Explained with ayahs 1–16
پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے
جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 9
مضبوط کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ ان کی سرحدیں اتنی مستحکم ہیں کہ ان میں ذرہ برابر تغیر و تبدل نہیں ہونے پاتا اور ان سرحدوں کو پار کر کے عالم بالا کے بیشمار ستاروں اور سیاروں میں سے کوئی نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ تمہاری زمین پر آ گرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2۔ الحجر، حواشی 8، 12۔ جلد سوم، المؤمنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 13۔ یٰسین، حاشیہ 37۔ الصافات، حواشی 5۔ 6۔ المومن، حاشیہ 90۔ جلد پنجم، ق حواشی 7۔ 8)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
اس کے بعد ارشاد فرمایا، وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا کہ انسان کی راحت و سکون کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو غذا وغیرہ کی ضروریات ملیں ورنہ وہ نیند موت ہوجائے گی۔ اگر ہمہ وقت رات ہی رہتی اور آدمی سوتا ہی رہتا تو یہ چیزیں کیسے حاصل ہوتیں، ان کے لئے جدوجہد اور محنت اور دوڑ دھوپ کی ضرورت ہے جو روشنی میں ہو سکتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تمہاری راحت کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے صرف رات اور اس کی تاریکی ہی نہیں بنائی بلکہ ایک روشن دن بھی دیا جس میں تم کاروبار کر کے اپنی معاشی ضروریات حاصل کرسکو، (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین، اس کے بعد انسان کی راحت کے اس سامان کا ذکر ہے جو آسمان سے متعلق ہیں ان میں…
Read the full tafseer →’وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا‘۔ زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا اب اوپر دیکھو ہم نے تمہارے اوپر سات محکم آسمان بنائے۔ آسمان کا ذکر اگرچہ یہاں الفاظ میں نہیں ہے لیکن جو صفات مذکور ہیں وہ خود دلیل ہیں کہ مراد آسمان ہی ہے۔ ’شداد‘ سے مراد وہی بات ہے جو سورۂ ملک میں یوں فرمائی گئی ہے:
خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ.(الملک ۶۷: ۳-۴)
’’جس نے پیدا کیے ساتھ آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رحمان کی کاری گری میں کوئی خلل نہیں پا سکتے۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جدو جہد کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–23
2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔
Read the full tafseer →وبنینا فوقکم ........................ الفافا (12:78 تا 16) ” اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ سبزی اور گھنے باغ اگائیں “۔
اور وہ وسیع شداد جو انسان کے اوپر کھڑے کیے گئے وہ سات آسمان ہیں اور دوسری جگہ ان کو سات راستے کہا گیا ہے۔ ان سے حقیقی طور پر مقصود کیا ہے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ سات کہکشانی ہے بھی ہوسکتے ہیں ، یہ کہکشانی مجموعے اس قدر بڑے ہیں کہ ان میں سے ایک ہی کہکشانی گروپ میں ستاروں کی تعداد ایک سو ملین کے لگ بھگ ہے۔ اور ان سات مجموعوں کا ہماری زمین اور ہمارے مجموعہ شمسی سے تعلق…
Read the full tafseer →10 یعنی سات آسمان بہت مضبوط بنائے۔ جن میں آج تک اس قدر مدت گزرنے کے باوجود کوئی رخنہ نہیں پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“
زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9 کام کرنے کے لیے دن :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ فطری ذرائع یہ ہیں کہ انسان دن کو کام کرے جبکہ اسے قدرتی روشنی آسانی سے میسر آتی ہے۔ اور رات کو آرام کرے اور نیند لے کیونکہ نیند کے لیے جس تاریکی کی ضرورت ہے وہ اسے رات کو آسانی سے قدرتی ذرائع سے مہیا ہوجاتی ہے اس کے برعکس اگر کوئی شخص رات کو کام کرتا رہے اور دن کو سویا کرے تو وہ نہ گہری نیند کا لطف حاصل کرسکتا ہے اور نہ اس کے پورے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ بلکہ کچھ عرصہ بعد اس کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6۔ (اسی آسمان میں) مراد آفتاب ہونا ظاہر ہے۔ آسمان اور آفتاب جیسی زبردست وعظیم الشان موجودات حق تعالیٰ کی محض مخلوق ہی ہیں ساری مخلوقات کی طرح بےبس، نہ کہ خود آفریدہ یا نعوذ باللہ شریک خدائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
نیند بہت بڑی نعمت ہے :
اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کا ذکر کرنے کے بعد جو کہ اسباب راحت میں ایک ہے، نیند کا ذکر فرمایا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نیند ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار اسی پر ہے اور اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ و فقیر سب کو یہ دولت یکساں اور مفت عطا ہوتی ہے، اگر دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے ویسی وہ مالداروں اور بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان تو ہیں مگر راحت نہیں…
Read the full tafseer →و بنینا فوقکم سبعا شددا . اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط یعنی آسمان بنائے جن پر گردش زمانہ کا
کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(11۔ 16) اور ہم نے ہی دن کو معاش کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ہم نے ہی انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا اور ہم نے ہی ہواؤں سے بادل لاکر کثرت کے ساتھ پانی برسایا تاکہ ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کی سبزیاں غلے اور گنجان باغات اگائیں۔
Read the full tafseer →(وبنینا فوقکم سبعاً شداداً…: آدمی کے نیچے اور گرد و پیش کے عجائب کے بعد اوپر کے عجائب کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسان بنائے جن میں نہ شگاف ہے نہ کوئی کمزوری نہ گرتے ہیں نہ وہاں کسی شیطان کا دخل ہے۔ ”شدیدۃ“ کی جمع ہے، محکم ، مضبوط۔
Read the full tafseer →وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ یعنی سات مضبوط آسمان، ان کی خلقت اور مضبوط اور عمارتیں بڑی پختہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا یعنی دو ، دو ، آیت وجعلنا النہار معاشا۔ اور دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا یعنی تم اللہ کے فضل کو تلاش کرتے رہو۔ آیت وجعلنا سراجا وہاجا۔ اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بنایا یعنی چمکتا ہوا۔ آیت وانزلنا من المعصرات اور ہم نے ہواؤں کو اتارا یعنی ہوا کو آیت ماء ثجاجا یعنی ایسا پانی جسے انڈیلا جائے تو وہ موسلا دھار برس پڑے۔
Read the full tafseer →[وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ : اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر ][ سَبْعًا شِدَادًا : سات مضبوط (آسمان)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔
رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا :
گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔
(ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(کا ئنات کے مختلف عالم )
اور دیکھو ! ہم نے وبنینا فوقکم سبعا شدادا تمہارے اوپر سات سخت آسمان بنائے ۔ کہیں آتا ہے سبع سموت طباقا “ یعنی اوپر نیچے طبقات بنائے ۔ یہاں پر آسمانوں کو شدادکہا گیا ہے۔ حالانکہ آسمان تو شفاف نظر آتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ( ب 2 تفہمات الیہ ص 217 ج 1 تاص 219) ہیں کہ آسمانی کروں کے عناصر بھی زمین کی طرح ہی ہیں مگر وہ لطیف ہیں ۔ زمین میں کثافت اور ظلمت پائی جاتی ہے۔ مگر آسمان لطیف ہیں ۔ اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی چیز میں جس قدر مادیت اور ظلمت ہوگی وہ کمزور ہوگی اور دوسری چیز جس قدر لطیف ہوگی ، اسی قدر طاقتور ہوگی ۔ دنیا مادی جہاں ہے یعنی ہے یہ اینٹ اور پتھر والا جہاں…
Read the full tafseer →وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا 12 ۙ
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها .
( ب ی ن ) البین
کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17)
(کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے :
” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5)
آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →12 : وَّ بَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا (ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے) سبع یعنی سات آسمان، شدادًا جمع شدیدۃؔ کی ہے۔ مضبوط و طاقتور جس میں مرورزمانہ کا اثر نہیں۔ نمبر 2۔ موٹے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔” وجعلنا النھار معاشا “ المعاش زندگی اور ہر وہ چیز کو اس سے زندگی گزاری جائے تو وہ معاش ہے۔ یعنی ہم نے اس میں معاش کے سبب اور مصالح میں تصرف کرنا بنایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ تم اس میں اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہو اور جو تمہارے لئے اس کے رزق میں تقسیم کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
12۔ 16۔ زمین کے عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے سات چنائیوں سے سات آسمان مراد ہیں مضبوطی انکی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہاراکھڑے ہیں اور یہ تو اوپر گزرچکا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راستہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کا دل ہے۔ چمکتے ہوئے چراغ سے مراد سورج ہے کہ جس کی چمک ساری دنیا میں یکساں ہے۔ معصرات کے معنی میں سلف کے دو 1 ؎ قول ہیں ‘ ایک ہوا دوسراخوب برسنے والا بال۔ مطلب دونوں قولوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا آسمان پر چلتی ہے۔ اس سے بادل اکٹھے ہو کر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے…
Read the full tafseer →(وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا) یعنی تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا۔
Read the full tafseer →(10) آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بنا دیئے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان، جو نہ کبھی گرتے ہیں، نہ ٹوٹتے پھوٹتے ہیں، اور نہ کبھی ان کی اصلاح اور مرمت کی کوئی ضرورت پیش آتی ہے، مگر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تو یہ سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا، اور اس آسمان کو جس میں آج کوئی پھٹن اور شگاف تک نہیں، اس روز اس کو اس طرح کھول دیا جائے گا کہ یہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا، وَفُتِحَتِ السَّمَاء فَکَانَتْ أَبْوَاباً ( النبا 19 پ 30) بہر کیف زمین کی نشانیوں کے بعد اس ارشاد سے آسمان کی نشانیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ
تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →ف 9 کہ ہزاروں برس گزرنے پر بھی ان میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →(78:12) وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ واؤ عاطفہ۔ بنینا ماضی جمع متکلم بنی یبنی بناء (باب ضرب۔ ب ، ن، ی مادہ) مصدر۔ بنانا۔ تعمیر کرنا۔ فوقکم مضاف مضاف الیہ۔ متعلق فعل۔ سبعا اسم عدد مفعول۔ سات (آسمان) موصوف۔ شدادا۔ صفت، مضبوط، سخت، شدید کی جمع۔ اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) زمین کی عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارے سروں پر سات درجے کی ایک مضبوط چھت بنائی ، اس کی مضبوطی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہارے کھڑی ہیں اور اس میں سات ستارے ایسے ہیں کہ ہر مومن کافر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے واسطے ایک روشن چراغ بنایا یعنی آفتاب کہ ہر شخص اس کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے لیے بادلوں سے بہت مینہ اتارا، یہ کام ہم نے اس لیے کہ تمہارے لیے اناج پیدا کریں، اور نباتات جس میں سے بعض ساگ وغیرہ تمہارے کام ہیں اور بعض چارہ وغیرہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1: سبعا شدادا سے مراد کئی نظام کواکب ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نہایت محکم اور مضبوط ہیں ۔ سبع کا لفظ یہاں عدد کے لئے نہیں ۔ بلکہ تکثیر کے لئے ہے ۔
Read the full tafseer →(12) اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنانے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →اور ہم نے تمہارے اوپر مضبوط سات آسمان بنائے
۔ 12 (سداداً ) منصوب۔ سخت ۔ زبردست اور مضبوط قدرت الٰہی کے نشانات میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے سات آسمان بنائے۔ تم اس آسمان دنیا پر نظر ڈالو جو نیلگوں چھت کی طرح تم کو نظر آ رہا ہے۔ لاکھوں ، کروڑوں سال گزرگئے ہیں کہ یہ سائبان تانا گیا ہے ذرا بتائو کہ شکست و ریخت کا کوئی نشان تم کو اس میں نظر آتا ہے۔ کوئی شکن ، کوئی سلوٹ ، کوئی دراڑ ، کوئی جھول ؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو کیا یہ سب کچھ خود بخود ہی بنتا چلا گیا ہے جب کہ اس کا بنانے والا کوئی نہیں ہے۔ تم مانو یا نہ مانو کوئی چیز بھی خود بخود نہیں بنتی بلکہ اس کا بنانے والا ہوتا ہے اس طرح یہ سب کچھ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
Thereafter the verse reads:
وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (and made the day a source of livelihood....78:11). Man requires, together with sleep, other essentials of life, such as livelihood. Otherwise, the sleep will turn into death. If the world would have had only nights and no days, and man would have continued to sleep all the time, how would he have obtained his livelihood and other essentials, whereas day is the time when he could work hard and make activities in the daylight in order to earn a living. Thus the verses under comment purport to say that Allah has, in order to complete…
Read the full tafseer →9 "Strong" in the sense that their boundaries are so strongly fortified that no change whatever occurs in them, nor does any of the countless stars and planets in the heavens, violating these boundaries, collide with the other, nor falls down to the earth. (For further explanation, see E.N. 34 of Al-Baqarah, E.N. 2 of Ar Ra'd, E.N.'s 8, 12 of Al-Hijr, E.N. 15 of AI-Mu'minun, E.N. 13 of Luqman, E.N. 37 of Ya Sin, E.N.'s 5, 6 of As-Saaffat, E.N. 90 of Al-Mu'min, E.N.'s 7, 8 of Surah Qaf) .
Read the full tafseer →