وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا ۟وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا
اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And made [therein] a burning lamp
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا ۟وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا
اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And made [therein] a burning lamp
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naba
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا
اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا
اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج) پیدا کیا
اور ہم نے ہی ایک دہکتا ہوا چراغ (سورج) پیدا کیا۔
اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا
اور ہم نے (سورج کو) روشنی اور حرارت کا (زبردست) منبع بنایا،
اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا۔
اور ایک بھڑکتا ہوا چراغ بنایا
اور اس کے اندر ایک روشن چراغ نہیں رکھا ؟
اور ہم ہی نے رکھ دیا (ان کے اندر) ایک نہایت ہی گرم اور روشن چراغ
اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنادیا ہے۔
اور ہم نے (سورج کو) بنا دیا ایک روشن چراغ۔
اور آفتاب کا روشن چراغ بنایا۔
and placed therein a hot, shining lamp,
and created a luminous lamp (the sun) .
and created a luminous lamp (the sun) .
And We have made (therein) a shining lamp.
And have appointed a dazzling lamp,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And made [therein] a burning lamp
(the sun) as a shining torch
And We made a shining lamp,
And We have set therein lamps glowing.
And placed (therein) a Light of Splendour?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–16
پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 10 مراد ہے سورج۔ اصل میں لفظ وھاج استعمال ہوا ہے جس کے معنی نہایت گرم کے بھی ہیں اور نہایت روشن کے بھی، جس عظیم الشان نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے، اور اس کی گرمی کا حال یہ ہے کہ زمین کے بعض حصوں میں اس کی تپش کی وجہ سے درجہ حرارت 140 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
اس کے بعد ارشاد فرمایا، وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا کہ انسان کی راحت و سکون کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو غذا وغیرہ کی ضروریات ملیں ورنہ وہ نیند موت ہوجائے گی۔ اگر ہمہ وقت رات ہی رہتی اور آدمی سوتا ہی رہتا تو یہ چیزیں کیسے حاصل ہوتیں، ان کے لئے جدوجہد اور محنت اور دوڑ دھوپ کی ضرورت ہے جو روشنی میں ہو سکتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تمہاری راحت کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے صرف رات اور اس کی تاریکی ہی نہیں بنائی بلکہ ایک روشن دن بھی دیا جس میں تم کاروبار کر کے اپنی معاشی ضروریات حاصل کرسکو، (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین، اس کے بعد انسان کی راحت کے اس سامان کا ذکر ہے جو آسمان سے متعلق ہیں ان میں…
Read the full tafseer →’وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا‘۔ اور آسمان میں ہم نے ایک روشن چراغ رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد سورج ہے۔ یہی سورج اس دنیا میں روشنی، حرارت اور قوت کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ ہو تو یہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ آسمان اور زمین میں الگ الگ دیوتاؤں کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ دونوں میں ایک ہی خدائے قادر و قیوم کی حکومت ہے ورنہ ان میں یہ سازگاری کس طرح وجود میں آئی کہ آسمان کا سورج زمین والوں کی اس طرح خدمت گزاری کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جدو جہد کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–23
2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔
Read the full tafseer →وجعلنا .................... وھاجا (13:78) ” اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ بنالیا “۔ اور یہ روشن اور گرم چراغ سورج ہے جس کی روشنی تیز ہے اور اس کے اندر بےپناہ گرمی ہے۔ جس کی وجہ سے زمین اور اس کے اوپر زندگی ممکن ہوتی ہے جو سمندر کے پانیوں کو گرم کرکے ان سے اس وسیع زمین پر آبپاشی کا بندوبست کرتا ہے۔ وہ بادلوں کو اٹھاتا ہے۔ ان کی بلندی کی اعلیٰ سطح تک لے جاتا ہے اور پھر ان بادلوں کو نچوڑ کر بارش برسائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →11 یعنی آفتاب جس میں روشنی اور گرمی دونوں وصف موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
10 سورج کی دوری اور فوائد :۔ وَھَّاجاً : الوھج بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مرجاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کردیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مرجاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6۔ (اسی آسمان میں) مراد آفتاب ہونا ظاہر ہے۔ آسمان اور آفتاب جیسی زبردست وعظیم الشان موجودات حق تعالیٰ کی محض مخلوق ہی ہیں ساری مخلوقات کی طرح بےبس، نہ کہ خود آفریدہ یا نعوذ باللہ شریک خدائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
نیند بہت بڑی نعمت ہے : اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کا ذکر کرنے کے بعد جو کہ اسباب راحت میں ایک ہے، نیند کا ذکر فرمایا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نیند ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار اسی پر ہے اور اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ و فقیر سب کو یہ دولت یکساں اور مفت عطا ہوتی ہے، اگر دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے ویسی وہ مالداروں اور بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان تو ہیں مگر راحت نہیں…
Read the full tafseer →و جعلنا ساجا وھاجا . اور ہم نے روشن چراغ پیدا کیا یا جَعَلْنَا کا اوّل مفعول محذوف ہے یعنی سورج کو ہم نے روشن چراغ بنایا۔ وَھَّاجًا کا معنی ہے جگمگاتا۔ بھڑکتا ہوا۔ مقاتل نے کہا : وھج کا معنی ہے ایسی روشنی جس میں گرمی بھی ہو۔ اللہ نے سورج میں نور بھی پیدا کیا اور گرمی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(11۔ 16) اور ہم نے ہی دن کو معاش کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ہم نے ہی انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا اور ہم نے ہی ہواؤں سے بادل لاکر کثرت کے ساتھ پانی برسایا تاکہ ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کی سبزیاں غلے اور گنجان باغات اگائیں۔
Read the full tafseer →وجعلنا سراجاً وھاجاً :”وھاجاً :”وھاجاً ”وھج“ سے مبالغہ ہے جس میں حرارت اور روشنی دونوں جمع ہوتی ہیں، بہت روشن اور گرم چراغ۔ مراد سورج ہے۔ ایسا دہکتا ہوا چراغ کہ کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص اسے تھوڑی دیر مسلسل دیکھنے کی حماقت کر بیٹھے تو نظر ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Read the full tafseer →وجعلنا سراجا وھاجا۔ وھاج کا معنی روشن ہے جعل فعل یہاں پیدا کرنے کے معنی میں ہے کیونکہ یہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے وھاج، اسے کہتے ہیں جس میں وھج (روشنی) پائی جائے اس کا باب یوں چلایا جاتا ہے، وھج، یھج وھجا ووھجا ووھجانا، جوہر جب چمک رہا ہو تو اسے توھج کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وھاجا یعنی روشن چمکنے والا۔
Read the full tafseer →12 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا سراجا وہاجا میں الوہاج سے مراد ہے چمکنے والا آیت وانزلنا من المعصرات یعنی ہم نے آسمان سے نازل کیا اور بعض کہتے ہیں کہ ہم نے ہوا سے نازل کیا آیت ماء ثجاجا۔ الثجاج سے مراد ہے خوب برسنے والا یعنی موسلا دھار بارش۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا سراجا وہاجا سے مراد ہے چمکنے والا۔ یعنی سورج آیت وانزلنا من العصرات یعنی بادلوں سے آیت ماء ثجاجا یعنی خوب برسنے والا۔ 14۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سراج وہاجا سے…
Read the full tafseer →[وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَاجًا : اور ہم نے بنایا ایک بہت روشن چراغ ] و ھ ج [ وَھْحًا : (ض) آگ یا سورج کا روشن ہونا ] [ وَھَاجٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ خوب روشن ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔] نوٹ 4: آیت ۔ 13 ۔ میں روشن چراغ سے مراد سورج ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے جس عظیم نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجۂ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(کا ئنات کے مختلف عالم ) اور دیکھو ! ہم نے وبنینا فوقکم سبعا شدادا تمہارے اوپر سات سخت آسمان بنائے ۔ کہیں آتا ہے سبع سموت طباقا “ یعنی اوپر نیچے طبقات بنائے ۔ یہاں پر آسمانوں کو شدادکہا گیا ہے۔ حالانکہ آسمان تو شفاف نظر آتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ( ب 2 تفہمات الیہ ص 217 ج 1 تاص 219) ہیں کہ آسمانی کروں کے عناصر بھی زمین کی طرح ہی ہیں مگر وہ لطیف ہیں ۔ زمین میں کثافت اور ظلمت پائی جاتی ہے۔ مگر آسمان لطیف ہیں ۔ اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی چیز میں جس قدر مادیت اور ظلمت ہوگی وہ کمزور ہوگی اور دوسری چیز جس قدر لطیف ہوگی ، اسی قدر طاقتور ہوگی ۔ دنیا مادی جہاں ہے یعنی ہے یہ اینٹ اور پتھر والا جہاں…
Read the full tafseer →وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا 13 ۠ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ سرج السِّرَاجُ : الزّاهر بفتیلة ودهن، ويعبّر به عن کلّ مضیء، قال : وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراجاً [ نوح/ 16] ، سِراجاً وَهَّاجاً [ النبأ/ 13] ، يعني : الشمس . يقال : أَسْرَجْتُ السّراج، وسَرَّجْتُ كذا : جعلته في الحسن کالسّراج، قال الشاعر : وفاحما ومرسنا مُسَرَّجاً والسَّرْجُ : رحالة الدّابّة، والسَّرَّاجُ صانعه . ( س ر ج ) السراج ( چراغ) وہ چیز جو بتی اور تیل سے روشن ہوئی ہے ۔ مجازا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →13 : وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّا جًا (اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنا یا) روشن بھڑکنے والا یعنی سورج روشنی اور حرارت ہر دو کا جامع ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” وبنینا فوقکم سبعا شدادا “ مراد سات آسمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
12۔ 16۔ زمین کے عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے سات چنائیوں سے سات آسمان مراد ہیں مضبوطی انکی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہاراکھڑے ہیں اور یہ تو اوپر گزرچکا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راستہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کا دل ہے۔ چمکتے ہوئے چراغ سے مراد سورج ہے کہ جس کی چمک ساری دنیا میں یکساں ہے۔ معصرات کے معنی میں سلف کے دو 1 ؎ قول ہیں ‘ ایک ہوا دوسراخوب برسنے والا بال۔ مطلب دونوں قولوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا آسمان پر چلتی ہے۔ اس سے بادل اکٹھے ہو کر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا (وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا) اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔ چراغ کا زکر کرکے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وھاج۔ یعنی اس کی حرارت کا ذکر کرکے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(12) پانی کے جوہر حیات آفریں میں غور و فکر کی دعوت : سو پانی کے اس عظیم الشان جوہر حیات آفرین اور اس سے نوازنے کے پر حکمت نظام میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے پانی سے لبریز بدلیوں سے بکثرت پانی اتارا۔ اور اتنی کثرت اور اس قدر بہتات و فراوانی کے ساتھ اتارا کہ تمہاری، تمہارے جانوروں کی، اور دوسری بیشمار مخلوق کی بےحدو حساب ضرورتیں اس سے پوری ہور رہی ہیں، اور اس قدر پر حکمت طریقے سے اتارا کہ سوچنے اور غور کرنے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، سبحانہ و تعالیٰ فللہ الحمد۔ سو پانی سے لبریز بادلوں سے اس کثرت اور فراوانی کے ساتھ پانی کے اتارے جانے میں جہاں اس خالق ومالک کی شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →ف 10 وھاج، ایسی چیز کو کہتے ہیں جو روشن بھی ہو اور گرم بھی اسی لئے اس سے مراد سورج لیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(78:13) وجعلنا سراجا وھاجا : سراجا چراغ۔ وہ چیز جو بتی اور تیل سے روشن ہوتی ہے۔ مجازا ہر روشن چیز کو سراج کہا جاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعلنا الشمس سراجا (71:16) اور اس نے سورج کو چراغ ٹھہریا ہے۔ وھاجا وھج یھج وھج : (باب ضرب) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت روشن، بھڑکتا ہوا ، جگمگاتا ہوا۔ مقاتل نے کہا ہے کہ وھج کا معنی ہے ایسی روشنی جس میں گرمی بھی ہو اللہ نے سورج میں نور بھی پیدا کیا اور گرمی بھی۔ آیت 71:16 متذکرہ بالا کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ میں بھی سراج سے مراد سورج ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) زمین کی عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارے سروں پر سات درجے کی ایک مضبوط چھت بنائی ، اس کی مضبوطی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہارے کھڑی ہیں اور اس میں سات ستارے ایسے ہیں کہ ہر مومن کافر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے واسطے ایک روشن چراغ بنایا یعنی آفتاب کہ ہر شخص اس کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے لیے بادلوں سے بہت مینہ اتارا، یہ کام ہم نے اس لیے کہ تمہارے لیے اناج پیدا کریں، اور نباتات جس میں سے بعض ساگ وغیرہ تمہارے کام ہیں اور بعض چارہ وغیرہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ف 2: یوم الفصل کے اثبات کو بطور نتیجہ کے بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ جب تم لوگ کائنات کی افادیت پر غور کرو گے اور جب اس حقیقت کے متعلق سوچو گے کہ آخر بےجان مادہ نے نفع اور فائدہ کی شکلیں ہی کیوں اختیار کی ہیں اور یہ دنیا باضابطہ اور قاعدے کے مطابق کیوں تجویز کی گئی ہے تو اس کا جواب خودبخود سوجھے گا ۔ وہ یہی ہوگا کہ یہ نظام علیم و حکیم خدا کا مقرر کردہ ہے ۔ تخمین و مجازفہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اور اس کے پیدا کرنے سے ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے پیش ہوکر ایک دن بتائے کہ اس نے اس دنیا کی نعمتوں سے کیونکر استفادہ کیا ہے ؟ ۔
Read the full tafseer →(13) اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنایا۔ آسمانوں کو شداد فرمایا جن پر ایک طویل زمانہ گزر جانے کے بعد ابھی تک کوئی خرابی اور کمزوری نہیں آئی اور باجود مرورزمان کے اس میں مرمت کی ضرورت ظاہر نہیں ہوئی، سراج سے مراد آفتاب عالم تاب ہے یہ سات مضبوط آسمان اور یہ آفتاب ہم نے ہی پیداکئے اور بنائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 1۔ مراد آفتاب ہے کقولہ تعالیٰ وجعل الشمس سراجا۔
Read the full tafseer →اور ہم نے سورج کو روشن چراغ بنایا ۔ 13 (سراجاً ) چراغ۔ دیا۔ مجازاً آفتاب اور ہر روشن چیز کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ سرج جمع ہے (وھاجاً ) صیغہ مبالغہ ، بہت روشن وھج سے (سراجاً و ھاجاً ) چمکتا ہوا اور بہت ہی روشن سورج وھج بھڑک ، بھڑکنا و ھیج روشنی۔ سورج کیا ہے ؟ وہ ایک چراغ ہے جو سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اس کو کس نے بنایا ہے ؟ فرمایا اس کو بنانے والے ہم ہیں یعنی اس کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور وہ صرف روشن ہی نہیں بلکہ گرم بھی ہے۔ روشنی اور حرارت دونوں ہی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں ۔ کائنات کی یہ ساری چہل پہل اور گلشن ہستی کی یہ ساری حسن آرائیاں اور جمال آفرینیاں ، نور اور حرارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
Thereafter the verse reads: وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (and made the day a source of livelihood....78:11). Man requires, together with sleep, other essentials of life, such as livelihood. Otherwise, the sleep will turn into death. If the world would have had only nights and no days, and man would have continued to sleep all the time, how would he have obtained his livelihood and other essentials, whereas day is the time when he could work hard and make activities in the daylight in order to earn a living. Thus the verses under comment purport to say that Allah has, in order to complete…
Read the full tafseer →10 "A bright, blazing lamp": the sun. The word wahhaj used for the sun means both intensely hot and intensely bright. Hence our rendering. In this brief sentence, allusion has been made to a most wonderful and glorious sign of Allah Almighty's power and wisdom which the sun is. Its diameter is 109 times that of the earth's and its size more than 333,000 tunes that of the earth's. Its temperature is 14,000,000°C. In spite of shining 93,000,000 miles away from the earth, its light and brightness is dazzling, and man can look at it with the naked eye only at the risk of losing his eye-sight. As…
Read the full tafseer →