اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا ۟ۙاِلَّا حَمِيۡمًا وَّغَسَّاقًا
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ
— Fateh Muhammad Jalandhari
Except scalding water and [foul] purulence -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا ۟ۙاِلَّا حَمِيۡمًا وَّغَسَّاقًا
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ
— Fateh Muhammad Jalandhari
Except scalding water and [foul] purulence -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naba
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیﭗ کے
سوائے گرم پانی اور پیپ لہو کے۔
مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ،
سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی اور (دوزخیوں کے زخموں سے) بہتی ہوئی پیپ کے،
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔
بس ان کے لیے گرم پانی اور بہتی پیپ ہی ہوگی۔
اور پیپ کے سوا کوئی پینے کی چیز
کچھ ملے گا تو سخت کھولتا ہوا پانی اور بہتی ہوئی پیپ
ہاں البتہ گرم پانی اور پیپ (ملے گا
سوائے کھولتے ہوئے پانی اور بہتی ہوئی پیپ کے۔
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ
save boiling water and wash of the wounds;
except boiling water and pus,
except boiling water and pus,
Except Hamim, and Ghassaq
Save boiling water and a paralysing cold:
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Except scalding water and [foul] purulence -
except boiling water and pus,
But boiling and intensely cold water,
Save scalding water and corruption.
Save a boiling fluid and a fluid, dark, murky, intensely cold,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–30
جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة النَّبَا 16 اصل میں لفظ غساق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ، لہو، کچ لہو، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی ان تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا، لابثین، لابث کی جمع ہے جس کے معنے ٹھہرنے والے اور قیام کرنے والے کے ہیں، احقاب حقبہ کی جمع ہے، زمانہ دراز کو حقبہ کہا جاتا ہے، اس کی مقدار میں اقوال مختلف ہیں۔ ابن حریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی مقدار اسی سال نقل کی اور ہر سال بارہ مہینے کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا۔ اس طرح تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا ایک حقبہ اور حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، ابن عباس وغیرہ نے مقدار حقبہ اسی کے بجائے ستر سال قرار دی باقی حساب وہی ہے (ابن کثیر) مگر مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
’لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا ہ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا‘۔ اس جہنم میں نہ ان کو کہیں ذرا ٹھنڈ نصیب ہو گی نہ کوئی پینے کی چیز۔ پینے کو ملے گا گرم کھولتا یا گندہ پانی۔ لفظ ’غَسَّاقٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے پیپ اور لہو سے بھی کی ہے اور گندے پانی سے بھی۔ ٹھنڈک کی یہاں مطلق نفی کی ہے۔ سورۂ مرسلات میں سایہ ’ظل‘ کا لفظ بھی ہے تو وہ دھوئیں کا سایہ ہے جس کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ شعلوں سے بچانے والا ہو گا۔
Read the full tafseer →جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
Read the full tafseer →الا حمیما وغساقا (25:78) ” کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوﺅن “۔ سخت گرم پانی جس سے ان کے حلق اور پیٹ جل بھن جائیں گے۔ یہ ان کے لئے ” ٹھنڈک “ ہے اور غساق وہ پانی جو جلے ہوئے لوگوں کے زخموں سے بہتا ہے یہ ہے ان کا مشروب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
4 یعنی نہ ٹھنڈک کی راحت پائیں گے، نہ کوئی خوشگوار چیز پینے کو ملے گی۔ ہاں گرم پانی ملے گا جس کی سوزش سے منہ جھلس جائیں گے اور آنتیں کٹ کر پیٹ سے باہر آپڑیں گیں اور دوسری چیز پیپ ملے گی جو دوزخیوں کے زخموں سے نکل کر بہے گی۔ اعاذنا اللہ منھا و من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
آیت 21{ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ } ”یقینا جہنم گھات میں ہے۔“ جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 اَحْقَابًا۔ حُقْبَہ کی جمع ہے اور حقبہ بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیر معینہ مدت (مفردات) اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک حقبہ گزر جائے گا تو دوسرا حقبہ شروع ہوجائے گا۔ پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
11۔ (ہر ایک کے درجہ کفر وفسق کے متناسب) موافقا لحالھم (مدارک) اے ھذا الذی صاروا الیہ من ھذہ العقوبۃ وفق اعمالھم الفاسدۃ التی کانوا یعملونھا فی الدنیا قالہ مجاھد وقتادۃ وغیر واحد (ابن کثیر) (آیت) ” لایذوقون ..... شرابا “۔ یعنی نہ کوئی ایسی خنکی نصیب ہوگی جو باعث راحت بن سکے اور نہ کوئی پینے ہی کی ایسی چیز جو پیاس بجھا سکے۔ (آیت) ” غساقا “۔ غساق کے ایک معنی نہایت شدید سردی کے ہیں۔ اے ابردالبرد (لسان) قال ابن عباس ؓ الغساق الزمھریر یحرقھم ببرہ (معالم) ھو الشئی البارد الذی لایطاق وھو الذی یسمی بالزمھریر (کبیر) یہ معنی لے کر وعید کا مفہوم یہ ہوگا کہ کسی کو کھولتا ہوا پانی ملے گا، اور کسی کو غضب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–30
وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →الا جمیعا و غساقا الحمیم : بہت ہی گرم پانی۔ حدیث میں آیا ہے کہ لوہے کے چمٹوں سے پکڑ کر سخت گرم پانی ان کو پیش کیا جائے گا۔ جب وہ پانی ان کے منہ کے قریب آئے گا تو چہرے بھن جائیں گے اور پیٹوں میں اترے گا تو پیٹ کے اندرونی احشاء پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ (ترمذی و بیہقی بروایت حضرت ابو درداء ؓ الغساق کیا ہے ؟ ہناد نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ غساق (انتہائی سرد) جس کی شدت برودت کی وجہ سے دوزخی اس کو پی نہ سکیں گے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح آگ گرمی کی وجہ سے جلاتی ہے۔ غساق سردی کی وجہ سے ان کو سوختہ کر دے گا۔ مقاتل نے کہا : غساق وہ چیز ہے جس کی سردی آخری حد تک پہنچی ہوئی ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(24۔ 28) تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
لایذوقون فیھا برداً …:”حمیماً“ اور ”غساقاً“ کی تشریح کے لئے دیکھیے سورة ص (57) کی تفسیر۔ ”بردا“ سے مراد خوش گوار ٹھنڈک ہے۔ جہنم میں ایک طبقہ زمہر یر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے، اسیم زے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →الا حمیما وغساقا۔ جس نے بردا کا معنی نیند لیا ہے اس کے نزدیک یہ مستثنی منقطع ہے جس نے اس کا معنی ٹھنڈک لیا ہے اس نے اسے بدل قرار دیا ہے حمیم سے مراد گرام پانی ہے یہ ابوعبیدہ کا نقطہ نظر ہے ابن زید نے کہا، حمیما سے مراد ان کی آنکھوں کے آنسو ہیں جن کو حوضوں میں جمع کیا جائے گا پھر وہ انہیں پلائے جائیں گے، نحاس نے کہا، حمیما کی اصل گرم پانی ہے اسی سے حمام ہے اسی سے حمی، بخار) ہے اس معنی میں ظل من یحموم ہے اس سے مراد انتہائی گرم ہے، غساق سے مراد جہنمیوں کی پیپ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد زمھریر ہے حمزہ اور کسائی نے سین کو مشدد پڑھا ہے۔ سورة ص) میں اس کے متعلق گفتگو گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا حمیما وغساقا میں الحمیم سے مراد وہ گرم عذاب ہے جو جلادے گا اور الغساق سے مراد ہے زمہریر یعنی سردی کا عذاب۔ 28۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا حمیما وغساقا سے مراد ہے کہ اہل جہنم عذاب کی سردی اور ٹھنڈک کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔
Read the full tafseer →[اِلَّا حَمِيْمًا وَّغَسَّاقًا : سوائے گرم پانی اور پیپ کے ]
Read the full tafseer →﴿ اِلَّا حَمِيْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ0025﴾ (پینے کے لیے انہیں گرم پانی اور غساق کے سوا کچھ نہیں دیا جائے گا) ۔ اس گرم پانی کے بارے میں سورة ٴ محمد میں فرمایا ﴿ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ 0015﴾ (اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا) اور غساق کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اگر غساق کا ایک ڈول دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والے سڑ جائیں (مشکوٰۃ المصابیح) ۔ ” غساق “ کیا چیز ہے ؟ اس کے متعلق اکابر امت کے مختلف اقوال ہیں صاحب مرقاۃ نے چار قول نقل کیے ہیں : (1) دوزخیوں کی پیپ اور ان کا دھو ون مراد ہے۔ (2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
7:۔ ” لَا یَذُوْقُوْنَ “۔ وہ جہنم میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کسی مشروب کا۔ وہاں ان کو کھولتے پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ایک ایسی جزا ہوگی جو ان کے عملوں کے عین مطابق ہوگی اور اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا “ یہ ما قبل کی علت ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کہنا مراد ہے تو اس سے پہلے یقال مقدر ہے ورنہ اس تقدیر کی ضرورت نہیں۔ وہ قیامت کے دن کے محاسبہ کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ” وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ “ ہم نے ان کے تمام اعمال باطلہ اوراقوال زائعغہ کو باقاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(دوزخیوں کی سزامئیں ) دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا…
Read the full tafseer →اِلَّا حَمِيْمًا وَّغَسَّاقًا 25 ۙ حم الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ، إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ، وقال تعالی: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] ، وقال عزّ وجل : يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] ، وقیل للماء الحارّ في خروجه من منبعه : حَمَّة، وروي : «العالم کالحمّة يأتيها البعداء ويزهد فيها القرباء» وسمي العَرَق حمیماعلی التشبيه، واستحمّ الفرس : عرق، وسمي الحمّام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–30
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →25 : اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا (سوائے گرم پانی اور پیپ کے) یہ استثناء منقطع ہے تقدیر کلام یہ ہے لایذوقون فی جہنم یا فی احقاب بردًا یعنی ایسی راحت جو ان سے آگ کی حرارت کو دور کردے یا نیند اور اسی سے محاورہ ہے منع البردُ البردٰ ۔ سردی نے نیند کو روک دیا۔ ولا شرابًا اور نہ ایسا مشروب جو ان کی پیاس کو مٹا دے۔ لیکن وہ اس میں چکھیں گے گرم پانی جو اس قدر گرم ہوگا کہ جدھر سے گزرے گا جلا ڈالے گا۔ اور غسَّاقًا یعنی جہنمیوں کے زخموں کی پیپ۔ ان کو پینے کیلئے دی جائیگی۔ قراءت : غسَّاقا کوفی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ابوبکر کے۔
Read the full tafseer →24 ۔” لا یذوقون فیھا بردا ولا شرابا “ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ بردنیند ہے اور اسی سے وہ ہے جو کسائی اور ابوعبیدہ رحمہم اللہ نے کہا ہے۔ عرب کہتے ہیں منع البردا البرد یعنی ٹھنڈ نیند کو لے گئی اور حسن اور عطاء رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” لا یذوقون فیھا بردا “ یعنی راحت و آرام۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ’ دلا یذوقون فیھا بردا “ جو ان کو گرمی سے نفع دے ” ولا شرابا “ جو ان کو پیاس سے نفع دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(اِلَّا حَمِيْمًا) یعنی وہ کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (وَّغَسَّاقًا) اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہوگی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنہوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے اللہ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(21) دوزخیوں کے مشروب کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہاں پر نہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ ہی پینے کے قابل کسی چیز کا سوائے کھولتے ہوئے پانی کے جو انتڑیوں کو کاٹ کاٹ کے رکھ دے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَسُقُوا ماء حَمِیْماً فَقَطَّعَ أَمْعَاء ہُمْ ( محمد 15 پ 26) یعنی ان کو وہاں پر ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو کاٹ کاٹ کر رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ انہوں نے جب اپنی دنیاوی زندگی میں ایمان و یقین کی ٹھنڈک سے منہ موڑ کر کفر و شرک کی آگ ہی کو اپنایا تھا، اور وہ زندگی بھر اپنی اسی روش پر قائم رہے تھے، تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 17 دوزخ کا ایک طبقہ مہریر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے اسے مزے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(78:25) الا حمیما وغساقا : حمیما۔ سخت گرم۔ کھولتا ہوا پانی۔ غساقا پیپ، کج لہو۔ وہ گند کا مادہ جو زخموں سے نکلتا ہے۔ بہتی پیپ۔ اس صورت میں حمیما کا استثناء بردا سے ہے اور غساقا کا استثناء شرابا سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب دوزخیوں (طاغین) کو دوزخ کی آگ اندر سے اور باہر سے جلا رہی ہوگی اور وہ ٹھنڈک کے لئے بیتاب ہوں گے تو ان کو ٹھنڈک کی بجائے گرم اور کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ جو ان پر گرمی کی شدت کو اور تیز کر دے گا۔ اسی طرح جب اب کو شراب کی طلب ہوگی یعنی پینے کی ایسی چیز جو کہ ذائقہ بھی ہو اور ان کی پیاس کو تسکین بھی بخشے تو ان کو پینے کے لئے کج لہو اور دوزخیوں کے زخموں سے بہتی ہوئی گندی پیپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
[9] یعنی ہم ان کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرتے جا رہے تھے جس میں کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…
Read the full tafseer →(25) مگر ہاں گرم کھولتا ہوا پانی اور بہتی ہوئی پیپ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →ہاں ! ان کو کھولتا ہوا پانی اور زخموں کا دھو ون دیا جائے گا ۔ 25 اہل دوزخ میں کیوں گئے ؟ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں جو کیا وہ سب کا سب گندے اعمال و افعال ہی تھے کہ جھوٹ بولتے رہے ، بدکاری کرتے رہے ، شرابیں پی پی کر غل غپاڑا مچاتے رہے ، غریبوں کا خون چوستے رہے اور ملازموں کی محنت و مزدوریاں دباتے رہے اور زور بازو اور ہمت کے ساتھ جائز و ناجائز سے بےنیاز ہو کر رزق اکٹھا کرتے رہے۔ جس کا مال ملا ہڑپ کرلیا ، چوریاں کیں اور رسہ گیری کرتے رہے ، جس علاقہ میں وہ بسے اس علاقہ میں جو برائی ہوئی انہیں کی شہہ پر اور انہیں کے انحصار پر ہوئی۔ لوگوں سے قتل تک انہوں نے کرائے ، اللہ والوں کی مخالفت میں انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا (who will be abiding in it for ages....78:23). The word labithin is the plural of labith which means 'one who abides'. The word ahqab is the plural of hiqbah and means 'ages or a long time'. Scholars differ on the exact length or specific amount of time meant by this word. Ibn Jarir has recorded that Sayyidna ` Ali ؓ states that hiqbah is eighty years, and the year constitutes twelve months, and every month comprises thirty days, and each day is equivalent to one thousand years, thus one hiqbah totalling about twenty million and eighty-eight hundred thousand…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
16 The word ghassaq as used in the original applies to pus, blood, pus-blood and all those fluids that flow out from the eyes and skins as a result of a grievous penalty. Besides, this word is also used for a thing which stinks and gives out horrid, offensive smell.
Read the full tafseer →