An-Naba 78:23

An-Naba · from ayah 23

78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًا ۟ۚلّٰبِثِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَحۡقَابًا‌

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

In which they will remain for ages [unending].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:23

جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس میں وه مدتوں تک پڑے رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس میں وہ مدتوں اس طرح رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس میں قرنوں (مدتوں) رہیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ختم نہ ہونے والی پے در پے مدتیں اسی میں پڑے رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ مدتوں اسی میں رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں رہیں گے مدتہائے دراز

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس میں ان کو رہنا ہوگا مدتوں (پر مدتیں)

— مولانا اسحاق مدنی

جس میں وہ قرنوں پڑے رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ رہیں گے اس میں قرن ہا قرن۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

therein they shall abide for ages,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who will be abiding in it for ages.

— Muhammad Taqi Usmani

who will be abiding in it for ages.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will abide therein Ahqab.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In which they will remain for ages [unending].

— Saheeh International

for the rebellious ones and they will live therein for ages.

— Muhammad Sarwar

Living therein for ages.

— Muhammad Habib Shakir

They will tarry therein for ages.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة النَّبَا 15 اصل میں لفاظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پے درپے آنے والے طویل زمانے، ایسے مسلسل ادوار کہ ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجائے۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی، کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہرحال جب مدتوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی متصور ہوتا ہے کہ وہ لا متناہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہوجائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو، اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–25

لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا، لابثین، لابث کی جمع ہے جس کے معنے ٹھہرنے والے اور قیام کرنے والے کے ہیں، احقاب حقبہ کی جمع ہے، زمانہ دراز کو حقبہ کہا جاتا ہے، اس کی مقدار میں اقوال مختلف ہیں۔ ابن حریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی مقدار اسی سال نقل کی اور ہر سال بارہ مہینے کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا۔ اس طرح تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا ایک حقبہ اور حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، ابن عباس وغیرہ نے مقدار حقبہ اسی کے بجائے ستر سال قرار دی باقی حساب وہی ہے (ابن کثیر) مگر مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’لّٰبِثِیْنَ فِیْھَآ اَحْقَابًا‘۔ ’اَحْقَابٌ‘ کے معنی قرنوں کے ہیں۔ اس کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ’خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا‘ کے الفاظ سے ہو گئی ہے یعنی وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے طویل مدت مراد لے کر یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جہنم بالآخر ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن یہ رائے غلط ہے۔ زبان کے سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مجمل کی شرح مفصل کی روشنی میں کرتے ہیں نہ کہ مفصل کی شرح مجمل کی روشنی میں۔ ’خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا‘ کے الفاظ ظاہر ہے کہ مفصل ہیں اور لفظ ’احقاب‘ مجمل۔ اس مجمل کو مفصل کی روشنی میں سمجھیں گے نہ کہ اس کے برعکس۔ علاوہ ازیں یہاں انجام باغیوں اور سرکشوں کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–24

21۔ 1 گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کردیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–23

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 جن کا کوئی شمار نہیں۔ قرن پہ قرن گزرتے چلے جائیں گے۔ اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–25

آیت 21{ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ } ”یقینا جہنم گھات میں ہے۔“ جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–25

17 اَحْقَابًا۔ حُقْبَہ کی جمع ہے اور حقبہ بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیر معینہ مدت (مفردات) اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک حقبہ گزر جائے گا تو دوسرا حقبہ شروع ہوجائے گا۔ پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–23

10۔ (جن کا کوئی شمار نہیں) (آیت) ” ان ...... مرصادا یعنی دوزخ کے فرشتے اسی انتظار اور تاک میں لگے ہوئے ہیں کہ کافر آئے تو اسے عذاب کی گرفت میں لیں۔ (آیت) ” احقابا “۔ حقب کے معنی زمانہ طویل ومسلسل کے ہیں، وھو الدھر (مدارک) قال الفراء اصل الحقب من الترادف والتنابع (کبیر) احقاب کے بصیغہ جمع آجانے سے کوئی گنجائش دوزخ کے عدم خلود کے قائلوں کے لئے نہ رہی۔ ولم یرد بہ عدد محصور بل الابدکلما معنی حقب تبعہ اخر الی غیر نھایۃ ولا یستعمل الحقب الا اذا ارید تتابع الازمنۃ وتوالیھا (مدارک) عن قتادۃ وھو مالا انقطاع لہ (ابن کثیر) والصحیح انھا لاانقضاء لھا کما قال قتادۃ والربیع (ابن جریر) قال الحسن فو اللہ ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لبثین فیھا احقابا . طاغی دوزخ میں صدیوں تک رہیں گے۔ احقاب ‘ حقب کی جمع ہے۔ ایک حقب اسّی برس کا ہوگا اور ہر سال بارہ مہینہ کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن (اس دنیا کے) ہزار برس کا۔ بقول بغوی یہ تفصیل حضرت علی ؓ سے اور بقول ہناد حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے۔ مجاہد نے کہا : الاحقاب 43 حقبہ کا۔ ہر حقبہ ستّر خریف کا ‘ ہر خریف سات سو سال کا ‘ ہر سال 360 دن کا اور ہر دن (دنیا کے) ہزار برس کا۔ مقاتل بن حبان نے کہا : ایک حقب سترہ ہزار برس کا ہوگا۔ ایک شبہ احقاب کی مدت کچھ بھی بیان کی جائے۔ بہرحال متناہی ہوگی اور آیات محکمات بتارہی ہیں کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : و فی العذاب ھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–23

(21۔ 23) بیشک دوزخ ایک قید خانہ ہے اور وہ کافروں کا ٹھکانا ہے کہ جس میں وہ بےانتہا زمانوں تک پڑے رہیں گے، ایک عقب چالیس سال کا ہوتا ہے اور سال تین سو ساٹھ دن کا اور قیامت میں ایک دن دنیاوی ہزار سال کے برابر ہوگا۔ یا یہ کہ ان زمانوں کی مقدار اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لبثین فیھا احقاباً :”احقاباً“ ”احقاباً“ ”حقب“ (حاء کے مضمہ اور قاف کے سکون کے ساتھ۔) کی جمع ہے، اسی (80) سال یا اس سے زیادہ مدت، زمانہ، سال۔ (قاموس) یعنی مدتوں، کئی زمانے، سالہا سال اس میں پڑے رہیں گے، ایک مدت ختم ہونے پر دوسری مدت شروع ہوجائے گی، ایسی مدتیں جن کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ یہ مطلب نہیں کہ کچھ مدتوں کے بعد عذاب کم یا ختم ہوجائے گا، کیونکہ اسی سلسلہ کلام میں آگے چل کر فرمایا :(فذوقوا فلن نزیدکم الا عذاباً) (النبا : 30)”پس چکھو کہ ہم تمہیں عذبا کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لبثین فیھا احقابا۔ جب تک احقاب رہیں گے وہ آگ میں ہی رہیں گے اور احقاب ختم نہ ہوں گے جب ایک حقب ختم ہوگا تو دوسرا شروع ہوجائے گا حقب سے مراد زمانہ ہے اور احقاب سے مراد کئی زمانے ہیں، حقب کا معنی سال ہے اس کی جمع حقب آتی ہے۔ متمم بن نویرہ تمیمی نے کہا، کنا کندمانی جدیمہ حقبۃ، من الدھر حتی قیل لن یتصدعا، فلما تفرقنا کانی ومالکا، لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا۔ ہم دونوں ایک زمانہ جذیمہ کے دو ساتھیوں کی طرح رہے یہاں تک کہ یہ کہا گیا وہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے جب ہم جدا ہوئے گویا میں اور مالک طویل اجتماع کی وجہ سے ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے۔ حقب قاف کے ضمہ اور سکون کے ساتھ اسی سال کا عرصہ ہے ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا میں احقابا سے مراد سال ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا سے مراد ہے کہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں جب بھی ایک حقب گذرے گا تو ہم دوسرے میں داخل ہوجائیں گے۔ ایک حق ستر سال کا ہے 8۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک حقب ستر سال کا ہے اور اس میں سے ہر دن ہزار سال کا ہے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت لبثین احقابا سے مراد ہے کہ کوئی تم میں سے ان احقاب کو نہیں جان سکتا مگر یہ کہ ایک حق اسی سال کا ہے۔ اور ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہے اور ایک دن ہزار سال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا : رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں مدتوں ] نوٹ 2: آیت 23 ۔ میں ہے کہ وہ لوگ اس میں مدتوں رہنے والے ہیں۔ مدتوں کے لیے لفظ احقاب استعمال کیا گیا ہے (یہ جمع الجمع ہے۔ اس کا واحد حُقْبٌ ہے۔ اس کی جمع حُقُبٌ ہے اور اس کی جمع اَحْقَابٌ ہے۔ مرتب) جس کے معنی ہیں پے در پے آنے والے طویل زمانے۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں لیکن بہرحال کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہوجائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ0023﴾ (جس میں وہ زمانہ ہائے دراز تک رہیں گے) لفظ احقاب حقب کی جمع ہے حضرت حسن بصری ؓ نے اس کی تفسیر غیر محدود زمانہ سے کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک حقبہ اسّی (80) سال کی مدت کا نام ہے اور ساتھ ہی سلف سے یہ بھی منقول ہے کہ ان اسّی سالوں کا ہر دن دنیا کے ہزار سال کے برابر ہوگا بہرحال نص قرآنی سے یہ ثابت ہوا کہ اہل کفر کو دوزخ میں بقدر مدت احقاب رہنا ہوگا، چونکہ احقاب کی گنتی نہیں بتائی کہ کتنے احقاب ہوں گے اور سورة ٴ نساء اور سورة الجن میں اہل کفر کی سزا بیان کرتے ہوئے خالدین کے ساتھ ابدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–23

6:۔ ” اِنَّ جَہَنَّمَ “۔ ” مِرْصَادًا “ تیار اور مستعد (قرطبی، مظہری) ۔ جہنم کافروں کے لیے بالکل تیار اور مستعد ہوگی۔ وہ تمام سرکشوں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے والوں کو انجام اور ٹھکانہ ہوگا جس میں مدتہائے غیر متناہی ٹھہریں گے۔ ” اَحْقَاب “ حُقُب کی جمع ہے اور حقب کی تفسیر میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ حاصل یہ کہ اس سے مراد خلود ہے کیونکہ جب بھی ایک حقب گذر جائے گا دوسرا شروع ہوجائیگا۔ قال الحسن اذا مضی حقب دخل حقب اٰخر ثم اخری الا البد فلیس للحقاب مدۃ الا الخلود (مظہری ج 10 ص 176) ۔ دھورا متتابعۃ ولیس فیہ ما یدل علی خروجہم منہا اذ لو صح ان الحقب ثمانون سنۃ او سبعون الف سنۃ فلیس فیہ ما یقتضی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

(دوزخیوں کی سزامئیں ) دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لّٰبِثِيْنَ فِيْہَآ اَحْقَابًا۝ 23 ۚ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ حقب قوله تعالی: لابِثِينَ فِيها أَحْقاباً [ النبأ/ 23] ، قيل : جمع الحُقُب، أي : الدهر «3» . قيل : والحِقْبَة ثمانون عاما، وجمعها حِقَب، والصحیح أنّ الحقبة مدّة من الزمان مبهمة، والاحتقاب : شدّ الحقیبة من خلف الراکب، وقیل : احتقبه واستحقبه، وحَقِبَ البعیر «4» : تعسّر عليه البول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : لّٰبِثِیْنَ فِیْہَآ اَحْقَابًا (جس میں وہ بےانتہاء زمانوں تک رہیں گے) لٰبثینؔ کا معنی ٹھہرنے والے ہونگے۔ : طاغین کی ضمیر سے لٰبثین حال ہے۔ قراءت : حمزہ نے لَبِثِیْن پڑھا ہے۔ اللبِثؔ زیادہ قوی ہے کیونکہ لابث اسی شخص کو کہتے ہیں جس سے ٹھہرنا پایا جائے خواہ اقل قلیل کیوں نہ ہو۔ اور اللّبث اس کو کہتے ہیں جس کی شان یہ ہو کہ وہ مکان میں ٹھہرے اور قیام کرے۔ فیھاؔ سے جہنم میں ٹھہرنا مراد ہے۔ احقابا یہ جمع حقب کی ہے اور اس کا معنی ہے ص زمانہ۔ اس سے کوئی عدد خاص مراد نہیں بلکہ ہمیشگی مراد ہے۔ جب ایک حقب گزرجائے گا تو اس کے پیچھے دوسرا حقب غیر منتہی زمانے کیلئے شروع ہوگا۔ الحقبؔ اور الحقبۃؔ کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(20) جہنم منکروں کا ہمیشہ کا ٹھکانا۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں ان کو رہنا ہوگا مدتوں پر مدتیں۔ یعنی اس " مکث و خلود " کا کبھی خاتمہ نہ ہوگا بلکہ اس قرن کے بعد دوسرا، اس کے بعد تیسرا، اور اس کے بعد چوتھا آتا چلا جائے گا۔ اور یہ لامتناہی سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ فلا انقطاع لہ ولا انقضاء ( ابن کثیر، ابن جریر، معالم وغیرہ) پس یہ " لبث احقاب " دراصل بقاء دوام اور " خلود فی النار " کے معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، مظہری، اور خازن وغیرہ) ہم نے اپنے ترجمہ میں اس مفہوم کو واضح کردیا ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ سو جن لوگوں نے اس سے لبث طویل مراد لے کر یہ نتیجہ نکالنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–23

ف 16 اور ظاہر ہے کہ اعقاب کبھی ختمہ نہ ہوں گے لہٰذا مقصد یہ ہے کہ وہ کفار کبھی دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے (کذانی الشوکانی عن الحسن البصری)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:23) لبثین فیہ احقابا : جملہ طاغین کی ضمیر مستکن سے حال ہے لہٰذا منصوب ہے۔ لبثین لبث (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ لبث لباث ولباثۃ بمعنی دیر تک رہنا۔ مدت تک رہنا۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جھنم ہے۔ احقابا : حقب کی جمع ہے اور بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ حقب کتنی مدت کو کہتے ہیں اس میں اسلاف و اہل لغت کا اختلاف ہے۔ مثلا حقب 80 سال جس کا ہر دن ہزار برس کا۔ (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) ۔ حقب 27 خریف کا۔ ہر خریف 700 سال کا، ہر سال 360 دن کا ہر دن ہزار برس کا۔ (مجاہد) اسی طرح دوسرے اقوال ہیں :۔ لیکن کتنی ہی مدت بیان کی جائے پھر بھی وہ میعاد ختم ہوجائے گی۔ دوامی نہ ہوگی : اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–23

[8] یعنی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جیسا کہ دوسرے مقامات پر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–30

ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) وہ سرکش اس میں قرنہاقرن پڑے رہیں گے۔ یعنی دوزخ کا گھات میں ہونا یہی کہ عذاب کے فرشتے انتظار کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں شکاری بیٹھ کر شکار کا انتظار کیا کرتے ہیں۔ طاغی کے معنی کفر پر اصرار کرنے والا بعض حضرات نے بیان کئے ہیں۔ حقبہ جس کی جمع قرآن نے احقاب فرمائی ہے مفسرین کے اس میں کئی قول ہیں، حضرت حسن ؓ کا قول بالکل واضح ہے کہ احقاب کی حقیقت کا ہم کو حال معلوم نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ ابدالا باد تک اور قرن کے بعد قرن یعنی ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اس میں عرصہ دراز تک پڑے رہیں گے ۔ 23 (احقاباً ) بیشمار قرن ، بےانتہا زمانہ حقب کی جمع حقب ضم قاف زمانہ کو کہتے ہیں اور حقب سکون قاف زمانہ کی ایک مقررہ مدت کا نام ہے مگر اس مدت کے تعین میں اہل لغت کا اختلاف ہے بعض دس سال کی مدت کو اور بعض ستر برس کے زمانہ کو ، بعض تین سال اور بعض چالیس سال اور بعض تیس ہزار سال بتاتے ہیں اور مفسرین سلف نے تصریح کی ہے احقاب سے غیر منقطع زمانہ مراد ہے۔ باقی حقب کی مدت کا تعین بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ امام حسن بصری (رح) نے اسی طرح بیان کیا ہے ۔ (ابن کثیرج 01 ص 641 طبع مصر) مختصر یہ کہ عرصہ کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو اس کی درازی کی کوئی نہ کوئی مدت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا (who will be abiding in it for ages....78:23). The word labithin is the plural of labith which means 'one who abides'. The word ahqab is the plural of hiqbah and means 'ages or a long time'. Scholars differ on the exact length or specific amount of time meant by this word. Ibn Jarir has recorded that Sayyidna ` Ali ؓ states that hiqbah is eighty years, and the year constitutes twelve months, and every month comprises thirty days, and each day is equivalent to one thousand years, thus one hiqbah totalling about twenty million and eighty-eight hundred thousand…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

15 The word ahqab as used in the original means successive periods of long time appearing continuously one after the other. From this word some people have tried to argue that there will be eternity in the life of Paradise but no eternity. in the life of Hell. For however long these ages may be, they will not be endless but will come to an end at some time. But this argument is wrong for two reasons. First, that lexically, the word haqab (sing. of ahqab) itself contains the meaning that one haqab should be closely followed by another haqab; therefore, ahqab will necessarily be used only for…

Read the full tafseer →