An-Naba 78:27

An-Naba · from ayah 27

78:27

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًا ۟ۙاِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, they were not expecting an account

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:27

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ (اپنے اعمال کے) حساب کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس لئے کہ وہ قطعًا حسابِ (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ حساب کی تو امید ہی نہیں رکھتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ محاسبہ کا گمان نہیں رکھتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(کیونکہ) یہ لوگ توقع نہیں رکھتے کسی طرح کے حساب (کتاب) کی

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ حساب (قیامت) کا (مطلق) اندیشہ نہیں رکھتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ کسی حساب کتاب کی کوئی توقع نہیں رکھتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ آخرت کے حساب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

For indeed they did not look forward to any reckoning,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They did not expect (to face) accounting (of their deeds) ,

— Muhammad Taqi Usmani

They did not expect (to face) accounting (of their deeds) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For verily, they used not to look for a reckoning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For lo! they looked not for a reckoning;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, they were not expecting an account

— Saheeh International

They did not expect such a Judgment

— Muhammad Sarwar

Surely they feared not the account,

— Muhammad Habib Shakir

Verily they were wont not to look for a reckoning.

— Abdul Majid Daryabadi

For that they used not to fear any account (for their deeds),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة النَّبَا 17 یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کردیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–28

’اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا ہ وَّکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا‘۔ یعنی ان لوگوں کو کسی حساب کتاب کا اندیشہ نہیں تھا اس وجہ سے بالکل نچنت رہے اور نہایت بے دردی سے ہماری آیات کو، جو اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے سنائی گئیں جھٹلاتے رہے۔ ’کِذَّابًا‘ مصدر ہے جو تاکید فعل کے لیے آیا ہے۔ اگرچہ اس کا وزن مختلف ہے لیکن معنی میں یہ تکذیب ہی کے ہے۔ تاکید کے مضمون کو ظاہر کرنے کے لیے اگر ترجمہ یوں کیجیے کہ ’نہایت بے دردی یا نہایت بے باکی سے‘ جھٹلایا تو اس کا صحیح مفہوم ادا ہو جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

26۔ 1 یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–36

3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انھم .................... حسابا (27:78) ” وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے “۔ اور نہ نیک وبد کے انجام کے واقع ہونے میں یقین رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 26–28

5 یعنی جس چیز کی امید ان کو نہ تھی وہ ہی سامنے آئی۔ اور جس بات کو جھٹلاتے تھے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اب دیکھیں کیسے جھٹلاتے اور مکرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–29

آیت 26{ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ } ”بدلہ ان کے اعمال کا پورا پورا۔“ ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–29

18 یعنی انہیں اتنی ہی سزا دی جائے گی جس قدر اس کے برے اعمال تھے۔ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اور ان کے جرائم کی بنیاد یہ بات تھی کہ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا محاسبہ کیا جانے والا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے آیات کا انکار کیا تھا اور پوری زندگی شتر بےمہار کی طرح آزادانہ گزار دی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–30

12۔ منکرین مکذبین کے عذاب روز افزوں کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” وکل ..... کتبا “۔ یعنی ہر شے تمہارے نامہ اعمال میں منضبط کر رکھی گئی ہے۔ سو خود تمہارے معیار سے بھی صحت وتحقیق کا خاص اہتمام ہے، اور کسی عمل کی کمی کا کوئی احتمال نہیں۔ (آیت) ” انھم ..... حسابا “۔ ان کا اصلی اور بنیادی جرم ان کی یہی آخرت بیزاری تھی۔ (آیت) ” وکذبوا بایتنا کذابا “۔ کذابا کی قید واقعی ہے احترازی نہیں۔ یعنی ان کافروں کی حالت کا بیان ہے کہ وہ آخرت فراموشی کے ساتھ طرح طرح کی تکذیبوں میں بھی مبتلا تھے۔ یہ مراد نہیں کہ بغیر اتنی تکذیبوں کے مجرم نہ قرار پائیں۔ جرم کفر تو کسی بھی عقیدہ دینی میں شک وتردد سے لازم آجاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انھم کانوا لا یرجون حسابا . اس لیے کہ ان کو حساب کا اندیشہ نہ تھا ‘ نہ ان کو حساب کا یقین تھا۔ یہ کلام گزشتہ سزا کی علّت ہے۔ کافروں کو تو حشر ‘ حساب اور سزا و جزا کا یقین ہی نہیں ہوتا ‘ رہے بدعتی تو ان میں سے بعض گروہوں کے اندر یہ صفت (انکار حساب) موجود ہے ‘ جیسے مرجیہ نہ حساب کا عقیدہ رکھتے ہیں ‘ نہ سزا کا اور رافضی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے شیعہ (متبع) اور دوستوں کو کسی صغیرہ و کبیرہ گناہ کا عذاب نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–28

(24۔ 28) تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–29

انھم کانوا لایرجون…: ان کے جہنم میں جانے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ انہیں اعمال کے حساب کی امیدن ہ تھی ، ورنہ وہ اپنے اعمال کو درست کرلیتے اور دوسری یہ کہ انہوں نے ہماری آیات کو بری طرح جھٹلا دیا۔ ”کذاباً“ مصدر ہے ”کذبوا“ کا، اس کے ساتھ ”کذبوا“ کی تاکید فرمائی ہے۔ ترجمے میں اس تاکید کو ”بری طرح“ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انھم کانوا لایرجون حسابا۔ وہ اپنے اعمال کے محاسبہ پر کوئی خوف زدہ نہ ہوتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حساب کے ثواب کی امید نہیں رکھتے تھے، زجاج نے کہا، وہ دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے کہ وہ حساب کی امید رکھتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–30

34۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت انہم کانوا لایرجون حساب ا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ثواب کی امید نہیں رکھتے تھے اور نہ عذاب سے ڈرتے تھے۔ 35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اس سے شدید ترین کوئی آیت دوزخ والوں کے لیے نازل نہیں ہوئی۔ یعنی آیت فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا یہ چکھو سو ہم تمہارے لیے عذاب ہی زیادہ کرتے رہیں گے۔ یعنی وہ اللہ کی جانب سے مزدید عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ 36۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حسن بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو برزہ اسلمی ؓ سے اللہ کی کتاب میں دوزخ والوں پر سب سے زیادہ سخت آیت کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهُمْ كَانوْا لَا يَرْجونَ حِسَابًا : بیشک یہ لوگ توقع نہیں کیا کرتے تھے کسی محاسبہ کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

﴿جَزَآءً وِّفَاقًاؕ0026﴾ (یہ جو ان لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ان کے عقیدہ اور عمل کا پورا پورا بدلہ ہوگا) کفر اور شرک بدترین عمل ہے اس لیے ان کا عذاب بھی بدترین ہے اور چونکہ ان کی نیت یہ تھی کہ مشرک ہی رہیں گے اور اسی پہ ان کی موت آئی اس لیے عذاب بھی دائمی رکھا گیا۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ0027﴾ (بلاشبہ وہ حساب کا خیال نہیں رکھتے تھے) ﴿ وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًاؕ0028﴾ (اور انہوں نے ہماری آیات کو دلیری کے ساتھ جھٹلایا) ﴿ وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ0029﴾ (اور ہم نے ہر چیز کو کتاب میں پوری طرح لکھ دیا ہے) ﴿ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–30

7:۔ ” لَا یَذُوْقُوْنَ “۔ وہ جہنم میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کسی مشروب کا۔ وہاں ان کو کھولتے پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ایک ایسی جزا ہوگی جو ان کے عملوں کے عین مطابق ہوگی اور اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا “ یہ ما قبل کی علت ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کہنا مراد ہے تو اس سے پہلے یقال مقدر ہے ورنہ اس تقدیر کی ضرورت نہیں۔ وہ قیامت کے دن کے محاسبہ کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ” وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ “ ہم نے ان کے تمام اعمال باطلہ اوراقوال زائعغہ کو باقاعدہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

(سزا کی وجوہات) فرمایا یہ سخت سزائیں اس لیے دی جائیں گی کہ انھم کانو لایرجون حسابا دنیا میں رہتے ہوئے وہ آخرت کے حساب کتاب کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے ۔ رجا کا معنی توقع بھی ہے اور ڈر بھی ۔ یہاں مراد دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں یعنی ان لوگوں کو نہ تو محاسبے کی تو قع تھی نہ ہی یہ اس سے خوف کھاتے تھے ۔ وہ تو وقوع قیامت کے ہی منکر تھے ۔ حساب کتاب تو بعد کی بات ہے۔ وہ قیامت کے متعلق ہی بیہودہ قسم کے سوالات کرتے تھے۔ اور آپس میں اختلافات رکھتے تھے۔ سزا کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی وکذبوابایتنا کذابا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ۔ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی ۔ قیامت اور محاسبے کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا۝ 27 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا (وہ لوگ حساب کا اندیشہ نہ رکھتے تھے) یعنی اپنے متعلق ان کو اللہ تعالیٰ کے محاسبہ کا ڈر نہ تھا۔ نمبر 2۔ ان کا بعث پر ایمان ہی نہ تھا کہ وہ حساب کی امید رکھتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” جزاء وفاقا “ یعنی ہم نے ان کو ایسا بدلہ دیا جو ان کے اعمال کے موافق ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں عذاب گناہ کے موافق ہو۔ پس شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے اور جہنم سے بڑا کوئی عذاب نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا ہے جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے ہیں چناچہ فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا) یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا، اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(24) مجرموں کے عذاب کے اصل سبب کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مجرموں کو اس ہولناک انجام اور ان کے اس عذاب کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ توقع نہیں رکھتے تھے کہ کسی حساب کی، اس لئے ان کو اگر لامحدود زندگی ملتی، تو بھی انہوں نے یہی کچھ کرتے رہنا تھا، جو اب تک کرتے رہے تھے، اس لحاظ سے ان کا جرم چونکہ دائمی تھا اس لئے اب ان کو دائمی عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور چونکہ یہ لوگ کسی طرح کے حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے یہ فکر آخرت سے نچنت اور بےفکر ہو کر دنیا ہی کے طالب اور اس کے پجاری بن گئے تھے، اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ ہماری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–29

ف 1 یعنی ہمارے پاس ان کے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ لہٰذا وہ کسی عمل کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:27) انھم کانوا لا یرجعون حسابا۔ جملہ مستانفہ ہے اور سزاء مذکور کی علت۔ یعنی ان کو ان کے گناہوں کی پوری پوری سزا دی گئی کیونکہ وہ لوگ تو حساب کی توقع ہی نہ رکھتے تھے۔ کانوا لا یرجون ماضی استمراری جمع مذکر غائب کا صیغہ، رجاء (باب نصر) مصدر سے۔ وہ یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ امید نہیں رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–29

[9] یعنی ہم ان کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرتے جا رہے تھے جس میں کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–30

ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس لئے کہ ان کو تو حساب کی امید ہی نہ تھی ۔ 27 انہوں نے دنیاوی زندگی میں کوئی عمل بھی اچھا نہ کیا ، کیوں ؟ اس لئے کے ان کے ہاں اچھے اور برے کی کوئی بحث ہی نہ تھی ۔ ان کے ہاں اچھے کا معیار یہ تھا کہ جو وہ کریں سب اچھا ہے اور جو کچھ بھی کمزور اور غریب لوگ کریں وہ اچھا نہیں ہے۔ ان کے ہاں جزا و سزا کا تو کوئی مسئلہ موجود ہی نہ تھا یہ تو سب ڈھکو سلے تھے جو لوگوں نے گھڑے ہوئے تھے اور کمزور لوگ اس طرح کے ڈھکوسلوں پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہی ان کا سب سے بڑا نظریہ تھا کہ جس پر ہاتھ نہ پڑے بس وہی چیز کڑوی ہے اور جہاں تک ہاتھ پہنچ جائے سب حلوا ہے ۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ان کے لئے تو وہ سب میٹھا ہے جو ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–29

جَزَاءً وِفَاقًا (this being a recompense in full accord [ with their deeds ]..78:26). The punishment given to them in Hell will be based on justice and equity - a fitting recompense - on account of their false beliefs and evil deeds. They will not be wronged in the least.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

17 This is the reason for which they will deserve this dreadful penalty of Hell. Firstly, they lived in the world thinking that the time will never come when they will have to appear before God and render an account of their deeds; second, that they utterly refused to accept and acknowledge the Revelations that Allah had sent through His Prophets for their instruction and treated them as falsehood.

Read the full tafseer →