An-Naba 78:31

An-Naba · from ayah 31

78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا ۟ۙاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا

بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, for the righteous is attainment -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:31

یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا تھا، ان کی بیشک بڑی جیت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پرہیز گاروں کے لیے یقینا کامیابی کا ایک مقام ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک خدا ترسوں کے لئے فائزالمرامی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی ہی عظیم الشان کامیابی ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اہل ِتقویٰ کے لیے کامیابی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the state of triumph awaits the God-fearing:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Of course, the God-fearing will have great achievement,

— Muhammad Taqi Usmani

Of course, the God-fearing will have great achievement,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, for those who have Taqwa, there will be a success;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, for the righteous is attainment -

— Saheeh International

The pious ones will be triumphant.

— Muhammad Sarwar

Surely for those who guard (against evil) is achievement,

— Muhammad Habib Shakir

Verily for the God-fearing is an achievement.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily for the Righteous there will be a fulfilment of (the heart's) desires;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–36

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 30–31

سورة النَّبَا 19 یہاں متقیوں کا لفظ ان لوگوں کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے جو کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ اس لیے لامحالہ اس لفظ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو مانا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ: سرکشوں اور باغیوں کے انجام کے بعد یہ متقیوں کا صلہ بیان ہوا ہے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آ جائے۔ فرمایا بے شک ان لوگوں کے لیے اس دن بڑی فیروز مندی و کامیابی ہے جنھوں نے روز جزا و سزا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری۔ یہ حقیقت یہاں ملحوظ رہے کہ زندگی کو جادۂ مستقیم پر استوار رکھنے والی چیز خوف آخرت ہی ہے۔ جس کے اندر یہ ہے وہ متقی ہے اور جس کا سینہ اس خوف سے خالی ہے اس کے اندر شیطان اپنا مسکن بنا لیتا ہے اور وہ خدا کی نافرمانی بالکل بے خوف ہو کر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 29–32

29۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–36

3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پہلے منظر میں جہنم آراستہ و پیراستہ تھی۔ کفار کے ٹھکانے کے طور پر اور وہ یوں گھات میں تیار بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری گھات میں بیٹھتا ہے۔ اور ایک ایک شکار کرتا ہے۔ اسی طرح جہنم سے بھی کوئی بچ کر نہ نکل سکتا تھا۔ اس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ اہل جنت نجات اور کامیابی کے مقام پر فائز ہوچکے ہیں۔ اور یہ نجات اور کامیابی کی جگہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

8 یعنی نو ساختہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی، اور سب ایک ہی سن و سال کی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

آیت 30{ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۔ } ”تو اب چکھو ! ہم ہرگز اضافہ نہیں کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ہی میں۔“ تمہارے اس عذاب کی شدت ہر لحظہ بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔۔ اب اگلی آیات میں اہل جنت کا ذکر ہے

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 مَفَازًا کا لغوی مفہوم :۔ مَفَازًا : فاز بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرکے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے فاز الرجل اور فَوْزَ الرجل کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–36

13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–35

ترجمہ : یقینا پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے (یعنی) جنت میں کامیابی کا مقام ہے، باغات ہیں (حدائق) مفازا سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے اور انگور ہیں مفازا پر عطف ہے اور ہم عمر ابھری ہوئی پستانوں والی نو خیز لڑکیاں ہیں کو اعب، کا عبۃ کی جمع ہے وہ لڑکیاں جو نوجوان ہوں اور ان کی پستانیں ابھری ہوئی ہوں، (اتراب) ترب کی جمع ہے ہم عمر کو کہتے ہیں اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں (یعنی) ایسی شراب ہے جو جاموں کو بھرنے والی ہے اور سورة قتال میں ہے، اور سورة قتال میں ہے، اور شراب کی نہریں ہیں، وہاں یعنی جنت میں کسی بھی وقت نہ تو شراب پینے کے وقت اور نہ اس کے علاوہ نہ تو بیہودہ کلام ہوگا یعنی باطل قول اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان للمتقین مفازا متقیوں کے لیے بڑی کامیابی ہوگی ‘ مفازًا (مصدر) کامیابی اور دوزخ سے نجات یا (اسم ظرف) مقام کامیابی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–33

(31۔ 33) کفر و شرک اور فواہش سے بچنے والوں کے لیے جنت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کا قرب ہے اور مختلف قسم کے باغوں کے انگور ہیں اور دل بہلانے کو نوخاستہ ہم عمر عورتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان للمتقین مفازاً : جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنہیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلا دیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر و تکذیب سے ڈرنے والوں کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ”مفازاً“ مصدر ہو تو معنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“”مفازاً“ میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان للمتقین۔۔ تا۔۔۔۔ حسابا۔ ان للمتقین مفازا، حدائق واعنابا۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت سے بچاتا ہے اس کی جزا کا ذکر کیا مفازا یہ کامیابی ہے اور نجات اور جہنمی جس میں داخل ہوچکے ہیں اس سے خلاصی کی جگہ ہے اسی وجہ سے جب پانی کم ہوجاتا ہے تو اسے فلاحا ومفازا کہتے ہیں یہ فال لیتے ہوئے کہ اس قحط سالی سے نجات نصیب ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان للمتقین مفازا بیشک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے۔ یعنی وہ کامیاب ہوئے اس طرح پر کہ انہوں نے دوزخ سے نجات پائی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ان للمتقین مفازا کے بارے میں روایت کیا کہ کامیابی ہوگی دوزخ سے بچ کر جنت کی طرف جانے میں۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان للمتقین مفازا میں مفازا سے مراد ہے محفوظ ہونا نجات پانا۔ یعنی متقین کے لیے نجات پانا اور محفوظ ہونا ہے آیت وکواعب اور نوجوان لڑکیاں یعنی ابھرے ہوئے پستانوں والیاں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان لِلْمُتَّقِيْنَ : یقینا متقی لوگوں ہی کے لیے ][ مَفَازًا : مراد پانے کی ایک جگہ ہے ] ترکیب : (آیت۔ 31) مَفَازًا مبتدا مؤخر نکرہ ہے اور اِنَّ کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو مَرْجُوْدٌ ہوسکتی ہے۔ لِلْمُتَّقِیْنَ قائم مقام خبر مقدم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

اہل کفر اور اہل شرک کا انجام اور عذاب بتانے کے بعد متقی حضرات کے انعام و اکرام کا تذکرہ فرمایا، تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں، سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے کہ کفر و شرک سے بچے اور اس کے بعد گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے اور اس کے بھی درجات مختلف ہیں حسب درجات انعامات ہیں فرمایا ﴿ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ (بلاشبہ تقویٰ والوں کے لیے کامیابی ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ مفازا مصدر میمی ہو اور اگر اسم ظرف لیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ (متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے) اس کے بعد کامیابی پر ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ0032﴾ (یعنی ان حضرات کو باغیچے ملیں گے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–40

انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔ بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–35

8:۔ ” اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ “۔ یہ شرک و کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مومنوں کو آخرت میں ہر مقصد و مطلب میں کامیابی اور ہر مکروہ اور ہر تکلیف سے نجات نصیب ہوگی۔ ” حَدَائِقَ “ یہ ” مَفَازًا “ سے بدل الاشتمال ہے اور اس میں مومنوں کی فوز و فلاح کی قدرے تفصیل ہے ان کو وہاں سے نوح کے باغات ملیں گے خصوصًا انگوروں کے۔ جنت میں ان کی مصاحبت ورفاقت کے لیے نوجوان عورتیں ہوں گے جو ان کی ہمعصر ہوں گی اور وہاں ان کو انواع و اقسام کے مشروبات کے چھلکتے ساغر پیش کیے جائیں گے۔ وہ جنت میں کوئی لغو، بیہودہ، اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے اہل جنت ان خرافات سے پاک ہوں گے ان کی زبانوں سے کوئی اخلاق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(تذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ اور یہ کہ ان یوم الفصل کان میقاتا فیصلے کا ایک دن مقرر ہے ۔ وہ لازما آنے والا ہے ۔ اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کے اعتبار سے جدا کیا جائے گا ۔ نیک وبد اپنے اپنے گروہوں میں علیحدہ علیحدہ ہوں گے ، نیکوکار ، اللہ کی تو حید کو ماننے والے الگ ہوں گے مکذبین اور قیامت پر یقین نہ رکھنے والے الگ ہوں گے مکذبین کا جو حشر قیامت کو ہونے والا ہے ۔ اس کا بیان بھی گذشتہ درس میں ہوچکا ہے ۔ اب اس درس میں متقین کے حالات بیان ہوگے ۔ الغرض اس سورة میں قیامت کا حال کاشتکار کی ذہنیت کے مطابق بیان کیا گیا ہے ، جس طرح کسان زمین کاشت کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا۝ 31 ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–37

ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–35

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مُفَازًا۔ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًا۔ وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا۔ وَّکَاْسًا دِھَاقًا۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ کِذّٰبًا۔ (النبا : 31 تا 35) (یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔ ) قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ اس سے پہلے ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے نفس کے اتباع میں سرکشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔ جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

متقین کی کامیابی : 31 : اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا (اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کیلئے بیشک کامیابی ہے) مفازؔ یہ الفوزؔ سے مَفْعَلٌ کا وزن ہے مصدر بھی بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہر ناپسند سے نجات پانا اور ہر محبوب و پسند کو پالینا ہے اور مفازًا ؔ ظرف مکان بن سکتا ہے۔ اس وقت مکان کامیابی یعنی جنت مراد ہے۔ پھر اس کا بدل البعض اگلی آیت میں لائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–36

31۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جہاں اللہ تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا وہاں اہل تقوی کے انجام کا ذکر بھی فرمایا (اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا) یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے، اس کی اطاعت کا دمن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آگئے ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے (حَدَاۗىِٕقَ ) باغ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–31

(27) پرہیزگاروں کے صلہ و بدلہ کا ذکر وبیان : سو باغیوں اور سرکشوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب متقی اور پرہیزگار لوگوں کا صلہ و بدلہ بیان فرمایا جارہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ پرہیزگاروں کے لئے ایک عظیم الشان کامیابی ہے یعنی ان کے لیے ہے جنہوں نے اپنے آپ کو کفر و شرک کی تمام آلائشوں سے بچایا ہوگا، اور معاصی وذنوب کی ظلمت و سیاہی سے محفوظ رکھا ہوگا، فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد والثبات لما تحب وترضی من القول والعمل۔ بہرکیف اس سے سرکشوں اور باغیوں کے مقابلے میں متقیوں اور پرہیزگاروں کے انجام کو بیان فرمادیا گیا، تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رہے۔ پس جن لوگوں نے روز جزا سے ڈرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–36

اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔ میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے محمد منظور الحق

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:31) فائدہ : اب آیت ہذا سے ان لوگوں کے اوپر خدا کے لطف و کرم کا ذکر ہے جو روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے دربار میں حاضری کا خوف ان کو ہر گناہ سے باز رکھتا تھا۔ (ضیاء القرآن) ان للمتقین مفازا : مفازا مصدر بمعنی کامیابی۔ یہ فوز سے اسم ظرف بھی ہوسکتا ہے۔ الفوز کے معنی ہیں سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینا۔ مفازا اسم ان ہے۔ لہٰذا منصوب ہے۔ للمتقین اس کی خبر۔ ضرور پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–36

جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔ (ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–38

[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ [11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) البتہ پرہیزگاروں اور بچنے والوں کو کامیابی اور مراد ملنی ہے۔ پرہیزگار کی تفصیل ہم مرسلات میں عرض کرچکے ہیں …یعنی شرک اور معاصی سے بچنے والے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ نیکو کاروں کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ 31 وہ لوگ جو دنیوی زندگی میں جو کرتے ہیں محض نیکو کاری کے لئے کرتے ہیں نہ تو ان کے ہاں دکھاوا ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی مفاد ہے ، اگر ان کے ہاں کچھ ہے تو وہ رضائے الٰہی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ تگ و دو کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں تو وہی جو اللہ کی چاہت ہے۔ ان کے ہاں دنیوی زندگی کی کوئی دلچسپی ہے تو وہ محض اتنی ہے کہ وہ اس زندگی میں رہ کر آخرت کی تیاری کرسکتے ہیں اور آخرت کے لئے اعمال کرسکتے ہیں ، وہ کھاتے ہیں تو محض اس لئے کہ وہ آخرت کے لئے کچھ سامان اکٹھا کرلیں اور وہ پہنتے ہیں تو محض اس لئے کہ ننگا رہنا ان کے اللہ کی رضا نہیں ، وہ سوتے ہیں تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ("So now taste! We will never add to you anything except torment."....78:30). In other words, in the world they continued to add disbelief. If death did not overtake them by coercion, they would have continued to add disbelief, and today their punishment will be increased. Thus far the punishment of disbelievers was depicted. As opposed to this, the reward and blessings of the righteous believers are depicted below.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–31

19 Here, the word "righteous" has been used in contrast to those who did not expect any accountability and who had belied Allah's Revelations. Therefore, this word inevitably implies those people who believed in Allah's Revelations and lived in the world with the understanding that they had to render an account of their deeds ultimately.

Read the full tafseer →