An-Naba 78:17

An-Naba · from ayah 17

78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًا ۟ۙاِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ كَانَ مِيۡقَاتًا

بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the Day of Judgement is an appointed time -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:17

بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو فیصلے کا دن ایک متعین وقت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک فیصلہ کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھ کر جان لو کہ) بیشک فیصلہ کا دن (قیامت بھی) ایک مقررہ وقت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بیشک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک فیصلہ کے دن کا وقت منفرد ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک فیصلہ کا دن ایک متعین وقت ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the Day of Judgement has an appointed time;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely the Day of Decision is an appointed time,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely the Day of Decision is an appointed time,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the Day of Decision is a fixed time,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the Day of Decision is a fixed time,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the Day of Judgement is an appointed time -

— Saheeh International

The Day of Judgment will certainly be the final appointment.

— Muhammad Sarwar

Surely the day of decision is (a day) appointed:

— Muhammad Habib Shakir

Verily the Day of Decision is a time appointed.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily the Day of Sorting out is a thing appointed,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–30

جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة النَّبَا 12 اس سے مراد وہ آخری نفخ صور ہے جس کا آوازہ بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان یکایک جی اٹھیں گے، اور تم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت مخاطب تھے، بلکہ وہ انسان ہیں جو آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 64۔ 74۔ الزمر، حاشیہ 79)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

(آیت) اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا، یعنی فیصلہ کا دن جس سے مراد قیامت ہے وہ ایک موقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا دوسرے نفخہ سے پھر زندہ و قائم ہوجائیگا، اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے، ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوار میدان حشر میں آئیں گے، دوسری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘۔ یہ اوپر کی ساری بحث و تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ اہتمام ربوبیت اور آسمان سے لے کر زمین تک یہ انتظام پرورش صاف گواہی دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ انسان کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ لازماً ایک فیصلہ کا دن اس نے مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کر کے فیصلہ کرے گا کہ کس نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور کس نے اس کی ناقدری کی۔ پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ یہاں یہ آیت اس طرح آئی ہے گویا یہ یوم الفصل اس کائنات کے نظام کے اندر سے خود اپنی منادی کر رہا ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کو سن نہیں رہے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

16۔ 1 شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لوگ عبث پیدا نہیں کیے گئے اور نہ ہی وہ شتر بےمہار ہیں۔ ان کی زندگی کے اندازے اور نظام ، جس کا ذکر آیات ماقبل میں کیا گیا ہے ، اور پھر اس کائنات کا نظام جس میں وہ رہ رہے ہیں ، دونوں نظام پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، ان پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ہر دانش مند آدمی اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ انسان مہمل اور غیر ذمہ دار نہیں ہیں کہ زمین پر اچھے کام کریں یا برے کام کریں اور پھر مرکر مٹی ہوجائیں۔ راہ ہدایت پر ہوں یا راہ ضلالت پر ہوں ، ان سے پوچھنے والا کوئی نہ ہو ، زمین پر عدل کرلیا ، یا ظلم ، کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ بہرحال ایک دن فیصلے کا ضرور ہے ، جس دن تمام گزرے ہوئے معاملات کے فیصلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 فیصلہ کا دن وہ ہوگا جس میں نیک کو بد سے بالکلیہ الگ کردیا جائے کہ کسی قسم کا اشتراک و اجتماع باقی نہ رہے ہر نیکی اپنے معدن میں اور ہر بدی اپنے مرکز پر جا پہنچے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کامل امتیاز وافتراق اس دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہاں رہتے ہوئے زمین، آسمان، چاند، سورج، رات دن، سونا جاگنا، بارش، بادل، باغ، کھیت، اور بیوی بچے تمام نیکوں اور بدوں میں مشترک ہیں ہر کافر اور مسلم ان سامانوں سے یکساں منتفع ہوتا ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ " یوم الفصل " ایک دن موجودہ نظام عالم کے ختم کئے جانے کے بعد ہو۔ اس کا تعین اللہ کے علم میں ٹھہرا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ } ”یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔“ یہ ہے وہ اصل بات جس کے لیے بطور تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی رنگا رنگ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے اپنی نعمتوں کا اس قدر وسیع دستر خوان بچھایا ہے تو اس نے انسانوں پر لازماً کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہوں گی۔ جب خود انسانوں کے ہاں اصول ہے کہ ذمہ داریاں responsibilities اور مراعات privileges ایک ساتھ چلتی ہیں تو یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اپنی عطائوں کی بارش تو کرتا رہے اور اس پر ذمہ داری کوئی بھی نہ ڈالے۔ اس لیے تم لوگ یہ مت سمجھو کہ تم من مانی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 ان سب باتوں پر غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی۔ پھر کیا انسان کو ہی اس نے اتنی معجز نما قوتیں عطا کر کے بےکار پیدا کردیا ہوگا ؟ وہ جو چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو ؟ یہ سب باتیں حیات بعد الممات پر قوی دلائل ہیں اور ایک وقت یقیناً آنے والا ہے جب اس کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کرکے ان سے محاسبہ کیا جائے گا یہ کام کب ہوگا ؟ اللہ کے ہاں اس کے لیے بھی ایک ٹھیک وقت مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

8۔ مثلا موحد الگ، مشرک الگ، کافر الگ، متقی الگ، فاسق الگ وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان یوم الفصل کان میقاتا . یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے کا دن اللہ کے علم یا حکم میں عذاب وثواب کی ایک مقرر میعاد اور معین وقت ہے یا اوقات دنیوی کے ختم ہونے کی حد ہے یا مخلوق کے ختم ہونے کی حد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) بیشک فیصلے کا دن اولین و آخرین کے جمع ہونے کے لے ایک معین وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم لوگ گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت آؤ گے اور آسمان کے دروازے کھل جائیں گے پھر اس میں راستے ہی راستے ہوجائیں گے اور روئے زمین سے پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے۔ سو وہ ریت کی مانند ہوجائیں گے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان یوم الفصل کان میقاتاً : یعنی ہم نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنانے سے لے کر اخر آیات تک مذکور جو کچھ بنایا ہے، اگر دنیا کی پیدائش سے لے کر اس کے ختم ہونے تک اس میں جو نیکی یا بدی کی گئی ہے اس کی جزا و سزا کسی وقت بھی نہ ہو، نہ ظالم سے باز پرس ہو اور نہ مظلوم کی داد رسی ہو تو یہ سب کچھ تو بےنتیجہ رہا۔ اس لئے یقین رکھو کہ دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کے فیصلے کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون) (الجاثیہ : 22)”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر جانکو اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان یوم الفصل کان۔۔۔ تا۔۔۔ سرابا۔ ان یوم الفصل کان میقاتا۔ میقات کا معنی وقت جمع ہونے کی جگہ اور اولین وآخرین کے وعدہ کی جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

28۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یوم الفصل کان میقاتا بیشک فیصلہ کا دن معین ہوچکا ہے۔ یعنی وہ دن ہے جس میں اللہ کی عظمت اور جلال کا اظہار ہوگا اور اسی دن وہی اولین وآخرین کے درمیان فیصلہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان يَوْمَ الْفَصْلِ : یقینا فیصلے کا دن ][ كَان مِيْقَاتًا : ہے ایک طے شدہ وقت ] نوٹ 1: یَوْمَ الْفَصْلِ سے مراد قیامت ہے۔ وہ ایک وقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا۔ اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا۔ پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا اور دوسرے نفخہ سے پھر زندہ وقائم ہوجائے گا۔ اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے۔ ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

5:۔ ” اِنَّ یَوْمَ الْفَصلِ “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فیصلے کا دن یعنی یوم قیامت ثواب و عذاب کے لیے میعاد اور وقت معین ہے جس میں ہر انسان کے انجام کا فیصلہ ہوگا ایک فریق جنت میں جائیگا جبکہ دوسرا فریق دوزخ میں۔ ” یَوْمَ یُنْفَخ “ یہ ” یَوْمَ الْفَصْلِ “ یا ” مِیْقَاتًا “ سے بدل ہے (مظہری) ۔ یہ وہ دن ہے جس میں صورت پھونکا جائے گا۔ تو تم سب لوگ قبروں سے اٹھ کر فوج در فوج میدان حشر میں جمع ہوجاؤ گے۔ ” وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ “ اس دن آسمان میں شگاف ڈالدئیے جائیں گے اور اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یہ دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے ہوں گے (اَبْوَابًا) ای طرقا و مسالک لنزول الملائکۃ (ابن کثیر ج 4…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(فیصلے کا دن ) اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین میں اسی طرح قائم کیا ہے جس طرح کسان زمین میں دانہ بوتا ہے اور پھر فصل پکنے کا انتظار کرتا ہے ۔ تا کہ ایک دن فصل کی کٹائی کرے جس طرح فصل کی کٹائی کا وقت مقرر ہے ۔ اسی طرح ان یومالفصل کان میقاتا انسان کے لیے فیصلہ کا ایک دن مقرر ہے نیکی اور بدی مومن اور کافر جداجدا ہوجائیں گے حالانکہ آج ملے جلے ہیں اس دن ہر چیز اپنے مرکز تک پہنچے گی ۔ یہ فیصلے کا دن ہوگا ۔ اس کے بعد اس دن کی کیفیات بیان کی گئی ہیں ۔ جو اگلے درس میں آئیں گی ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا۝ 17 ۙ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] (ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ثواب و عقاب کے لئے میعاد : 17 : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ (بیشک فیصلے کا دن) یعنی محسن، مسیئی اور باطل پرست اور حق پرست کے مابین۔ کَانَ مِیْقَاتًا (ایک معین وقت ہے) مقررہ میعاد ہے۔ اور جزاء ملنے کیلئے طے شدہ انتہاء ہے۔ نمبر 2۔ ثواب و عقاب کے لئے میعاد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” وجنات الفافا “ درختوں سے گنجان۔ اس کا واحد لف اور لیف ہے۔ کہا گیا ہے یہ جمع الجمع ہے۔ کہا جاتا ہے ” جنۃ لفا “ اور اس کی جمع الف ہے لام کے پیش کے ساتھ اور جمع کی جمع الفاف ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–30

17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہوگا جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (میقاتا) مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(14) نظام ربوبیت کے تقاضے اور انجام کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور آسمان سے لے کر زمین تک ہر طرف پھیلے بکھرے اس نظام ربوبیت کے نتیجہ و انجام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے۔ اور اپنے اس مقرر وقت پر اس نے بہرحال آکر رہنا ہے، اس سے پہلے اس نے آنا نہیں، اور اپنے وقت پر اس نے ٹلنا نہیں، اس لیے عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے جلدی مچانے کی بجائے اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کرو، جس کے لیے فرصت بہرحال یہی دنیاوی زندگی کی فرصت ہے، اور بس، سو اس ارشاد سے اوپر کی ساری بحث و تخصیص کا خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ یہ اہتمام ربوبیت اور نظام پرورش صاف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–30

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 13 مراد دوسری بار کا صور پھونکنا ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:17) ان یوم الفصل کان میقاتا : کفار مکہ وقوع قیامت سے منکر یا متردد تھے اور اکثر پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے۔ اس کا جواب تو آیات 5 اور 6 میں پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ لیکن اتمام حجت کے لئے چند مظاہر قدرت آیات 6 تا 16 میں بطور ثبوت مذکور ہوتے۔ اب جب قطعی طور پر منکرین و مترددین پر ثابت کردیا گیا کہ جو ذات اقدس تمہاری چند روزہ دنیاوی زندگی کے لئے یہ سازو سامان پیدا کرسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے قیامت کے بربا کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اس کے بعد چند احوال قیامت کے ارشاد ہوتے ہیں اور منکرین و مومنین کی سزاو جزاء کا بیان ہوتا ہے۔ ان یوم الفصل : ان حرف مشبہ بالفعل۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ مل کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) جس طرح مینہ سے چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ بسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونک کر ان جسموں میں روحیں پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گی ، صحیح بخاری ومسلم میں روایت ہیں ان میں اس حشر سے پہلے مینہ برسنے کا ذکر ہے اگرچہ نیکی وبدی کا فیصلہ دوسرے صور کے اور اس صورت سے لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا لیکن دنیا کا پیدا کیا جانا، مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جانا، یہ سب کچھ نیک وبد کی جانچ اور اس کے فیصلے لیے لیے ہے اس لیے اس فیصلہ کا اہتمام زیادہ فرما کر اس کا ذکر صور سے پہلے فرمایا اور یہ تو سورة زمر میں گذرچکا ہے۔ کہ پہلے صور کے پھونکنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

ف 2: یوم الفصل کے اثبات کو بطور نتیجہ کے بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ کائنات کی افادیت پر غور کرو گے اور جب اس حقیقت کے متعلق سوچو گے کہ آخر بےجان مادہ نے نفع اور فائدہ کی شکلیں ہی کیوں اختیار کی ہیں اور یہ دنیا باضابطہ اور قاعدے کے مطابق کیوں تجویز کی گئی ہے تو اس کا جواب خودبخود سوجھے گا ۔ وہ یہی ہوگا کہ یہ نظام علیم و حکیم خدا کا مقرر کردہ ہے ۔ تخمین و مجازفہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اور اس کے پیدا کرنے سے ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے پیش ہوکر ایک دن بتائے کہ اس نے اس دنیا کی نعمتوں سے کیونکر استفادہ کیا ہے ؟ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 2۔ اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے، پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(الفصل) فصل کا اصلصل ہے اور اس کے معنی ہیں حق و باطل کی تمیز۔ حق بات۔ سچا فیصلہ کرنے والا قول۔ حق کو باطل سے الگ کرنے والا کلام۔ ہڈیوں کا اور اعضاء کا جوڑ۔ دو چیزوں کو ملنے سے روکنے والا اور دونوں کو جدا جدا رکھنے والا پردہ۔ زیر نظر آیت میں آخری معنی چھوڑ کر باقی سب معنی کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں۔ (یوم الفصل) وہ دن جس دن حق و باطل میں تمیز ہوجائے گی۔ وہ دن جس دن حق بات واضح ہوجائے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ دن قیامت ہی کا دن ہے ۔ (میقاتاً ) ظرف زمان منصوب نکرہ ، مقررہ وقت ، کفار بار بار یہ بات کرتے تھے کہ بڑی مدت ہوئی ہے اس شور کو سنتے ہوئے کہ قیامت آئے گی ، قیامت آئیگی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا (Surely the Day of Decision is an appointed time...78:17). 'The Day of Decision' refers to the Day of Resurrection. It is a fixed appointment. Other verses indicate that the trumpet will be blown twice. When it is blown the first time, the entire world will come to an end. When it is blown the second time, people of the entire world, the earlier generations as well as the latter generations, will be resurrected and come in multitudes and droves. Sayyidna Abu Dharr Ghifari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Holy Prophet ﷺ said: "On the Day of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

12 This implies the final sounding of the Trumpet at which all dead men will rise back to life forthwith. "You" implies not only those who were the addressees at that time but all those humans who will have been born from the beginning of creation till Resurrection. (For explanation, see E.N. 57 of Ibrahim, E.N. 1 of AlHajj, E.N.'s 46, 47 of Ya Sin, E.N. 79 of Az-Zumar) .

Read the full tafseer →