An-Naba 78:18

An-Naba · from ayah 18

78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا ۟ۙيَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِى الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day the Horn is blown and you will come forth in multitudes

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:18

جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب فوج در فوج چلے آؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ (اﷲ کے حضور) چلے آؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن صور میں پھونکا جائے گا، تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم فوج در فوج نکل آؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن صورپھونکا جائے گا تو تم آؤگے فوج درفوج

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن پھونک مار دی جائے گی صور کے اندر اور تم سب لوگ (بلاچوں و چرا نکل کر) چلے آؤ گے فوج در فوج

— مولانا اسحاق مدنی

(یعنی) وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ گروہ در گروہ چلے آؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

the Day when the Trumpet shall be blown, and you will come forth in multitudes;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a day when the trumpet will be blown, so you will come in multitudes,

— Muhammad Taqi Usmani

a day when the trumpet will be blown, so you will come in multitudes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day when the Trumpet will be blown, and you shall come forth in crowds.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day when the trumpet is blown and ye come in multitudes,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day the Horn is blown and you will come forth in multitudes

— Saheeh International

On that day the trumpet will be sounded and you will come (to Us) in huge groups.

— Muhammad Sarwar

The day on which the trumpet shall be blown so you shall come forth in hosts,

— Muhammad Habib Shakir

It is a Day whereon the trumpet will be blown, and ye will come in multitudes.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day that the Trumpet shall be sounded, and ye shall come forth in crowds;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة النَّبَا 12 اس سے مراد وہ آخری نفخ صور ہے جس کا آوازہ بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان یکایک جی اٹھیں گے، اور تم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت مخاطب تھے، بلکہ وہ انسان ہیں جو آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 64۔ 74۔ الزمر، حاشیہ 79)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

(آیت) اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا، یعنی فیصلہ کا دن جس سے مراد قیامت ہے وہ ایک موقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا دوسرے نفخہ سے پھر زندہ و قائم ہوجائیگا، اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے، ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوار میدان حشر میں آئیں گے، دوسری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کی ہلچل کی تصویر: اوپر کی آیات میں یوم الفصل کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو اس دن اس پوری کائنات میں برپا ہو گی اور ساتھ ہی وہ انجام بھی سامنے رکھ دیا گیا ہے جس سے سرکشوں اور نافرمانوں کو سابقہ پیش آئے گا۔ ’یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَأْتُوْنَ أَفْوَاجًا‘۔ فرمایا کہ اس یوم الفصل کے لیے اللہ تعالیٰ تمہیں جمع کرنا چاہے گا تو اس کام میں اس کو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بس ایک صور پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج قبروں سے نکل کر اللہ کے داعی کی طرف چل کھڑے ہو گے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح بھی ہے کہ لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان حشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائیے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے، اس سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہوگی۔ (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوم ینفخ ................................ سرابا (18:78 تا 20) ” جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی ، تم فوج در فوج نکل آﺅ گے۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ صور سے مراد بگل ہے۔ ہم صرف اس کے نام سے واقف ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اس میں پھونک ماری جائے گی۔ اس کی کیفیت کیا ہوگی تو اس میں ہمیں نہیں پڑنا چاہئے۔ اگر ہم اس کی تفصیلی کیفیت معلوم بھی کرلیں تو اس سے ہمارے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ نے ہماری قوت فہم وادراک کو ایسے لاحاصل موضوعات پر کھپانے سے بچایا ہے اور جس قدر علم کی ضرورت تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی کثرت سے الگ الگ جماعتیں اور ٹولیاں بن کر جن کی تقسیم ان کے ممتاز عقائد و اعمال کی بناء پر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت 18{ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۔ } ”جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔“ اس کیفیت کا نقشہ سورة المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۔ } ”جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یہ دراصل نفخہ صور ثانی کے وقت ہوگا کہ لوگ اپنے جرائم کی بنا پر مختلف گروپوں میں بٹ جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ فیصلہ کے دن کی مناسبت سے اس صورت حال کا ذکر پہلے کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

8۔ مثلا موحد الگ، مشرک الگ، کافر الگ، متقی الگ، فاسق الگ وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم ینفخ فی الصور . جس روز صور پھونکی جائے گی ‘ یہ یوم الفصل سے بدل یا عطف بیان ہے یا میقاتاً سے بدل ہے یا کان کی دوسری خبر ہے ‘ مسدد کی باسناد صحیح روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : صور سینگ کی شکل کی ہوگی جس میں پھونکا جائے گا۔ حضرت ابن عمر ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ سورة الحاقہ میں اس کا بیان گز چکا ہے۔ وہب کا قول ہے کہ صور کی ساخت سفید موتی کی ہوگی ‘ جس میں چمک شیشہ کی طرح ہوگی۔ ہر زوج کی تعداد کے برابر اس میں سوراخ ہوں گے۔ سورة المدثر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ فتاتون افواجا . یعنی صور پھونکتے ہی تم قبروں سے نکل کر جماعت در جماعت ہو کر حساب کے مقام پر آؤ گے۔ حضرت ابوذر ؓ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) بیشک فیصلے کا دن اولین و آخرین کے جمع ہونے کے لے ایک معین وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم لوگ گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت آؤ گے اور آسمان کے دروازے کھل جائیں گے پھر اس میں راستے ہی راستے ہوجائیں گے اور روئے زمین سے پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے۔ سو وہ ریت کی مانند ہوجائیں گے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجاً : یہاں صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا ذکر ہے، جس سے تمام لوگ قبروں سے نکل کر گروہ درگروہ میدان محشر میں آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ دوبارہ اٹھانے کے لیے جس وقت صور پھونکا جائے گا تو تم پیشی کی جگہ جماعت درجماعت آؤ گے، ہر امت اپنے امام کے ساتھ آئے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، افواج کا معنی جماعتیں ہیں اس کا واحد فوج ہے۔ یوم کا لفظ پہلے یوم سے بدل کے طور پر منصوب ہے، حضرت معاذ بن جبل کی حدیث سے مروی ہے کہ میں نے عرض کی، یارسول اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ کے بارے میں بتائیے تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا اے معاذ، تو نے عظیم چیز کے بارے میں سوال کیا ہے پھر آپ کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو برسنے لگے پھر فرمایا میری امت میں سے دس جماعتیں الگ کی جائیں گی اللہ تعالیٰ انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

29۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ جس دن صور میں پھونکا جائے گا پھر تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ یعنی فورج در فوج۔ دس قسم کے مجرمین کی حالات 30۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اے معاذ ! تو نے بڑے معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ پھر آپ نے اپنی آنکھوں کو جھکا دیا اور فرمایا دس قسمیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ کردیا۔ اور ان کی صورتوں کو بدل دیں گے۔ ان کے بعض بندر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ : جس دن پھونکا جائے گا صور میں ][ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا : تو تم لوگ آئو گے فوج در فوج ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

5:۔ ” اِنَّ یَوْمَ الْفَصلِ “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فیصلے کا دن یعنی یوم قیامت ثواب و عذاب کے لیے میعاد اور وقت معین ہے جس میں ہر انسان کے انجام کا فیصلہ ہوگا ایک فریق جنت میں جائیگا جبکہ دوسرا فریق دوزخ میں۔ ” یَوْمَ یُنْفَخ “ یہ ” یَوْمَ الْفَصْلِ “ یا ” مِیْقَاتًا “ سے بدل ہے (مظہری) ۔ یہ وہ دن ہے جس میں صورت پھونکا جائے گا۔ تو تم سب لوگ قبروں سے اٹھ کر فوج در فوج میدان حشر میں جمع ہوجاؤ گے۔ ” وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ “ اس دن آسمان میں شگاف ڈالدئیے جائیں گے اور اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یہ دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے ہوں گے (اَبْوَابًا) ای طرقا و مسالک لنزول الملائکۃ (ابن کثیر ج 4…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(گذشتہ سے پیوستہ) سابقہ درس میں انسان کی پیدائش اور اس کی ضروریات کا ذکر تھا اور پھر یہ کہ ان یوم الفصل کان میقاتا فیصلے کا ایک دن مقرر ہے ۔ ہر نیک وبد کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزاملے گی اس درس میں اس دن کی بعض تفصیلات ہیں ۔ فرمایا فیصلے کا مقررہ دن ہوگا جس دن یوم ینفخ فی الصور صور میں پھونکا جائے گا ۔ حدیث نفخ صور شریف (ب 1 تر مذی ص 467) میں صور کی تشریح مو جود ہے ۔ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ صور کو ایک سینگ کی مانند سمجھو جس کا ایک کنارہ باریک اور دوسراپھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ کہ صور کے باریک کنارے میں پھونک مارے گا ۔ جو کھلے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۝ 18 ۙ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صور پھونکنا اور کائنات کا حال : 18 : یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (یعنی اس دن صورپھونکا جائے گا) نحو : یہ یوم الفصل کا بدل ہے۔ نمبر 2۔ عطف بیان ہے۔ فی الصورؔ یعنی قرن میں۔ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا (پھر تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آئو گے ) نحو : افواجًا یہ حال ہے یعنی مختلف جماعتوں میں یا امتوں میں تقسیم ہو کر آئو گے ہر امت اپنے رسول کے ساتھ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔ ان یوم الفصل “ مخلوق کے درمیان فیصلہ کا دن۔ ” کان میقاتا “ جب اللہ تعالیٰ نے ثواب و عقاب کا وعدہ کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–23

(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(15) یوم حشر کی تذکیرو یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور یوم حشر کی تذکیرو یاد دہانی اور اس کی تصویر و تفصیل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب لوگ چلے آؤ گے فوج در فوج، یعنی میدان حشر کے عظیم الشان موقف کی طرف، اپنے حساب کتاب کے لیے، اور اس روز تم بلا کسی قیل و قال اور بدوں کسی حیل و حجت کے عاجزانہ اور دست بستہ وہاں حاضر ہوجاؤ گے، اور اس کجی اور ٹیڑھ کا کوئی نام و نشان بھی نہ رہے گا، جس سے تم لوگ آج کام لے رہے ہو، اور کبر و غرور کی وہ ساری ہوا تمہارے دماغوں سے نکل چکی ہوگی، جو آج ان کے اندر بھری ہوئی ہے، اور تم اپنی گردنیں جھکائے سر خم تسلیم کئے ہوئے، اور اس کی تسبیح وتحمید کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 13 مراد دوسری بار کا صور پھونکنا ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:18) یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا : یہ یوم الفصل سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ یا میقاتا سے بدل ہے یا کان کی دوسری خبر ہے۔ ینفخ مضارع مجہول واحد مذکر غائب نفخ (باب نصر) مصدر۔ وہ پھونکاجائے گا۔ سانس۔ پھونک، جھونکا ، غرور۔ الصور۔ نرسنگا ۔ سینگ۔ وہ چیز جس کو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے پھونکیں گے۔ فتاتون افواجا۔تعقیب کا ہے تاتون مضارع جمع مذکر حاضر، اثیان (باب ضرب) مصدر۔ تم آؤ گے۔ افواجا : تاتون کے ضمیر فاعل سے حال ہے، غول کے غول ۔ فوج در فوج ۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور تم جوق در جوق چلے آؤ گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قیامت کا ذکر اور امت مصطفیٰ کی کثرت۔ (ف 1) صحیح مسلم میں حضرت انس سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی نبی کے پیرو اس قدرکثرت سے نہ ہوں گے جس قدر کثرت سے میرے پیروہوں گے اور مستدرک حاکم و طبرانی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی معتبر سند سے جو روایتیں ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ کسی نبی کے پیرو نہیں بلکہ اغوائے شیطانی سے کوئی گروہ بتوں کی اور کوئی سورج اور چاند وغیرہ کی پوجا کرتا ہے ان لوگوں کے گروہ قیامت کے دن الگ الگ بن جائیں گے غرض ان حدیثوں کے موافق گروہ کرے گروہ اللہ کے روبروجانے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے یا بہت جس قدر لوگ نبی کے پیرو ہوں گے توہ اپنے اپنے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مقام غضب 1: جہنم نام ہے اللہ کے مقام غضب کا ۔ یعنی جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں ، حدود فطرت و اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی میں منہیات کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے جس مقام اور جس جگہ کو تجویز فرماتا ہے وہ مقام غضب وسخط ہے اور اس کو قرآن کی اصطلاح میں جہنم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعریف میں فرمایا کہ جہنم گھات کی جگہ ہے ۔ منتظر ہے کہ کب گناہ گار مخلوق آتی ہے اور اس کے پیٹ کو بھرتی ہے ۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو لوگ توازن اور انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اخلاق وروحانیت کی حدود طبعی کو پھاند جاتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) وہ دن وہ ہے جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور صور میں پھونکا جائے گا اور تم لوگ گروہ گروہ ہوکرآئو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 2۔ اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے، پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ گر وہ چلتے آئو گے ۔ 18 قیامت کے ذکر میں قرآن کریم میں (نفخ صور) کا ذکر تقریباً دس بار آیا ہے اور ہم اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 37 ، جلد پنجم سورة الکھف کی آیت 99 ، سورة طہ کی آیت 201 ، جلد ششم سورة المئومنون کی آیت 101 ، جلد ہفتم سورة النمل کی آیت 78 ، سورة سباء کی آیت 18 ، سورة یٰسین کی آیت 15 ، سورة الزمر کی آیت 86 ، جلد ہشتم سورة ق کی آیت 02 ، سورة الحاقہ کی آیت 31 میں تفصیل سے کرچکے ہیں ۔ اس جگہ بھی منکرین قیامت کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آج تو تم اس کا انکار کر رہے ہو لیکن آنے والے کل جب صور پھونکا جائے گا تو اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا (Surely the Day of Decision is an appointed time...78:17). 'The Day of Decision' refers to the Day of Resurrection. It is a fixed appointment. Other verses indicate that the trumpet will be blown twice. When it is blown the first time, the entire world will come to an end. When it is blown the second time, people of the entire world, the earlier generations as well as the latter generations, will be resurrected and come in multitudes and droves. Sayyidna Abu Dharr Ghifari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Holy Prophet ﷺ said: "On the Day of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

12 This implies the final sounding of the Trumpet at which all dead men will rise back to life forthwith. "You" implies not only those who were the addressees at that time but all those humans who will have been born from the beginning of creation till Resurrection. (For explanation, see E.N. 57 of Ibrahim, E.N. 1 of AlHajj, E.N.'s 46, 47 of Ya Sin, E.N. 79 of Az-Zumar) .

Read the full tafseer →