Explained with ayahs 17–30
جماعت در جماعت حاضری
یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة النَّبَا 16
اصل میں لفظ غساق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ، لہو، کچ لہو، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی ان تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا، لابثین، لابث کی جمع ہے جس کے معنے ٹھہرنے والے اور قیام کرنے والے کے ہیں، احقاب حقبہ کی جمع ہے، زمانہ دراز کو حقبہ کہا جاتا ہے، اس کی مقدار میں اقوال مختلف ہیں۔ ابن حریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی مقدار اسی سال نقل کی اور ہر سال بارہ مہینے کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا۔ اس طرح تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا ایک حقبہ اور حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، ابن عباس وغیرہ نے مقدار حقبہ اسی کے بجائے ستر سال قرار دی باقی حساب وہی ہے (ابن کثیر) مگر مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
’لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا ہ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا‘۔ اس جہنم میں نہ ان کو کہیں ذرا ٹھنڈ نصیب ہو گی نہ کوئی پینے کی چیز۔ پینے کو ملے گا گرم کھولتا یا گندہ پانی۔ لفظ ’غَسَّاقٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے پیپ اور لہو سے بھی کی ہے اور گندے پانی سے بھی۔ ٹھنڈک کی یہاں مطلق نفی کی ہے۔ سورۂ مرسلات میں سایہ ’ظل‘ کا لفظ بھی ہے تو وہ دھوئیں کا سایہ ہے جس کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ شعلوں سے بچانے والا ہو گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
21۔ 1 گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کردیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
Read the full tafseer →لا یذوقون ................ شرابا (24:78) ” اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے “۔ ہاں پینے کے لئے انہیں کچھ ملے گا ضرور۔ وہ کیا ہوگا ؟ بہت ہی تلخ اور مکروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
4 یعنی نہ ٹھنڈک کی راحت پائیں گے، نہ کوئی خوشگوار چیز پینے کو ملے گی۔ ہاں گرم پانی ملے گا جس کی سوزش سے منہ جھلس جائیں گے اور آنتیں کٹ کر پیٹ سے باہر آپڑیں گیں اور دوسری چیز پیپ ملے گی جو دوزخیوں کے زخموں سے نکل کر بہے گی۔ اعاذنا اللہ منھا و من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
آیت 21{ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ } ”یقینا جہنم گھات میں ہے۔“
جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 اَحْقَابًا۔ حُقْبَہ کی جمع ہے اور حقبہ بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیر معینہ مدت (مفردات) اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک حقبہ گزر جائے گا تو دوسرا حقبہ شروع ہوجائے گا۔ پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
11۔ (ہر ایک کے درجہ کفر وفسق کے متناسب) موافقا لحالھم (مدارک) اے ھذا الذی صاروا الیہ من ھذہ العقوبۃ وفق اعمالھم الفاسدۃ التی کانوا یعملونھا فی الدنیا قالہ مجاھد وقتادۃ وغیر واحد (ابن کثیر) (آیت) ” لایذوقون ..... شرابا “۔ یعنی نہ کوئی ایسی خنکی نصیب ہوگی جو باعث راحت بن سکے اور نہ کوئی پینے ہی کی ایسی چیز جو پیاس بجھا سکے۔ (آیت) ” غساقا “۔ غساق کے ایک معنی نہایت شدید سردی کے ہیں۔ اے ابردالبرد (لسان) قال ابن عباس ؓ الغساق الزمھریر یحرقھم ببرہ (معالم) ھو الشئی البارد الذی لایطاق وھو الذی یسمی بالزمھریر (کبیر) یہ معنی لے کر وعید کا مفہوم یہ ہوگا کہ کسی کو کھولتا ہوا پانی ملے گا، اور کسی کو غضب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–30
وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →لا یذوقون فیھا بردا ولا شرابا . یہ لابثین سے حال یا احقابًا کی صفت ہے
یا احقابًا ‘ لا یذوقرن کا مفعول فیہ (زمانۂ فعل) ہے یعنی اس حالت پر وہ دوزخ میں رہیں گے اور لاتعداد برسوں تک سوائے حمیم اور غساق کے اور کچھ نہ چکھیں گے گویا عدم فروق کے ساتھ ان کی دوزخ کے اندر سکونت حقب در حقب ہوں گی اور ان احقاب کے گزرنے کے بعد کیا ہوگا ‘ تو شاید وہ مزید شدید ترین عذاب میں احقاب عدم ذوق گزرنے کے بعد مبتلا کردیئے جائیں۔ ظاہر یہ ہے کہ لا یذوقون حال مرادف ہے۔ لابثین حال اوّل ہے اور یہ اس سے حال ہے۔
میرے نزدیک صحیح توجیہ یہ ہے کہ مذکورہ شبہ کا مبنی صرف یہ ہے کہ الطاغین سے صرف کفار مراد لیے گئے ہیں۔ بدعتیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(24۔ 28) تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
لایذوقون فیھا برداً …:”حمیماً“ اور ”غساقاً“ کی تشریح کے لئے دیکھیے سورة ص (57) کی تفسیر۔
”بردا“ سے مراد خوش گوار ٹھنڈک ہے۔ جہنم میں ایک طبقہ زمہر یر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے، اسیم زے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →لایذوقون فیھا برداولاشرابا۔ میں ھا ضمیر جہنم کے لیے ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، احقاب کا واحد حقب اور حقبہ ہے، کمیت نے کہا، مزلھا بعد حقبۃ، حقب۔ اس کے لیے ایک حقبہ کے بعد کئی حقب گزر گئے۔ لایذوقون فیھا، ھاضمیر سے مراد احقاب ہے۔ برد سے مراد نیند ہے یہ ابوعبید اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے، شاعر نے کہا، ولوشئت حرمت النساء سواکم، ون شئت لم اطعم نقاخا ولابردا۔ اگر میں چاہتا تو میں تم پر عورتوں کو حرام کردیتا اور اگر میں چاہتا تو میں نہ ٹھنڈا پانی چکھتا اور نہ نیند کرتا۔ یہی معنی مجاہد سدی، کسائی فضل بن خالد اور ابومعاذ نحوی نے کیا ہے، عرب کہتے ہیں، منع البرد البرد۔ ٹھنڈک نے نیند کو دور کردیا۔…
Read the full tafseer →25۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ زمہریر جہنم ہے۔ اہل جہنم کے لیے اس میں عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت لایذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا۔ نہ وہاں کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔
26۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر نے ابوالعالیہ (رح) سے آیت لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں شراب سے حمیما کی استثنی ہے اور بردا سے غساقا کی استثنی ہے اور ہ زمہریر ہے۔
29۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا الا حمیما کے…
Read the full tafseer →[لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں چکھیں گے اس میں ][ بَرْدًا وَّلَا شرابا : کوئی ٹھندک اور نہ کوئی پینے کی چیز ]
Read the full tafseer →﴿ لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ0024﴾ (دوزخ میں داخل ہونے والے سرکش اس میں کوئی ٹھنڈک نہ پائیں گے نہ وہاں کی آب و ہوا میں ٹھنڈک ہوگی جو آرام دہ ہو اور نہ پینے کی چیزوں میں کوئی ایسی چیز دی جائے گی جس میں مرغوب ٹھنڈک ہو، جو ٹھنڈک عذاب دینے کے لیے ہوگی (یعنی زمھریر) جس کا بعض احادیث میں ذکر آتا ہے اس میں اس کی نفی نہیں ہے۔
قال صاحب الروح والمراد بالبردما یروحھم وینفس عنھم حر النار فلا ینافی انھم قد یعذبون بالزمھریر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا :
گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔
(ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
7:۔ ” لَا یَذُوْقُوْنَ “۔ وہ جہنم میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کسی مشروب کا۔ وہاں ان کو کھولتے پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ایک ایسی جزا ہوگی جو ان کے عملوں کے عین مطابق ہوگی اور اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا “ یہ ما قبل کی علت ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کہنا مراد ہے تو اس سے پہلے یقال مقدر ہے ورنہ اس تقدیر کی ضرورت نہیں۔ وہ قیامت کے دن کے محاسبہ کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ” وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ “ ہم نے ان کے تمام اعمال باطلہ اوراقوال زائعغہ کو باقاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(دوزخیوں کی سزامئیں )
دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا…
Read the full tafseer →لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْہَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24 ۙ
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56]
( ذ و ق ) الذاق ( ن )
کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–30
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30)
(جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے :
” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5)
آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →احوالِ جہنم :
24 : لَایَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّ لَاشَرَابًا (اس میں وہ نہ کسی ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی چیز کا) یعنی وہ چکھنے والے نہ ہونگے۔
نحو : یہ لابثین کی ضمیر سے حال ہے۔
پس جب یہ احقاب ختم ہوجائیں گے جس میں ان کو ٹھنڈک اور مشروب سے روک دیا گیا۔ تو اور احقاب بدل دئیے جائیں گے جن میں دوسرا عذاب ہوگا۔ وہ ایسے احقاب ہیں کہ ان کے بعد ختم نہ ہونے والے احقاب ہونگے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ اس محاورہ سے ماخوذ ہے حقب عامنا جبکہ بارش اور خیرو برکت کم ہوجائے اور حقبؔ فلان جبکہ رزق اس سے خطاء کرجائے وہ حقب ہے اور اس کی جمع احقاب ہے۔
نحو : اور یہ بطور حال منصوب ہے۔ ای لا بثین فیھا…
Read the full tafseer →23 ۔” لابثین “ حمزہ اور یعقوب نے ” لبثین “ بغیر الف کے پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے ” لا بثین “ الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں۔
احقاباً کتنی مدت پر بولا جاتا ہے
’ دفیھا احقابا “ حقب کی جمع اور ایک حقب اسی سال، ہر سال بارہ مہینے کا ہر مہینہ تیس دن، ہر دن ہزار سال۔ یہ علی ابن ابی طالب ؓ سے رروایت کیا گیا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں احقاب ترتالیس 43 حقب ہیں، ہر حقب ستر 70 خریف کا ہر خریف سات سو سال کا، ہر سال تین سو ساٹھ دن کا، ہر دن ہزار سال۔ حسن (رح) فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں کی بلکہ فرمایا ” لا بثین فیھا احقابا “ پس اللہ کی قسم نہیں وہ وہ مگر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…
Read the full tafseer →جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا) وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے ان کی پیاسی ہی کو دور کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(21) دوزخیوں کے مشروب کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہاں پر نہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ ہی پینے کے قابل کسی چیز کا سوائے کھولتے ہوئے پانی کے جو انتڑیوں کو کاٹ کاٹ کے رکھ دے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَسُقُوا ماء حَمِیْماً فَقَطَّعَ أَمْعَاء ہُمْ ( محمد 15 پ 26) یعنی ان کو وہاں پر ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو کاٹ کاٹ کر رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ انہوں نے جب اپنی دنیاوی زندگی میں ایمان و یقین کی ٹھنڈک سے منہ موڑ کر کفر و شرک کی آگ ہی کو اپنایا تھا، اور وہ زندگی بھر اپنی اسی روش پر قائم رہے تھے، تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت
تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 17 دوزخ کا ایک طبقہ مہریر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے اسے مزے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(78:24) لا یذوقون فیہا بردا ولا شرابا : لا یذوقون مضارع منفی جمع مذکر غائب ذوق (باب نصر) مصدر سے۔ وہ نہیں چکھیں گے۔ فیہا ای فی جھنم، بردا۔ ٹھنڈک، شرابا پینے کی چیز، ہر وہ چہز جس کو چبانا نہ پڑے بلکہ پیا جائے عربی میں اس کے لئے شراب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہ وہاں نہ تو ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا۔ (یعنی ان کو نہ تو ایسی ٹھنڈک نصیب ہوگی جو جسم کو آرام اور سکون دے۔ اور نہ کوئی پینے کی چیز ایسی ملے گی جو پر ذائقہ بھی ہو اور پیاس کو بھی بجھا دے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
دوزخ اور اہل دوزخ۔
(ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
[9] یعنی ہم ان کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرتے جا رہے تھے جس میں کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…
Read the full tafseer →(24) جہنم میں یہ لوگ نہ ٹھنڈک کی راحت کا مزہ چکھیں گے اور نہ ان کو کوئی چیز پینے کو نصیب ہوگی۔ یعنی نہ راحت اور نہ پینے کو پانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →۔ 24 (یذوفون) جمع مذکر غائب مضارع مفنی ذوق سے۔ وہ نہیں چکھیں گے۔ چکھنے اور پینے میں بہت بڑا فرق ہے اور اس فرق کو ہر ایک انسان اچھی طرح سمجھتا ہے۔ پیچھے اس کی وضاحت گزر چکی ہے کہ دو زخیوں کو پینے کے لئے کیا گیا پیش کیا جائے گا اور تفصیل اس کی عروۃ الوثقی جلد ہشتم سورة الرحمٰن اور سورة الواقعہ میں گزر چکی ہے۔ اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخیوں کے لئے جب تک وہ دوزخ میں رہیں گے ٹھنڈا پانی اور اسی طرح کا کوئی دوسرا مشروب بھی جو ٹھنڈ اہو کسی قیمت پر بھی ان کو میسر نہیں آئے گا اور یہ پیچھے گزر چکا ہے کہ دوزخی جب جنت کی طرف نگاہ اٹھائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ ہمارے جاننے والے بلکہ ہمارے ستائے گئے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا (who will be abiding in it for ages....78:23). The word labithin is the plural of labith which means 'one who abides'. The word ahqab is the plural of hiqbah and means 'ages or a long time'. Scholars differ on the exact length or specific amount of time meant by this word. Ibn Jarir has recorded that Sayyidna ` Ali ؓ states that hiqbah is eighty years, and the year constitutes twelve months, and every month comprises thirty days, and each day is equivalent to one thousand years, thus one hiqbah totalling about twenty million and eighty-eight hundred thousand…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
16 The word ghassaq as used in the original applies to pus, blood, pus-blood and all those fluids that flow out from the eyes and skins as a result of a grievous penalty. Besides, this word is also used for a thing which stinks and gives out horrid, offensive smell.
Read the full tafseer →