An-Naba 78:19

An-Naba · from ayah 19

78:19

وَّفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا ۟ۙوَّفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتۡ اَبۡوَابًا

اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the heaven is opened and will become gateways

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:19

اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس کے دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آسمان (کے طبقات) پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہوجائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے ہی دروازے ہوجائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمان کھولاجائے گا تو اسی میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کھول دیا جائے گا (اس بےشگاف) آسمان کو اس طور پر کہ یہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آسمان کھل جائے گا سو اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہوجائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and when the sky shall be opened up and will become all doors;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the sky will be opened, so it will become as gates,

— Muhammad Taqi Usmani

and the sky will be opened, so it will become as gates,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the heaven shall be opened, and it will become as gates.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the heaven is opened and becometh as gates,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the heaven is opened and will become gateways

— Saheeh International

The heavens will have openings like doors.

— Muhammad Sarwar

And the heaven shall be opened so that it shall be all openings,

— Muhammad Habib Shakir

And the heaven will have been opened, and it will have become doors.

— Abdul Majid Daryabadi

And the heavens shall be opened as if there were doors,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة النَّبَا 13 اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں بھی قرآن کے دوسرے بہت سے مقامات کی طرح قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اس کیفیت کا ذکر ہے جو آخری نفخ صور کے وقت پیش آئے گی، اور بعد کی دو آیتوں میں وہ حالت بیان کی گئی ہے جو دوسرے نفخ صور کے موقع پر رونما ہوگی۔ اس کی وضاحت ہم تفہیم القرآن، جلد ششم تفسیر سورة الحاقہ، حاشیہ 10 میں کرچکے ہیں۔ " آسمان کھول دیا جائے گا "۔ سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفت سماوی اس طرح ٹوٹی پڑ رہی ہوگی کہ معلوم ہوگا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

(آیت) اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا، یعنی فیصلہ کا دن جس سے مراد قیامت ہے وہ ایک موقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا دوسرے نفخہ سے پھر زندہ و قائم ہوجائیگا، اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے، ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوار میدان حشر میں آئیں گے، دوسری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ أَبْوَابًا‘۔ اور یہ آسمان جو آج نہایت محکم اور ایک گنبد بے در کی شکل میں نظر آتا ہے اس دن اس طرح کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

وفتحت .................... سرابا (20:78) ” اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کے دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ یہ مضبوط آسمان کھول دیا جائے گا۔ یہ دروازے ہی دروازے ہوگا یعنی پھٹ کر اس میں دراڑیں پڑجائیں گی جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہوگی جس کا ہم پوری طرح تصور نہیں کرسکتے۔ بڑے بڑے پہاڑ چل پڑیں گے اور سراب بن جائیں گے۔ یعنی باہم فکر اگر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ہوا میں بکھر جائیں گے۔ اور یوں نظر آئے گا جس طرح سراب۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ جس طرح سراب کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح پہاڑ غبار بن کر معدوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

16 یعنی آسمان پھٹ کر ایسا ہوجائے گا گویا دروازے ہی دروازے ہیں۔ شاید اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ فرمایا۔ (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا) 25 ۔ الفرقان :25)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت 18{ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۔ } ”جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔“ اس کیفیت کا نقشہ سورة المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۔ } ”جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 آج ہمیں آسمان ایک نیلگوں اور صحیح وسالم چھت نظر آتی ہے جس میں کہیں کوئی رخنہ، دراڑ یا شگاف نظر نہیں آتا۔ لیکن جب قیامت کا پہلا صور پھونکا جائے گا تو اس آسمان میں اتنی دراڑیں یا شگاف پڑجائیں گے کہ یوں معلوم ہوگا کہ سارا آسمان بس دروازے ہی دروازے بن گیا ہے۔ اس وقت یہ ایک محفوظ چھت نہیں رہے گا بیشمار ستارے آپس میں ٹکرا کر زمین پر گرپڑیں گے۔ کئی ٹوٹنے والے ستارے اور دوسری بلائیں بھی زمین کا رخ کرلیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–20

9۔ صور کے نفخۂ اول کے وقت جب یہ سارا نظام تکوینی درہم وبرہم ہوگا۔ اس وقت کی شکست وریخت کی یہ تفصیلات بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” وفتحت ..... ابوابا “۔ یعنی آسمان بالکل ہی کھل کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و قتحت السماء فکانت ابوابا . آسمان کو شگافتہ کردیا جائے گا ‘ اس میں دروازے ہوجائیں گے ابوابًا میں مضاف محذوف ہے یعنی آسمان دروازوں والا ہوجائے گا یا بطور مبالغہ آسمان کو ابواب قرار دیا یعنی آسمان میں اتنے زیادہ شگاف ہوجائیں گے کہ پورا آسمان دروازے ہی دروازے بن جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) بیشک فیصلے کا دن اولین و آخرین کے جمع ہونے کے لے ایک معین وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم لوگ گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت آؤ گے اور آسمان کے دروازے کھل جائیں گے پھر اس میں راستے ہی راستے ہوجائیں گے اور روئے زمین سے پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے۔ سو وہ ریت کی مانند ہوجائیں گے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وفتحت السمآء فکانت ابواباً : آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورة اعراف (40) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لئے ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(ویوم تشق السمآء بالغمام و نزل المئکۃ تنزیلاً (الفرقان : 25)”جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وفتحت السماء فکانت ابوابا۔ فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے آسمان کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے دروازے ہوجائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ الفرقان) جس روز آسمان بادل کی صورت میں پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ٹکڑے ہوجائے گا وہ دروازوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اس تاویل کی بنا پر ابواب کو نصب کاف حرف جار کے حذف کی وجہ سے ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تقدیر کلام یہ ہوگی فکانت ذات ابواب۔ کیونکہ وہ سارے کے سارے دروازے ہوجائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے ابواب اس کے راستے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے اجزاء الگ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وفتحت کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّفُتِحَتِ السَّمَاۗءُ : اور کھولا جائے گا آسمان ][ فَكَانتْ اَبْوَابًا : تو وہ ہوگا دروازے دروازے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

5:۔ ” اِنَّ یَوْمَ الْفَصلِ “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فیصلے کا دن یعنی یوم قیامت ثواب و عذاب کے لیے میعاد اور وقت معین ہے جس میں ہر انسان کے انجام کا فیصلہ ہوگا ایک فریق جنت میں جائیگا جبکہ دوسرا فریق دوزخ میں۔ ” یَوْمَ یُنْفَخ “ یہ ” یَوْمَ الْفَصْلِ “ یا ” مِیْقَاتًا “ سے بدل ہے (مظہری) ۔ یہ وہ دن ہے جس میں صورت پھونکا جائے گا۔ تو تم سب لوگ قبروں سے اٹھ کر فوج در فوج میدان حشر میں جمع ہوجاؤ گے۔ ” وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ “ اس دن آسمان میں شگاف ڈالدئیے جائیں گے اور اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یہ دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے ہوں گے (اَبْوَابًا) ای طرقا و مسالک لنزول الملائکۃ (ابن کثیر ج 4…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(آسمان کا پردہ اٹھ جائے گا ) فرمایا اس دن حالت یہ ہوگی وفتحت السماء آسمانوں کو کھول دیاجائے گا فکانت ابوابا پس وہ دروازے نظر آئیں گے جس طرح دیوار پھٹ جاتی ہے اور دریچے نظر آتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساتوں آسمانوں سے اوپر جنت اور عرش الٰہی نظر آنے لگیں گے ۔ یعنی آج جو چیزیں آسمان سے پارنظر نہیں آتیں اس دن سب دکھائی دیں گی۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّفُتِحَتِ السَّمَاۗءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا۝ 19 ۙ فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان : أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] . والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، أي : وسعنا، وقال : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ (اور آسمان کھل جائے گا) قراءت : کوفی قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان فرشتوں کے اترنے کیلئے پھٹ جائے گا۔ فَکَانَتْ اَبْوَابًا (پھر اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے) پس وہ دروازوں، راستوں اور پھٹے ہوئے مقامات پر مشتمل ہوگا جبکہ آج اس میں کوئی پھٹا ہوا مقام نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(16) قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو اس روز آسمان کا جو حال ہوگا اس کے ذکر وبیان کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کھول دیا جائے گا آسمان کو اس طور پر کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا۔ جن سے فرشتوں کا نزول ہوگا (ابن کثیر، مدارک، خازن وغیرہ) سو اس روز عالم بالا یہ تمام تجاذب و تماسک ختم ہوچکا ہوگا جس پر آج یہ نظام حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عنایت سے قائم ہے، اور یہ آسمان جو آج نہایت محکم اور ایک گنبد بےدر کی طرح نظر آرہا ہے، اس روز اس کو اس طور پر کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَیَوْمَ تَشَقَّقُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 آسمان اس لئے پھٹے گا کہ فرشتے زمین پر اتر سکیں جیسے فرمایا : ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ ( سورة فرقان :25) معلوم ہوا کہ آسمان میں ” خرق “ ممتع نہیں ہے جیسا کہ فلاسفہ کا مشہور مذہب ہے گوملاصدرانے اسفاراربعہ، میں تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ امتناع خرق، اساطین فلاسفہ کا قول نہیں ہے۔ آج کل کے فلاسفہ نے معروف آسمان کا بھی انکار کیا ہے مگر کوئی ایسی تحقیق پیش نہیں کی جس کی بنا پر آیات و احادیث صحیحہ کی تاویل کرنی پڑے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:19) وفتحت السماء فکانت ابوابا : آسمان کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے ہی بن جائے گا۔ بطور مبالغہ آسمان کو ابواب قرار دیا۔ ابوابا بوجہ کانت کی خبر کے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) آسمان کے کھل جانے اور اس میں دروازے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ محشر کے میدان میں طرح طرح کے انتظام کے لیے بہت سے فرشتے آسمان سے اتریں گے جن کے اترنے کے لیے بہت سے دروازوں کی طرح کے راستے آسمان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–21

[7] گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لئے بنائی جاتی ہے کہ وہ بیخبر ی کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس کر رہ جائے۔ جہنم کو گھات اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے باغی اس سے بےخوف ہو کر دنیا میں دندنا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ کی زمین ان کے لئے ایک کھلی ہوئی آماجگاہ ہے اور یہاں کسی پکڑ دھکڑ کا خطرہ نہیں ہے۔ لیکن جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور پھنس کر رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مقام غضب 1: جہنم نام ہے اللہ کے مقام غضب کا ۔ یعنی جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں ، حدود فطرت و اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی میں منہیات کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے جس مقام اور جس جگہ کو تجویز فرماتا ہے وہ مقام غضب وسخط ہے اور اس کو قرآن کی اصطلاح میں جہنم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعریف میں فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ منتظر ہے کہ کب گناہ گار مخلوق آتی ہے اور اس کے پیٹ کو بھرتی ہے ۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو لوگ توازن اور انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اخلاق وروحانیت کی حدود طبعی کو پھاند جاتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے۔ یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور کھل جائے گا کہ دروازے ہی دروازے معلوم ہوں گے پس کلام تشبیہ پر مبنی ہے اور یہ شاید نزول ملائکہ کے وقت ہوگا جس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 2۔ اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے، پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروزازے ہی دروازے ہوجائیں گے ۔ 19 جن آسمانوں کے کھولنے کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ظاہر ہے کہ وہ یہ موجودہ آسمان تو نہیں ہوں گے کیونکہ ان آسمانوں کو پھٹ جانا اور روئی کے گالوں کی طرف اڑا دیا جانا اور ریزہ ریزہ ہو کر فضا میں پھیل جانے کا ذکر تو بہت جگہ پر گزر چکا ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس زمین کو اور آسمانوں کو بدل دیا جائیگا اور اس وقت نہ تو زمین یہ زمین رہے گی اور نہ ہی آسمان یہ آسمان ہوں گے۔ آسمانوں کو کھولے جانے کا کیا مطلب اور کیا مفہوم ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اوپر کی مخلوق اور نیچے کی مخلوق کے آپس میں مراسم پیدا ہوں گے اور اس طرح یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا (Surely the Day of Decision is an appointed time...78:17). 'The Day of Decision' refers to the Day of Resurrection. It is a fixed appointment. Other verses indicate that the trumpet will be blown twice. When it is blown the first time, the entire world will come to an end. When it is blown the second time, people of the entire world, the earlier generations as well as the latter generations, will be resurrected and come in multitudes and droves. Sayyidna Abu Dharr Ghifari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Holy Prophet ﷺ said: "On the Day of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

12 This implies the final sounding of the Trumpet at which all dead men will rise back to life forthwith. "You" implies not only those who were the addressees at that time but all those humans who will have been born from the beginning of creation till Resurrection. (For explanation, see E.N. 57 of Ibrahim, E.N. 1 of AlHajj, E.N.'s 46, 47 of Ya Sin, E.N. 79 of Az-Zumar) .

Read the full tafseer →