An-Naba 78:35

An-Naba · from ayah 35

78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا ۟ۚلَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَـغۡوًا وَّلَا كِذّٰبًا‌

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)

— Fateh Muhammad Jalandhari

No ill speech will they hear therein or any falsehood -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:35

وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں پر وہ نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے، اور نہ کوئی جھوٹی بات۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہاں یہ (لوگ) نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانا (ہوگا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ نہ تو وہاں پر کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جھوٹ

— مولانا اسحاق مدنی

وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ جھوٹ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ خرافات

— محترمہ رفعت اعجاز

Therein they shall hear no idle talk, nor any falsehood;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will not hear any vain talk therein, nor lies,

— Muhammad Taqi Usmani

They will not hear any vain talk therein, nor lies,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No Laghw shall they hear therein, nor lying;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There hear they never vain discourse, nor lying -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No ill speech will they hear therein or any falsehood -

— Saheeh International

They will not hear therein any unnecessary words or lies.

— Muhammad Sarwar

They shall not hear therein any vain words nor lying.

— Muhammad Habib Shakir

They will hear therein no babble nor falsehood:

— Abdul Majid Daryabadi

No vanity shall they hear therein, nor Untruth:-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–36

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة النَّبَا 21 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے۔ وہاں کوئی یا وہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہوگی، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا، دنیا میں گالم گلوچ، بہتان، افترا، تہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے اس کا کوئی نام و نشان نہ ہوگا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم حاشیہ 38۔ جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 13۔ 14)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

’وَّکَاْسًا دِھَاقًا ہ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلَا کِذّٰبًا‘۔ یعنی ان کے لیے شراب خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات اور لاف زنیوں سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر آدمی یاوہ گوئی اور دروغ بافی پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو خاندانوں اور قبیلوں میں مستقل عناد کا سبب بن جاتی ہیں۔ جن سوسائٹیوں میں غیرت کا احساس مردہ ہو جاتا ہے ان کے اندر تو اس طرح کی باتیں لوگ پی جاتے ہیں لیکن اہل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 یعنی کوئی بےفائدہ اور بےہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–36

3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا یسمعون ................ کذبا (35:78) ” وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے “۔ یعنی دو ایسی زنگی بسر کررہے ہوں گے کہ اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی۔ اور اس میں کوئی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ جھوٹ پر بالعموم جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی کو بحث ومباحثے کا موقعہ نہ ہوگا۔ نہ ایسی باتیں وہاں ہوں گی جو بےفائدہ ہوں اور ان میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ یہ صورت حالات اس جہان کے لئے مناسب ہے جو دارالخلد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جنت میں بیہودہ بکواس یا جھوٹ فریب کچھ نہ ہوگا۔ نہ کوئی کسی سے جھگڑے گا کہ جھوٹ بولنے اور مکرنے کی ضرورت پیش آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

آیت 30{ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۔ } ”تو اب چکھو ! ہم ہرگز اضافہ نہیں کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ہی میں۔“ تمہارے اس عذاب کی شدت ہر لحظہ بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔۔ اب اگلی آیات میں اہل جنت کا ذکر ہے

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

23 اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آیا تم نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ؟ گویا انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت بولتا ہے۔ یہ ضرورت خواہ کسی فائدہ کا حصول ہو یا کسی مصیبت یا تکلیف سے بچنا مقصود ہو۔ انہیں دو باتوں کے لیے وہ جھوٹ بولتا، ایک دوسرے سے الجھتا، لڑائی جھگڑا کرتا اور بیہودہ باتیں کرتا ہے۔ لیکن جنت میں نہ تو کوئی تکلیف پہنچنے کا امکان ہوگا نہ کسی فائدہ کا حصول مطلوب ہوگا کیونکہ ہر طرح کی نعمتیں تو انہیں پہلے ہی سے میسر ہوں گی۔ لہذا جنت میں جھوٹ، چغلی، غیبت اور دوسری بیہودہ باتوں کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–36

13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–35

ترجمہ : یقینا پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے (یعنی) جنت میں کامیابی کا مقام ہے، باغات ہیں (حدائق) مفازا سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے اور انگور ہیں مفازا پر عطف ہے اور ہم عمر ابھری ہوئی پستانوں والی نو خیز لڑکیاں ہیں کو اعب، کا عبۃ کی جمع ہے وہ لڑکیاں جو نوجوان ہوں اور ان کی پستانیں ابھری ہوئی ہوں، (اتراب) ترب کی جمع ہے ہم عمر کو کہتے ہیں اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں (یعنی) ایسی شراب ہے جو جاموں کو بھرنے والی ہے اور سورة قتال میں ہے، اور سورة قتال میں ہے، اور شراب کی نہریں ہیں، وہاں یعنی جنت میں کسی بھی وقت نہ تو شراب پینے کے وقت اور نہ اس کے علاوہ نہ تو بیہودہ کلام ہوگا یعنی باطل قول اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یسمعون فیھا لغوا ولا کذابا . یہ جملہ متقین کی ضمیر سے حال ہے اور فیہا کی ضمیر مفازاً کی طرف راجع ہے مفازًا سے مراد ہے حدائق اور جنتیں یا کاسًا کی صفت ہے اور فیہا کی ضمیر کاسًا کی طرف راجع ہے یعنی دنیوی شراب پینے کے وقت جس طرح لغو اور بیہودہ باتیں سنی جاتی ہیں ‘ اسی طرح جنت کی شراب پینے کے وقت نہیں سنی جائیں گی۔ لغوًا : بیہودہ بات۔ کذابًا : بمعنی تکذیب یعنی کوئی کسی کی تکذیب نہیں کرے گا۔ جنت میں کذب کا وجود ہی نہیں ہوگا۔ کسائی کی قراءت میں کذابًا بلا تشدید ہے۔ اس صورت میں یہ مصدر ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ کذاب بمعنی کذب ہے ‘ بعض علماء نے کذَاب کو کذِّاب کا ہم معنی کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 34–37

(34۔ 37) اور بھرے ہوئے جام شراب ہیں، جنتی جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ، اس جنت میں ایک نیکی کے بدلے دس گنا ان کو ثواب ملے گا یا یہ کہ ان کے اعمال کے موافق اس روز فرشتوں کو بغیر حکم خداوندی کلام کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(لایسمعون فیھا لغوا ولا کذباً : جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان واں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جسے ان کاموں سے نفرت ہو پھر اس کا واسطہ بےہودہ بکنے والوں اور ایک دور سے کو جھٹلانے والے بدتمیزوں سے رہتا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لایسمعون فیھا لغوا ولاکذابا۔ ھاضمیر سے مراد جنت ہے لغو سے مراد باطل ہے اس سے مراد لغوکلام ہے اس معنی میں حدیث ہے جب تو نے جمعہ کے روز اپنے ساتھی سے کہا، خاموش ہوجاجب کہ امام خطبہ دے رہا ہوتوتونے باطل عمل کیا، اس کی وجہ یہ ہے جب وہ جام پئیں گے تو ان کی عقلیں متغیر نہ ہوں گی اور وہ باطل کلام نہ کریں گے جبکہ دنیاداروں کا معاملہ مختلف ہے نیز وہ ایک دوسرے کو نہیں جس میں وہ جھوٹ نہیں سنیں گے کسائی نے کذابا پڑھا ہے یہ کذبت کذابا ہے یعنی وہ جنت میں باہم جھوٹ نہ بولیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ونوں تکذب کے مصدر ہیں یہاں اسے غیر مشدد پڑھا کیا ہے کیونکہ یہ کسی ایسے فعل کے ساتھ مقید نہیں جس کا یہ مفعول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

17۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایسمعون فیہا لغوا ولا کذابا نہ وہاں بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹ۔ یعنی نہ جھوٹی بات اور نہ گناہ کی بات۔ عطاء حسابا۔ کامل عطا یعنی بہت بخشش۔ لایملکون منہ خطابا۔ کہ وہ اس سے بات نہیں کرسکیں گے۔ یعنی بغیر اجازت اس سے کلام نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں سنیں گے اس میں ][ لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا : کوئی بےسود بات اور نہ کوئی جھٹلانا ] (آیت۔ 35) ۔ لَغْوًا اور کِذَّابًا، لا یَسْمَعُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

اہل کفر اور اہل شرک کا انجام اور عذاب بتانے کے بعد متقی حضرات کے انعام و اکرام کا تذکرہ فرمایا، تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں، سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے کہ کفر و شرک سے بچے اور اس کے بعد گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے اور اس کے بھی درجات مختلف ہیں حسب درجات انعامات ہیں فرمایا ﴿ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ (بلاشبہ تقویٰ والوں کے لیے کامیابی ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ مفازا مصدر میمی ہو اور اگر اسم ظرف لیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ (متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے) اس کے بعد کامیابی پر ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ0032﴾ (یعنی ان حضرات کو باغیچے ملیں گے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–40

انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔ بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–35

8:۔ ” اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ “۔ یہ شرک و کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مومنوں کو آخرت میں ہر مقصد و مطلب میں کامیابی اور ہر مکروہ اور ہر تکلیف سے نجات نصیب ہوگی۔ ” حَدَائِقَ “ یہ ” مَفَازًا “ سے بدل الاشتمال ہے اور اس میں مومنوں کی فوز و فلاح کی قدرے تفصیل ہے ان کو وہاں سے نوح کے باغات ملیں گے خصوصًا انگوروں کے۔ جنت میں ان کی مصاحبت ورفاقت کے لیے نوجوان عورتیں ہوں گے جو ان کی ہمعصر ہوں گی اور وہاں ان کو انواع و اقسام کے مشروبات کے چھلکتے ساغر پیش کیے جائیں گے۔ وہ جنت میں کوئی لغو، بیہودہ، اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے اہل جنت ان خرافات سے پاک ہوں گے ان کی زبانوں سے کوئی اخلاق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(وہاں لغویات نہیں ہونگی ) فرمایا یسمعون فیھا لغواولا کذابا جنتی جنت میں کوئی لغو یا جھوٹی بات نہیں سنیں گے۔ وہاں کوئی بہیودہ بات چیت نہیں ہوگی بلکہ ہر طرف خیروبرکت کی باتیں ہوں گی جیسا کہ سورة واقعہ میں الا قیلا سلما سلما “ جس طرف جائیں گے فرشتے سلام کریں گے ، کوئی گالی گلوچ تمسخرواستہزایاذلت ورسوائی والی بات نہیں سنی جائے گی ۔ نہ کوئی جھوٹی بات ہوگی ۔ جنت ان بری چیزوں سے مکمل طور پر پاک ہوگی ۔ یہ جنت والوں کے انعامات ہوں گے ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْہَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا۝ 35 ۚ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–37

ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–35

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مُفَازًا۔ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًا۔ وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا۔ وَّکَاْسًا دِھَاقًا۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ کِذّٰبًا۔ (النبا : 31 تا 35) (یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔ ) قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ اس سے پہلے ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے نفس کے اتباع میں سرکشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔ جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35 : لَایَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّ لَا کِذّٰبًا (وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ) یعنی وہ جنت میں نہ سنیں گے۔ کوئی باطل بات اور نہ تکذیب۔ نحو : لایسمعون یہ اِنَّ کی خبر کی ضمیر سے حال ہے۔ لغوؔ : باطل بات۔ قراءت : کذاباؔ کسائی نے خفیف کے ساتھ پڑھا۔ اور بمعنی مکاذبہٗہے یعنی وہ ایک دوسرے سے جھوٹ نہ بولیں گے۔ نمبر 2۔ اور وہ اس کو نہ جھٹلائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔” وکاسا دھاقا “ ابن عباس ؓ ، حسن ، قتادہ اور ابن زید رحمہم اللہ فرماتے ہیں چھلکتے ہوئے۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں لگاتار، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں خالص۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–36

31۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا) یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنین گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ جھوٹ۔ یعنی گناہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لایسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما۔ الا قیلا سلما سلما۔ الواقعہ۔ 25، 26) ۔ وہ جنت میں کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(29) لغو بات اور جھوٹ سے حفاظت کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ نہ تو کسی طرح کی کوئی لغو بات سنیں گے، اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جھوٹ۔ جیسا کہ اس دنیا میں ہوتا ہے کہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے جھوٹ و فریب اور دروغ گوئی وغیرہ سب کچھ سننا پڑتا ہے کہ یہاں پر ان ہی چیزوں کا دور دورہ ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ مگر جنت کی وہ دنیا لغو و کذب کی ایسی تمام کدورتوں سے پاک وصاف ہوگی اور وہاں پر ہر طرف صدق و سلامتی ہی کی دلنوار صدائیں ہی کانوں میں پڑتی ہوں گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً (…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–36

اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔ میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے محمد منظور الحق

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–36

ف 4 یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے اور ” حساباً “ کا مطلب بعض مفسرین نے کانیا، بیان کیا ہے یعنی اتنا بدلہ جس سے زیادہ کی خواہش بھی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:35) لا یسمعون فیہا لغوا ولا کذابا : یہ جملہ متقین کی ضمیر سے حال ہے فیہا کی ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع۔ (1) کا سا کی طرف راجع ہے یعنی دنیوی شراب پینے کے وقت جس طرح لغو اور بیہودہ باتیں سنی جاتی ہیں جنت کی شراب پیتے وقت وہ نہیں سنی جائیں گی۔ (2) فیہا کی ضمیر مفازا کی طرف راجع ہے اور مفازا سے مراد ہے حدائق اور جنتیں۔ (3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ وہاں متقین کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ (خرافات) کذابا :۔ مصدر۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق (باب تفعیل) کسی کو جھوٹا قرار دینا ۔ جھوٹا سمجھنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–36

جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔ (ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–38

[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ [11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(35) وہاں یہ لوگ نہ کوئی بےہود بات سنیں گے اور نہ جھٹلانا ۔ یعنی دنیا کے شرابی جس طرح گالیاں بکتے ہیں اور آپس میں لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتا ہے اور جھوٹ بولتے ہیں ان تمام لغو اور بےہودہ باتوں میں سے کوئی بات بھی وہاں نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ نہ تو فضول باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹ کی باتیں ۔ 35 دنیوی زندگی میں جن لوگوں کو یہ چیزیں میسر تھیں جن کا ذکر اہل جنت کے بیان میں ان کو جنت میں دینے کا کیا گیا ہے وہ ان چیزوں کو حاصل کر کے جس طرح بد اعتدالیاں کرنے لگے ان کا ذکر بھی پیچھے اہل دوزخ کے بیان میں گزر چکا کہ انہوں نے مال و دولت کی فراوانی پا کر ، عہد و اقتدار حاصل کر کے ان سے دنیوی زندگی کے غلط فوائد حاصل کئے اور وہ ایسے دردہ ہوئے کہ ان کو کسی چیز کی کوئی پرواہ ہی نہ رہی ، نہ وہ حلال و حرام میں تمیز کرسکے ، نہ جائز و ناجائز کو انہوں نے دیکھا اور نہ ہی حق اور ناحق کی شناخت کی اور اس طرح مادر پدر آزاد ہوئے کہ انہوں نے قانون کو کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ("So now taste! We will never add to you anything except torment."....78:30). In other words, in the world they continued to add disbelief. If death did not overtake them by coercion, they would have continued to add disbelief, and today their punishment will be increased. Thus far the punishment of disbelievers was depicted. As opposed to this, the reward and blessings of the righteous believers are depicted below.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

21 At several places in the Qur'an this has been counted as among the major blessings of Paradise. Human ears there will remain secure against idle, false and indecent talk. There will be no nonsensical, meaningless gossiping in Paradise; no one will tell lies nor belie others; nor will there be any use of abusive language, slandering; calumnies and false accusations which are so common in the world. (For further explanations, see E.N. 28 of Surah Maryam, E.N.'s 13, 14 of AlWaqi`ah) .

Read the full tafseer →