An-Naba 78:26

An-Naba · from ayah 26

78:26

جَزَآءً وِّفَاقًا ۟ؕجَزَآءً وِّفَاقًا

(یہ) بدلہ ہے پورا پورا

— Fateh Muhammad Jalandhari

An appropriate recompense.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:26

(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) بدلہ ہے پورا پورا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ان کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(یہی ان کی سرکشی کے) موافق بدلہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پورا پورا بدلہ دینے کے لیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بدلہ ہے (ان کے عملوں کے) موافق

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، بدلہ ان کے عمل کے موافق ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بھرپور بدلہ ہوگا (ان کے کیے کرائے کا)

— مولانا اسحاق مدنی

بدلہ (ان کے اعمال کا) پورا پورا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ پورا پورا بدلہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

a befitting recompense for their deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

this being a punishment, fully commensurate (with their deeds) .

— Muhammad Taqi Usmani

this being a punishment, fully commensurate (with their deeds) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

An exact recompense (according to their evil crimes).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Reward proportioned (to their evil deeds).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

An appropriate recompense.

— Saheeh International

as a fitting recompense for their deeds.

— Muhammad Sarwar

Requital corresponding.

— Muhammad Habib Shakir

Recompense fitted!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة النَّبَا 17 یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کردیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’جَزَآءً وِّفَاقًا‘۔ یعنی یہ جو کچھ انھیں ملے گا ٹھیک ان کے اعمال ہی کا پورا پورا بدلہ ہو گا۔ دنیا میں جو کمائی انھوں نے کی اس کا انجام ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ آخرت میں ہر نیکی اور بدی اپنی فطرت کے لحاظ سے پھل لائے گی اور وہی انسان کے سامنے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

26۔ 1 یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–36

3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جزآء وفاقا (26:78) ” بھرپور بدلہ “۔ انہوں نے جو کچھ کمایا اور جو کچھ قیامت کے لئے ذخیرہ کرکے بھیجا اس کا پورا پورا بدلہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 26–28

5 یعنی جس چیز کی امید ان کو نہ تھی وہ ہی سامنے آئی۔ اور جس بات کو جھٹلاتے تھے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اب دیکھیں کیسے جھٹلاتے اور مکرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–29

آیت 26{ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ } ”بدلہ ان کے اعمال کا پورا پورا۔“ ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–29

18 یعنی انہیں اتنی ہی سزا دی جائے گی جس قدر اس کے برے اعمال تھے۔ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اور ان کے جرائم کی بنیاد یہ بات تھی کہ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا محاسبہ کیا جانے والا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے آیات کا انکار کیا تھا اور پوری زندگی شتر بےمہار کی طرح آزادانہ گزار دی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–26

11۔ (ہر ایک کے درجہ کفر وفسق کے متناسب) موافقا لحالھم (مدارک) اے ھذا الذی صاروا الیہ من ھذہ العقوبۃ وفق اعمالھم الفاسدۃ التی کانوا یعملونھا فی الدنیا قالہ مجاھد وقتادۃ وغیر واحد (ابن کثیر) (آیت) ” لایذوقون ..... شرابا “۔ یعنی نہ کوئی ایسی خنکی نصیب ہوگی جو باعث راحت بن سکے اور نہ کوئی پینے ہی کی ایسی چیز جو پیاس بجھا سکے۔ (آیت) ” غساقا “۔ غساق کے ایک معنی نہایت شدید سردی کے ہیں۔ اے ابردالبرد (لسان) قال ابن عباس ؓ الغساق الزمھریر یحرقھم ببرہ (معالم) ھو الشئی البارد الذی لایطاق وھو الذی یسمی بالزمھریر (کبیر) یہ معنی لے کر وعید کا مفہوم یہ ہوگا کہ کسی کو کھولتا ہوا پانی ملے گا، اور کسی کو غضب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جزاء و فاقا . جزاءً ا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور وفاق بمعنی وافق ہے (اگر اس کو صیغۂ صفت قرار دیا جائے) یا بمعنی موافق ہے (اگر اس کو باب مفاعلت کا مصدر کہا جائے) یعنی ان کو ایسا بدلہ دیا جائے گا جو ان کے اعمال اور بیہودگیوں کے موافق ہوگا۔ مقاتل نے کہا وفاقًا کا یہ مطلب ہے کہ عذاب گناہ کے مطابق ہوگا اور شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں (لہٰذا جزآءً ا وفاقًا کا معنی ہوا سخت ترین عذاب) یہ اس تقدیر پر ہوگا کہ الطاغین سے کفار مراد ہوں ‘ جیسی کہ دوسرے علماء نے تفسیر کی ہے۔ پس ان جھنّم کانت .... پورا جملہ جزاء پر ہی دلالت کر رہا ہے کسی دوسرے معنی کا اس میں احتمال ہی نہیں ہے ‘ اس کے بعد جزاء وفاقا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–28

(24۔ 28) تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–26

لایذوقون فیھا برداً …:”حمیماً“ اور ”غساقاً“ کی تشریح کے لئے دیکھیے سورة ص (57) کی تفسیر۔ ”بردا“ سے مراد خوش گوار ٹھنڈک ہے۔ جہنم میں ایک طبقہ زمہر یر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے، اسیم زے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جزاء وفاقا۔ ایسی جزا جوان کے اعمال کے موافق ہو، حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، وفاق، موافقت کے معنی میں ہے جس طرح قتال، مقاتلہ کے معنی میں ہے، جزاء مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی ہم نے انہیں ایسی جزا دی جوان کے اعمال کے موافق تھی یہ فراء اور اخفش نے بات کہی، فراء نے یہ بھی کہا، یہ وفق کی جمع ہے وفق اور لفق دونوں کا معنی ایک ہی ہے، مقاتل نے کہا، عذاب دنیا کے موافق ہوگا، شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اور جہنم سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا، ان کے اعمال برے تھے اللہ تعالیٰ انہیں وہ کچھ دے گا جو ان کے لیے تکلیف دہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت جزاء وفاقا یہ پورا پورا بدلہ ہوگا یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ 32۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جزاء وفاقا یعنی یہ جزاء قوم کے برے اعمال کے موافق ہوگی۔ 33۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جزاء وفاقا کہ جزاء عمل کے مطابق ہوگی آیت انہم کانوا لایرجون حسابا بیشک وہ حساب کی امید نہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ لوگ اس سے نہ ڈرتے تھے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ پروا نہیں کرتے تھے کہ دوبارہ زندہ ہونے کی تصدیق کریں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

﴿جَزَآءً وِّفَاقًاؕ0026﴾ (یہ جو ان لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ان کے عقیدہ اور عمل کا پورا پورا بدلہ ہوگا) کفر اور شرک بدترین عمل ہے اس لیے ان کا عذاب بھی بدترین ہے اور چونکہ ان کی نیت یہ تھی کہ مشرک ہی رہیں گے اور اسی پہ ان کی موت آئی اس لیے عذاب بھی دائمی رکھا گیا۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ0027﴾ (بلاشبہ وہ حساب کا خیال نہیں رکھتے تھے) ﴿ وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًاؕ0028﴾ (اور انہوں نے ہماری آیات کو دلیری کے ساتھ جھٹلایا) ﴿ وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ0029﴾ (اور ہم نے ہر چیز کو کتاب میں پوری طرح لکھ دیا ہے) ﴿ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–30

7:۔ ” لَا یَذُوْقُوْنَ “۔ وہ جہنم میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کسی مشروب کا۔ وہاں ان کو کھولتے پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ایک ایسی جزا ہوگی جو ان کے عملوں کے عین مطابق ہوگی اور اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا “ یہ ما قبل کی علت ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کہنا مراد ہے تو اس سے پہلے یقال مقدر ہے ورنہ اس تقدیر کی ضرورت نہیں۔ وہ قیامت کے دن کے محاسبہ کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ” وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ “ ہم نے ان کے تمام اعمال باطلہ اوراقوال زائعغہ کو باقاعدہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

(دوزخیوں کی سزامئیں ) دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَزَاۗءً وِّفَاقًا۝ 26 ۭ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : جَزَآ ئً وِّ فَاقًا (یہ پورا بدلہ ملے گا) اے جو زوا جزاء وفاقًا یعنی ان کو بدلہ دیا جائے گا جو ان کے اعمال کے عین مناسب ہوگا۔ جزائً مصدر ہے اور صفت کے معنی میں مستعمل ہے۔ نمبر 2۔ ذاوفاقٍ موافقت والا۔ پھر جملہ مستانفہ بطور تعلیل لائے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25 ۔” الا حمیما وغساقا “ فرماتے ہیں غساق زمھریر ہے جو ان کو اپنی ٹھنڈک سے سخت تکلیف دے گا اور کہا گیا ہے اہل جہنم کی پیپ ہے اور ہم نے اس کو سورة صٓ میں ذکر کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–26

(اِلَّا حَمِيْمًا) یعنی وہ کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (وَّغَسَّاقًا) اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہوگی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنہوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے اللہ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(23) دوزخیوں کے لئے ان کے اعمال کا بھر پور بدلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ یہ سب کچھ بھر پور بدلے کے طور پر ہوگا۔ یعنی ان کے اس کفر و باطل کے بدلے کے طور پر جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو کچھ ان کو وہاں ملے گا وہ ان کو ان کے اپنے اعمال ہی کا صلہ اور بدلہ ہوگا، جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے، سو اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور ایک اصول اور ضابطے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا وَجَزَاء سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ( الشوری 40 پ 25) یعنی برائی کا بدلہ اسی طرح کے عمل سے دیا جائے گا سو پس وہاں پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–29

ف 1 یعنی ہمارے پاس ان کے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ لہٰذا وہ کسی عمل کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:26) جزاء وفاقا موصوف و صفت، جزائ۔ جزائ۔ بدلہ، معاوضہ ۔ وفاقا مصدر (مفاعلۃ) ہے بمعنی موافق، یعنی مصدر بمعنی اسم فاعل ہے جتنا جرم ہے اتنی سزا۔ جزاء فعل محذوف سے مفعول مطلق ہے۔ فرا۔ اور اخفش کے نزدیک عبارت یوں تھی :۔ جازینا ہم جزاء وفاقا۔ (ہم نے ان کو ان کے جرم کے موافق سزا دی ۔ زجاج نے کہا :۔ جو زوا جزاء وفاقا اور ان کو ان کے جرم کے موافق سزا دی گئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–29

[9] یعنی ہم ان کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرتے جا رہے تھے جس میں کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–30

ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) وہ اپنے اعمال کا پورا بدلا دیئے جائیں گے آگے ان اعمال کا ذکر ہے جن کے موافق جزا دی جائیگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس یہ ان کے اعمال کی پوری پوری جزا ہے ۔ 26 ہم نے پیچھے بہت سے مقامات پر یہ بات بڑی وضاحت سے عرض کی ہے کہ انسان کے اپنے اعمال کا نام جنت اور دوزخ ہے اور جو کچھ اہل جنت کو وہاں جنت میں پیش کیا جائے گا یا اہل دوزخ کو دوزخ میں کھانا پڑے گا یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا بدلہ ہوگا جیسے انہوں نے اعمال کئے ہوں گے ویسا ہی ان کو بدلا دیا جائے گا۔ زیر نظر آیت میں بھی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ فرمایا یہ جو کچھ اہل دوزخ کو کھانا اور پینا پڑے گا یہ ان لوگوں کے اعمال کی پوری پوری جزا ہوگی یا دوسرے لفظوں میں آپ اس کو اس طرح کہہ لیں کہ یہ ان کے گناہوں کی پوری پوری سزا ہوگی جو ہر حال میں ان کو بھگتنا پڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–29

جَزَاءً وِفَاقًا (this being a recompense in full accord [ with their deeds ]..78:26). The punishment given to them in Hell will be based on justice and equity - a fitting recompense - on account of their false beliefs and evil deeds. They will not be wronged in the least.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

17 This is the reason for which they will deserve this dreadful penalty of Hell. Firstly, they lived in the world thinking that the time will never come when they will have to appear before God and render an account of their deeds; second, that they utterly refused to accept and acknowledge the Revelations that Allah had sent through His Prophets for their instruction and treated them as falsehood.

Read the full tafseer →