حَدَآىِٕقَ وَاَعْنَابًا ۟ۙحَدَآئِقَ وَاَعۡنَابًا
(یعنی) باغ اور انگور
— Fateh Muhammad Jalandhari
Gardens and grapevines
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz
حَدَآىِٕقَ وَاَعْنَابًا ۟ۙحَدَآئِقَ وَاَعۡنَابًا
(یعنی) باغ اور انگور
— Fateh Muhammad Jalandhari
Gardens and grapevines
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naba
باغ اور انگور
(یعنی) باغ اور انگور
باغات ہیں اور انگور ہیں
باغات اور انگور۔
باغ ہیں اور انگور،
(ان کے لئے) باغات اور انگور (ہوں گے)،
باغات اور انگور۔
باغات اور انگور
۔ باغ اور انگور ،
طرح طرح کے عظیم الشان باغ اور انگور
یعنی باغ ہیں اور انگور
(ان کے لیے) باغ اور انگور ہوں گے۔
یعنی باغ اور انگور
gardens and vineyards,
__gardens and grapes,
__gardens and grapes,
Hada'iq and vineyards,
Gardens enclosed and vineyards,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Gardens and grapevines
They will have gardens and vineyards,
Gardens and vineyards,
Gardens enclosed and vineyards,
Gardens enclosed, and grapevines;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 31–36
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
سورة النَّبَا 20 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ ان لوگوں کی ہم سن ہوں گی جن کی زوجیت میں وہ دی جائیں گی۔ سورة ص، آیت 52۔ اور سورة واقعہ آیت 37 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →’حَدَآئِقَ وَاَعْنَابًا‘۔ یہ اس کامیابی کی تفصیل ہے کہ ان کے لیے باغ ہوں گے اور انگور۔ ’حَدَآئِقَ‘ معروف تو کھجور کے باغوں کے لیے ہے لیکن کھجور کے باغوں کے لیے عمدہ طریقہ یہ تھا کہ کنارے کنارے کھجوروں کی باڑھ ہو اور بیچ میں انگوروں اور دوسرے پھلوں اور سبزیوں کے قطعات۔ یہاں ’حَدَآئِقَ‘ کے بعد ’اَعْنَابٌ‘ کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے طور پر ہے اور اس سے اگر انگورستان مراد لیں تو یہ بھی مراد لے سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
8 یعنی نو ساختہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی، اور سب ایک ہی سن و سال کی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت 30{ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۔ } ”تو اب چکھو ! ہم ہرگز اضافہ نہیں کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ہی میں۔“ تمہارے اس عذاب کی شدت ہر لحظہ بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔۔ اب اگلی آیات میں اہل جنت کا ذکر ہے
Read the full tafseer →21 پرہیزگاروں کو نجات کے بعد زائد انعام جنت یا جنت کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جارہا ہو۔ ان میں پہلی چیز تو حدائق ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے اور حدیقہ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کی خاطر چار دیواری کی گئی ہے۔ ایسے باغات میں بالخصوص انگوروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہی ایک ایسا پھل ہے جو پورے کا پورا کھایا جاسکتا ہے نہ اس کا چھلکا اتارنا پڑتا ہے اور نہ اس میں گٹھلی یا بیج ہوتے ہیں اور اگر بیج ہوتے ہیں تو صرف بڑے سائز کے انگور میں جس سے منقیٰ بنتا ہے۔ یہ بیج بھی اگر کوئی شخص کھالے تو کچھ حرج نہیں۔ اور نرم اتنا کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جاتا ہے۔ شیریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ترجمہ : یقینا پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے (یعنی) جنت میں کامیابی کا مقام ہے، باغات ہیں (حدائق) مفازا سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے اور انگور ہیں مفازا پر عطف ہے اور ہم عمر ابھری ہوئی پستانوں والی نو خیز لڑکیاں ہیں کو اعب، کا عبۃ کی جمع ہے وہ لڑکیاں جو نوجوان ہوں اور ان کی پستانیں ابھری ہوئی ہوں، (اتراب) ترب کی جمع ہے ہم عمر کو کہتے ہیں اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں (یعنی) ایسی شراب ہے جو جاموں کو بھرنے والی ہے اور سورة قتال میں ہے، اور سورة قتال میں ہے، اور شراب کی نہریں ہیں، وہاں یعنی جنت میں کسی بھی وقت نہ تو شراب پینے کے وقت اور نہ اس کے علاوہ نہ تو بیہودہ کلام ہوگا یعنی باطل قول اور نہ…
Read the full tafseer →حدائق و اعنابا چمنستان اور انگور
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(31۔ 33) کفر و شرک اور فواہش سے بچنے والوں کے لیے جنت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کا قرب ہے اور مختلف قسم کے باغوں کے انگور ہیں اور دل بہلانے کو نوخاستہ ہم عمر عورتیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
حدآئق واعناباً…:”حدآئق“ ”حدیقہ“ کی جمع ہے، وہ باغ جس کے گرد چار دیواری ہو۔ ”اعناباً“ ”عنب“ کی جمع ہے۔ انگور کو پھلوں میں ایک خصوصیت حاصل ہے، اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔”اعناباً جمع لانے کا مطل ہے کہ انگور کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ ”کو اعب“ ”کا عب“ کی جمع ہے، وہ نوجوان لڑکی جس کا سینہ ایسے ابھرا ہوا جیسے کعب یعنی ٹخنہ۔”اتراباً“ ”ترب“ (تاء کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، مٹی میں ساتھ کھیلنے والے ہم عمر۔ آپس میں ہم عمر ہوں گی یا اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں ی۔
Read the full tafseer →حدائق واعنابا۔ یہ فوز کی تفسیر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ متقین کے لیے باغات ہیں، حدائق، حدیقہ کی جمع ہے یہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کا احاطہ کیا گیا ہو، جس طرح کہا جاتا ہے، احدق بہ یعنی اس کا احاطہ کیا، اعنابا، عنب کی جمع ہے اس سے مراد انگور کی بیلیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حدائق واعنابا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا الحدائق سے مراد ہیں باغ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ بلاد سقاہا اللہ اما سولہا فقضب ودر مغدق وحدائق ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شہروں کو خب سیراب کیا رہے ان کے میدان تو وہاں لمبی لمبی شاخوں والے درخت ہیں انتہائی سر سبز و شاداب و نباتات اور باغات ہیں پھر پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وکاسا دھاقا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ الک اس تو فرمایا الک اس سے مراد شراب ہے۔ والدہاق سے…
Read the full tafseer →[حَدَاۗىِٕقَ وَاَعْنَابًا : باغیچے ہیں اور انگور ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اہل کفر اور اہل شرک کا انجام اور عذاب بتانے کے بعد متقی حضرات کے انعام و اکرام کا تذکرہ فرمایا، تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں، سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے کہ کفر و شرک سے بچے اور اس کے بعد گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے اور اس کے بھی درجات مختلف ہیں حسب درجات انعامات ہیں فرمایا ﴿ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ (بلاشبہ تقویٰ والوں کے لیے کامیابی ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ مفازا مصدر میمی ہو اور اگر اسم ظرف لیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ (متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے) اس کے بعد کامیابی پر ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ0032﴾ (یعنی ان حضرات کو باغیچے ملیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔ بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
8:۔ ” اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ “۔ یہ شرک و کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مومنوں کو آخرت میں ہر مقصد و مطلب میں کامیابی اور ہر مکروہ اور ہر تکلیف سے نجات نصیب ہوگی۔ ” حَدَائِقَ “ یہ ” مَفَازًا “ سے بدل الاشتمال ہے اور اس میں مومنوں کی فوز و فلاح کی قدرے تفصیل ہے ان کو وہاں سے نوح کے باغات ملیں گے خصوصًا انگوروں کے۔ جنت میں ان کی مصاحبت ورفاقت کے لیے نوجوان عورتیں ہوں گے جو ان کی ہمعصر ہوں گی اور وہاں ان کو انواع و اقسام کے مشروبات کے چھلکتے ساغر پیش کیے جائیں گے۔ وہ جنت میں کوئی لغو، بیہودہ، اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے اہل جنت ان خرافات سے پاک ہوں گے ان کی زبانوں سے کوئی اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(باغ اور ہم عمر عورتیں ) متقیوں کے انعامات کے متعلق فرمایا حدائق واعنابا ان کے لیے باغ اور انگوروں کے گچھے ہوں گے ۔ حدائق حدیقۃ کی جمع ہے۔ اور یہ اس باغ کو کہتے ہیں جسکے ارد گرد چار دیواری ہو یا کوٹھی ہو۔ وہ ایسے باغ کو عربی زبان میں ریاض یا بستان کہا جاتا ہے۔ باغ اور انگور تو رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان ہے ۔ مگر ذہنی آرام سکون کے لیے فرمایا وکواعب اترابا نوجوان ہم عمر عورتیں ہوں گی دوسری جگہ فرمایا زوجنھم بحورعین ایک مقام پر ارشاد ہے ولھم فیھا ازواج مطھرۃ ان کے لیے پاکیزہ عورتیں ہوں گی جو ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے پاکیزہ ہوں گی ۔ شکل و صورت میں بھی نہایت اعلیٰ ہوں گی۔ اور اخلاق کے بھی…
Read the full tafseer →حَدَاۗىِٕقَ وَاَعْنَابًا 32 ۙ حدق حَدائِقَ ذاتَ بَهْجَةٍ [ النمل/ 60] ، جمع حدیقة، وهي قطعة من الأرض ذات ماء، سمّيت تشبيها بحدقة العین في الهيئة و حصول الماء فيها، وجمع الحَدَقَة حِدَاق وأحداق، وحَدَّقَ تحدیقا : شدّد النظر، وحَدَقُوا به وأَحْدَقُوا : أحاطوا به، تشبيها بإدارة الحدقة . ( ح د ق ) الحدیقۃ ( مرغزار ) وہ قطعہ زمین جس میں پانی جمع ہو اور حیات و صورت اور پانی کے ہونے کی وجہ سے اسے حدقہ العین ( آنکھ کی پتلی ) کے ساتھ تشبیہ دے کر اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ اس کی جمع حدائق آتی ہے قرآن میں ہے فَجَعَلْناهُمْ أَحادِيثَ [ سبأ/ 19] سر سبز باغ ۔ اور حدقۃُ کی جمع حداق و احداق آتی ہے ۔ حدق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مُفَازًا۔ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًا۔ وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا۔ وَّکَاْسًا دِھَاقًا۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ کِذّٰبًا۔ (النبا : 31 تا 35) (یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔ ) قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ اس سے پہلے ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے نفس کے اتباع میں سرکشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔ جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں…
Read the full tafseer →حالاتِ جنت : 32 : حَدَآ ئِقَ وَاَعْنَابًا (یعنی باغ اور انگور) ایسے باغات جس میں ہر قسم کے پھلدار درخت ہونگے۔ حدائق جمع حدیقۃ کی ہے۔ اعنابؔ انگور کی بیلیں۔ نحو : اس کا عطف حدائق پر ہے۔ اور وہ مفازا کا بدل البعض ہے۔
Read the full tafseer →31 ۔” ان للمتقین مفازا “ جہنم سے کامیابی اور نجات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
31۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت…
Read the full tafseer →(حَدَاۗىِٕقَ ) ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ (وَاَعْنَابًا) اور انگور ہیں۔ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی اللہ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا ان باغات میں انکی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(28) اہل جنت کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے طرح طرح کے عظیم الشان باغ اور انگور بھی ہوں گے، نوخیز عمر لڑکیاں بھی، اور شراب طہور کے چھلکتے جام بھی۔ ایسی شراب طہور کے جس سے نہ درد سر ہوگا، اور نہ کسی طرح کی کوئی با وہ گوئی، جیس کہ دوسری جگہ فرمایا گیا لَا یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلَا یُنزِفُونَ ( الواقعہ 19 پ 27) سو وہاں کی اس شراب طہور میں کیف و سرور تو بدرجہ کمال موجود ہوگا لیکن ان برے اثرات میں سے کسی کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا، جو دنیوی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ یہاں پر حدائق کے بعد اعناب کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے طور پر فرمایا گیا کہ وہ نوخیز یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔ میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے محمد منظور الحق
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 3 آپس میں دوسرے کی ہم سن یا جنتیوں کی ہم سن۔
Read the full tafseer →(78:32) حدائق واعنابا : حدائق باغات حدیقۃ کی جمع جس کے معنی اس باغ کے ہیں جس کے گرد چار دیواری کھینچی ہوئی ہو۔ باغ کا نام حدیقۃ اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ وہ اپنی ہیئت اور شکل میں حدقہ یعنی آنکھ کی پتلی کے مشابہ ہے جس طرح وہ گھری ہوئی اور بارونق اور با آب و تاب ہوتی ہے ۔ اس طرح حدیقہ ہوتا ہے۔ حدائق بدل ہے مفازا سے۔ اعنابا، عنب کی جمع ہے بمعنی انگور۔ اور یہ حدائق کا معطوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔ (ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ [11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد…
Read the full tafseer →(32) وہ مراد باغ ہیں اور انگور ہیں۔ اگرچہ باغ عام تھے جو انگور کے درختوں کو بھی شامل تھے لیکن اہتمام شان کے لئے تعمیم کے بعد انگوروں کی تخصیص فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →ان کے لئے گھنے باغات ہوں گے اور انگور بھی ۔ 32 پرہیز گار لوگ جب دنیوی زندگی گزار کر اللہ رب کریم کے ہاں پہنچ گئے اور ان کی دنیوی زندگی کا خاتمہ ہوگیا اور جس قد 2 میں وہ مبتلا تھے اس سے چھوٹ گئے تو اب اخروی زندگی میں ان کے لئے گھنے باغات ہیں اور انگوروں کے گچھے کے گچھے ہیں اور اخروی زندگی کی ساری فراوانیاں ان کو حاصل ہیں۔ دنیا والوں کا بھی یہ اصول تھا کہ دب کے واہ تے رج کے کھاوہ دنیا میں جو کچھ کرتے رہے آخرت ہی کے لئے کرتے رہے ، اس لئے آخرت کی ہر آسائش اور آرام ان کو میسر آگیا اور لاریب ان کو یہ سب کچھ میسر آنا ہی چاہئے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ("So now taste! We will never add to you anything except torment."....78:30). In other words, in the world they continued to add disbelief. If death did not overtake them by coercion, they would have continued to add disbelief, and today their punishment will be increased. Thus far the punishment of disbelievers was depicted. As opposed to this, the reward and blessings of the righteous believers are depicted below.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
20 TMs may mean that they will be of equal age among themselves as well as that they will be of equal age with their husbands. This same theme has already occurred in Surah Suad 52 and Al-Waqi`ah :37 above.
Read the full tafseer →