Explained with ayahs 1–16
پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے
جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة النَّبَا 11
زمین پر بارش کے انتظام اور نباتات کی روئیدگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے جو جو حیرت انگیز کمالات کارفرما ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ تفہیم القرآن کے حسب ذیل مقامات پر روشنی ڈالی گئی ہے جلد دوم، النحل حاشیہ 53 الف۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 17۔ الشعراء، حاشیہ 5۔ الروم حاشیہ 35۔ جلد چہارم، فاطر، حاشیہ 19۔ یٰسین، حاشیہ 29۔ المومن، حاشیہ 20۔ الزخرف، حواشی 10۔ 11۔ جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 28 تا 30۔
ان آیات میں پے درپے بہت سے آثار و شواہد کو پیش کر کے قیامت اور آخرت کے منکرین کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم آنکھیں کھول کر زمین اور پہاڑوں اور خود اپنی پیدائش اور اپنی نیند اور بیداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا، معصرت، معصرہ کی جمع ہے جو پانی سے بھرے ہوئے ایسے بادل کو کہا جاتا ہے جو برسنے ہی والا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بارش بادلوں سے نازل ہوتی ہے اور جن آیات میں آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہے یا تو ان میں بھی آسمان سے مراد فضائے آسمانی ہو جیسے کہ قرآن میں بکثرت لفظ سماء اس معنی کے لئے آیا ہے اور یا یہ کہا جائے کہ کسی وقت براہ راست آسمان سے بھی بارش آسکتی ہے اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں، ان تمام صنائع قدرت اور انعامات ربانی کا ذکر فرمانے کے بعد پھر اصل مضمون قیامت کی طرف رجوع ہے۔
Read the full tafseer →’وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا‘۔ ’مُعْصِرٰتِ‘ بادلوں کی صفت کے لیے معروف ہے۔ یہ صفت پانی سے لبریز بادلوں کے لیے بھی آتی ہے اور پانی نچوڑنے والی بدلیوں کے لیے بھی۔ دونوں صورتوں میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہو گا۔
’مَآءٌ ثَجَّاجٌ‘۔ زور دار، کثیر اور موسلادھار بارش کو کہتے ہیں۔
بارش سے قرآن نے اپنے تمام بنیادی دعاوی پر دلیل قائم کی ہے جس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ یہاں اگرچہ آسمان و زمین کے توافق کے پہلو سے توحید کی دلیل بھی اس میں موجود ہے لیکن خاص طور پر ربوبیت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے جو مسؤلیت اور جزا و سزا کی نہایت اہم دلیلوں میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 1 مُعْصِرَات، ُ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں جیسے اَلْمَرْاَۃُ الْمُعْتَصِرَۃُ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–23
2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل…
Read the full tafseer →12 نچڑنے والی بدلیاں یا نچوڑنے والی ہوائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت 14{ وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآئً ثَجَّاجًا۔ } ”اور ہم نے اتار دیا نچڑنے والی بدلیوں سے چھاجوں پانی۔“
یعنی ہم پانی سے لبریز بادلوں سے موسلا دھار بارش برساتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
10 سورج کی دوری اور فوائد :۔ وَھَّاجاً : الوھج بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مرجاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کردیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مرجاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
7۔ (تو کیا ایسا حکیم، ایسا صناع، ایسا قادر، قیامت لانے پر قادر نہیں ؟ ) حاصل یہ کہ اس ساری صنعت گری سے ہمارا کمال قدرت بالکل یاں ہے تو آخر حشر اجساد پر ہمارے قادر ہونے سے انکار کیوں ہے ؟ (آیت) ” لنخرج بہ “۔ ضمیرہ۔ ماء پانی کی جانب ہے۔ اے بذلک الماء وھو علی ظاھرہ عند السلف ومن اقتدی بھم وقالت الاشاعرۃ اے عندہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–30
وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →وانزلنا من المحصرات ماء ثجاجا . اور ہم نے بادلوں کو نچوڑنے والی ہواؤں سے یا بادلوں سے مسلسل
برسنے والا پانی برسایا۔ المحصرات وہ ہوائیں جو بادلوں سے پانی نچوڑتی ہیں۔ مجاہد ‘ مقاتل اور کلبی کا یہی قول ہے ‘ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے لیکن ابو العالیہ اور ضحاک نے کہا : المعصرات سے مراد بادل ہیں۔ والبی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ فراء نے کہا : معصرات وہ بادل ہیں جو بارش سے بھرے ہوں ‘ برسنے والے ہوں ‘ مگر ابھی برسے نہ ہوں۔ جیسے المرأۃ المعصرۃُ ۔ وہ عورت جس کے حیض کا زمانہ آگیا ہو اور ابھی حیض جاری نہ ہوا ہو۔ ابن کیسان نے کہا المعصرات ‘ برسنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(11۔ 16) اور ہم نے ہی دن کو معاش کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ہم نے ہی انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا اور ہم نے ہی ہواؤں سے بادل لاکر کثرت کے ساتھ پانی برسایا تاکہ ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کی سبزیاں غلے اور گنجان باغات اگائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
وازلنا من المعصرت مآء تجاجاً …:”المعصرت“ وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔”نج“ شدت اور کثرت سے بہنایا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔”تجاجاً“ کثرت سے برسنے والا۔”الفافاً“ ابوبعیدہ نے فرمایا :”یہ ”لفیف“ کی جمع ہے جیسا کہ ”شریف“ کی جمع ”اشراف“ ہے۔“ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لیٹے ہئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔
Read the full tafseer →وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا، معصرات سے مراد ہوائیں ہیں یہ حضرت ابن عباس کی رائے ہے گویا وہ بادلوں کو نچوڑتی ہیں حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا، اس سے مراد بادل ہیں سفیان، ربیع، ابوالعالیہ اور ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ بادل ہیں جو پانی کی صورت میں نچڑتے ہیں ابھی تک انہوں نے بارش نہیں برسائی ہوتی جس طرح امراہ معصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کے وقت قریب ہو اور ابھی اسے حیض نہ آئے، ابوالنجم نے کہا ،۔ تمشی الھوینی مائلا خمارھا، قد اعصرت او قد دنا اعصارھا۔ وہ نرمی سے چلتی ہے جبکہ اس کی اوڑھنی ایک طرف جھکی ہوتی ہے اسے حیض آچکا ہے یاحیض آنے کا وقت قریب ہے۔
ہواؤں کو معصرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وانزلنا من المعصرات کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد وہ بادل ہے جو اس کے بعضے حصے بعض کو نچوڑتے ہیں تو پانی دو بادلوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ کا قول نہیں سنا۔
تجری بہا الارواح من بین شمال وبین صباہا المعصرات الدوامس
ترجمہ : شمال کی جانب سے ہوائیں چل رہی ہیں اور اس کی پروائی ہوا کے درمیان وافر پانی والے سیاہ بادل ہیں۔
پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ثجاجا کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا الثجاج سے مراد…
Read the full tafseer →[وَّانزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ : اور ہم نے اتارا بدلیوں میں سے ][ مَاۗءً ثَجَّاجًا : موسلا دھار پانی ]
ث ج ج
[ ثَجُوْجًا : (ن) پانی کا زور سے بہنا یا برسنا۔]
[ تَجَّاجٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے بہت زور سے بہنے ولا یا برسنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔]
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ ہم نے پانی سے بھرے ہوئے بادلوں سے خوب زیادہ بہنے والا پانی اتارا اور اس پانی کو زمین کی سرسبزی کا سامان بنا دیا اس کے ذریعے کھیتیاں اگتی ہیں گیہوں جو وغیرہ اگتے اور باغات میں پھل پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں کی خوراک ہیں اور اسی پانی کے ذریعے گھانس پھونس اور بہت سی ایسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں جو چوپایوں کی خوراک ہیں، چوپائے اپنی خوراک کھاتے ہیں اور انسان کے کام آتے ہیں دودھ بھی دیتے ہیں اور کھیت کیا ری میں اور بوجھ ڈھونے میں کام آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا :
گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔
(ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(پانی ایک عظیم نعمت ہے)
فرمایا وانزلنا من المعصرت ماء ثجاجا اور ہم نے آسمان کی طرف سے (نچڑنے والے بادلوں سے ) زور سے بہنے والا پانی اتارا ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتا ہے ۔ بادل پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہنانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہے ۔ اور پانی بہانے سے مقصو دیہ ہے لنخرج بہ حبا ونباتا تا کہ اس سے دانے اور سبزہ اگائیں ۔ وجنت الفافا اور گھنے باغ پیدا کریں جو کہ متاعا لکم ولا نعامکم تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں ۔
Read the full tafseer →وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا 14 ۙ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17)
(کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے :
” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5)
آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ (اور ہم ہی نے بھرے بادلوں سے برسایا) السحائب اذا اعصرت یعنی بادل اس کے لئے تیار ہوں کہ ہوائیں ان کو نچوڑکر بارش برسائیں اور اسی سے اہل عرب کہتے ہیں اعصرت الجاریۃ جبکہ وہ حیض کی عمر کے قریب ہوجائے۔ نمبر 2۔ ہوائیں مراد ہیں وہ بادلوں کو بناتی اور ان سے بارش نکالتی ہیں جیسے اونٹنی کا دودھ دوہا جاتا ہے۔ پس یہ درست ہے کہ ان کو بارش اتارنے کا مبدأ قرار دیا جائے اور یہ وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو اٹھاتے ہیں۔ پھر وہ آسمان پانی اٹھا کر بادلوں میں منتقل کرتی ہیں۔ مَآ ئً ثَجَّاجًا (کثرت سے پانی) ثجاجًا کثرت سے بہنے والا۔
Read the full tafseer →13 ۔” وجعلنا سراجا “ یعنی سورج۔ ” وھاجا “ روشن چمک دار۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں الوھاج ایندھن والا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس میں نور اور حرارت بنادی اور ” وھج “ نور اور حرارت کو جمع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
12۔ 16۔ زمین کے عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے سات چنائیوں سے سات آسمان مراد ہیں مضبوطی انکی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہاراکھڑے ہیں اور یہ تو اوپر گزرچکا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راستہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کا دل ہے۔ چمکتے ہوئے چراغ سے مراد سورج ہے کہ جس کی چمک ساری دنیا میں یکساں ہے۔ معصرات کے معنی میں سلف کے دو 1 ؎ قول ہیں ‘ ایک ہوا دوسراخوب برسنے والا بال۔ مطلب دونوں قولوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا آسمان پر چلتی ہے۔ اس سے بادل اکٹھے ہو کر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے…
Read the full tafseer →وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا) یعنی ہم نے بادل سے اتارا بہت زیادہ پانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(12) پانی کے جوہر حیات آفریں میں غور و فکر کی دعوت : سو پانی کے اس عظیم الشان جوہر حیات آفرین اور اس سے نوازنے کے پر حکمت نظام میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے پانی سے لبریز بدلیوں سے بکثرت پانی اتارا۔ اور اتنی کثرت اور اس قدر بہتات و فراوانی کے ساتھ اتارا کہ تمہاری، تمہارے جانوروں کی، اور دوسری بیشمار مخلوق کی بےحدو حساب ضرورتیں اس سے پوری ہور رہی ہیں، اور اس قدر پر حکمت طریقے سے اتارا کہ سوچنے اور غور کرنے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، سبحانہ و تعالیٰ فللہ الحمد۔ سو پانی سے لبریز بادلوں سے اس کثرت اور فراوانی کے ساتھ پانی کے اتارے جانے میں جہاں اس خالق ومالک کی شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ
تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →ف 11 مراد بادل ہوں تو اس کے معنی نچڑنے والے، ہوں گے اور ہوائیں مراد ہوں تو نچوڑنے والی، ترجمہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(78:14) وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا : المعصرات اعصار (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ نچوڑنے والیاں المعصرۃ واحد۔ مراد وہ ہوائیں جو بادلوں کو دبا کر نچوڑتی ہیں یا وہ ہوائیں جو گرد اڑاتی ہیں جن کے نزدیک المعصرات سے مراد آسمان ہیں۔ ماء ثجاجا موصوف وصفت مل کر مفعول انزلنا کا ، ثجاجا زور و شور کے ساتھ برسنے والا۔ ثج (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی زور و شور کے ساتھ پانی کے برسنے اور بہنے کے ہیں۔ بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور ہم نے بادلوں کو نچوڑنے والی ہواؤں سے یا بادلوں سے زورشور سے برسنے والا پانی برسایا۔ ماء منصوب بوجہ مفعول انزلنا کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) زمین کی عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارے سروں پر سات درجے کی ایک مضبوط چھت بنائی ، اس کی مضبوطی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہارے کھڑی ہیں اور اس میں سات ستارے ایسے ہیں کہ ہر مومن کافر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے واسطے ایک روشن چراغ بنایا یعنی آفتاب کہ ہر شخص اس کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے لیے بادلوں سے بہت مینہ اتارا، یہ کام ہم نے اس لیے کہ تمہارے لیے اناج پیدا کریں، اور نباتات جس میں سے بعض ساگ وغیرہ تمہارے کام ہیں اور بعض چارہ وغیرہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ف 2: یوم الفصل کے اثبات کو بطور نتیجہ کے بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ کائنات کی افادیت پر غور کرو گے اور جب اس حقیقت کے متعلق سوچو گے کہ آخر بےجان مادہ نے نفع اور فائدہ کی شکلیں ہی کیوں اختیار کی ہیں اور یہ دنیا باضابطہ اور قاعدے کے مطابق کیوں تجویز کی گئی ہے تو اس کا جواب خودبخود سوجھے گا ۔ وہ یہی ہوگا کہ یہ نظام علیم و حکیم خدا کا مقرر کردہ ہے ۔ تخمین و مجازفہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اور اس کے پیدا کرنے سے ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے پیش ہوکر ایک دن بتائے کہ اس نے اس دنیا کی نعمتوں سے کیونکر استفادہ کیا ہے ؟ ۔
Read the full tafseer →(14) اور ہم نے ہی برسنے کے لئے بادلوں سے بکثرت پانی برسایا۔
معصرات کو بعض حضرات نے فرمایا یہ وہ ہوائیں ہیں جو بارش لاتی ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ معصرات کے معنی ابر کے ہیں جس میں خوب پانی بھرا ہوا ہو، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ ، ابو العالیہ، ربیع اور ضحاک اسی کے قائل ہیں۔ اسی بنا پر ان اپنے حضرات نے نچوڑنے والی بدلیوں کے ساتھ ترجمہ کیا ہے عرب موسلادھار باشر کو مطر شجاج کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بدلیوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 1۔ مراد آفتاب ہے کقولہ تعالیٰ وجعل الشمس سراجا۔
Read the full tafseer →ہم نے پانی سے بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔
۔ 14 (المعصرت) اسم فاعل جمع مئونث المعصر ۃ واحد اعصاء مصدر باب افعال۔ نچوڑنے والیاں مراد وہ ہوائیں جو بادلوں کو دبا کر نچوڑتی ہیں یا وہ ہوائیں جو گرد اڑاتی ہیں جن کے اندر بگولے ہوتے ہیں یا ان سے مراد بادل ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ معصر اصل میں بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور برسنے والا ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ معصرات کا معنی ہے فریاد رسی کرنے والے اور اس سے مراد آسمان ہیں لیکن اس کا کہنے والا کوئی بھی ہو اس کے یہ معنی درستن ہیں ہیں کیونکہ فریاد رسی اللہ تعالیٰ کی ذات سے اور اس کی مخلوق ہی سے ہے کوئی بھی نہیں جس کو فریاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا (And We have sent down from the rain-laden clouds abundant water,...78:14). The word mu'sirat is the plural of mu` sirah 'rain-laden cloud'. This indicates that rain comes down from the cloud. There are verses, however, that indicate that rain comes down from the sky. Those verses too probably refer to 'upper atmosphere'. There are many verses in the Qur'an where the word sama' is used in that sense. Having mentioned these Divine blessings, the Surah reverts to its original theme of Resurrection and Judgment:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
11 For the details of the wonderful manifestations of Allah Almighty's power and wisdom in making arrangements for the rain and the growth of vegetation thereby, set E.N. 53 (a) of An-Nahl, E.N. 17 of AI-Mu'minun, E.N. 5 of Ash-Shua'ra', E.N. 35 of Ar-Rum E.N. 19 of Fatir E.N. 29 of Ya Sin, E.N. 20 of Al-Mu'min, E.N.'s 10, 11 of Az-Zukhruf, E.N.'s 28 to 30 of Al-Waqi'ah. After presenting a number of the signs and testimonies, one after the other, in these verses, the deniers of the Resurrection and Hereafter have been exhorted, so as to say: "If you consider the earth and the mountains and…
Read the full tafseer →