجح ہے ہوسکتا ہے کہ اس سے روح اعظم مراد ہو جو تمام ارواح کامرکز ہے۔
صاحب تفسیر عزیزی نے فرمایا ہے وہ لطیفہ درا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →جس دن روح القدس اور دوسرے فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے
۔ 38 یہ دن کونسا دن ہے ؟ وہی جس کو قیامت کے نام سے اور آخرت کے نام سے اور بہت سے دوسرے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ فرمایا یہ دن تو اتنا سخت دن ہوگا کہ اس روز جبریل اور اس کے ساتھ دوسرے فرشتے الگ اپنی صفیں بنا کر کھڑے ہوں گے تاکہ جونہی ہم کو حکم دیا جائے تو ہم فوراً آ کھڑے ہوں اور حکم کی پابندی کرنے میں ذرا بھر دیر نہ لگے حالانکہ فرشتوں میں جو مقام جبریل کو حاصل ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے لیکن مخلوق ہونے میں تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہی ہے اور یہی حال دوسرے فرشتوں کا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رب ذواللال والا کرام سے کلام کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
یوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (on the Day when the Spirit and the angels will stand in rows. They will not speak, except the one who is permitted by the Rahman [ the All-Merciful ] and speaks aright -78:38). Ruh (Spirit), according to some of the commentators, refers to the angel Jibra'il He has been mentioned before the other angels in general in order to show the greatness of his status. According to certain Prophetic traditions, Ruh is not an angel but a huge army of Allah. They have heads,…
Read the full tafseer →24 According to most commentators, "the Spirit" implies the Angel Gabriel (peace be on him) , who has been mentioned separately from the angels because of his high rank and position with Allah. (For further explanation, see E.N. 3 of Al-Ma`arij) .
25 "To speak": to intercede, and intercession has been made conditional upon two things: (1) That the person who is granted permission by Allah to intercede for a sinner will alone be allowed to intercede and for the particular sinner only; and (2) that the intercessor will say only what is right and proper, and nothing derogatory, and the one for…
Read the full tafseer →