An-Naba 78:22

An-Naba · from ayah 22

78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا ۟ۙلِّلطّٰغِيۡنَ مَاٰبًا

(یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For the transgressors, a place of return,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:22

(یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(وہ) سرکشوں کا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سرکشوں کے لیے ایک بڑے ہی ہولناک ٹھکانے کے طور پر

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ٹھکانہ ہے سرکش لوگوں کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی سرکشوں کا وہی ٹھکانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(It is) abode for the rebellious people

— Muhammad Taqi Usmani

(It is) abode for the rebellious people

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A dwelling place for the Taghun,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For the transgressors, a place of return,

— Saheeh International

It will be a place of return

— Muhammad Sarwar

A place of resort for the inordinate,

— Muhammad Habib Shakir

For the exorbitant a receptacle.

— Abdul Majid Daryabadi

For the transgressors a place of destination:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة النَّبَا 15 اصل میں لفاظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پے درپے آنے والے طویل زمانے، ایسے مسلسل ادوار کہ ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجائے۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی، کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہرحال جب مدتوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی متصور ہوتا ہے کہ وہ لا متناہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہوجائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو، اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ با ظاہر یہ ہے کہ للطغین، ماباً کے متعلق ہے اور یہ ان جھنم کانت کی دوسری خبر ہے، اس طرح معنے دونوں جملوں کے یہ ہوئے کہ جسر جھنم تو ہر نیک وبد کے لئے انتظار گاہ ہے سبھی کو اس کے اوپر سے گزرنا ہے اور جہنم طاغین کے لئے مستقر اور ٹھکانا ہے۔ طاغین طاغی کی جمع ہے طغیان سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں سرکشی اور طاغی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سرکشی اور نافرمانی میں حد سے گزر جائے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ ایمان ہی سے نکل جائے اس لئے طاغین سے مردا اس جگہ کافر ہوں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ بدعقیدہ گمراہ مسلمانوں کے فرقے ہوں جو قرآن و سنت کی حدود سے نکلے ہوئے ہیں اگرچہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

’اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ہ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا‘۔ اس ہلچل کے بعد جہنم اچانک اس طرح نمودار ہو جائے گی گویا وہ سرکشوں کا ٹھکانا بننے کے لیے اس ہلچل کی آڑ میں گھات ہی میں بیٹھی ہوئی تھی، نہ اس کے لیے کوئی تیاری کرنی پڑے گی اور نہ سرکشوں کو اس کی تیاری کے انتظار میں کوئی مہلت ملے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–24

21۔ 1 گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کردیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–23

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–25

آیت 21{ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ } ”یقینا جہنم گھات میں ہے۔“ جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 مِرْصَاد بمعنی گھات یا تاک لگا کر بیٹھنے کی جگہ جہاں شکاری غافل شکار کو پھانسنے کے لیے بیٹھتا ہے۔ پھر جب شکار اس کی زد میں آجاتا ہے تو یکدم اسے قابو کرلیتا ہے۔ آخرت کے منکر بھی جہنم کے غافل شکار ہیں جو انجام سے بیخبر اور لاپروا ہو کر زمین میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے مرنے کی دیر ہے کہ جہنم فوراً انھیں اپنے قبضہ میں لے لے گی۔ وہ تو پہلے ہی اس انتظار میں ہے کہ اسے کب کوئی شکار مہیا ہوتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–23

10۔ (جن کا کوئی شمار نہیں) (آیت) ” ان ...... مرصادا یعنی دوزخ کے فرشتے اسی انتظار اور تاک میں لگے ہوئے ہیں کہ کافر آئے تو اسے عذاب کی گرفت میں لیں۔ (آیت) ” احقابا “۔ حقب کے معنی زمانہ طویل ومسلسل کے ہیں، وھو الدھر (مدارک) قال الفراء اصل الحقب من الترادف والتنابع (کبیر) احقاب کے بصیغہ جمع آجانے سے کوئی گنجائش دوزخ کے عدم خلود کے قائلوں کے لئے نہ رہی۔ ولم یرد بہ عدد محصور بل الابدکلما معنی حقب تبعہ اخر الی غیر نھایۃ ولا یستعمل الحقب الا اذا ارید تتابع الازمنۃ وتوالیھا (مدارک) عن قتادۃ وھو مالا انقطاع لہ (ابن کثیر) والصحیح انھا لاانقضاء لھا کما قال قتادۃ والربیع (ابن جریر) قال الحسن فو اللہ ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الطاغی (الطاغین کا واحد) گناہوں میں حد سے بڑھ جانے والا۔ آدمی طغیان کی حد میں صرف اس وقت داخل ہوتا ہے جب کفر و انکار پر اس کو یقین ہوجائے۔ اگر صریحاً (کہہ کر) کفر پر یقین ہوگا تو اس کو کافر کہا جائے گا اور اگر اس کے عقیدہ پر کفر لازم آتا ہے اور عقیدہ کا تقاضا کفر ہو تو وہ بدعتی ‘ رافضی یا قدریہ یا مرجیہ ہوگا۔ مابا . جائے رجوع (واپسی کا مقام) یہ کانت کی دوسری خبر ہے (یعنی جہنم طاغیوں کا ٹھکانا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–23

(21۔ 23) بیشک دوزخ ایک قید خانہ ہے اور وہ کافروں کا ٹھکانا ہے کہ جس میں وہ بےانتہا زمانوں تک پڑے رہیں گے، ایک عقب چالیس سال کا ہوتا ہے اور سال تین سو ساٹھ دن کا اور قیامت میں ایک دن دنیاوی ہزار سال کے برابر ہوگا۔ یا یہ کہ ان زمانوں کی مقدار اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

ان جھنم کانت مرصاداً …: یہاں سے جہنم اور اہل جہنم کا کچھ حال بیان ہوتا ہے۔“ مرصاداً“) (گھات) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی دشمن یا شکار پر قابو پانے کے لئے تاک لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ بیخبر ی میں آکر پھنس جائے۔ یعنی سرکش لوگ اللہ سے بےخوف ہو کر دنیا میں فساد مچا رہے ہیں، مگر انہیں یاد نہیں کہ جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ اچانک پھنسیں گے اور پھر وہی ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

للطاغین مابا۔ یہ مرصادا سے بدل ہے ماب سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے یہ لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف لوگ لوت کر آتے ہیں جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، اب یئوب اوبۃ، جس کا معنی ہے لوٹنا۔ قتادہ نے کہا اس کا معنی ہے پناہ گاہ اور ٹھکانہ۔ طاغین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کرکے اپنے دین میں سرکشی کی یا دنیا میں ظلم اختیار کرکے سرکشی اختیار کی۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

2۔ ابن المنذرنے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان جہنم کانت مرصادا بیشک دوزخ گھات میں لگی ہے۔ اس میں کانت سے مراد ہے صارت۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ کو چل کر عبور کرے گا۔ 4۔ ابن جریر نے سفیان (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ اس پر تین پل ہوں گے کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ سے گزرے گا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ تم جان لو کہ جنت کی طرف کوئی راستہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِلطَّاغِيْنَ مَاٰبًا : سرکشی کرنے والوں کے لیے واپس ہونے کی جگہ ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰبًاۙ0022﴾ (دوزخ سرکشی کرنے والوں کے لوٹنے کی جگہ ہوگی) یعنی دوزخ ان کا ٹھکانہ ہوگا وہ اسی میں رہیں گے۔ سب سے بڑی سرکشی کفر اور شرک ہے کافروں و مشرکوں کے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ انہیں دوزخ ہی میں رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–23

6:۔ ” اِنَّ جَہَنَّمَ “۔ ” مِرْصَادًا “ تیار اور مستعد (قرطبی، مظہری) ۔ جہنم کافروں کے لیے بالکل تیار اور مستعد ہوگی۔ وہ تمام سرکشوں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے والوں کو انجام اور ٹھکانہ ہوگا جس میں مدتہائے غیر متناہی ٹھہریں گے۔ ” اَحْقَاب “ حُقُب کی جمع ہے اور حقب کی تفسیر میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ حاصل یہ کہ اس سے مراد خلود ہے کیونکہ جب بھی ایک حقب گذر جائے گا دوسرا شروع ہوجائیگا۔ قال الحسن اذا مضی حقب دخل حقب اٰخر ثم اخری الا البد فلیس للحقاب مدۃ الا الخلود (مظہری ج 10 ص 176) ۔ دھورا متتابعۃ ولیس فیہ ما یدل علی خروجہم منہا اذ لو صح ان الحقب ثمانون سنۃ او سبعون الف سنۃ فلیس فیہ ما یقتضی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

(دوزخیوں کی سزامئیں ) دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰبًا۝ 22 ۙ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔ أوب الأَوْبُ : ضرب من الرجوع، وذلک أنّ الأوب لا يقال إلا في الحیوان الذي له إرادة، والرجوع يقال فيه وفي غيره، يقال : آب أَوْباً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : لِّلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا (سرکشوں کا ٹھکانہ ہے) یعنی وہ کافروں کیلئے لوٹنے کی جگہ اور ٹھکانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” ان جھنم کانت مرصادا “ راستہ اور گزرنے کی جگہ۔ پس کسی کے لئے جنت کا راستہ نہ ہوگا حتیٰ کہ آگ کو طے کرے اور کہا گیا ہے۔ مرصادا کی تفسیر ” کانت مرصادا “ یعنی ان کے لئے تیار کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے ” ارصدت الشیئ “ جب تو اس کو اس کے لئے تیار کرے اور کہا گیا ہے وہ ” رصدت الشیئ “ ارصدہ سے مشتق ہے جب تو اس کا نتظار کرے اور مرصاد وہ جگہ جس میں گھات لگانے والا دشمن کا انتظار کرے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ان جھنم کانت مرصادا “ یعنی کفار کا گھات لگائے ہوئے ہے۔ مقسم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جہنم کے پل پر سات رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے پہلی کے پاس بندہ ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت کے بارے میں سوال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(19) جہنم سرکشوں کا ٹھکانا۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سرکشوں کے لئے ایک بڑے ہی ہولناک ٹھکانے کے طور پر اس قدر ہولناک کہ اس کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور وہ یوم الفصل کی اس ہلچل کے بعد اچانک اس طرح نمودار ہوگی کہ ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور اس موقع پر نہ ان کے لئے اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی اور نہ ہی اس سے چھوٹنے اور بھاگ نکلنے کی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ فَلَا یَسْتَطِیْعُونَ رَدَّہَا وَلَا ہُمْ یُنظَرُونَ ( الانبیائ 40 پ 17) یعنی یہ نہ اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی وہاں پر ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ سو وہ سرکشوں کے لئے ایسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–23

ف 16 اور ظاہر ہے کہ اعقاب کبھی ختمہ نہ ہوں گے لہٰذا مقصد یہ ہے کہ وہ کفار کبھی دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے (کذانی الشوکانی عن الحسن البصری)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:22) للطغین مابا۔ اگر آیت 21 میں جھنم کو فقط کفار کے لئے مرصاد لیا جائے تو طغین آیت 21 کے ساتھ آئے گا ای ان جھنم کانت مرصادا للطغین : (بےشک دوزخ طاغین کی گھات میں ہے۔ اس صورت میں مابا بدل ہوگا مرصادا سے۔ اور اگر آیت 21 میں جہنم کو کفار و مؤمنین دونوں کے لئے مراد لیا جائے تو مابا خبر ثانی ہوگی کانت للطغین کی، (لوٹنے کی جگہ) مابا مصدر بھی ہے اور اسم ظرف مکان وزمان بھی۔ یعنی لوٹنا۔ لوٹنے کی جگہ، لوٹنے کا وقت۔ اوب ایاب بھی مصدر ہیں۔ اب یئوب (باب نصر) اواب اوابین اسی سے مشتق ہیں ۔ تاویب دن کے چلنے کو کہتے ہیں۔ طاغی جمع طغین۔ گناہوں میں حد سے بڑھ جانے والے ۔ طغی یطغی طغیان (باب ضرب) سے اسم فاعل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–23

[8] یعنی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جیسا کہ دوسرے مقامات پر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–30

ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے ۔ 22 (طاغین) سرکش ، شریر اور حد سے گزر جانے والے طغی کی جمع بحالت نصب و جر۔ وہ لوگ جو شریر ہیں اور حد سے گزر جانے والے ہیں اور بہت سرکش ہیں وہ سب کے سب اس میں جمع ہونے والے ہیں۔ کفر بھی سرکشی ہے ، بد کاری و بدکرداری بھی سرکشی ہے اور فسق و فجور سب سرکشی ہیں۔ اسی طرح تم غور کرو گے تو اپنے زمانہ کے سارے سرکشوں کا تم کو معلوم ہوجائے گا اور یہ بات قرآن کریم نے واضح طور پر بیان کردی ہے کہ سارے سرکشوں کا ٹھاکنا جہنم ہے۔ (ماباً ) لوٹنے کی جگہ (حالت نصب) مآب کی اصل اوب ہے۔ اب یو وب اوبا وابابا و مآبا ۔ رجع فرمایا جا رہا ہے کہ ان سب طاغیوں کا اصل ٹھکانا دوزخ ہے ، دنیا میں خواہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لِّلطَّاغِينَ مَآبًا ([ It is ] an abode for the rebellious people... 78:22). The combined sense of verses 21 and 22 is that the bridge of Hell is set in ambush for all, the good and the bad. They will have to go over it. But Hell is the abode of the rebellious people. The word taghin is the plural of taghi, being derived from tughyan, meaning 'rebellion'. Thus the word taghi refers to a 'person who exceeds the limit in disobeying the authority [ of Allah ] '. This is possible only when he gives up his faith. Hence, the word thin in this context would refer to the disbelievers. It may also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

15 The word ahqab as used in the original means successive periods of long time appearing continuously one after the other. From this word some people have tried to argue that there will be eternity in the life of Paradise but no eternity. in the life of Hell. For however long these ages may be, they will not be endless but will come to an end at some time. But this argument is wrong for two reasons. First, that lexically, the word haqab (sing. of ahqab) itself contains the meaning that one haqab should be closely followed by another haqab; therefore, ahqab will necessarily be used only for…

Read the full tafseer →