Al-Muddaththir 74:25

Al-Muddaththir · from ayah 25

74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ۟ؕاِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِؕ

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

This is not but the word of a human being."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:25

یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کچھ نہیں یہ تو ایک انسان کا کلام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ نہیں مگر آدمی کا کلام

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (قرآن) بجز اِنسان کے کلام کے (اور کچھ) نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ انسان کے قول کے سوا کچھ نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تو محض انسانی کلام ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ نہیں ہے مگر انسان کا (بنایا ہوا) کلام

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تو نرا آدمی ہی کا کلام ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر بولایہ خدا کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

this is nothing but the word of a mere mortal!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

this is nothing but saying of a mortal.

— Muhammad Taqi Usmani

this is nothing but saying of a mortal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"This is nothing but the word of a human being!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is naught else than speech of mortal man.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This is not but the word of a human being."

— Saheeh International

These are only words from a mere mortal".

— Muhammad Sarwar

This is naught but the word of a mortal.

— Muhammad Habib Shakir

Naught is this but the word of Man.

— Abdul Majid Daryabadi

"This is nothing but the word of a mortal!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة الْمُدَّثِّر 14 یہ اس واقعہ کا ذکر ہے جو کفار مکہ کی مذکورہ بالا کانفرنس میں پیش آیا تھا۔ اس کی جو تفصیلات ہم دیباچے میں نقل کرچکے ہیں ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ شخص دل میں قرآن کے کلام الہی ہونے کا قائل ہوچکا تھا۔ لیکن اپنی قوم میں محض اپنی وجاہت و ریاست برقرار رکھنے کے لیے ایمان لانے پر تیار نہ تھا۔ جب کفار کی اس کانفرنس میں پہلے اس نے خود ان تمام الزامات کو رد کردیا جو قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ پر لگا رہے تھے تو اسے مجبور کیا گیا کہ وہ خود کوئی ایسا الزام تراشے جسے عرب کے لوگوں میں پھیلا کر حضور ﷺ کو بد نام کیا جاسکتا ہو۔ اس موقع پر جس طرح وہ اپنے ضمیر سے لڑا ہے اور جس شدید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

’فَقَالَ إِنْ ہٰذَا إِلَّا سِحْرٌ یُؤْثَرُ ۵ إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ اداؤں اور حرکتوں ہی نے سارا راز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کر دیے کہ وہ کیا زہر اگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے اور یہ محض بشری کلام ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو: قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ اس کی بے مثل فصاحت و بلاغت اور اس کی بے پناہ تاثیر و تسخیر کا انکار جب ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–26

24۔ 1 یعنی کسی سے یہ سیکھ آیا ہے اور وہاں سے نقل کر لایا ہے اور دعویٰ کردیا کہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–27

8: یعنی آس پاس کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ھذا ........................ البشر (74:25) ” یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔ یہ زندہ لمحات ہیں جن کو قرآن مجید الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ یہ اس قدر قومی اور واضح تخیل دیتے ہیں کہ تصویر سے زیادہ واضح ہے ، اور متحرک قلم سے زیادہ اثر انگیز اور سحر آفریں ہے۔ جس شخص کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اسے قیامت تک اضحوکہ اور قابل نفرت اور نہایت ہی بدنما تصویر دے دی جاتی ہے۔ جسے نسلوں تک لوگوں نے دیکھا پڑھا اور دیکھیں گے اور پڑھیں گے۔ اس تصویر کشی کے بعد اب اس شخص کو ایک خوفناک دھمکی دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–25

9 یعنی مجمع پر نگاہ ڈالی پھر خوب منہ بنایا۔ تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ پھر پیٹھ پھیرلی گویا بہت ہی قابل نفرت چیز کے متعلق کچھ بیان کرنا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اس کی حقانیت کا اقرار کرچکا تھا۔ اب برادری کی خوشنودی کے لیے اس سے پھر گیا۔ آخر نہایت غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگا۔ بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ اور یقینا یہ آدمی کا کلام ہے جو جادو بن کر باپ کو بیٹے سے، میاں کو بیوی سے، اور دوست کو دوست سے جدا کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–25

آیت 25{ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۔ } ”یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔“ یعنی اس کلام میں جادو کا سا اثر تو ہے ‘ لیکن محمد ﷺ کا یہ دعویٰ کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسے میں نہیں مانتا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ انسانی کلام ہی ہے۔۔۔۔ اب اگلی آیات کو پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے حق کو پہچانتے ہوئے جھٹلا کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–27

11 اسلام لانے میں اس کی سرداری رکاوٹ بن گئی :۔ ولید بن مغیرہ خود بڑا سمجھدار اور عربی کلام کے نشیب و فراز سے خوب واقف تھا۔ وہ خود قرآن سے کافی حد تک متاثر ہوچکا تھا۔ اب قریشی سرداروں کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ اگر ان کا رئیس مسلمان ہوگیا تو پھر تو ان کا کہیں بھی ٹھکانہ نہ رہے گا۔ اس کو اپنے سابقہ دین پر برقرار رکھنے کا بیڑا ابو جہل نے اٹھایا۔ (ولید بن مغیرہ کے بعد قریش کی سیادت ابو جہل کے ہاتھ آئی تھی) جب ابو جہل نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ مسلمان ہوگیا تو اس کی سب عزت و جاہ خاک میں مل جائے گی اور اسے قریش کی سیادت سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ تو وہ اسلام لانے سے رک گیا۔ اب ایک اور اہم مسئلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–25

11۔ (جو خدا کا کلام ہو ہی نہیں سکتا) (آیت) ” سحر یؤثر “۔ ایسا سحر جو اہل بابل وغیرہ سے منقول ہو کر آیا ہے۔ اے یروی ویتعلم من سحرۃ بابل ونحوھم (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–30

(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–25

انہ فکر و قدر …: کفار کو مشکل یہ درپیش تھی کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی کہتے کوئی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھا، خود ان کے دل اس سے انکار کرتے تھے۔ وہ قرآن کو شعر، کہانت اور جادو کہہ کر اس سے منتفر کرتے تھے، مگر جانتے اور مانتے تھے کہ نہ اس میں شاعروں کے شعر کا مبالغہ یا جھوٹ ہے، نہ کاہنوں کی تک بندی ہے اور نہ جادوگروں کے ٹونے ٹوٹکے۔ اس لئے ان کے بڑے بڑے سرداروں نے جن میں ولید بن مغیرہ بھی شامل تھا، اپنے دماغ کی ساری صلاحیتیں صرف کر کے جو نتیجہ نکالا وہ دو باتوں پر مشتمل تھا، ایک یہ کہ یہ وہی جادو ہے اور جادوگروں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ہر موثر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ھذا الاقول البشر۔ یہ نہیں ہے مگر مخلوق کا کلام۔ دل اس سے دھوکہ کھاجاتے ہیں جس طرح جادو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں سدی نے کہا، وہ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ سیار کا کلام ہے، جو بنی حضری کا غلام تھا وہ نبی کریم کی مجلس میں بیٹھا لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ رسول اللہ نے اس غلام سے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں نے اہل بابل سے اسے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مسیلمہ سے اسے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے عدی حضر کاہن سے اسے سیکھا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس سے سیکھا ہے جس نے ان سے پہلے نبوت کا دعوی کیا تو کلام انہیں کے انداز میں کی گئی۔ ابوسعید ضریر نے کہا، یہ نہیں ہے مگر ایسا عمل جو نسل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا الا سحر یوثر یہ تو ایک جادو ہے جو چلا آتا ہے یعنی وہ اپنے غیر سے چلا آتا ہے۔ 25۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر سے مراد ہے جہنم کا نچلہ طبقہ اس میں آگ ہے اور زقوم کا درخت ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان هٰذَآ اِلَّا : نہیں ہے یہ مگر ] [قَوْلُ الْبَشَرِ : اس بشر کا قول ] نوٹ۔ 1: اس سورة کی پہلی سات آیات مکہ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ سورة کا باقی ماندہ حصّہ آیت۔ 8 سے آخر تک اس وقت نازل ہوا جب اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع ہوجانے کے بعد مکہ میں پہلی مرتبہ حج کا موقع آیا۔ اور مکہ کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد ﷺ نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور اجتماعات میں قرآن جیسا مؤثر کلام سنایا تو عرب کے ہر گوشے تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی اور نہ معلوم کون کون اس سے متاثر ہوجائے۔ اس لیے قریش کے سرداروں نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–30

﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔ ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–25

8:۔ سارھقہ صعودا۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ صعود دوزخ میں آگ کا نہایت ہی بلند پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کے لیے جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی ایک قسم کا نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ” انہ فکر “ یہ اس کی سزا کی علت ہے اس نے قرآن اور پیغمبر کے بارے میں غور و فکر کیا کہ ان کی حقیقت کیا ہے پھر اپنے ذہن میں ایک بات طے کرلی کہ یہ قرآن جادو ہے اور محمد ﷺ جادوگر ہے (العیاذ باللہ) ۔ اس ملعون اور راندہ درگاہ ایزدی نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس کے بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر پیٹھ پھیر کر غرور و نخوت سے چل دیا اور کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو بابل کے جادوگروں سے چلا آرہا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ ہٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۝ 25 ۭ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–25

اِنَّـہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ۔ فَـقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ نَظَرَ ۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَـکْبَرَ ۔ فَقَالَ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ یُّـؤْثَرُ ۔ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ ۔ (المدثر : 18 تا 25) (اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔ تو خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ پھر پیٹھ پھیری اور تکبر میں پڑگیا۔ پھر بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو محض انسانی کلام ہے۔ ) معاندین کے عناد کی تصویر آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25 : اِنْ ھٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ (بس یہ تو آدمی کا کلام ہے ) نحو : ان دونوں جملوں کے درمیان عاطف کا ذکر نہیں کیا کیونکہ دوسرا جملہ پہلے کی تاکید کے قائم مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” فقال ان ھذا “ نہیں ہے یہ جو محمد ( ﷺ ) پڑھتے ہیں۔ ” الا سحریوثر “ جادوگروں سے نقل وحکایت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

(فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ ۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے جادوگروں کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے راہ صواب سے کتنا دور خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کرسکتا ہے کہ سب سے اعلی اور عظیم ترین کلام رب کریم صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرات کرتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–28

16 ۔ اپنے ضمیر کے خلاف رائے کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہا یعنی اپنے ضمیر کی اس آواز و پکار کیخلاف جس کا اظہار اس نے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کی صداقت کے بارے میں اس سے پہلے صاف اور صریح طور پر کیا تھا، سو جب کسی پر اس کے حق سے بغض وعناد کی بدبختی چھا جاتی ہے تو اس کی مت اسی طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ جس کے نتیجے میں وہ اسی طرح پاگلوں کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور مزید یہ کہ اپنی اس حماقت کو وہ اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتا ہے والعیاذ باللہ حالانکہ وہ اس کی محرومی اور بدبختی کا ثبوت ہوتا ہے اور اس طح ایسا شخص محرومی در…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–25

ف 2 یعنی ہرگز خدائی کلام نہیں ہوسکتا جیسا کہ محمد (ﷺ) کا دعویٰ ہے … حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ ولید آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو آپ نے اسے قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایاتو اس کا دل قدرے نرم پڑگیا۔ ابوجہل کو پتہ چلاتو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا چچا ! قریش کے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے لئے مال جمع کریں۔ پوچھا ” کیوں ؟ “ جواب دیا ” اسلئے کہ آپ محمد ﷺ کے پاس جا کر اس کا کلام سن کر آئے ہیں۔ “ ولید بولا ” قریش کے لوگوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجیھ مال کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ “ تو ابوجہل نے کہا کہ کوئی ایسی بات کہو جس سے لوگوں کو پتا چل جائے کہ تو محمد (ﷺ) کے کلام کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:25) ان ھذا الاقول البشر : ان نافیہ۔ ھو (ای القران) قول البشر مضاف مضاف الیہ۔ بشر کا کلام، انسان کا کلام۔ یہ جملہ اول کی تاکید میں ہے اسی وجہ سے اس کو اس پر عطف نہیں کیا گیا۔ فائدہ : ولید بن مغیرہ کی ان حرکات و سکنات کو صاحب ضیاء القرآن یوں تحریر فرماتے ہیں :۔ آخری اعلان سے پہلے ایک مرتبہ پھر رعونت سے مجمع پر نظر ڈالتا ہے۔ پھر اس کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں پھر وہ منہ بسورتا ہے۔ چہرے کو کرخت بناتا ہے پھر غرور تکبر سے منہ پھر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان ھذا الا سحر : کہ یہ جادو ہے اور اس کتاب کالا نے والا جادوگر ہے۔ پھر لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اس کا رواج…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–26

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–25

[9] روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ کسی قدر متاثر ہوا مگر ابو جہل نے اسے ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ ولید اگر مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو کی۔ کسی نے آپ ﷺ کو شاعر کہا اور کسی نے کاہن بتلایا۔ ولید بولا کہ میں فن شعر میں خود بہت بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں۔ قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا آخر تیری کیا رائے ہے ؟ کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری چڑھا کر اور منہ بنا کر کہا کہ کچھ نہیں بس جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ان آیات میں اسی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–35

ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) یہ قرآن تو صرف کسی بشر اور آدمی کا کلام ہے - ولید بن مغیرہ قریش کا مظہور اور مالدار آدمی ہے نبی کریم ﷺ ایک روز حم السجدہ کی تلاوت فرما رہے تھے اس نے قرآن کو سن کر کہا یہ کلام بہت عمدہ ہے اس میں بڑی شیرینی ہے میں نے آج تک ایسا کوئی کلام نہیں سنا نہ یہ شعر ہے نہ کہانت ہے۔ لوگوں نے اس کی بات ابوجہل سے جاکر کہی اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید ولید مسلمان ہوگیا، چناچہ ابوجہل نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور ولید کو غیرت دلاتی اور اس کو کفر پر پختہ کردیا اور یہ مشہور ہوا کہ محمد کا کوئی ایسا لقب تجویز کیا جائے جو تمام عرب میں مشہور کردیاجائے۔ چناچہ ولید نے بہت غور کیا اور بالآخر خوب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–30

(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔ ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔ (جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–30

The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

14 The reference is to what happened in the conference of the disbelievers of Makkah. From the details of it that we have given in the Introduction, it becomes obvious that this man in his heart had become fully convenced of the Qur'an's being Divine Word, but in order to save his position as a chief of his people, he was not prepared to affirm faith. When in the conference he himself turned down all the accusations that the Quraish chiefs were proposing against the Holy Prophet (upon whom be peace) , he was compelled to devise an accusation from himself, which could be spread among the Arabs…

Read the full tafseer →