Explained with ayahs 31–36
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا
نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 22
جزاء کے بعد کافی انعام دینے کا ذکر یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کو صرف وہی جزا نہیں دی جائے گی جس کے وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر مستحق ہوں گے، بلکہ اس پر مزید انعام اور کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کے بارے میں صرف اتنا فرمایا گیا ہے کہ انہیں ان کے کرتوتوں کا بھر پور بدلہ دے دیا جائے گا، یعنی نہ ان کے جرائم سے کم سزا دی جائے گی نہ اس سے زیادہ۔ یہ بات قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے مثلا یونس، آیات 26۔ 27۔ النحل، آیات 89۔ 90۔ القصص، آیت 84۔ سبا، آیات 33 تا 38۔ المومن، آیت 40۔
Read the full tafseer →ان نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا۔
(آیت) جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً حِسَابًا یعنی اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لئے اور عطاء ہے ان کے رب کی طرف سے عطائے کثیر۔ یہاں ان نعمتوں کو اول جزائے اعمال بتلایا پھر عطائے ربانی، بظاہر ان دونوں میں تضاد ہے کیونکہ جزاء اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے بدلے میں ہو اور عطاء وہ ہے جو بلا کسی بدلے کے بطور انعام و احسان ہو۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو یکجا جمع کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت میں داخل ہونا اور اس کی نعمتیں صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے تو اہل جنت کے اعمال کی جزاء ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ…
Read the full tafseer →’جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا‘۔ جس طرح اوپر کفار کے بارے میں فرمایا ہے: ’جَزَآءً وِّفَاقًا‘ ان کو ان کے اعمال کے بالکل ہم وزن اور ٹھیک ٹھیک ان کے موافق سزا ملے گی اسی طرح یہ اہل جنت کے باب میں فرمایا کہ ان کو ان کی نیکیوں کا پورے حساب سے صلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اور اہل ایمان کے لیے فضل کا جو وعدہ ہے وہ مزید برآں ہے۔
Read the full tafseer →36۔ 1 یعنی اللہ کی دادو دہشت کی وہاں فروانی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
Read the full tafseer →جزآء ................ حسابا (32:78) ” جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔ یہاں انداز تعبیر کی رعنائی اور پر ترنم آواز اور جزاء اور عطا کی تقسیم قابل ملاحظہ ہے۔ اور فواصل اور قوافی میں شدت اور صوتی ہم آہنگی اس پورے پارے میں ایک مخصوص انداز ہے اور بہت ہی خوبصورت۔
اس دن کے مناظر جس کے بارے میں سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں جس کے بارے میں اختلاف کرنے والے اختلاف کرتے ہیں اب ختم ہوتے ہیں اور ان کے خاتمے پر لفظی اور معنوی اعتبار سے خوبصورت منظر ملاحظہ کیجئے ، جس میں جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں۔ یہ سب رحمن کے سامنے کھڑے ہیں ، ان میں سے صرف وہی بات کرسکتا ہے جسے اجازت…
Read the full tafseer →11 یعنی رتی رتی کا حساب ہو کر بدلہ ملے گا اور بہت کافی بدلہ ملے گا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36{ جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآئً حِسَابًا۔ } ”یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے ‘ دیا ہوا حساب سے۔“
یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
23 اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آیا تم نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ؟ گویا انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت بولتا ہے۔ یہ ضرورت خواہ کسی فائدہ کا حصول ہو یا کسی مصیبت یا تکلیف سے بچنا مقصود ہو۔ انہیں دو باتوں کے لیے وہ جھوٹ بولتا، ایک دوسرے سے الجھتا، لڑائی جھگڑا کرتا اور بیہودہ باتیں کرتا ہے۔ لیکن جنت میں نہ تو کوئی تکلیف پہنچنے کا امکان ہوگا نہ کسی فائدہ کا حصول مطلوب ہوگا کیونکہ ہر طرح کی نعمتیں تو انہیں پہلے ہی سے میسر ہوں گی۔ لہذا جنت میں جھوٹ، چغلی، غیبت اور دوسری بیہودہ باتوں کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔…
Read the full tafseer →جزاء من ربک عطاء حسابا، یعنی اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے وہ مومنین کے اعمال صالحہ کی جزاء اور ان کے رب کی جانب سے عطا ہیں، یہاں نعمتوں کو اول جزاء اعمال بتایا پھر عطاء ربانی فرمایا، بظاہر دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، اس لئے کہ جزاء عوض اور بدلے کو کہتے ہیں اور عطاء وہ انعام ہے جو بلا کسی بدلے کے ہو ؟ اس پر کہا جائے گا کہ مذکورہ دونوں لفظوں کو جمع کرنے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بظاہر تو جنت کے انعامات جزاء اعمال ہوں گے مگر حقیقت میں وہ عطاء ربانی اور انعامات یزدانی ہوں گے اس لئے کہ بندے کے لئے اعمال تو دنیوی انعامات کے مقابلہ میں بھی کم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ دنوں لفظوں کو لا…
Read the full tafseer →جزاء من ربک عطاء ا . جزاءً ا اور عطآءً ا دونوں مصدر ہیں۔ فعل محذوف کے مفعول مطلق ہیں ‘
جملہ سابقہ کی تاکید کے لیے ہیں جیسے : جزاءً ا اوفاقًا میں ہم نے بیان کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو کامل جزاء اور کامل عطاء دی جائے گی۔ (یہ فقیر کہتا ہے ‘ شاید یہ مطلب ہے کہ متقیوں کو جو کچھ ملے گا وہ بظاہر ان کے اعمال صالحہ کی جزاء ہوگی مگر حقیقت میں محض عطاء الٰہی ہوگی ‘ کیونکہ اعمال بذات خود موجب جزاء نہیں ہیں) ۔
حسابًا . یہ عطاءً ا کی صفت ہے پوری پوری ‘ کامل عطاء۔ اَحْسَبْتُ فُلَانًا کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اس کو اتنا دیا جو اس کے لیے کافی تھا ‘ یہاں تک کہ اس نے بس کہہ دیا۔ ابن عتبہ نے کہا : عطاءً ا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(34۔ 37) اور بھرے ہوئے جام شراب ہیں، جنتی جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ، اس جنت میں ایک نیکی کے بدلے دس گنا ان کو ثواب ملے گا یا یہ کہ ان کے اعمال کے موافق اس روز فرشتوں کو بغیر حکم خداوندی کلام کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36، 37(1) جزآء من ربک عطآء حساباً…: یہ سب کچھ ان کے رب کی طرف سے ان کے اعمال کا بدلا ہے۔ بدلا دینے والا رب تعالیٰ ہو تو بدلا کتنا عظیم ہوگا، پھر برابر بدلا ہی نہیں، دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی بڑھا کر لامحدود گنا عطیہ ملے گا۔ البتہ گناہ کا بدلا اتنا ہی ہوگا جتنا گناہ ہے۔
(2) عطآء حساباً : اس کے دو معنی ہیں، پہلا یہ کہ وہ عطیہ سحاب سے ہوگا، یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے۔ دوسرا معنی ہے ”کافی عطیہ۔“ جیسے ”حسبی اللہ“ کا معنی ہے مجھے اللہ کافی ہے، یعنی اتنا بدلا ہوگا جس سے زیادہ کی خواہش نہیں ہوگی۔
(3) لایملکون منہ خطاباً : یہنی انتہائی لطف و…
Read the full tafseer →جزاء من ربک عطاء حسابا۔ جزاء مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے گویا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز کا بدلہ دیا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اسی طرح عطا ہے کیونکہ اعطاھم اور اجزاھم کا معنی ایک ہی ہے حسابا کا معنی کثیر ہے یہ قتادہ کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، احسبت فلانا یعنی میں نے اسے کثیر مال عطا کیا یہاں تک کہ اس نے کہا میرے لیے کافی ہے شاعر نے کہا، ونفقی ولید الحی ان کان جائعا، وتحسبہ۔۔۔۔۔۔ ہم قبیلہ کے بچے کو ترجیح دیتے ہیں اگر وہ بھوکا ہوا اور اگر وہ بھوکا نہ ہوتوہم اسے کثیر مال دیتے ہیں۔
قتبی نے کہا، ہم اس کا اصل معنی یہ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کو اتنا دے یہاں تک کہ وہ کہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
18۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جزاء من ربک بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف یعنی یہ عطا ہوگی اس کی طرف سے حسابا حسب اعمال جو انہوں نے عمل کیے آیت لایملکون منہ خطابا یعنی بات نہیں کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →[جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِكَ : بدلہ ہوتے ہوئے آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ][ عَطَاۗءً حِسَابًا : حساب کی ہوئی بخشش ہوتے ہوئے ]
(آیت۔ 36) ۔ جَزَائً اور عَطَائً حِسَابًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
نوٹ 1: آیت۔ 36 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لیے اور عطاء ہے ان کے رب کی طرف سے یہاں ان نعمتوں کو پہلے جزائے اعمال بتلایا گیا پھر عطائے ربانی۔ بظاہر ان دونوں میں تضاد ہے۔ جزاء اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے بدلے میں ہو۔ اور عطاء وہ ہے جو بلا کسی بدلے کے بطور انعام ہو۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو ایک جگہ جمع کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت میں داخل…
Read the full tafseer →﴿جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ0036﴾ (متقی حضرات کو جو اکرام اور انعام سے نوازا جائے گا یہ ان کے ایمان اور اعمال صالحات کا بدلہ ہوگا اور جو کچھ ملے گا کافی ہوگا یعنی وہ اتنا زیادہ ہوگا کہ ان کی تمام خواہش پوری ہوں گی اور مزید جو کچھ اضافہ ہوگا وہ اپنی جگہ رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔
بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 9:۔ ” جَزَاءً “ یہ فعل مقدر ” یجزون “ کا مفعول مطلق ہے۔ ” عَطَاءً “ ” جَزَاءً “ سے بدل ہے۔ ” حِسَابًا “ کے معنی ہیں کافی و وافی (مظہری) ۔ یہ جزاء و صلہ ان کو تیرے پروردگار کی طرف سے ملے گا جو کافی و وافی انعام و اکرام ہے۔
Read the full tafseer →(جنتیوں کے مدارج)
جزاء من ربک یہ بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف سے متقین کے لیے عطاء حسابا حساب سے دیا ہوا ، یعنی جیسا کسی کا عمل ہوگا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا ۔ دوسری جگہ فرمایا ولکل درجت مما عملوا ہر انسان کا درجہ اس کے عمل کے مطابق ہوگا جس اخلاق وکردارکا کوئی مالک ہوگا ۔ اس کے مطابق اسے درجات حاصل ہوں گے ۔ شہداء کا درجہ اسی لیے بلند ہے ۔ کہ انہوں نے بڑابلند کام انجام دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا (ب 1 بخاری ص 1104 ج 2 ، ترمذی ص 362) جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کا دوسرے سے فاصلہ اس قدر ہے ، جتنا زمین سے آسمان کا ۔ تو گویا جزاء من ربک عطاء حسابا جنتیوں کو اپنے رب کی طرف سے انعامات ملیں گے ،…
Read the full tafseer →جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً حِسَابًا 36 ۙ
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَـآئً حِسَابًا۔ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَـھُمَا الرَّحْمٰنِ لاَ یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔ (النبا : 36، 37)
(جزاء اور کافی انعام تیرے رب کی طرف سے ہے۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بڑی رحمت والا ہے، یہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ )
جنت کے اعمال کا صلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی عطا بھی
اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لیے اور عطا ہے ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی یہ دادودہش اور یہ قدرافزائی ایک تو یہ مومنوں کے اعمال کا صلہ ہے کہ انھوں نے ہر طرح کے حالات میں جس طرح اسلام قبول کیا پھر اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔
جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں…
Read the full tafseer →36 : جَزَآ ئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآ ئً حِسَابًا (یہ بدلہ ملے گا جو کہ کافی انعام ہوگا۔ آپ کے رب کی طرف سے )
نحو : جزائً یہ مصدر ہے تقدیر کلام یہ ہے جزاھم جزائً ۔ وہ ان کو جزاء دے گا جزاء دینا۔
عطاء ً یہ مصدر ہے نمبر 2۔ جزاء کا بدل ہے۔ حساباًؔ یہ صفت ہے اس کا معنی کافی یا ان کے اعمال کے حساب سے۔
Read the full tafseer →35 ۔” لا یسمعون فیھا لغوا “ باطل کلام۔ ” ولا کذابا “ تکذیب۔ وہ ایک دوسرے کی تکذیب نہ کریں گے اور کسائی (رح) نے ” کذابا “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کاذبۃ “ کا مصدر اور کہا گیا ہے وہ کذب (جھوٹ) ہے اور کہا گیا ہے وہ تکذیب کے معنی میں مشدد کی طرح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
31۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت…
Read the full tafseer →(جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ ) ان کے لیے بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے (عَطَاۗءً حِسَابًا) یہ انعام کثیر۔ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم واکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
Read the full tafseer →(30) جنتیوں کے لئے ایک عظیم الشان صلہ وبدلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان خوش نصیبوں کو یہ سب کچھ ملے گا ایک عظیم الشان جزا اور بدلے کے طور پر، یعنی ان کے ان نیک اعمال کا صلہ جو کہ انہوں نے دنیا میں رب تعالیٰ کی رضا کے لئے کیے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کرم بےپایاں کا ظاہری سبب تو بہرحال انسان کے یہ نیک اعمال ہوں گے، جو وہ اس دنیا میں اپنی آخرت کے لئے کرتا ہے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے جنت کی ان نعمتوں سے ان کی سرفرازی محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کے فضل وکرم سے ہی ہوگی، پس جس طرح اوپر دوزخیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے کیے کرائے کی بالکل برابر سزا ملے گی، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان
تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔
میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ
کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے
محمد منظور الحق
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔
حور۔
حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 4 یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے اور ” حساباً “ کا مطلب بعض مفسرین نے کانیا، بیان کیا ہے یعنی اتنا بدلہ جس سے زیادہ کی خواہش بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →(78:36) جزاء من ربک عطاء حسابا : جزاء اور عطاء دونوں مصدر ہیں اور مفعول مطلق ہیں فعل محذوف کے : ای جازا ہم جزاء وعطا ھم عطائ۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ یہ بدلہ ہے آپ کے رب کی طرف سے بڑا کافی انعام۔
یہ انعام و اکرام چونکہ ان کے اعمال صالحہ کے عوض میں ہے اس لئے اسے جزاء کہا گیا کیونکہ اس میں اس کا فضل و احسان جلوہ نما ہے اس لئے اسے عطاء کہا گیا ہے پھر عطاء کی صفت حسابا ذکر کی گئی ہے۔ قتادہ نے اس کا معنی کثیرا بتایا ہے یقال احسبت فلانا : ای کثرت لہ العطاء حتی قال حسبی۔ (کہتے ہیں احسبت فلانا یعنی میں نے اس کو اس کثرت سے دیا یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھا میرے لئے (یہی) کافی ہے) (ضیاء القرآن)
حسابا مصدر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔
(ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
[11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد…
Read the full tafseer →(36) ان متقیوں کو یہ صلہ دیا جائے گا جو آپ کے پروردگار کی جانب سے کامل عطا اور کافی انعام ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →انہیں تیرے رب سے ایسا بدلہ ملے گا جو ان کے مناسب حال ہو گا
۔ 36 یہ ان نیکوں کاروں کی بات کی جا رہی ہے جن کا تقویٰ و پرہیز گاری اس دنیا میں مثال تھی کہ انہوں نے اس دنیا میں جس طرح ایک مثالی مقام پیدا کیا آخرت میں ان کو اس کا بدلہ بھی مثالی ہی ہوگا اور ان کو اتنا دیا جائے گا کہ ان کے دل اور آنکھیں سب بھر جائیں گے اور وہاں وہ کسی چیز کی کمی محسوس ہی نہیں کریں گے۔ فرمایا ان کو وہاں جو کچھ دیا جائے گا وہ سب کچھ ان کے اپنے ہی اعمال کی جزا ہوگی جو ان کے رب کے ہاں محفوظ رکھی گئی تھی اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی کامیابی کا جو انعام ملے گا وہ اس کے سوا ہوگا اور اس کو زیر نظر آیت…
Read the full tafseer →زَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا (this being a reward from their Lord, a suffering grant...78:36). The blessings of Paradise described above is the reward of the believers and is an abundant grant from their Lord. Here two things are mentioned. First, these blessings are a reward of their deeds. Secondly, they are a Divine grant. Apparently, they seem to be contradictory, because reward means receiving something in lieu of doing some service, whereas grant is given gratis. The Qur'an has combined the two words in order to indicate that the blessings of Paradise are reward for the inmates…
Read the full tafseer →22 "A reward and sufficient gift": that is, they will not only be given their due rewards which they will deserve for their good deeds, but over and above these they will be given additional and sufficient gifts and prizes as well. Contrary to this, in respect of the dwellers of Hell it has been said: "They will be recompensed fully for their misdeeds." That is, they will neither be punished less than what they will deserve for their crimes nor more. This theme has been explained at length at many places in the Qur'an, for example, see Yunus: 26-27, An-Naml: 89-90, Al-Qasas: 84, Saba: 33-38,…
Read the full tafseer →