Al-Muddaththir 74:12

Al-Muddaththir · from ayah 12

74:12

وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا ۟ۙوَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا

اور مال کثیر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to whom I granted extensive wealth

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:12

اور مال کثیر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کو مال دیا جو دور تک پھیلا پڑا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے وسیع مال دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں نے اسے بہت وسیع مال مہیا کیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں نے اسے لمبا چوڑا مال عطا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کو بخشا مال فراواں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کو میں نے بہت سارا مال بھی دیا

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسے میں نے بہت سا مال دیا پھیلا ہوا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور مال کثیر دیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

whom I have endowed with abundant riches,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and gave him extensive wealth,

— Muhammad Taqi Usmani

and gave him extensive wealth,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And then granted him resources in abundance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And then bestowed upon him ample means,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to whom I granted extensive wealth

— Saheeh International

and whom I have granted abundant wealth

— Muhammad Sarwar

And give him vast riches,

— Muhammad Habib Shakir

And for whom I appointed wealth extended.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة الْمُدَّثِّر 10 یہ خطاب ہے نبی ﷺ سے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کفار کی اس کانفرنس میں جس شخص (ولید بن مغیرہ) نے تمہیں بدنام کرنے کے لیے یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام عرب سے آنے والے حاجیوں میں تمہیں جادوگر مشہور کیا جائے۔ اس کا معاملہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اس سے نمٹنا اب میرا کام ہے، تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 11 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ کوئی مال اور اولاد وجاہت اور ریاست لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا پیدا کرنے والا اکیلا میں ہی تھا، وہ دوسرے معبود، جن کی خدائی قائم رکھنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَجَعَلْتُ لَہٗ مَالاً مَّمْدُوۡدًا‘۔ یعنی جب وہ دنیا میں آیا تو نہ مال کے ساتھ آیا نہ اولاد کے ساتھ بلکہ اسی طرح بے سر و سامان اور بے خدم و حشم آیا جس طرح دوسرے آتے ہیں۔ یہ اللہ کا اس کے اوپر احسان ہوا کہ اس نے اس کو پھیلا ہوا مال دیا۔ ’پھیلا ہوا مال‘ سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کے باغ ہیں، کہیں اس کے بنگلے اور کوٹھیاں ہیں، کہیں جانوروں کے گلّے اور ریوڑ ہیں، کہیں رقبے، تجارتی آڑھتیں اور دکانیں ہیں۔۔۔ اس زمانے کے سرمایہ دار ہر ملک کے بنکوں میں اپنے حساب کھولتے اور ہر ملک کی کمپنیوں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ان کو بھی اسی ذیل میں شمار کیجیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–12

11۔ 1 یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو ، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

3 یعنی مال واولاد کا پھیلاوا بہت ہوا۔ دسوں بیٹے ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہتے اور محفلوں میں باپ کی توقیر بڑھاتے اور دھاک بٹھلاتے تھے۔ تجارتی کاروبار اور دوسرے کام کاج کے لیے نوکر چاکر بہت تھے۔ ضرورت نہیں تھی کہ بیٹے باپ کی نظر سے غائب ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ وَّجَعَلْتُ لَہٗ مَالًامَّمْدُوْدًا۔ } ”اور اسے میں نے بہت سا مال دیا پھیلا ہوا۔“ ان الفاظ میں اشارہ ہے اس شخص کی ان جائیدادوں کی طرف جو زمینوں ‘ باغوں ‘ گھروں وغیرہ کی صورت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں میں پھیلی ہوئی تھیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

8 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب وہ پیدا ہوا تو بالکل خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کے پاس کوئی مال و دولت، عزوجاہ یا لاؤ لشکر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو اسے بعد میں اس دنیا میں ملا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس شخص کی مخالفت کی آپ مطلق پروا نہ کیجیے اور اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–15

6۔ یعنی ساری موجود نعمتوں کو کفر ان اور بےقدری کی راہ سے حقیر سمجھتا ہے اور ناسپاسی کے باوجود مزید حرص وہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ آیت عام ہے۔ سارے ناشکرے کافروں کے لئے، لیکن تلمیح خاص ہے۔ ولید بن مغیرہ کی طرف، جو اہل مکہ میں ایک بڑاذی اثر شخص اور مال دار اور کثیر العیال تھا۔ (آیت) ” وبنین شھود ا “۔ یعنی یہی نہیں کہ اس کے کئی کئی لڑکے موجود ہیں، بلکہ اس کے سامنے ہی رہتے ہیں، جس سے وہ مزید لطف ومسرت حاصل کرتا ہے اور اس کی نظروں سے غائب نہیں۔ (آیت) ” ومھدت لہ تمھیدا “۔ یعنی جاہ ومال دونوں سے اسے مالا مال کردیا۔ اے اتممت علیہ نعمتی الجاہ والمال واجتماعھما ھو الکمال عند اھل الدنیا (کبیر۔ مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و جعلت لہ مالا ممدودا . ممدود بمعنی وسیع ‘ کثیر۔ یعنی نمو اور ترقی کی وجہ سے اس میں پھیلاؤ ہوگیا ہے جیسے کھیتی ‘ مویشی اور تجارت۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا اس کے پاس ہزار دینار تھے۔ قتادہ نے کہا چار ہزار دینار۔ سفیان نے کہا ہزار در ہزار (دس لاکھ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نو ہزار مثقال چاندی۔ مقاتل نے کہا : طائف میں ولید کا ایک باغ تھا جس کے پھل ختم ہی نہیں ہوتے تھے۔ نہ سردی کے موسم میں ‘ نہ گرمی میں۔ عطاء کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول منقول ہے کہ مکہ اور طائف کے درمیان ولید کے بہت اونٹ ‘ گھوڑے اور بکریاں تھیں۔ بہت چشمے اور باندی غلام بھی اس کی ملکیت میں تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) سو محمد مجھ کو اور اس شخص کو یعنی ولید بن مغیرہ مخزومی کو جس کو میں نے مال و اولاد اور بیوی سے اکیال پیدا کیا رہنے دو۔ اور پھر اس کے بعد اس کو کثرت سے مال دیتا رہا یہاں تک کہ اس کا مال نو ہزار مثقال چاندی ہوگیا اور پاس رہنے والے دس بیٹے دیے اور سب طرح کا سامان و مال اس کے لیے مہیا کردیا۔ شان نزول : ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا (الخ) حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور ولید بن مغیرہ حضور کی خدمت میں آیا اور آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا گویا کہ اس پر قرآن کریم کا اثر ہوا، ابو جہل کو اس چیز کی اطلاع ہوئی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا اے چچا تیری قوم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–14

وجعلت لہ مالا …:”ممدوداً“”مدیمد“ (ن) سے اسم مفعول ہے، پھیلایا ہوا۔ یعنی مال مویشی، کھیت، باغات، ک اور بار اور تجارت وغیرہ ہر قسم کا لمبا چوڑا مال عطا کیا۔”شھوداً“ ”شاھد“ کی جمع ہے، ہر وقت خدمت میں حاضر بیٹے عطا کئے۔ بیٹے اللہ کی نعمت ہیں اور پاس رہ کر سارا کام سنبھال لیں اور خدمت کے لئے مستعد رہیں تو مزید نعمت ہیں۔ ”مھدث“ (تفعیل) بچھانا ، مہیا کرنا۔ یعنی مال و اولاد کے ساتھ جاہ و حشمت اور سرداری کے تمام اسباب اس کے لئے ہموار کردیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وجعلت لہ مالاممدودا۔ میں نے اسے لمباچوڑا مال عطا کیا یہ ولید کا مکہ مکرمہ اور طائف میں مال تھا جس میں اونٹ، گھوڑیاں، جانور، باغات، غلام اور لونڈیاں تھیں، حضرت ابن عباس یہی کہا کرتے تھے مجاہد نے کہا، اس کا نفع ایک ہزار دینار تھا، یہ سعیدبن جبیر اور حضرت ابن عباس کا قول ہے، قتادہ نے کہا، چھ ہزار دینار، سفیان ثوری اور قتادہ نے کہا، چار ہزار دینا، ثوری نے کہا، دس لاکھ دینار، مقاتل نے کہا، اس کا ایک باغ تھا جس کا پھل موسم سرما اور موسم گرما میں ختم نہیں ہوتا تھا، حضرت عمر نے فرمایا، اس سے مراد مہینہ بمہینہ نفع، نعمان بن سالم نے کہا، اس سے مراد ہے ایسی زمین جس میں فصل کاشت کی جاتی، قشیری نے کہا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–16

6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا : اور میں نے بنایا اس کے لیے بڑھایا ہوا مال ] (آیت۔ 12 ۔ 13) جَعَلْتُ کا مفعول مَالًا اور بَیِّنَ ہے۔ شُھُوْدًا کو جَعَلْتُ کا تیسرا مفعول بھی ماناجا سکتا ہے ایسی صورت میں مطلب ہوگا موقع پر حاضر رہنے والے یعنی نوکر چاکر، اور اس کو بَنِیْنَ کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب ) ۔ ہماری رائے ہے کہ چونکہ بَنِیْنَ اور شُھُوْدًا کے درمیان وائو عاطفہ نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ شُھُوْدًا کو بَنِیْنَ حال مانا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

﴿ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًاۙ0011﴾ (مجھے اور اس شخص کو رہنے دیجئے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے) ہم اسے سزا دے دیں گے آپ کو اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اس کے پیدا کرنے میں میرا کوئی شریک نہیں اور جب اسے میں نے پیدا کیا تو وہ بالکل اکیلا تھا مال اور اولاد اس کے پاس کچھ نہیں تھا (علی ان یکون ﴿ وَحِيْدًا﴾۔ حالا من الفاعل او المفعول) اس کافر کے بارے میں دوسری بات یہ بتائی کہ میں نے اسے کثیر مال دیا ہے جو بڑھتا رہتا ہے (قال فی معالم التنزیل ممدودًا ای کثیرًا قیل ھو ما یمد بالنماء کالزرع والضرع والتجارة) اور تیسری بات یہ فرمائی کہ میں نے اس کو بیٹے دیئے ہیں جو اس کے سامنے رہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–16

7:۔ ” وجعلت لہ “۔ ممدود، کثیر۔ شھود، حاضر باش۔ سفر وحضر میں اور تجارت و تصرف میں اس کے ساتھ حاضر رہنے والے یا اپنی وجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے، ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست ووجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے۔ ” ومہدت لہ “ ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست و وجاہت کو خوب وسعت دی۔ ہم نے جب اس کو پیدا کیا تو وہ تنہا تھا ذلیل اور بےمال تھا پھر ہم نے اس کو کثیر دولت عطا کی، اس کو لائق اور قابل اولاد دی۔ لوگوں پر اس کی وجاہت و ریاست کا سکہ بٹھا دیا۔ لیکن اس نے ناشکری کی، اللہ کے شریک بنائے اور اس کے دین سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّجَعَلْتُ لَہٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا۝ 12 ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ وَّجَعَلْتُ لَـہٗ مَالاً مَّمْدُوْدًا۔ وَّبَنِیْنَ شُھُوْدًا۔ وَّمَھَّدْتُّ لَـہٗ تَمْھِیْدً ۔ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۔ (المدثر : 11 تا 15) (چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور اس کو بخشا میں نے مال فراواں۔ اور بیٹے دیئے حاضر رہنے والے۔ اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری۔ پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ) مکہ اور طائف کے متکبرین کو سخت تنبیہ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں مکہ اور طائف کے ان متکبرین کو سخت تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی اور رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظورِنظر ہونے کی دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : وَّجَعَلْتُ لَہٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا (اور اس کو کثرت سے مال دیا) کھلا اور بہت زیادہ۔ نمبر 2۔ ایسا مال جو نشونما سے آئے روز ترقی پذیر ہے۔ اس کے ہاں کھیتی، دودھ والے جانور، تجارت والے جانور سب قسمیں تھیں۔ قول مجاہد (رح) : اس کے پاس ایک لاکھ دینار تھے۔ اور اس کے پاس طائف میں ایسی شاندار زمین تھی جس کی کھیتی منقطع نہ ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” ذرنی ومن خلقت وحیدا “ یعنی میں نے اس کو اس کی ماں کے پیٹ تنہا خالی ہاتھ پیدا کیا نہ اس کے پاس مال تھا نہ اولاد۔ یہ ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کی قوم میں نام وحید لیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–14

10 ۔ مال کی نعمت سے نوازنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور میں نے اس کو بہت سارا مال بھی دیا، کہتے ہیں کہ اس کے باغوں کا سلسلہ مکہ سے طائف تک جا بجا پھیلا ہوا تھا اور وہ سال کے ہر موسم میں پھیل دیتے تھے اور حضرت سفیان ثوری کے قول کے مطابق وہ ایک کروڑ اشرفیوں کا مالک تھا، (روح قرطبی، مراغی، معارف، کبیر، بیضاوی، اور صفوۃ وغیرہ) سو جب وہ اس دنیا میں آیا تھا تو بالکل اکیلا اور خالی ہاتھ آیا تھا، سر سے پیر تک ننگا گوشت کی ایک بوٹی کی طرح تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرما کر اس کو دور دور تک پھیلا ہوا مال دیا، کہیں اس کے ہرے بھرے سرسبز و شاداب ابغات ہیں اور کہیں عالیشان مکان اور عمدہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–15

ف 11 امام حسن بصری کہتے ہیں کہ ولید کہا کرتا تھا اگر محمد (ﷺ) سچا ہے تو جنت مریے لئے بنائی گئی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:12) وجعلت لہ مالا ممدودا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی جعلت کا۔ ممدودا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب، مد (باب نصر) مصدر سے بڑھایا گیا۔ بڑھنے والا مال۔ جیسے کھیتی باڑی۔ تجارت۔ مویشی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اس کو بڑھنے والا مال مہیا کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–26

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–24

ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 11–16

(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔ روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔ (اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔ راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–30

The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

10 The address is directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) and it means: "O Prophet, leave the case of the person (Walid bin al-Mughirah) to Me, who in the disbelievers' conference proposed that you should be branded as a sorcerer among the pilgrims coming from different parts of Arabia; it is now for Me to deal with him; you need not bother yourself about it at all. " 11 This sentence can have two meanings and both are correct: (1) "That when I created him, he was not at that time born with any wealth and children and position of authority and chieftainship; ° and (2) "that I alone…

Read the full tafseer →