Explained with ayahs 37–40
روح الامین ؑ
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا، جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی کون ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 23
یعنی میدان حشر میں دربار الہی کے رعب کا یہ عالم ہوگا کہ اہل زمین ہوں یا اہل آسمان، کسی کی بھی یہ مجال نہ ہوگی کہ از خود اللہ تعالیٰ کے حضور زبان کھول سکے، یا عدالت کے کام میں مداخلت کرسکے۔
Read the full tafseer →لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا اس جملہ کا تعلق پہلے جملے جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً حِسَابًا سے بھی ہوسکتا ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ حق تعالیٰ جس کو جو درجہ ثواب کا عطا فرما دیں گے اس میں کسی کو گفتگو کرنے کی مجال نہ ہوگی کہ فلاں کو زیادہ فلاں کو کم کیوں دیا گیا اور اگر اس کو علیحدہ جملہ قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ محشر میں کسی کو بغیر اجازت حق تعالیٰ خطاب کرنے کا اختیار نہ ہوگا اور یہ اجازت بعض مواقف حشر میں ہوگی بعض میں نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ صلہ (جو مذکور ہوا) اس خدائے رحمان کی طرف سے ہو گا جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری ہی چیزوں کا خداوند ہے، کوئی دوسرا کسی چیز میں اس کا شریک و سہیم نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکے۔
مزعومہ سفارش کی نفی: ’لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا‘۔ یہ کفار اور ان کے مزعومہ معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کے معبودوں کو خدا کے ہاں بڑی رسائی ہو گی۔ یہ جو چاہیں گے خدا سے کہہ سکیں گے اور جو چاہیں گے منوا سکیں گے، یہ خیال بالکل باطل ہے۔ کوئی بھی مجاز نہ ہو گا کہ اس سے کوئی عرض معروض کر سکے۔ اس کے سامنے وہی زبان کھولیں گے جن کو اس کی طرف سے اجازت…
Read the full tafseer →37۔ 1 یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہوگی کہ ابتداء اس سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی، اسی لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لئے لب کشائی نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →4: یعنی جس کو جو کچھ دے دیا جائے گا، اس کے خلاف کسی کو بولنے کی مجال نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور
رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا…
Read the full tafseer →12 یہ بدلہ بھی محض بخشش اور رحمت سے ہے ورنہ ظاہر ہے، اللہ پر کسی کا قرض یا جبر نہیں۔ آدمی اپنے عمل کی بدولت عذاب سے بچ جائے یہ ہی مشکل ہے، رہی جنت، وہ تو خالص اس کے فضل و رحمت سے ملتی ہے اس کو ہمارے عمل کا بدلہ قرار دینا یہ دوسری ذرہ نوازی اور عزت افزائی ہے۔
13 یعنی باوجود اس قدر لطف و رحمت کے عظمت و جلال ایسا ہے کہ کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36{ جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآئً حِسَابًا۔ } ”یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے ‘ دیا ہوا حساب سے۔“
یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →24 یعنی اللہ تعالیٰ کی اہل جنت کو جود و عطا کا تو وہ حال ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے جلال، رعب اور دبدبے کا یہ حال ہوگا کہ جب تمام مخلوق قیامت کی ہولناکیوں سے گھبراہٹ میں مبتلا ہوگی تو کسی کو یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ وہ مخلوق خدا پر اللہ تعالیٰ سے رحم کے لیے سفارش کرسکے اور ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہوگا۔ حتیٰ کہ انبیاء بھی رب سلّم وسلّم پکار رہے ہوں گے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کے لیے قرعہ فال رسول اللہ کے نام پر پڑے گا اور آپ اللہ کے حضور سب کے لیے سفارش کریں گے۔ اس مضمون کی طویل اور مفصل حدیث سورة بقرہ کی آیت نمبر 255 کے تحت گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →14۔ کسی مقرب سے مقرب مخلوق کی بھی یہ مجال نہیں کہ بلا اذن خود بخود اس ذات پاک کے حضور میں کلام بھی کرسکے۔ دیوی دیوتاؤں کے عقیدہ پر ایک اور ضرب۔ اور حق تعالیٰ کی شان تنزیہ کا مزید اثبات۔ (آیت) ” رب السموت والارض “۔ آسمان و زمین جنہیں جاہل قومیں دیوی دیوتا سمجھ رہی ہیں۔ حق تعالیٰ ان سب کا مالک وپروردگا ہے۔ (آیت) ” وما بینھما “۔ جاہلی قوموں نے زمین و آسمان کی درمیانی فضا کو بھی اپنے معبودوں سے بھر رکھا تھا، قرآن مجید نے اس جزئیہ کا ذکر کرکے اس عقیدہ پر بھی ضرب لگادی۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →لا یملکون منہ خطابا، یعنی میدان حشر میں دربار الٰہی کے رعب کا یہ عالم ہوگا کہ اہل زمین ہوں یا اہل آسمان کسی کو بھی یہ مجال نہ ہوگی کہ از خود بغیر اجازت خداوندی کے اللہ تعالیٰ کے حضور زبان کھول سکے، یا عدالت کے کام میں مداخلت کرے کہ فلاں کو اتنا زیادہ کیوں دیا ؟ اور فلاں کو اتنا کم کیوں دیا ؟
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما . کو فیوں کی قراءت میں ربّ جر کے ساتھ ہے اور باقی قراء کے نزدیک ربُّ رفع کے ساتھ۔
الرحمن . عاصم اور ابن عامر کی قراءت میں جر کے ساتھ اور باقی اہل قراءت کے نزدیک رفع کے ساتھ ہے۔ بر قراءت جر رب اور الرحمن دونوں ربک کی صفت ہوں گے یا بدل ہوں گے اور بر قراءت رفع ربُّ السمٰوٰت مبتداء ہوگا اور الرحمن اس کی صفت اور لا یملکون خبر یا رب السمٰوٰت خبر ہے اور مبتداء محذوف ہے یعنی وہ ربّ السموات ہے اور الرحمن ربُّ کی صفت ہے یا ھُوَ (محذوف) مبتداء ‘ ربُّ السمٰوٰت پہلی خبر ‘ الرحمن دوسری خبر اور لا یملکون تیسری خبر ہے ‘ وغیرہ۔
لا یملکون منہ خطابا . یعنی زمین و آسمان والوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(34۔ 37) اور بھرے ہوئے جام شراب ہیں، جنتی جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ، اس جنت میں ایک نیکی کے بدلے دس گنا ان کو ثواب ملے گا یا یہ کہ ان کے اعمال کے موافق اس روز فرشتوں کو بغیر حکم خداوندی کلام کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36، 37(1) جزآء من ربک عطآء حساباً…: یہ سب کچھ ان کے رب کی طرف سے ان کے اعمال کا بدلا ہے۔ بدلا دینے والا رب تعالیٰ ہو تو بدلا کتنا عظیم ہوگا، پھر برابر بدلا ہی نہیں، دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی بڑھا کر لامحدود گنا عطیہ ملے گا۔ البتہ گناہ کا بدلا اتنا ہی ہوگا جتنا گناہ ہے۔
(2) عطآء حساباً : اس کے دو معنی ہیں، پہلا یہ کہ وہ عطیہ سحاب سے ہوگا، یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے۔ دوسرا معنی ہے ”کافی عطیہ۔“ جیسے ”حسبی اللہ“ کا معنی ہے مجھے اللہ کافی ہے، یعنی اتنا بدلا ہوگا جس سے زیادہ کی خواہش نہیں ہوگی۔
(3) لایملکون منہ خطاباً : یہنی انتہائی لطف و…
Read the full tafseer →رب السماوات والارض۔۔۔ تا۔۔۔ کنت ترابا۔
رب السماوات والارض ومابینھا الرحمن۔ حضرت ابن مسعود، نافع، ابوعمرو، ابن کثیر، اور زید نے یعقوب سے، مفضل نے عاصم سے لفظ رب پر رفع پڑھا ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے الرحمن اس کی خبر ہے یا اس کا معنی ہے ھو رب السموات، یعنی وہ آسمانوں کا رب ہے لفظ الرحمن دوسرا مبتدا ہواگا، ابن عامر، یعقوب اور ابن محصین نے دونوں کو مجرور پڑھا ہے کیونکہ یہ جزاء من ربک کی صفت ہے یعنی تیرے رب کی جزاجو آسمانوں کا رب اور رحمن ہے، حضرت ابن عباس، عاصم، حمزہ اور کسائی نے رب السموات پڑھا ہے کیونکہ یہ صفت ہے، الرحمن یہ مرفوع ہے تقدیر کلام یوں ہے، ھوالرحمن۔ ابوعبید نے اسے اختیار کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
18۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جزاء من ربک بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف یعنی یہ عطا ہوگی اس کی طرف سے حسابا حسب اعمال جو انہوں نے عمل کیے آیت لایملکون منہ خطابا یعنی بات نہیں کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →[رَّبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ][ وَمَا بَيْنَهُمَا : اور اس کا جو ان دونوں کے درمیان ہے ][ الرَّحْمٰنِ : جو انتہائی رحمت والا ہے ][ لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا : لوگ اختیار نہیں رکھتے اس سے خطاب کرنے کا ]
(آیت۔ 37) اس آیت میں رَبِّ اور اَلرَّحْمٰنِ ، یہ دونوں گزشتہ آیت کے رَبِّکَ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت جرمہ میں ہیں۔
Read the full tafseer →﴿رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ ﴾ (متقی حضرات کو جو صلہ ملے گا وہ پر ورگار جل مجدہ کی طرف سے عطیہ ہوگا، وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کا مالک ہے اور رحمٰن ہے)
﴿لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ0037﴾ (اس دن کوئی بھی اس سے خطاب نہ کرسکے گا)
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : والمراد نفی قدرتھم علٰی ان یخاطبوہ عزوجل بشی من نقص الاوزارو زیادة الثواب من غیر اذنہ تعالیٰ ۔ یعنی جو عذاب میں مبتلا کردیا گیا وہ عذاب کم کرنے کی درخواست نہ کرسکے گا اور جسے ثوب دے دیا گیا وہ اور زیادہ طلب کرنے لگے اس بارے میں کسی کی ہمت نہ ہوگی ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔
بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 9:۔ ” جَزَاءً “ یہ فعل مقدر ” یجزون “ کا مفعول مطلق ہے۔ ” عَطَاءً “ ” جَزَاءً “ سے بدل ہے۔ ” حِسَابًا “ کے معنی ہیں کافی و وافی (مظہری) ۔ یہ جزاء و صلہ ان کو تیرے پروردگار کی طرف سے ملے گا جو کافی و وافی انعام و اکرام ہے۔
Read the full tafseer →(رب رحمن رحیم )
فرمایا رب وہ ہے جو رب السموت والا رض آسمانوں اور زمین کا رب ہے ۔ وما بینھما اور ہر اس چیز کا رب ہے ۔ جو آسمان و زمین کے درمیان موجود ہے ۔ رب اور مربی کوئی مختلف ہستیاں نہیں ہیں ۔ بلکہ زمین آسمان اور فضاء میں پائی جانے والی ہر چیز کا خالق بھی وہ ہے اور ہر چیز کو درجہ کمال تک پہنچا نے والا یعنی مربی بھی وہی الرحمن نہایت ہی مہربان ہے۔ یہ اسکی صفت رحمن کی وجہ سے ہی متقین کو اعلیٰ مقام حاصل ہوں گے یہ اسی کی مہربانی کا کرشمہ ہے۔ اسی لیے اسکی صفات رحمن اور رحیم ہیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں اللہ ذاتی نام ہے اور رحمن ورحیم صفاتی نام ہیں ۔ ان اسمار کی تفسیر مفسرین کرام (ب 2 تفسیر…
Read the full tafseer →رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا الرَّحْمٰنِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا 37 ۚ
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَـآئً حِسَابًا۔ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَـھُمَا الرَّحْمٰنِ لاَ یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔ (النبا : 36، 37)
(جزاء اور کافی انعام تیرے رب کی طرف سے ہے۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بڑی رحمت والا ہے، یہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ )
جنت کے اعمال کا صلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی عطا بھی
اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لیے اور عطا ہے ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی یہ دادودہش اور یہ قدرافزائی ایک تو یہ مومنوں کے اعمال کا صلہ ہے کہ انھوں نے ہر طرح کے حالات میں جس طرح اسلام قبول کیا پھر اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔
جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ…
Read the full tafseer →37 : رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا الرَّحْمٰنِ (جو مالک ہے آسمان کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں۔ رحمان ہے)
نحو : ابن عامر، عاصم نے ربِؔ‘ الرحمانؔ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا اور من ربک ؔ کا بدل قرار دیا۔ نمبر 2۔ جنہوں نے رفع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رَبُّ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ ب۔ یہ مبتدأ اور اس کی خبر الرحمان ہے۔ ج۔ الرحمان اس کی صفت ہے۔ لَایَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا (کسی کو اس کی طرف سے اختیار نہ ہوگا کہ عرض معروض کرسکے) یعنی اللہ تعالیٰ سے لا یملکون یہ خبر ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ دونوں خبریں ہیں اور لایملکون کی ضمیر اہل السمٰوٰت والارض سب کی طرف راجع ہے اور…
Read the full tafseer →36 ۔” جزاء من ربک عطاء حسابا “ یعنی ان کو بدلہ دیا۔ بدلہ دینا اور ان کا کافی وافی حساب عطاء کیا۔ کہا جاتا ہے ” احسبت فلانا “ یعنی میں نے اس کو اتنا دیا جو اس کو کافی ہوجائے حتیٰ کہ اس نے کہا مجھے کافی ہے اور ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں ” عطاء حسابا “ یعنی بہت زیادہ اور کہا گیا ہے وہ ان کے اعمال کے بقدر بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم…
Read the full tafseer →یعنی جس نے انہیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے (رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی۔ (الرحمن) جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اس نے ان کی نشونما کی ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتی کہ انہوں نے بہت کچھ پا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہوگئی کوئی بات نہیں کرے گا (لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا) اس سے بات چیت کرنے کا انہیں اختیار نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →(31) خدائے رحمان کی رحمت بیکراں کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کے لیے یہ سب صلہ و بدلہ اور انعام و احسان اس خدائے رحمان کی طرف سے ہوگا، جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین اور ساری کائنات کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہے، کہ اس سب کا خالق بھی تنہا وہی ہے، اور مالک بھی بلا شرکت غیرے وہی ہے، اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے، سبحانہ و تعالی۔ پس نہ تو اس میں مشرکین کی دیویوں اور دیوتاؤں کی کوئی جگہ ہے، اور نہ ہی کلمہ گو مشرکوں کی مختلف خود ساختہ ہستیوں اور سرکاروں کی کوئی گنجائش، وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور اعلی وبالا ہے، سبحانہ و تعالی۔ سو اہل ایمان کو اس عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
قیامت کا منظر
تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27)
جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔
حور۔
حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی انتہائی لطف و رحمت کے باوجود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا جلال اس قدر ہوگا کہ کوئی اس کے سامنے لب کشائی نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →(78:37) رب السموت والارض وما بینھما الرحمن : جملہ رب السموت والارض وما بینھما بدل ہے ربک سے الرحمن بھی ربک سے بدل ہے یا اس کی صفت۔
ترجمہ ہوگا :۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان دونوں کے اندر کی سب چیزوں کا جو بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے۔
لایملکون منہ خطابا۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ لا یملکون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ملک (باب ضرب) مصدر۔ وہ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ رب السموت والارض وما فیہا ہے اور حمن بھی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ ہیبت اور جبروت بھی ہے کہ کوئی بھی بغیر اذن کے اس سے بات نہیں کرسکتا۔
صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :َ اور کوئی اپنے استحقاق کی بابت اس سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ جس کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
[11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ دن ایسا جلال وجبروت کا دن ہوگا کہ فرشتے بھی صف بستہ ادب واحترام کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ اور اپنے میں جرات کلام نہ پائیں گے ۔ صرف ان کو اجازت ملے گی کہ وہ رب السموات والارض کو مخاطب کرسکیں جو پہلے سے اللہ کے علم میں ماذون ہوں اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ صواب اور درست بھی ہو ۔
Read the full tafseer →(37) جو آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کا مالک ہے وہ بےحد مہربان ہے کسی کی مجال نہ ہوگی اور کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ اس سے خطاب کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ انعامات اور متقیوں کے مراتب بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ متقیوں کو ان کے نیک اعمال کے بدلے میں صلہ دیا جائے گا، یہ صلہ آپ کے پروردگار کی جانب سے ایک بخشش اور انعام ہوگا جو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔
حساب کے مفسرین اور محققین نے کئی معنی بیان کئے ہیں، کافی اور کفایت کرنیوالی عطا۔ قدر اور اندازہ، بہرحال ہم نے ایک معنی اختیار کرلئے جو عرب کے محاورے اعطافی مااحسبنی سے لئے گئے ہیں۔
بہرحال ! یہ کامل انعام آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →وہ آسمانوں ، زمینوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے
۔ 37 یہ عطاء کرنے والا کوئی ایرا غیرا اور نتھو خیرا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے کہ اس کی حکومت کے یہ ادنیٰ غلام ہیں۔ اس کی پروردگاری کی یہ کرشمہ سازی ہے کہ ان کا وجود قائم ہے وہی ہے جس نے ان سب کو قائم و دائم رکھا ہے اور پھر صرف آسمانوں اور زمین ہی کو نہیں بلکہ جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب کا مالک و بادشاہ ہے اور اس کے قائم کرنے سے یہ سب کچھ قائم ہے اور اسی کی بنانے سے یہ سب کچھ بنا ہے ، اسی کے حکم سے یہ سب کچھ چل رہا ہے۔ وہ کون ہے ، واضح ہوجائے تاکہ کسی کو کسی طرح کا شک و ابہام نہ رہ جائے۔ وہ الرحمٰن ہے اور…
Read the full tafseer →لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا (...No one will have power to address Him,...78:37)
This sentence is probably connected to the preceding verse: جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا (this being a reward from their Lord, a sufficing grant...78:36) In this case, it would mean that when Allah grants a certain grade of reward, no one dare speak about the grade as to why someone got more and others got less. But if this sentence is treated as an isolated one, it will mean that no one in the Plane of Gathering will have the power to speak to Him without His permission. This permission will be…
Read the full tafseer →23 That is, the Court of Allah Almighty will be so awe-inspiring that no one, whether belonging to the earth or to the heavens, will dare open his mouth of his own will before Allah, nor interfere in the Court's work and proceedings.
Read the full tafseer →