An-Naba 78:15

An-Naba · from ayah 15

78:15

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا ۟ۙلِّـنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا

تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That We may bring forth thereby grain and vegetation

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:15

تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ اس سے اناج اور سبزه اگائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ اس سے غلہ اور دوسری سبزیاں بھی اگائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ ہم اس (بارش) کے ذریعے (زمین سے) اناج اور سبزہ نکالیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ ہم اس کے ساتھ غلہ اور پودے اگائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اس سے ہم اناج اور سبزی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور نباتات

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ اس کے ذریعے ہم نکالیں طرح طرح کے غلے اور (قسما قسم کے) سبزے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ ہم اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تاکہ اس کے ذریعے سے ہم نکالیں اناج اور دوسرے نباتات۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تا کہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

so that We may thereby bring forth grain and vegetation,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that We bring out therewith grain and vegetation,

— Muhammad Taqi Usmani

so that We bring out therewith grain and vegetation,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That We may produce therewith grains and vegetations,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That We may bring forth thereby grain and vegetation

— Saheeh International

to make the seeds, plants,

— Muhammad Sarwar

That We may bring forth thereby corn and herbs,

— Muhammad Habib Shakir

So that We bring forth thereby corn and vegetation.

— Abdul Majid Daryabadi

That We may produce therewith corn and vegetables,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 78:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–16

سورة النَّبَا 11 زمین پر بارش کے انتظام اور نباتات کی روئیدگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے جو جو حیرت انگیز کمالات کارفرما ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ تفہیم القرآن کے حسب ذیل مقامات پر روشنی ڈالی گئی ہے جلد دوم، النحل حاشیہ 53 الف۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 17۔ الشعراء، حاشیہ 5۔ الروم حاشیہ 35۔ جلد چہارم، فاطر، حاشیہ 19۔ یٰسین، حاشیہ 29۔ المومن، حاشیہ 20۔ الزخرف، حواشی 10۔ 11۔ جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 28 تا 30۔ ان آیات میں پے درپے بہت سے آثار و شواہد کو پیش کر کے قیامت اور آخرت کے منکرین کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم آنکھیں کھول کر زمین اور پہاڑوں اور خود اپنی پیدائش اور اپنی نیند اور بیداری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا، معصرت، معصرہ کی جمع ہے جو پانی سے بھرے ہوئے ایسے بادل کو کہا جاتا ہے جو برسنے ہی والا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بارش بادلوں سے نازل ہوتی ہے اور جن آیات میں آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہے یا تو ان میں بھی آسمان سے مراد فضائے آسمانی ہو جیسے کہ قرآن میں بکثرت لفظ سماء اس معنی کے لئے آیا ہے اور یا یہ کہا جائے کہ کسی وقت براہ راست آسمان سے بھی بارش آسکتی ہے اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں، ان تمام صنائع قدرت اور انعامات ربانی کا ذکر فرمانے کے بعد پھر اصل مضمون قیامت کی طرف رجوع ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

’لِّنُخْرِجَ بِہ حَبًّا وَّنَبَاتًا وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا‘۔ فرمایا کہ آسمانوں سے یہ بارش ہم اس لیے برساتے ہیں کہ اس سے تمہارے لیے غلے اور تمہارے مویشیوں کے لیے گھاس اور سبزے اگائیں اور مزید برآں گھنے باغ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 مُعْصِرَات، ُ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں جیسے اَلْمَرْاَۃُ الْمُعْتَصِرَۃُ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–16

وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

13 یعنی نہایت گنجان اور گھنے باغ، یا یہ مراد ہو کہ ایک ہی زمین میں مختلف قسم کے درخت اور باغ پیدا کئے۔ (تنبیہ) قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بیان فرما کر بتلا دیا کہ جو خدا ایسی قدرت و حکمت والا ہے، کیا اسے تمہارا دوسری مرتبہ پیدا کردینا اور حساب و کتاب کے لئے اٹھانا کچھ مشکل ہوگا ؟ اور کیا اس کی حکمت کے یہ بات منافی نہ ہوگی کہ اتنے بڑے کارخانہ کو یوں ہی غلط ملط بےنتیجہ پڑا چھوڑ دیا جائے۔ یقینا دنیا کے اس طویل سلسلہ کا کوئی صاف نتیجہ اور انجام ہونا چاہیے اسی کو ہم " آخرت " کہتے ہیں۔ جس طرح نیند کے بعد بیداری اور رات کے بعد دن آتا ہے، ایسے ہی سمجھ لو کہ دنیا کے خاتمہ پر آخرت کا آنا یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

آیت 14{ وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآئً ثَجَّاجًا۔ } ”اور ہم نے اتار دیا نچڑنے والی بدلیوں سے چھاجوں پانی۔“ یعنی ہم پانی سے لبریز بادلوں سے موسلا دھار بارش برساتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

10 سورج کی دوری اور فوائد :۔ وَھَّاجاً : الوھج بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مرجاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کردیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مرجاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–16

7۔ (تو کیا ایسا حکیم، ایسا صناع، ایسا قادر، قیامت لانے پر قادر نہیں ؟ ) حاصل یہ کہ اس ساری صنعت گری سے ہمارا کمال قدرت بالکل یاں ہے تو آخر حشر اجساد پر ہمارے قادر ہونے سے انکار کیوں ہے ؟ (آیت) ” لنخرج بہ “۔ ضمیرہ۔ ماء پانی کی جانب ہے۔ اے بذلک الماء وھو علی ظاھرہ عند السلف ومن اقتدی بھم وقالت الاشاعرۃ اے عندہ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–30

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لنخرج بہ حبا و نباتا . تاکہ ہم اس سے یعنی اس پانی سے غلہ اور گھاس آدمیوں کے لیے غلہ جیسے گیہوں ‘ جو اور جانوروں کے کھانے کے لیے گھاس۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–16

(11۔ 16) اور ہم نے ہی دن کو معاش کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ہم نے ہی انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا اور ہم نے ہی ہواؤں سے بادل لاکر کثرت کے ساتھ پانی برسایا تاکہ ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کی سبزیاں غلے اور گنجان باغات اگائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–16

وازلنا من المعصرت مآء تجاجاً …:”المعصرت“ وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔”نج“ شدت اور کثرت سے بہنایا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔”تجاجاً“ کثرت سے برسنے والا۔”الفافاً“ ابوبعیدہ نے فرمایا :”یہ ”لفیف“ کی جمع ہے جیسا کہ ”شریف“ کی جمع ”اشراف“ ہے۔“ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لیٹے ہئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

لنخرج بہ حبا ونباتا۔ وجنت الفافا۔ بہ کی ضمیر سے مراد پانی ہے۔ حبا سے مراد گندم ہے جو اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہیں نباتا سے مراد وہ گھاس ہے جسے حیوانات کھاتے ہیں جنت سے مراد باغات ہیں الفافا سے مراد ایک دوسرے کے ساتھ لپٹی ہوئی تاکہ ان کی شاخیں ادھر ادھر پھیلیں اس کی کوئی واحد نہیں جس طرح اوزاع، اضیاف۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کی وحد لف یالف ہے کسائی نے یہی ذکر کیا ہے کہا، جنۃ لف وعیش مغدق۔ گھناباغ اور خوش حال زندگی۔ ان سے اور ابوعبید سے یہ مروی ہے، یہ لفیف کی جمع ہے جس طرح شریف کی جمع اشراف آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جمع کی جمع ہے، کسائی نے یہ حکایت بیان کی ہے، یہ ترکیب ذکر کی جاتی ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

15۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وانزلنا من المعصرات کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد وہ بادل ہے جو اس کے بعضے حصے بعض کو نچوڑتے ہیں تو پانی دو بادلوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ کا قول نہیں سنا۔ تجری بہا الارواح من بین شمال وبین صباہا المعصرات الدوامس ترجمہ : شمال کی جانب سے ہوائیں چل رہی ہیں اور اس کی پروائی ہوا کے درمیان وافر پانی والے سیاہ بادل ہیں۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ثجاجا کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا الثجاج سے مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِنُخْرِجَ بِهٖ : تاکہ ہم نکالیں اس سے ][ حَبًّا وَّنَبَاتًا : دانے اور سبزہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

انسانوں اور جانوروں کی غذا کا تذکرہ فرماتے ہوئے ﴿ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ0015﴾ فرمایا اور پھل لانے والے درختوں کے لیے ﴿ وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ0016﴾ فرمایا یعنی ہم نے گنجان باغ پیداکیے۔ لفظ ﴿اَلْفَافًا ﴾ کا مادہ لفف ہے جو لپٹنے کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ باغوں میں جو درخت آس پاس کھڑے ہوتے ہیں اور ایک درخت کی ٹہنیاں دوسرے درخت میں گھسی ہوئی رہتی ہیں اس کیفیت کو آپس میں ایک دوسرے سے لپٹ جانے سے تعبیر فرمایا۔ لفظ ﴿اَلْفَافًا ﴾ کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (یہ بظاہر جمع ہے لیکن) اس کا کوئی واحد کا صیغہ نہیں ہے جیسا کہ اوزاع اور اخباف جماعات متفرقہ کے لیے مستعمل ہوتے ہیں اور ان کا واحد کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–16

(پانی ایک عظیم نعمت ہے) فرمایا وانزلنا من المعصرت ماء ثجاجا اور ہم نے آسمان کی طرف سے (نچڑنے والے بادلوں سے ) زور سے بہنے والا پانی اتارا ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتا ہے ۔ بادل پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہنانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہے ۔ اور پانی بہانے سے مقصو دیہ ہے لنخرج بہ حبا ونباتا تا کہ اس سے دانے اور سبزہ اگائیں ۔ وجنت الفافا اور گھنے باغ پیدا کریں جو کہ متاعا لکم ولا نعامکم تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا۝ 15 ۙ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–30

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16 : لِّنُخْرِجَ بِہٖ (تاکہ ہم پیدا کریں اس سے) یعنی پانی کے ذریعہ سے حَبًّا (غلہ) گندم، جو، وَّنَبَاتًا (اور سبزی) یعنی سبزہ گھاس۔ وَجَنّٰتٍ (اور باغات) اَلْفَافًا (گنجان) یعنی جن کے درخت باہمی لپٹے ہوئے ہیں۔ اس کا واحد لِفٌ ہے۔ جیسا جذع واجذ اع یا لفیفٌ جیسا شَرِیْفٌ واشراف یا اس کا کوئی واحد نہیں جیسا اوزاع نمبر 4۔ یہ جمع الجمع ہے یہ جمع لُفٌ ولُفَّ جمع لَفَّائُ گنجان درخت، لپٹا ہوا درخت قراءت : الم نجعلؔ سے الفافاً تک وقف نہیں ہے اور اوتادًا پر اور معاشا پر وقف ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

معصرات کی مختلف تفاسیر 14 ۔” وانزلنا من المعصرات “ مجاہد، قتادہ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کو نچوڑتی ہیں اور یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ازہری (رح) فرماتے ہیں وہ ہوائیں جو بگولوں والی ہیں اور اس تاویل پر من باء کے معنی میں ہوگا یعنی ” بالمعصرات “ کیونکہ ہوا بارش کو گھماتی ہے۔ ابوالعالیہ ، ربیع اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” المعصرات “ وہ بادل اور یہ والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں ” المعصر “ وہ بادل جو بارش سے لبریز ہو لیکن برسے نہ جیسے ” المراۃ المعصر “ وہ عورت جس کا حیض قریب ہو اور ابھی اس کو حیض نہ آیا ہو۔ ابن کیسان (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–16

12۔ 16۔ زمین کے عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے سات چنائیوں سے سات آسمان مراد ہیں مضبوطی انکی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہاراکھڑے ہیں اور یہ تو اوپر گزرچکا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راستہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کا دل ہے۔ چمکتے ہوئے چراغ سے مراد سورج ہے کہ جس کی چمک ساری دنیا میں یکساں ہے۔ معصرات کے معنی میں سلف کے دو 1 ؎ قول ہیں ‘ ایک ہوا دوسراخوب برسنے والا بال۔ مطلب دونوں قولوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا آسمان پر چلتی ہے۔ اس سے بادل اکٹھے ہو کر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا) تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں مثلا، گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ جسے آدمی کھاتے ہیں (ونباتا) اور سبزہ۔ یہ تمام نباتات کو شامل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

(13) اسباب عیشت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے غلے بھی پیدا کریں، قسما قسم کے سبزے اور چارے بھی اگائیں اور قسما قسم کے گھنے باغ بھی۔ " الفاف " کے بارے میں حضرات علماء کرام کا ایک قول یہ ہے کہ یہ جمع نہیں اسم جمع ہے، جیسے " اوزاع " جو کہ مختلف گروہوں اور جماعتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ " لفیف " کی جمع ہے (صفوۃ البیان، وغیرہ) مآل اور مفاد بہرحال دونوں کا ایک ہی ہے کہ اس سے مراد گھنے اور گنجان باغات ہیں، اس قادر مطلق جل جلالہ نے اپنی بےپایاں رحمت و عنایت سے تمہارے لیے اے لوگو ! طرح طرح کے یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 12 ان تمام چیزوں کا ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جو ذات ایسا نظام بنا اور چلا سکتی ہے اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ اسی مناسبت نے آگے آخرت کا ذکر آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 15–16

(78:15-16) لنخرج بہ حبا و نباتا و اخراج (افعال) مصدر۔ بہ میں ب سببیہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے۔ حبا دانہ۔ غلہ، اناج ، گندم اور جو وغیرہ اناج کے دانے کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ اس کی جمع حبوب ہے۔ نباتا گھاس، زمین سے اگنے والی ہر چیز، سبزی جنت الفافا موصوف و صفت الفافا بمعنی لپٹے ہوئے ، ایک دوسرے سے پیوست ، گنجان درخت۔ یہ لف کی جمع ہے جیسے جذع کی اجذاع ہے۔ یا لفیف کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے یا ایسی جمع جس کا کوئی واحد نہیں ہے جیسے اوضاع اگر لف کی جمع قرار دیا جائے تو یہ صیغہ جمع الجمع ہوگا۔ کیونکہ لف۔ لفافۃ کی جمع ہے اگر درخت گھنے ہوں تو ان کو الفاف کہا جاتا ہے جنۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–16

(ف 2) زمین کی عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارے سروں پر سات درجے کی ایک مضبوط چھت بنائی ، اس کی مضبوطی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہارے کھڑی ہیں اور اس میں سات ستارے ایسے ہیں کہ ہر مومن کافر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے واسطے ایک روشن چراغ بنایا یعنی آفتاب کہ ہر شخص اس کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے لیے بادلوں سے بہت مینہ اتارا، یہ کام ہم نے اس لیے کہ تمہارے لیے اناج پیدا کریں، اور نباتات جس میں سے بعض ساگ وغیرہ تمہارے کام ہیں اور بعض چارہ وغیرہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

ف 2: یوم الفصل کے اثبات کو بطور نتیجہ کے بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ کائنات کی افادیت پر غور کرو گے اور جب اس حقیقت کے متعلق سوچو گے کہ آخر بےجان مادہ نے نفع اور فائدہ کی شکلیں ہی کیوں اختیار کی ہیں اور یہ دنیا باضابطہ اور قاعدے کے مطابق کیوں تجویز کی گئی ہے تو اس کا جواب خودبخود سوجھے گا ۔ وہ یہی ہوگا کہ یہ نظام علیم و حکیم خدا کا مقرر کردہ ہے ۔ تخمین و مجازفہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اور اس کے پیدا کرنے سے ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے پیش ہوکر ایک دن بتائے کہ اس نے اس دنیا کی نعمتوں سے کیونکر استفادہ کیا ہے ؟ ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزہ اگالیں ۔ 15 (حبا) دانہ ، غلہ اناج جن کے دانے دانے الگ الگ ہوتے ہیں جیسے گندم ، جو ، جوار ، مک ، باجرہ ، سوانک ، کنگنی ، ساگو دانہ ، چاول ، چنا ، چنیا ، باقلو ، لوبیا ، ارہر ، مونگ ، موٹھ ، مسور ، مٹر وغیرہ سب غلہ جات ہیں اگرچہ بعض کی دالیں تیار کی جاتی ہیں جو بطور سالن پکائی جاتی ہیں (نباتاً ) اسم منصوب نکرہ سبزہ زمین ، زمین کی ساری پیداوار ، روئیدگی خواہ وہ خود رو ہو یا بوئی جاتی ہے اور اگائی جاتی ہے۔ زمین کی ساری روئیدگی خواہ وہ خود رو ہو یا اگائی جانے والی وہ غلہ جات ہوں یا چارہ کے کام آنے والی فصلیں سب کا پیدا کرنے والا اور اگانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَ‌اتِ مَاءً ثَجَّاجًا (And We have sent down from the rain-laden clouds abundant water,...78:14). The word mu'sirat is the plural of mu` sirah 'rain-laden cloud'. This indicates that rain comes down from the cloud. There are verses, however, that indicate that rain comes down from the sky. Those verses too probably refer to 'upper atmosphere'. There are many verses in the Qur'an where the word sama' is used in that sense. Having mentioned these Divine blessings, the Surah reverts to its original theme of Resurrection and Judgment:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

11 For the details of the wonderful manifestations of Allah Almighty's power and wisdom in making arrangements for the rain and the growth of vegetation thereby, set E.N. 53 (a) of An-Nahl, E.N. 17 of AI-Mu'minun, E.N. 5 of Ash-Shua'ra', E.N. 35 of Ar-Rum E.N. 19 of Fatir E.N. 29 of Ya Sin, E.N. 20 of Al-Mu'min, E.N.'s 10, 11 of Az-Zukhruf, E.N.'s 28 to 30 of Al-Waqi'ah. After presenting a number of the signs and testimonies, one after the other, in these verses, the deniers of the Resurrection and Hereafter have been exhorted, so as to say: "If you consider the earth and the mountains and…

Read the full tafseer →