An-Naba 78:20

An-Naba · from ayah 20

78:20

وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ۟ؕوَّ سُيِّرَتِ الۡجِبَالُ فَكَانَتۡ سَرَابًا

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the mountains are removed and will be [but] a mirage.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:20

اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو وہ ریت کے سراب کی شکل اختیار کرلیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) اڑا دیئے جائیں گے، سو وہ سراب (کی طرح کالعدم) ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ چمکتی ریت بن جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور پہاڑ چلادیئے جائیں گے تو وہ بالکل سراب بن کر رہ جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چلا دیا جائے گا (ان دیو ہیکل) پہاڑوں کو اس طور پر کہ یہ (ریگ رواں) اور سراب بن کر رہ جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور پہاڑ (جگہ سے) ہٹا دیئے جائیں گے سو وہ ریت (کی طرح) ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہاڑ چلا دیے جائیں گے تو وہ ہوجائیں گے چمکتی ہوئی ریت۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and the mountains will be set in motion and become a mirage.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the mountains will be set in motion, so they will be as mirage.

— Muhammad Taqi Usmani

and the mountains will be set in motion, so they will be as mirage.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the mountains shall be moved away from their places and they will be as if they were a mirage.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the hills are set in motion and become as a mirage.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the mountains are removed and will be [but] a mirage.

— Saheeh International

The mountains will be driven away and become like mirages.

— Muhammad Sarwar

And the mountains shall be moved off so that they shall remain a mere semblance.

— Muhammad Habib Shakir

And the mountains will have been removed away, and they will have become as mirage.

— Abdul Majid Daryabadi

And the mountains shall vanish, as if they were a mirage.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة النَّبَا 13 اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں بھی قرآن کے دوسرے بہت سے مقامات کی طرح قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اس کیفیت کا ذکر ہے جو آخری نفخ صور کے وقت پیش آئے گی، اور بعد کی دو آیتوں میں وہ حالت بیان کی گئی ہے جو دوسرے نفخ صور کے موقع پر رونما ہوگی۔ اس کی وضاحت ہم تفہیم القرآن، جلد ششم تفسیر سورة الحاقہ، حاشیہ 10 میں کرچکے ہیں۔ " آسمان کھول دیا جائے گا "۔ سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفت سماوی اس طرح ٹوٹی پڑ رہی ہوگی کہ معلوم ہوگا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَّسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا، سیرت سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ جو آج ثبات وقرار میں بطور مثال کے پیش کئے جاتے ہیں یہ سب اپنی اپنی جگہوں کو چھوڑ کر ریزہ ریزہ ہو کر اڑتے پھرنے لگیں گے، سراب کے لفظی معنے ذہاب یعنی چلے جانے کے ہیں جنگل کا وہ ریت جو دور سے چمکتا ہوا پانی کی صورت میں نظر آتا ہے، سراب کے لفظی معنے ذہاب یعنی چلے جانے کے ہیں، جنگل کا وہ ریت جو دور سے چمکتا ہوا پانی کی صورت میں نظر آتا ہے اس کو بھی سراب اسی بناء پر کہتے ہیں کہ وہ قریب پہنچتے ہی نظر سے جاتا رہتا ہے (کذا فی الصحاح و الراغب)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا‘۔ اور یہ پہاڑ جو آج زمین میں گڑے ہوئے ہیں اس دن اکھاڑ کر چلا دیے جائیں گے، نیز آج وہ ٹھوس پتھر ہیں لیکن اس دن یہ ریت کے تودوں کی طرح پھُس پھُسے ہو جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو، پہاڑ بھی دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

وفتحت .................... سرابا (20:78) ” اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کے دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ یہ مضبوط آسمان کھول دیا جائے گا۔ یہ دروازے ہی دروازے ہوگا یعنی پھٹ کر اس میں دراڑیں پڑجائیں گی جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہوگی جس کا ہم پوری طرح تصور نہیں کرسکتے۔ بڑے بڑے پہاڑ چل پڑیں گے اور سراب بن جائیں گے۔ یعنی باہم فکر اگر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ہوا میں بکھر جائیں گے۔ اور یوں نظر آئے گا جس طرح سراب۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ جس طرح سراب کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح پہاڑ غبار بن کر معدوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 جیسے چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہوجاتا ہے، ایسے ہی ان پر پہاڑوں کا گمان ہوگا۔ حالانکہ واقع میں وہ پہاڑ نہیں رہیں گے محض ریت کے تودے رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت 18{ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۔ } ”جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔“ اس کیفیت کا نقشہ سورة المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۔ } ”جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

15 پہاڑوں کی زمین میں گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ ان کے مقامات میں تبدیلی واقع ہوجائے گی پھر ان کے پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر بالآخر چمکتی ریت کے تودے بن جائیں گے جن پر ایک خاص زاویہ سے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ گویا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ پھر ان کی یہ کیفیت بھی نہ رہے گی بلکہ ہوا ان ریت کے تودوں کو ادھر سے ادھر اڑاتی پھرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–20

9۔ صور کے نفخۂ اول کے وقت جب یہ سارا نظام تکوینی درہم وبرہم ہوگا۔ اس وقت کی شکست وریخت کی یہ تفصیلات بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” وفتحت ..... ابوابا “۔ یعنی آسمان بالکل ہی کھل کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و سیرت الجبال فکانت سرابا . اور پہاڑوں کو زمین سے اٹھا کر فضاء میں ذرّوں کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور پہاڑ بےحقیقت ہوجائیں گے۔ اصل لغت میں سربٌ کا معنی ہے جانا۔ (صحاح جوہری) بیابان میں جو ریت چمکتی ہے اس کو سراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دیکھنے میں پانی کی طرح نظر آتی ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ پہاڑ بےحقیقت ہوجائیں گے ‘ ان کے اجزاء ریزہ ریزہ ہو کر پراگندہ ہوجائیں گے۔ جب آیت فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا میں تمام لوگوں کا حساب فہمی کے لیے محشر میں آنا ذکر کیا گیا تو سننے والے کو ان کے تفصیلی احوال جاننے کا شوق پیدا ہوا ‘ اس لیے آئندہ آیت میں سب سے پہلے طاغین کا ذکر کیا کیونکہ عموماً انسانی ذہن بشارت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) بیشک فیصلے کا دن اولین و آخرین کے جمع ہونے کے لے ایک معین وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم لوگ گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت آؤ گے اور آسمان کے دروازے کھل جائیں گے پھر اس میں راستے ہی راستے ہوجائیں گے اور روئے زمین سے پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے۔ سو وہ ریت کی مانند ہوجائیں گے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) و سیرت الجبال فکانت سراباً :”سراباً“ جو دوپہر کے وقت دور سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح پہاڑ ریت بن جائیں گے جو دور سے پانی کی طرح نظر آتی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ (2) قرآن میں قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں، سب سے پہلے صور کی آواز کے ساتھ زمین اور پہاڑ ایک چوٹ سے توڑ دیئے جائیں گے، فرمایا :(وحملت الارض و الجبال قدکتا دکتہ واحدۃ) (الحافۃ : 13)”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائیگا اور دونوں ایک ہی بار ٹکرا دیئے جائیں گے۔“ پھر بھربھری ریت ہوجائیں گے جو خود بخود گرتی جا رہی ہو، فرمایا :(وکانت الجبال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

و سیرت الجبال فکانت سرابا۔ یعنی پہاڑ کوئی چیز نہ ہوں گے جس طرح سراب ہوا کرتا ہے دیکھنے والا اسے پانی گمان کرتا ہے جب کہ وہ پانی نہیں ہوتا ایک قول یہ کیا گیا ہے، سیرت کا معنی ہے انہیں ان کی جڑوں سے اکھیڑ دیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں اپنی جگہ سے زائل کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وفتحت کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّسُيِّرَتِ الْجبالُ : اور چلایا جائے گا پہاڑوں کو ][ فَكَانتْ سَرَابًا : تو وہ ہوں گے چمکتی ریت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

5:۔ ” اِنَّ یَوْمَ الْفَصلِ “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فیصلے کا دن یعنی یوم قیامت ثواب و عذاب کے لیے میعاد اور وقت معین ہے جس میں ہر انسان کے انجام کا فیصلہ ہوگا ایک فریق جنت میں جائیگا جبکہ دوسرا فریق دوزخ میں۔ ” یَوْمَ یُنْفَخ “ یہ ” یَوْمَ الْفَصْلِ “ یا ” مِیْقَاتًا “ سے بدل ہے (مظہری) ۔ یہ وہ دن ہے جس میں صورت پھونکا جائے گا۔ تو تم سب لوگ قبروں سے اٹھ کر فوج در فوج میدان حشر میں جمع ہوجاؤ گے۔ ” وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ “ اس دن آسمان میں شگاف ڈالدئیے جائیں گے اور اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یہ دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے ہوں گے (اَبْوَابًا) ای طرقا و مسالک لنزول الملائکۃ (ابن کثیر ج 4…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(پہاڑ ریزہ ہوجائیں گے) فرمایا و سیرت الجبال فکانت ابوابا۔ پہاڑوں کو چلا یا جائے گا اور وہ چمکتے ہوئے ریت کی طرح ہوجائیں گے۔ بالکل سراب کی طرح جو دور سے چمکتا ہوانظر آتا ہے۔ مگر حقیقت کچھ نہیں ہوگی پانی تو ہوتا نہیں۔ محض سراب ہوتا ہے۔ الغرض مضبوطی سے جمے ہوئے یہ پہاڑریزہ ریزہ ہوجائیں گے ۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ ینسفھا ربی نسفا اور ایک جگہ فرمایا ان پہاڑوں کی حالت کالعھن المنفوش رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند ہوگی ۔ پہاڑوں کے ذرات بکھر جائیں گے ۔ بعض پہاڑ سرخ ہیں بعض سیاہ ہیں ۔ تو جب یہ ر یزہ ریزہ ہو کر بکھریں گے تو رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند نظر آئیں گے ۔ اس طرح گویا یہ بےحقیقت سی چیزبن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا۝ 20 ۭ سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ. والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] ، وأمّا قوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ (اور پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے) یعنی سطح زمین سے، فَکَانَتْ سَرَابًا (پس وہ ریت کی طرح ہوجائیں گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” وفتحت السمائ “ اہل کوفہ نے ” فتحت “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ یعنی فرشتوں کے اترنے کے لئے پھاڑ دیا جائے گا۔ ” فکانت ابوابا “ یعنی دروازوں والا اور کہا گیا ہے کھل جائے گا اور بکھر جائے گا حتیٰ کے اس میں دروازے اور راستے بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(17) قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز چلا دیا جائے گا ان فلک بوس پہاڑوں کو ان کے مقامات سے اٹھا کر۔ اور ان ایہ جماؤ اور استقرار، اور مضبوطی اور پختگی جو آج ضرب المثل ہے اس روز ھباء منثورا ہوچکی ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّہِ الَّذِیْ أَتْقَنَ کُلَّ شَیْْء ٍ إِنَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ ( النمل 88 پ 20) یعنی تم ان کو ٹھوس اور جامد سمجھ رہے ہو گے مگر وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے، سو یہ دیوہیکل پہاڑ جو آج اس طرح زمین میں گڑھے ہوئے ہیں، اور میخوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 جو دوپہر کے وقت در سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر درحقیقت پانی نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ بظاہر پہاڑ نظر آئیں گے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوں گے۔ قرآن میں پہاڑوں کے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں اول یہ کہ ریزہ ریزہ کئے جائیں گے۔ (الفجر :121) پھر وہ دھنی ہوئی اون کی طرح نظر آئیں گے، (القارعہ : 5) پھر غبار کے پراگندہ ذرات کی طرح بن جائیں گے پھر چلائے جائیں گے۔ (الواقعہ :6، النمل :88) اور دور سے سراب کی طرح نظرآئیں گے جیسا کہ یہاں بیان ہوا ہے۔ (فتح لبیان) علما نے لکھا ہے کہ پہاڑوں کی یہ حالت (سراب بن جانا) نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگی لیکن ان کا پھٹنا اور ریزہ ریزہ ہونا ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:20) و سیرت الجبال فکانت سرابا : سیرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تسییر (تفعیل) مصدر بمعنی چلانا۔ (س ی ر حروف مادہ) ۔ اور جب وہ پہاڑ چلائے جائیں گے (یعنی زمین سے اکھاڑ کر فضاء میں ذروں کی طرح پھیلا دئیے جائیں گے تو وہ سراب کی مانند (بےحقیقت) ہوجائیں گے کہ جسے آدمی پانی سمجھ کر آگے بڑھتا ہے جب قریب پہنچتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔ سرابا بوجہ کانے کی خبر کے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہوجاتا ہے ایسے ہی پہاڑوں کا گمان ہوگا حالانکہ وہ واقع میں پہاڑ نہیں ہوں گے محض ریت کے تو دے رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–21

[7] گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لئے بنائی جاتی ہے کہ وہ بیخبر ی کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس کر رہ جائے۔ جہنم کو گھات اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے باغی اس سے بےخوف ہو کر دنیا میں دندنا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ کی زمین ان کے لئے ایک کھلی ہوئی آماجگاہ ہے اور یہاں کسی پکڑ دھکڑ کا خطرہ نہیں ہے۔ لیکن جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور پھنس کر رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مقام غضب 1: جہنم نام ہے اللہ کے مقام غضب کا ۔ یعنی جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں ، حدود فطرت و اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی میں منہیات کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے جس مقام اور جس جگہ کو تجویز فرماتا ہے وہ مقام غضب وسخط ہے اور اس کو قرآن کی اصطلاح میں جہنم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعریف میں فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ منتظر ہے کہ کب گناہ گار مخلوق آتی ہے اور اس کے پیٹ کو بھرتی ہے ۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو لوگ توازن اور انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اخلاق وروحانیت کی حدود طبعی کو پھاند جاتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور پہاڑ چلا دیئے جائیں گے پس وہ بالکل چمکتا ہوا ریت ہوجائیں گے - پہاڑوں پر بھی یکے بعد دیگرے کئی حالتیں گزریں گی یہاں تک کہ خاک بنا کر اڑادیئے جائیں گے اور بالکل ریت ہوجائیں گے یہاں اس حالت کا ذکر ہے جب وہ چمکتے ہوئے ریت کے ڈھیر ہوں گے جس کو سورة مزمل میں فرمایا تھا۔ وکانت الجبال کثیبا مھیلا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی آسمان اس قدر بہت سا کھل جائے گا جیسے بہت سے دروازے ملا کر بہت سی جگہ کھلی ہوتی ہے، پس کلام مبنی ہے تشبیہ پر اب یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ آسمان میں دروازے تو اب بھی ہیں، پھر اس دن دروازے ہونے کے کیا معنی ؟ اور یہ کھلنا نزول ملائکہ کے لئے ہوگا، جیسا سورة فرقان میں تشقق السماء سے تعبیر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ ریت کی مانند ہوں گے ۔ 20 (میرث) وہ چلائی گئی۔ وہ چلائے گئے ” تسیر “ جس کے معنی چلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مئونث غائب۔ راغب لکھتے ہیں تسیر کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر جو چلنے والے کے امر و اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے (ھو الذی یسیرکم) ویہ تو ہے جو تم کو چلاتا ہے اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر کے ہو جیسے کہ پہاڑوں کا تسخیر و تسییر ہے کہ : (واذا الجبال سیرت) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور (و سیرت الجبال) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (سراباً ) سراب چمکتی ہوئی ریت کو کہتے ہیں اور خصوصاً جب شدت گرما میں دوپہر کے وقت دھوپ کی تیزی سے میدان میں جو ریت پانی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَسُيِّرَ‌تِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَ‌ابًا (and the mountains will be set in motion, so they will be as mirage....78:20). The word suyyirat 'set in motion' signifies that mountains, which are taken as an example of firmness and strength, will be shifted from their positions, and will become like little particles of dust flying about in the atmosphere. The word sarab literally means 'to disappear' and it also refers to 'mirage' or an optical illusion, as of a sheet of water, that sometimes appears in a desert, because it seems to be a sheet of water from a distance, but when a person comes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 One should bear in mind the fact that here also, as at many other places in the Qur'an, the different states of Resurrection have been mentioned all together. In the first verse, mention has been made of what will happen at the final sounding of the Trumpet and in the following two verses of the state which will appear at the second sounding of the Trumpet. This we have already explained in E.N. 10 of Surah Al-Haaqqah above. "The heavens shall be opened" means: All obstacles in the heavens will be removed and every heavenly calamity from every side will be befalling freely as though all…

Read the full tafseer →