Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سورة الْمُدَّثِّر 13
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ
یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
’فَقَالَ إِنْ ہٰذَا إِلَّا سِحْرٌ یُؤْثَرُ ۵ إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ اداؤں اور حرکتوں ہی نے سارا راز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کر دیے کہ وہ کیا زہر اگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے اور یہ محض بشری کلام ہے۔
قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو: قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ اس کی بے مثل فصاحت و بلاغت اور اس کی بے پناہ تاثیر و تسخیر کا انکار جب ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 یعنی کسی سے یہ سیکھ آیا ہے اور وہاں سے نقل کر لایا ہے اور دعویٰ کردیا کہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
8: یعنی آس پاس کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
9 یعنی مجمع پر نگاہ ڈالی پھر خوب منہ بنایا۔ تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ پھر پیٹھ پھیرلی گویا بہت ہی قابل نفرت چیز کے متعلق کچھ بیان کرنا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اس کی حقانیت کا اقرار کرچکا تھا۔ اب برادری کی خوشنودی کے لیے اس سے پھر گیا۔ آخر نہایت غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگا۔ بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ اور یقینا یہ آدمی کا کلام ہے جو جادو بن کر باپ کو بیٹے سے، میاں کو بیوی سے، اور دوست کو دوست سے جدا کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
آیت 25{ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۔ } ”یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔“
یعنی اس کلام میں جادو کا سا اثر تو ہے ‘ لیکن محمد ﷺ کا یہ دعویٰ کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسے میں نہیں مانتا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ انسانی کلام ہی ہے۔۔۔۔ اب اگلی آیات کو پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے حق کو پہچانتے ہوئے جھٹلا کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
11 اسلام لانے میں اس کی سرداری رکاوٹ بن گئی :۔ ولید بن مغیرہ خود بڑا سمجھدار اور عربی کلام کے نشیب و فراز سے خوب واقف تھا۔ وہ خود قرآن سے کافی حد تک متاثر ہوچکا تھا۔ اب قریشی سرداروں کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ اگر ان کا رئیس مسلمان ہوگیا تو پھر تو ان کا کہیں بھی ٹھکانہ نہ رہے گا۔ اس کو اپنے سابقہ دین پر برقرار رکھنے کا بیڑا ابو جہل نے اٹھایا۔ (ولید بن مغیرہ کے بعد قریش کی سیادت ابو جہل کے ہاتھ آئی تھی) جب ابو جہل نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ مسلمان ہوگیا تو اس کی سب عزت و جاہ خاک میں مل جائے گی اور اسے قریش کی سیادت سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ تو وہ اسلام لانے سے رک گیا۔ اب ایک اور اہم مسئلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
11۔ (جو خدا کا کلام ہو ہی نہیں سکتا) (آیت) ” سحر یؤثر “۔ ایسا سحر جو اہل بابل وغیرہ سے منقول ہو کر آیا ہے۔ اے یروی ویتعلم من سحرۃ بابل ونحوھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →فقال . یعنی جب یہ الفاظ اس کے دل میں آئے تو فوراً بغیر توقف کے بول اٹھا۔
ان ھذا الا سحر یوثر . یہ صرف منقول جادو ہے جو دوسروں سے منقول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔
پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
انہ فکر و قدر …: کفار کو مشکل یہ درپیش تھی کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی کہتے کوئی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھا، خود ان کے دل اس سے انکار کرتے تھے۔ وہ قرآن کو شعر، کہانت اور جادو کہہ کر اس سے منتفر کرتے تھے، مگر جانتے اور مانتے تھے کہ نہ اس میں شاعروں کے شعر کا مبالغہ یا جھوٹ ہے، نہ کاہنوں کی تک بندی ہے اور نہ جادوگروں کے ٹونے ٹوٹکے۔ اس لئے ان کے بڑے بڑے سرداروں نے جن میں ولید بن مغیرہ بھی شامل تھا، اپنے دماغ کی ساری صلاحیتیں صرف کر کے جو نتیجہ نکالا وہ دو باتوں پر مشتمل تھا، ایک یہ کہ یہ وہی جادو ہے اور جادوگروں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ہر موثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
انہ فکر وقدر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ قول البشر۔
انہ فکر وقدر۔ ولید نے نبی کریم اور قرآن کے متعلق غوروفکر کیا اور اپنے دل میں کلام کو سوچا۔ عرب کہتے ہیں، قدرت الشئی۔ جب تو اسیتیار کرے یہ اس وجہ سے ہوا، جب، حم، تنزیل الکتاب من اللہ العزیز۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیہ المصیر۔ (المومن) تک نازل ہوئی۔ ولید نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا اس نے کہا، اللہ کی قسم، میں نے ان سے ایسی کلام سنی ہے جو نہ انسانوں کی کلام ہے اور نہ ہی جنوں کی کلام ہے۔ اس میں مٹھاس ہے، اس کا ظاہر حسین ہے اس کا اوپر والاحصہ پھل دار ہے اس کا نیچے والا حصہ گہرا ہے اور وہ خود بلند ہے اس پر غلبہ نہیں پایاجاسکتا کوئی انسان ایسی کلام نہیں کرسکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا الا سحر یوثر یہ تو ایک جادو ہے جو چلا آتا ہے یعنی وہ اپنے غیر سے چلا آتا ہے۔
25۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر سے مراد ہے جہنم کا نچلہ طبقہ اس میں آگ ہے اور زقوم کا درخت ہے۔
Read the full tafseer →[فَقَالَ ان هٰذَآ : تب اس نے کہا نہیں ہے یہ ] [اِلَّا سِحْرٌ: مگر ایک ایسا جادو جو ] [يُّؤْثَرُ : نقل کیا جاتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔
ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔
(ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
8:۔ سارھقہ صعودا۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ صعود دوزخ میں آگ کا نہایت ہی بلند پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کے لیے جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی ایک قسم کا نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ” انہ فکر “ یہ اس کی سزا کی علت ہے اس نے قرآن اور پیغمبر کے بارے میں غور و فکر کیا کہ ان کی حقیقت کیا ہے پھر اپنے ذہن میں ایک بات طے کرلی کہ یہ قرآن جادو ہے اور محمد ﷺ جادوگر ہے (العیاذ باللہ) ۔ اس ملعون اور راندہ درگاہ ایزدی نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس کے بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر پیٹھ پھیر کر غرور و نخوت سے چل دیا اور کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو بابل کے جادوگروں سے چلا آرہا ہے…
Read the full tafseer →فَقَالَ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ 24 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
اِنَّـہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ۔ فَـقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ نَظَرَ ۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَـکْبَرَ ۔ فَقَالَ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ یُّـؤْثَرُ ۔ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ ۔ (المدثر : 18 تا 25) (اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔ تو خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ پھر پیٹھ پھیری اور تکبر میں پڑگیا۔ پھر بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو محض انسانی کلام ہے۔ )
معاندین کے عناد کی تصویر
آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔
سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…
Read the full tafseer →24 : فَقَالَ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ یُّوْثَرُ (پھر بولا یہ تو منقول جادو ہے) اِنْ یہاں ماؔ کے معنی میں ہے ای ماھذاؔ۔ یؤثر ؔ وہ جو جادوگروں سے منقول چلا آرہا ہے۔
ولید کا پہلا قول :
روایت میں ہے کہ ولید نے بنی مخزوم کو کہا۔ واللہ لقد سمعت من محمد اٰنفاکلاما ماھومن کلام الانس ولا من کلام الجن ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوہ، وان اعلاہ لمثمر وان سفلہ لمغدق وانہ یعلوو ما یعلی۔ اللہ کی قسم میں نے محمد (ﷺ) سے ابھی ایک ایسا کلام سنا ہے۔ جو نہ انسان کا کلام ہے اور نہ جن کا اس میں عجیب چاشنی اور رونق ہے وہ ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی چوٹی ثمر آفرین اور نچلا حصہ خوشہ دار ہے اور وہ غالب آئے گا مغلوب نہ…
Read the full tafseer →23 ۔” ثم ادبر “ ایمان سے۔ ” واستکبر “ تکبر کیا جب اس کی طرف بلایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ ۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے جادوگروں کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے راہ صواب سے کتنا دور خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کرسکتا ہے کہ سب سے اعلی اور عظیم ترین کلام رب کریم صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرات کرتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15 ۔ عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے اس بدبخت کی عناد کی تصویر پیش فرما دی گئی، روایات میں ہے کہ اس شخص (ولید بن مغیرہ) نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو یہ اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ سنتے ہی کہا کہ اللہ کی قسم یہ کلام نہ کسی انسان کا ہوسکتا ہے، نہ کسی جن کا، اس میں ایک عجیب لذت و شیرینی ہے، اور اس پر ایک عجیب رونق و دلربائی ہے، اس کا ظاہر پھلوں سے لدا ہوا اور اس کا باطن (علوم و معارف) کے فوارے چھوڑنے والا ہے، اس نے بہرحال غالب ہو کر رہنا ہے کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ واللہ لقد سمعت منہ کلاما ماھو من کلام الانس ولا من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔
آیات 1 تا 31۔
اسرار ومعارف۔
سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔
لباس کی پاکیزگی۔
اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 2 یعنی ہرگز خدائی کلام نہیں ہوسکتا جیسا کہ محمد (ﷺ) کا دعویٰ ہے … حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ ولید آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو آپ نے اسے قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایاتو اس کا دل قدرے نرم پڑگیا۔ ابوجہل کو پتہ چلاتو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا چچا ! قریش کے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے لئے مال جمع کریں۔ پوچھا ” کیوں ؟ “ جواب دیا ” اسلئے کہ آپ محمد ﷺ کے پاس جا کر اس کا کلام سن کر آئے ہیں۔ “ ولید بولا ” قریش کے لوگوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجیھ مال کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ “ تو ابوجہل نے کہا کہ کوئی ایسی بات کہو جس سے لوگوں کو پتا چل جائے کہ تو محمد (ﷺ) کے کلام کو…
Read the full tafseer →(74:24) فقال ان ھذا الا سحر یؤثر۔ اور کہنے لگا یہ نہیں ہے مگر جادو جو سینہ بسینہ (پہلے سے) چلا آرہا ہے۔
تعقیب بلا مہلت ہے۔ (من غیر مہلۃ) یعنی اس نے سرداری اور مال کے گرور میں آکر بلا توقف کہہ دیا۔ ان ھذا الا سحر یؤثر۔
الفاء للدلالۃ علی انہ لما خطرت ھذہ الکلمۃ ببالہ تفوہ بھا من غیر تلبث و تفکر (بیضاوی)اس بات سے دلالت کر رہا ہے کہ جب یہ کلمہ اس کے ذہن میں آیا تو اس نے بلا توقف اور تفکرا سے بول دیا۔ ان نافیہ ہے۔ ھذا سے مراد کلام الٰہی ہے (القرآن) ہے۔
یؤثر : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ، اثر (باب نصر) مصدر (وہ نقل کیا جاتا ہے وہ منقول ہے۔ یعنی روایۃ ایک دوسرے سے چلا آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔
المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
[9] روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ کسی قدر متاثر ہوا مگر ابو جہل نے اسے ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ ولید اگر مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو کی۔ کسی نے آپ ﷺ کو شاعر کہا اور کسی نے کاہن بتلایا۔ ولید بولا کہ میں فن شعر میں خود بہت بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں۔ قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا آخر تیری کیا رائے ہے ؟ کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری چڑھا کر اور منہ بنا کر کہا کہ کچھ نہیں بس جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ان آیات میں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ولید بن مغیرہ
1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…
Read the full tafseer →(24) پھر کہنے لگا بس یہ قرآن تو ایک جادو ہے جو اوروں سے منقول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔
ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔
(جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas
The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says:
وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
13 Its one meaning is that there is still no end to his greed. In spite of having all this he still desires that he should be granted every good thing of the world. Another meaning which Hadrat Hasan Basri, and some other scholars have given is:, "He used to say: If what Muhmmad (upon whom be peace) says is really true that there is another life after death, and there will be a Paradise also in it, then that Paradise too has been prepared for me."
Read the full tafseer →