An-Naba 78:33

An-Naba · from ayah 33

78:33

وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا ۟ۙوَّكَوَاعِبَ اَتۡرَابًا

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And full-breasted [companions] of equal age

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:33

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نو خیز ہم عمر لڑکیاں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اٹھتے جوبن والیاں ایک عمر کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جواں سال ہم عمر دوشیزائیں (ہوں گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ابھری چھاتیوں والی ہم عمر لڑکیاں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نوخیز ! ہم عمر لڑکیاں

— مولانا اسحاق مدنی

اور نوخاستہ ہم عمر عورتیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نوجوان ہم عمر بیویاں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and youthful maidens of like age,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and buxom maidens of matching age,

— Muhammad Taqi Usmani

and buxom maidens of matching age,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Kawa`ib Atrab,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And full-breasted [companions] of equal age

— Saheeh International

maidens with pears-shaped breasts who are of equal age (to their spouses)

— Muhammad Sarwar

And voluptuous women of equal age;

— Muhammad Habib Shakir

And full-breasted maidens of equal age.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–36

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة النَّبَا 20 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ ان لوگوں کی ہم سن ہوں گی جن کی زوجیت میں وہ دی جائیں گی۔ سورة ص، آیت 52۔ اور سورة واقعہ آیت 37 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا‘۔ یہ حوروں کا ذکر ہے۔ ان کی تعریف میں فرمایا کہ یہ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی اور باہم دگر بالکل ہم سِن ہوں گی۔ ہم سِنی آپس کی بے تکلفی، دل چسپی اور ہم طرحی و ہم مذاقی کے لیے ضروری چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

33۔ 1 کَوَاعِبَ کَاعِبَۃً کی جمع ہے، یہ کَعْبً (ٹخنہ) سے ہے، ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہوگا، جو ان کے حسن و جمال کا ایک مظہر ہے۔ اَتْرَاب، ُ ہم عمر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–36

3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

8 یعنی نو ساختہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی، اور سب ایک ہی سن و سال کی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

آیت 30{ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۔ } ”تو اب چکھو ! ہم ہرگز اضافہ نہیں کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ہی میں۔“ تمہارے اس عذاب کی شدت ہر لحظہ بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔۔ اب اگلی آیات میں اہل جنت کا ذکر ہے

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

22 کو اعب کا لغوی مفہوم :۔ کَوَاعِبَ ۔ کعب بمعنی ٹخنہ، پھر جو کوئی ابھار ٹخنہ کی مانند ہو اس پر بھی کعب کا اطلاق ہوتا ہے۔ کعبت الجاریہ بمعنی لڑکی کے پستان ابھر آئے اور بڑے ہوئے اور کعب بمعنی عورت کے ابھرے ہوئے پستان اور کا عب اور کا عبہ اس نوجوان عورت کو کہتے ہیں جس کے پستان ابھر آئے ہوں اور اس کی جمع کو اعب آتی ہے۔ یعنی اہل جنت کو باغات اور انگوروں کے علاوہ نوخیز عورتیں بھی ملیں گی جو ہم عمر ہوں گی۔ ہم عمر کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ آپس میں ہم عمر ہوں گی اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے جنت کے خاوندوں کی بھی ہم عمر ہوں گی۔ یعنی ان کے خاوندوں کو بھی جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–36

13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–35

ترجمہ : یقینا پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے (یعنی) جنت میں کامیابی کا مقام ہے، باغات ہیں (حدائق) مفازا سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے اور انگور ہیں مفازا پر عطف ہے اور ہم عمر ابھری ہوئی پستانوں والی نو خیز لڑکیاں ہیں کو اعب، کا عبۃ کی جمع ہے وہ لڑکیاں جو نوجوان ہوں اور ان کی پستانیں ابھری ہوئی ہوں، (اتراب) ترب کی جمع ہے ہم عمر کو کہتے ہیں اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں (یعنی) ایسی شراب ہے جو جاموں کو بھرنے والی ہے اور سورة قتال میں ہے، اور سورة قتال میں ہے، اور شراب کی نہریں ہیں، وہاں یعنی جنت میں کسی بھی وقت نہ تو شراب پینے کے وقت اور نہ اس کے علاوہ نہ تو بیہودہ کلام ہوگا یعنی باطل قول اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکواکب اترابا اور نوجوان۔ نوخیز شباب ‘ ہمجولی لڑکیاں کواعب ‘ نوخیز شباب لڑکیاں ‘ یہ کا عبٌ کی جمع ہے۔ اترابًا ہمجولی ‘ ہم سن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–33

(31۔ 33) کفر و شرک اور فواہش سے بچنے والوں کے لیے جنت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کا قرب ہے اور مختلف قسم کے باغوں کے انگور ہیں اور دل بہلانے کو نوخاستہ ہم عمر عورتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–34

حدآئق واعناباً…:”حدآئق“ ”حدیقہ“ کی جمع ہے، وہ باغ جس کے گرد چار دیواری ہو۔ ”اعناباً“ ”عنب“ کی جمع ہے۔ انگور کو پھلوں میں ایک خصوصیت حاصل ہے، اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔”اعناباً جمع لانے کا مطل ہے کہ انگور کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ ”کو اعب“ ”کا عب“ کی جمع ہے، وہ نوجوان لڑکی جس کا سینہ ایسے ابھرا ہوا جیسے کعب یعنی ٹخنہ۔”اتراباً“ ”ترب“ (تاء کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، مٹی میں ساتھ کھیلنے والے ہم عمر۔ آپس میں ہم عمر ہوں گی یا اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں ی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وکواعب اترابا۔ کو اعب کعب کی جمع ہے اس کا معنی ابھری ہوئی چیز ہے اس کا یوں باب چلایا جاتا ہے، کعبت الجاریہ، تکعب کعوبا، کعبت تکعب تکعیبا، اور نھدت تنھد نھودا۔ ضحاک نے کہا، ککواعب العذاری، دو شیزاؤں کے ابھرے ہوئے سینے، اس معنی میں قیس بن عاصم کا شعر ہے۔ وکم من حصان قد حوینا کریمہ، ومن کا عب لوتدر ما البوس معصر۔ کتنی ہی پاکدامن معزز عورتوں کو ہم نے جمع کیا اور کتنی ہی ابھرے ہوئے سینوں والی بلوغت کو عمر کو پہنچے والی بچیوں کو جمع کیا جو نہیں جانتی جنگ کیا ہوتی ہے۔ اترابا کا معنی ہے ہم عمر، اس کی وضاحت سورة واقعہ میں گزرچکی ہے اس کا واحد ترب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–33

4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حدائق واعنابا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا الحدائق سے مراد ہیں باغ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ بلاد سقاہا اللہ اما سولہا فقضب ودر مغدق وحدائق ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شہروں کو خب سیراب کیا رہے ان کے میدان تو وہاں لمبی لمبی شاخوں والے درخت ہیں انتہائی سر سبز و شاداب و نباتات اور باغات ہیں پھر پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وکاسا دھاقا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ الک اس تو فرمایا الک اس سے مراد شراب ہے۔ والدہاق سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا : اور نوخیز ہم جولیاں ہیں ] (آیت۔ 23 تا 34) ۔ ان آیات کے الفاظ سابقہ آیت کے اِنَّ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں،

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

اہل کفر اور اہل شرک کا انجام اور عذاب بتانے کے بعد متقی حضرات کے انعام و اکرام کا تذکرہ فرمایا، تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں، سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے کہ کفر و شرک سے بچے اور اس کے بعد گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے اور اس کے بھی درجات مختلف ہیں حسب درجات انعامات ہیں فرمایا ﴿ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ (بلاشبہ تقویٰ والوں کے لیے کامیابی ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ مفازا مصدر میمی ہو اور اگر اسم ظرف لیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ (متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے) اس کے بعد کامیابی پر ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ0032﴾ (یعنی ان حضرات کو باغیچے ملیں گے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–40

انعامات و راحت واکرام وعزت برائے اہل ایمان وتقوی واصحاب ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین مفازا ........ الی ......... یلیتنی کنت تربا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت اور روزحساب کی شدت اور مجرمین کی بدحالی اور شدت کا بیان تھا، اب ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اہل ایمان وتقوی پر کیسے کیسے عظیم انعامات ہوں گے اور ان کا روز آخرت کیسا اعزاز واکرام ہوگا بیان ہے، فرمایا۔ بیشک تقوی والوں کے لئے طرح طرح کی کامیابی اور حیات جاودانی کی سعادت و خوشی نصیب ہوگی جب وہ دیکھیں گے ہر مراد ان کی پوری ہورہی ہے اور ہر طرح کی نعمت ان کو حاصل ہے، باغات ہوں گے اور ہر قسم کے پھل اور بکثرت انگور ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–35

8:۔ ” اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ “۔ یہ شرک و کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مومنوں کو آخرت میں ہر مقصد و مطلب میں کامیابی اور ہر مکروہ اور ہر تکلیف سے نجات نصیب ہوگی۔ ” حَدَائِقَ “ یہ ” مَفَازًا “ سے بدل الاشتمال ہے اور اس میں مومنوں کی فوز و فلاح کی قدرے تفصیل ہے ان کو وہاں سے نوح کے باغات ملیں گے خصوصًا انگوروں کے۔ جنت میں ان کی مصاحبت ورفاقت کے لیے نوجوان عورتیں ہوں گے جو ان کی ہمعصر ہوں گی اور وہاں ان کو انواع و اقسام کے مشروبات کے چھلکتے ساغر پیش کیے جائیں گے۔ وہ جنت میں کوئی لغو، بیہودہ، اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے اہل جنت ان خرافات سے پاک ہوں گے ان کی زبانوں سے کوئی اخلاق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–33

(باغ اور ہم عمر عورتیں ) متقیوں کے انعامات کے متعلق فرمایا حدائق واعنابا ان کے لیے باغ اور انگوروں کے گچھے ہوں گے ۔ حدائق حدیقۃ کی جمع ہے۔ اور یہ اس باغ کو کہتے ہیں جسکے ارد گرد چار دیواری ہو یا کوٹھی ہو۔ وہ ایسے باغ کو عربی زبان میں ریاض یا بستان کہا جاتا ہے۔ باغ اور انگور تو رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان ہے ۔ مگر ذہنی آرام سکون کے لیے فرمایا وکواعب اترابا نوجوان ہم عمر عورتیں ہوں گی دوسری جگہ فرمایا زوجنھم بحورعین ایک مقام پر ارشاد ہے ولھم فیھا ازواج مطھرۃ ان کے لیے پاکیزہ عورتیں ہوں گی جو ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے پاکیزہ ہوں گی ۔ شکل و صورت میں بھی نہایت اعلیٰ ہوں گی۔ اور اخلاق کے بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا۝ 33 ۙ كعب كَعْبُ الرّجل : العظم الذي عند ملتقی القدم والساق . قال : وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ [ المائدة/ 6] . والکَعْبَةُ : كلّ بيت علی هيئته في التّربیع، وبها سمّيت الكَعْبَةُ. قال تعالی: جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرامَ قِياماً لِلنَّاسِ [ المائدة/ 97] . وذو الكَعْبَاتِ : بيت کان في الجاهلية لبني ربیعة، وفلان جالس في كَعْبَتِهِ ، أي : غرفته وبیته علی تلک الهيئة، وامرأة كاعِبٌ: تَكَعَّبَ ثدیاها، وقد كَعبَتْ كِعَابَةً ، والجمع كَوَاعِبُ ، قال : وَكَواعِبَ أَتْراباً [ النبأ/ 33] وقد يقال : كَعَبَ الثّدي كَعْباً ، وكَعَّبَ تَكْعِيباً وثوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–37

ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–35

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مُفَازًا۔ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًا۔ وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا۔ وَّکَاْسًا دِھَاقًا۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ کِذّٰبًا۔ (النبا : 31 تا 35) (یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔ ) قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ اس سے پہلے ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے نفس کے اتباع میں سرکشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔ جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33 : وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا (اور نوخاستہ ہم عمر عورتیں) کو اعبؔ ابھرے پستان والی۔ اتراباؔ ہم عمر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–36

31۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّكَوَاعِبَ ) اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں جن کے پستان ان کے شباب ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ( اَتْرَابًا) ہم عمر عورتیں۔ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت والفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں۔ وہ عمر جس میں وہ ہوں گی تینتیس سال ہے اور یہ متعدل ترین شباب کی عمر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–34

(28) اہل جنت کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے طرح طرح کے عظیم الشان باغ اور انگور بھی ہوں گے، نوخیز عمر لڑکیاں بھی، اور شراب طہور کے چھلکتے جام بھی۔ ایسی شراب طہور کے جس سے نہ درد سر ہوگا، اور نہ کسی طرح کی کوئی با وہ گوئی، جیس کہ دوسری جگہ فرمایا گیا لَا یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلَا یُنزِفُونَ ( الواقعہ 19 پ 27) سو وہاں کی اس شراب طہور میں کیف و سرور تو بدرجہ کمال موجود ہوگا لیکن ان برے اثرات میں سے کسی کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا، جو دنیوی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ یہاں پر حدائق کے بعد اعناب کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے طور پر فرمایا گیا کہ وہ نوخیز یعنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–36

اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔ میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے محمد منظور الحق

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:33) وکواعب اترابا : موصوف صفت ہیں۔ واؤ عاطفہ ہے اور کو اعب کا عطف اعنابا پر ہے۔ کواکب کا عب کی جمع۔ نوخیز شباب لڑکیاں جن کے پستان خوب ابھرے ہوئے ہوں۔ امراۃ کا عب ابھرے ہوئے پستانوں والی لڑکی کعب الرجل (ٹخنہ) اس ہڈی کو کہتے ہیں کہ جو پاؤں اور پنڈلی کے جوڑ ہوتی ہے اور الکعبۃ ہر اس مکان کو کہتے ہیں جو ٹخنے کی شکل پر چوکور بنا ہوا ہو۔ اسی سے بیت الحرام کو الکعبۃ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اترابا۔ ہم سن عورتیں۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ اتراب (38:52) کے معنی ہیں : ہم عمر جنہوں نے اکٹھی تربیت پائی ہوگی۔ گویا وہ عورتیں اپنے خاوندوں کے اس طرح مساوی و مماثل یعنی ہم مزاج ہوں گی جیسے سینوں کی ہڈیوں میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–36

جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔ (ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–38

[10] روح سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کہ فرشتوں کے گل سرسبد وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کا ذکر فرشتوں سے الگ ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ جب اس دن جبرائیل (علیہ السلام) کا یہ حال ہوگا تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ [11] بولنے سے مراد سفارش ہے اور یہ سفارش دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس گنہگار شخص کے بارے میں جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی صرف وہی شخص اس گنہگار کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ سفارش کرنے والا بجا اور درست بات کہے۔ بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

ف 2: مفازا کے ایک لفظ میں جنت کے لذائذ روحانی اور جسمانی کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ وہ تمام جذبات مسرت واجتہاج جو تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اور جن کی تکمیل کے لئے تم یہاں بےقرار اور بےچین رہتے ہو ۔ وہ اگر کہیں کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پائے جائیں گے تو جنت وہی جگہ ہے بامراد ہونے کی اور جذبات و خواہشات کی تکمیل کی ۔ اس لئے کوشش کرنا ہے تو اس کے لئے کرو ۔ اور دوڑ دھوپ اگر مفید ہے تو اس کے لئے ۔ ورنہ یہ دنیا تو باوجود اپنی زیب اور زیبائش بالکل عارضی ہے ۔ ار ہر لمحہ زوال پذیر ہے ۔ اور یہاں کی مسرتیں ایسی نہیں کہ ان کو خالصتاً مسرتوں سے تعبیر کیا جاسکے ۔ یہاں ہر آسودگی کے بعد…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اور نوخیز و نوجوان ہم عمر عورتیں ہیں۔ کو اعب وہ لڑکیاں جو قریب البلوغ ہوں یابالغ ہوچکی ہوں۔ اتراب ہم سن اور ہم عمر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ان کے لئے جواں سال ہم عمر عورتیں ہوں گی ۔ 33……” واحد۔ نو خیز شباب لڑکیاں جن کے پستان خوب ابھر آئے ہوں۔ (راغب) کعبت الحاریۃ کعوبا و کعوبۃ (لازم نصر ضرب) لڑکی کے پستان ابھر آئے۔ (اتراباً ) منصوب۔ ہم سن عورتیں ترب کی جمع ہے۔ عربوں کے ہاں مردوں اور عورتوں کی عمروں کا توافیق ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہم عمری کو وہ بھی فوقیت دیتے تھے اور ازدواجی زندگی کے لئے اس کا توافق ہر لحاظ سے صحیح اور درست سمجھا گیا ہے۔ حالات کے تقاضوں کا ایک اپنا مقام ہے اور بعض اوقات حالات کا لحاظ رکھنا اور ضرورت کے تقاضوں کا لحاظ توافق پر فوقیت لے جاتا ہے اور وہ لوگ جو دنیوی زندگی میں دین کی مصلحتوں کو زیادہ اہمیت دیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ("So now taste! We will never add to you anything except torment."....78:30). In other words, in the world they continued to add disbelief. If death did not overtake them by coercion, they would have continued to add disbelief, and today their punishment will be increased. Thus far the punishment of disbelievers was depicted. As opposed to this, the reward and blessings of the righteous believers are depicted below.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

20 TMs may mean that they will be of equal age among themselves as well as that they will be of equal age with their husbands. This same theme has already occurred in Surah Suad 52 and Al-Waqi`ah :37 above.

Read the full tafseer →