An-Naba 78:21

An-Naba · from ayah 21

78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ۟اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادًا

بےشک دوزخ گھات میں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Hell has been lying in wait

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:21

بےشک دوزخ گھات میں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک دوزخ گھات میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جہنم تاک میں ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک دوزخ ایک گھات ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا جہنم ہمیشہ سے ایک گھات کی جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بیشک جہنم گھات میں ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک دوزخ گھات میں لگی ہوئی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا جہنم گھات میں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک دوزخ گھات میں ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the Hell is an ambush,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely Jahannam (the Hell) lurks in ambush.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely Jahannam (the Hell) lurks in ambush.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, Hell is a place of ambush

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, Hell has been lying in wait

— Saheeh International

Hell will lie in wait (for its prey).

— Muhammad Sarwar

Surely hell lies in wait,

— Muhammad Habib Shakir

Verily the Hell is an ambuscade:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 14 گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ وہ بیخبر ی کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بےخوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی آماجگاہ ہے، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا، مرصاد، وہ جگہ جہاں بیٹھ کر کسی کی نگرانی یا انتظار کیا جائے، جہنم سے مراد اس جگہ جسر جہنم یعنی پل صراط ہے۔ یہاں ثواب دینے والے اور عذاب دینے والے دونوں فرشتے انتظار کرتے ہوں گے اہل جہنم کو عذاب کے فرشتے پکڑ لیں گے اور اہل جنت کے ساتھ ثواب کے فرشتے ان کو ان کے مقام پر پہنچا دیں گے۔ (مظہری) حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ جہنم کے پل پر نگراں فرشتوں کی چوکی ہوگی جس کے پاس جنت میں جانے کا پروانہ ہوگا، اس کو گزرنے دیا جائے گا جس کے پاس نہ ہوگا اس کو روک لیا جائے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

’اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ہ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا‘۔ اس ہلچل کے بعد جہنم اچانک اس طرح نمودار ہو جائے گی گویا وہ سرکشوں کا ٹھکانا بننے کے لیے اس ہلچل کی آڑ میں گھات ہی میں بیٹھی ہوئی تھی، نہ اس کے لیے کوئی تیاری کرنی پڑے گی اور نہ سرکشوں کو اس کی تیاری کے انتظار میں کوئی مہلت ملے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–24

21۔ 1 گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کردیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–23

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–25

آیت 21{ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ } ”یقینا جہنم گھات میں ہے۔“ جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

15 پہاڑوں کی زمین میں گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ ان کے مقامات میں تبدیلی واقع ہوجائے گی پھر ان کے پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر بالآخر چمکتی ریت کے تودے بن جائیں گے جن پر ایک خاص زاویہ سے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ گویا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ پھر ان کی یہ کیفیت بھی نہ رہے گی بلکہ ہوا ان ریت کے تودوں کو ادھر سے ادھر اڑاتی پھرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–23

10۔ (جن کا کوئی شمار نہیں) (آیت) ” ان ...... مرصادا یعنی دوزخ کے فرشتے اسی انتظار اور تاک میں لگے ہوئے ہیں کہ کافر آئے تو اسے عذاب کی گرفت میں لیں۔ (آیت) ” احقابا “۔ حقب کے معنی زمانہ طویل ومسلسل کے ہیں، وھو الدھر (مدارک) قال الفراء اصل الحقب من الترادف والتنابع (کبیر) احقاب کے بصیغہ جمع آجانے سے کوئی گنجائش دوزخ کے عدم خلود کے قائلوں کے لئے نہ رہی۔ ولم یرد بہ عدد محصور بل الابدکلما معنی حقب تبعہ اخر الی غیر نھایۃ ولا یستعمل الحقب الا اذا ارید تتابع الازمنۃ وتوالیھا (مدارک) عن قتادۃ وھو مالا انقطاع لہ (ابن کثیر) والصحیح انھا لاانقضاء لھا کما قال قتادۃ والربیع (ابن جریر) قال الحسن فو اللہ ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان جھنم کانت مرصادا للطغین . رَصَد : گھات لگانے کی تیاری اور گھات کا مقام۔ مطلب یہ ہے کہ جہنم کے پُل پر عذاب اور رحمت کے فرشتے گزرنے والوں کی تاک میں لگے رہیں گے۔ عذاب کے فرشتے تو کافروں کی گھات میں رہیں گے کہ ان کو پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیں اور عذاب دیں اور رحمت کے فرشتے ایمان والوں کی تاک میں ہوں گے کہ پل صراط سے گزرتے وقت مؤمنوں کو جہنم کی لپٹ اور پل پر (دو طرفہ) لگے ہوئے آنکڑوں سے محفوظ رکھیں۔ اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم سب لوگوں کی گزرگاہ ہوگی۔ تمام آدمی اس پر سے گزریں گے جیسا کہ آیت : وَاِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَرِادُھَا میں آیا ہے اس صورت میں مرصاد کا معنی ہوگا گھات کا راستہ یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–23

(21۔ 23) بیشک دوزخ ایک قید خانہ ہے اور وہ کافروں کا ٹھکانا ہے کہ جس میں وہ بےانتہا زمانوں تک پڑے رہیں گے، ایک عقب چالیس سال کا ہوتا ہے اور سال تین سو ساٹھ دن کا اور قیامت میں ایک دن دنیاوی ہزار سال کے برابر ہوگا۔ یا یہ کہ ان زمانوں کی مقدار اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

ان جھنم کانت مرصاداً …: یہاں سے جہنم اور اہل جہنم کا کچھ حال بیان ہوتا ہے۔“ مرصاداً“) (گھات) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی دشمن یا شکار پر قابو پانے کے لئے تاک لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ بیخبر ی میں آکر پھنس جائے۔ یعنی سرکش لوگ اللہ سے بےخوف ہو کر دنیا میں فساد مچا رہے ہیں، مگر انہیں یاد نہیں کہ جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ اچانک پھنسیں گے اور پھر وہی ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان جہنم کا نت مرصادا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ الا عذابا۔ ان جہنم کا نت مرصادا۔ مرصادا، رصد سے فعال کا وزن ہے رصد ہراس چیز کو کہتے ہیں جو تیرے سامنے ہو، حضرت حسن بصری نے کہا، جہنم پر داروغے ہیں کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوتا مگر اس کے پاس سے گزرتا ہے جو آدمی راہداری لے کر آتا ہے وہ آگے گزرجاتا ہے اور جو راہداری لے کر نہیں آتا اسے روک لیا جاتا ہے۔ حضرت سفیان سے مروی ہے کہ جہنم پر تین پل ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، مرصادا اسم منسوب ہے یعنی جہنم اس کو تاڑنے والی ہوتی ہے جو بھی اس کے پاس سے گزرتا ہے مقاتل نے کہا، اس کا معنی ہے قید خانہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے راستہ، گزرگاہ، جہنم تک پہنچنے کا کوئی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

2۔ ابن المنذرنے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان جہنم کانت مرصادا بیشک دوزخ گھات میں لگی ہے۔ اس میں کانت سے مراد ہے صارت۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ کو چل کر عبور کرے گا۔ 4۔ ابن جریر نے سفیان (رح) سے آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ اس پر تین پل ہوں گے کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ دوزخ سے گزرے گا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) آیت ان جہنم کانت مرصادا کے بارے میں روایت کیا کہ تم جان لو کہ جنت کی طرف کوئی راستہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان جَهَنَّمَ كَانتْ مِرْصَادًا : بیشک جہنم ہے گھات لگانے کا مستقل ٹھکانہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کا وقوع وقت معین پر ہوگا۔ اس دن کیا کیا حالات سامنے آئیں گے اس کا تذکرہ فرما کر میدان قیامت میں حاضر ہونے والی دونوں جماعتوں کا انجام بتایا، پہلے کفر و شرک والوں کی سزا بتائی ﴿ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ0021﴾ سے شروع ہے پھر متقیوں کا انعام بتایا جس کی ابتداء ﴿اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ0031﴾ سے ہے، آیات بالا میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے اس میں کام کرنے والے فرشتے جو عذاب دینے پر مامور ہیں وہ انتظار کرتے ہیں کہ کفار و مشرکین اس میں کب داخل ہوتے ہیں جیسے ہی آئیں ان کا عذاب شروع کردیا جائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (مرصاد) جہنم کی صفت ہے اور مبالغہ کا صیغہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–23

6:۔ ” اِنَّ جَہَنَّمَ “۔ ” مِرْصَادًا “ تیار اور مستعد (قرطبی، مظہری) ۔ جہنم کافروں کے لیے بالکل تیار اور مستعد ہوگی۔ وہ تمام سرکشوں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے والوں کو انجام اور ٹھکانہ ہوگا جس میں مدتہائے غیر متناہی ٹھہریں گے۔ ” اَحْقَاب “ حُقُب کی جمع ہے اور حقب کی تفسیر میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ حاصل یہ کہ اس سے مراد خلود ہے کیونکہ جب بھی ایک حقب گذر جائے گا دوسرا شروع ہوجائیگا۔ قال الحسن اذا مضی حقب دخل حقب اٰخر ثم اخری الا البد فلیس للحقاب مدۃ الا الخلود (مظہری ج 10 ص 176) ۔ دھورا متتابعۃ ولیس فیہ ما یدل علی خروجہم منہا اذ لو صح ان الحقب ثمانون سنۃ او سبعون الف سنۃ فلیس فیہ ما یقتضی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(دوزخ تاک میں ہے) اس کے بعد فرمایا ان جھنم کانت مرصادا بیشک دوزخ تاک میں ہے ۔ یعنی گنہگاروں ، نافرمانوں اور خدا کی تو حید اور قیامت کے منکر ین کے انتظار میں ہے کہ وہ کب اس کا شکار بنتے ہیں للطغین مابا وہی سرکش لوگ جہنوں نے اطاعت کی بجائے معصیت کا راستہ اختیار کیا ۔ ظلم اور زیادتی کرتے رہے ان کا ٹھکانا یقینا جہنم ہے جہنم اور اس کے فرشتے ایسے لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں ۔ فرمایا اس قسم کے بدکردار لوگ لٰبثین فیھا ٹھہریں گے اس دوزخ میں احقابا قرن ہا قرن تک ۔ احقاب حقیب کی جمع ہے بعض مفسرین کرام (ب 1 تفسیر ابن کثیرص 463 ج 2) فرماتے ہیں کہ ایک حقب اسی 80 سال کے برابر ہے۔ حضرت علی ؓ سے حقب کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ جَہَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۝ 21 جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ رصد الرَّصَدُ : الاستعداد للتّرقّب، يقال : رَصَدَ له، وتَرَصَّدَ ، وأَرْصَدْتُهُ له . قال عزّ وجلّ : وَإِرْصاداً لِمَنْ حارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 107] ، وقوله عز وجل : إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصادِ [ الفجر/ 14] ، تنبيها أنه لا ملجأ ولا مهرب . والرَّصَدُ يقال لِلرَّاصِدِ الواحد، وللجماعة الرَّاصِدِينَ ، ولِلْمَرْصُودِ ، واحدا کان أو جمعا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہنم مومن کی راہ گزر کفار کا مستقر : 21 : اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا (بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے) مرصادًاؔ ایسا راستہ جس پر مخلوق کا گزر ہوگا۔ پس مومن اس پر چلے گا اور کافر اس میں داخل ہوگا۔ ایک قول یہ ہے المرصاد۔ وہ سر حد جس پر چوکی قائم کی جاتی ہے۔ یعنی وہ سرکشوں کی ایسی سرحد ہے جس پر وہ عذاب کے منتظر ہونگے۔ اور وہ ان کا ٹھکانہ بنے گی۔ نمبر 2۔ وہ اہل جنت کیلئے سرحد ہے جس پر فرشتے کھڑے ہو کر مؤمنوں کا استقبال کریں گے کیونکہ انہوں نے اس پر سے گزر کر جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” و سیرت الجبال “ زمین کے اوپر سے ۔” فکانت سرابا “ یعنی اڑتے ہوئے ذرات دیکھنے والے کی آنکھ کے لئے سراب کی طرح۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(18) دوزخ گھات میں ہے، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک دوزخ گھات میں ہے، یعنی جس طرح شکار گھات میں بیٹھے اپنے شکاری سے غافل و بیخبر چلا جارہا ہوتا ہے، اور شکاری اس تاک و انتظار میں ہوتا ہے کہ کب نشانے پر آئے تو میں اس پر وار کروں، اسی طرح آخرت اور وہاں کے عذاب اور دوزخ اور اس کی ہولناکیوں سے غافل و بیخبر انسان کا حال ہوتا ہے، کہ وہ اپنے اس حتمی اور ہولناک انجام سے غافل و بیخبر اپنی خواہشات کی تحصیل و تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور دنیا کی چمک دمک اور اس کی رنگ رلیوں میں مست مگن ہوتا ہے، کہ اچانک موت اپنے خونیں پنجے اس میں گاڑ دیتی ہے، جس کے بعد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–23

ف 16 اور ظاہر ہے کہ اعقاب کبھی ختمہ نہ ہوں گے لہٰذا مقصد یہ ہے کہ وہ کفار کبھی دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے (کذانی الشوکانی عن الحسن البصری)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:21) ان جھنم کانت مرصادا : رصد یرصد (باب نصر) سے اسم ظرف مکان ہے۔ بمعنی گھات (فیروز اللغات عربی اردو) گھات کی جگہ (لغات القرآن از ندوۃ المصنفین و تفسیر ماجدی) ۔ الرصد مصدر بمعنی گھات لگا کر بیٹھنا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ المرصد گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے واقعدوا لہم کل مرصد (9:5) اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو اور مرصاد بمعنی مرصد آتا ہے لیکن مرصاد اس جگہ کو کہتے ہیں جو کہ گھات کے لئے مخصوص ہو۔ قرآن میں ہے ان جھنم کانت مرصادا (78:21) بیشک دوزخ گھات میں ہے۔ تو آیت میں اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ جہنم کے اوپر سے لوگوں کا گزر ہوگا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

دوزخ اور اہل دوزخ۔ (ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–21

[7] گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لئے بنائی جاتی ہے کہ وہ بیخبر ی کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس کر رہ جائے۔ جہنم کو گھات اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے باغی اس سے بےخوف ہو کر دنیا میں دندنا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ کی زمین ان کے لئے ایک کھلی ہوئی آماجگاہ ہے اور یہاں کسی پکڑ دھکڑ کا خطرہ نہیں ہے۔ لیکن جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور پھنس کر رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مقام غضب 1: جہنم نام ہے اللہ کے مقام غضب کا ۔ یعنی جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں ، حدود فطرت و اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی میں منہیات کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے جس مقام اور جس جگہ کو تجویز فرماتا ہے وہ مقام غضب وسخط ہے اور اس کو قرآن کی اصطلاح میں جہنم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعریف میں فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ منتظر ہے کہ کب گناہ گار مخلوق آتی ہے اور اس کے پیٹ کو بھرتی ہے ۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو لوگ توازن اور انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اخلاق وروحانیت کی حدود طبعی کو پھاند جاتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–38

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ دوزخ دوزخیوں کی تاک میں ہے ۔ 21 (مرصاداً ) مقام انتظار ، گھات کی جگہ مصراد مبالغہ کا صیغہ ہے منتظر ، گھاتی یعنی گھات لگانے والا۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی دوزخی کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا تو وہ اس سے کوئی جرح و قدح نہیں کرے گا یعنی اس کے دربان اس کے وارنٹ گرفتاری دیکھ کر اندر جانے دیں ہرگز نہیں گویا وہ اس کو حاصل کرنے اور اپنے اندر لے جانے کے لئے پہلے ہی تیار کھڑی ہے کہ جو نہی وہ اس کے سامنے آیا تو اس نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا گویا کہ وہ اس کی خوراک تھا کہ جھپٹتے ہی اس کو نگل گئی۔ یہ بات ان کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے جو قیامت کے دن کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْ‌صَادًا (Surely Jahannam [ the Hell ] is set in ambush. 78:21). The word mirsad means 'an ambush' or 'lying in wait to attack unawares' or 'a secret position for surprise attack'. Here Hell refers to the bridge of Hell. The angels of reward and punishment will lie in wait. The angels of punishment will make a surprise attack on the inmates of Hell, and the angels of reward will lie in wait to accompany the inmates of Paradise and take them to their abode. [ Mazhari ] Sayyidna Hasan Basri (رح) said that there will be an outpost of guardian angels on the bridge of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 "An ambush": a place contrived to entrap game by surprise. Hell has been described as an ambush, because the rebels of God are fearless of it and are enjoying life thinking that the world is a haven of bliss for them. They do not know that Hell is lying in ambush for them, which will trap them suddenly and keep them trapped.

Read the full tafseer →