Al-Muddaththir 74:11

Al-Muddaththir · from ayah 11

74:11

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا ۟ۙذَرۡنِىۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Leave Me with the one I created alone

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:11

چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس شخص کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (اِنتقام لینے کے لئے) چھوڑ دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مجھے چھوڑ دیجیے اور اسے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا

— مولانا اسحاق مدنی

چھوڑ دیجئے مجھے اور اس کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Leave Me with him whom I alone have created,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Leave me alone (to deal) with the one whom I created lonely,

— Muhammad Taqi Usmani

Leave me alone (to deal) with the one whom I created lonely,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Leave Me (to deal) with him whom I created lonely,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Leave Me with the one I created alone

— Saheeh International

Leave to Me the one, whom I have created all by Myself,

— Muhammad Sarwar

Leave Me and him whom I created alone,

— Muhammad Habib Shakir

Let Me alone with him whom I created lonely.

— Abdul Majid Daryabadi

Leave Me alone, (to deal) with the (creature) whom I created (bare and) alone!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة الْمُدَّثِّر 10 یہ خطاب ہے نبی ﷺ سے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کفار کی اس کانفرنس میں جس شخص (ولید بن مغیرہ) نے تمہیں بدنام کرنے کے لیے یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام عرب سے آنے والے حاجیوں میں تمہیں جادوگر مشہور کیا جائے۔ اس کا معاملہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اس سے نمٹنا اب میرا کام ہے، تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 11 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ کوئی مال اور اولاد وجاہت اور ریاست لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا پیدا کرنے والا اکیلا میں ہی تھا، وہ دوسرے معبود، جن کی خدائی قائم رکھنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

چھٹاحکم وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر، صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مکہ اور طائف کے لیڈروں کو تنبیہ: یہ مکہ اور طائف کے ان برخود غلط لیڈروں کو نہایت تیز و تند لہجہ میں تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی و رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظور نظر ہونے کی دلیل سمجھتے اور یہ توقع رکھتے تھے کہ آخرت ہوئی تو ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں، جیسا کہ ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ بلکہ ان کو یہاں جو کچھ حاصل ہے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ ایسے سرپھروں کا معاملہ تم ہمارے اوپر چھوڑو۔ ہم ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ تم ان کی فکر میں زیادہ پریشانی نہ اٹھاؤ۔ ’ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘۔ یہ وہی اسلوب بیان ہے جو سابق سورہ میں بالکل اسی موقع و محل میں بدیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–12

11۔ 1 یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو ، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا اور جریدہ آتا ہے۔ مال، اولاد، فوج، لشکر، سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، یا " وحید " سے مراد خاص ولید بن مغیرہ ہو جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ہیں۔ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور دنیاوی ثروت و لیاقت کے اعتبار سے عرب میں فرد اور یکتا سمجھا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے منکروں کے معاملہ میں جلدی نہ کیجیے، نہ ان کو مہلت ملنے سے تنگدل ہوں۔ بلکہ ان کا قصہ میرے سپرد کرو۔ میں سب کا بھگتان کر دوں گا۔ آپ کو غمگین و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 1 1{ ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ } ”آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا۔“ ذَرْنِیْکا یہ انداز ہم قبل ازیں سورة ن اور سورة المزمل میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ خَلَقْتُ وَحِیْدًا کا مفہوم یہ ہے کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ تنہا تھا ‘ کوئی مال ‘ اولاد یا جائیداد وغیرہ لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ ان آیات کے بارے میں مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی ہیں۔ اس شخص کی مکہ اور طائف دونوں شہروں میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ اللہ نے اسے بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

8 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب وہ پیدا ہوا تو بالکل خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کے پاس کوئی مال و دولت، عزوجاہ یا لاؤ لشکر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو اسے بعد میں اس دنیا میں ملا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس شخص کی مخالفت کی آپ مطلق پروا نہ کیجیے اور اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (کہ ہم اس سے نپٹ لینے کے لئے کافی ہیں) مراد کافر انسان سے ہے۔ (آیت) ” وحیدا “۔ ظاہر ہے کہ ہر انسان دنیا میں اکیلا ہی آتا ہے، نہ مال اس کے ساتھ ہوتا ہے نہ اولاد۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذرنی ومن خلقت وحیدا . واؤ بمعنی مع ہے یعنی تم اس کی پرواہ نہ کرو۔ مجھے اس کے لیے چھوڑ دو ۔ میں تمہاری طرف سے اس کے لیے کافی ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے تنہا خود بغیر کسی شریک کے اس کو پیدا کیا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس کو اکیلا تنہا پیدا کیا اس وقت نہ اس کے پاس مال تھا نہ اولاد۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس کو شرارت میں یکتا پیدا کیا۔ اوّل صورت میں وَحِیدًا ‘ ذَرْنِی کے مفعول کا حال ہوگا۔ دوسری صورت میں خلقت کے فاعل کا حال ہوگا۔ تیسری اور چوتھی صورت میں خلقت کا مفعول محذوف ہوگا۔ یعنی خلقتہٗ اور اسی مفعول کی ضمیر سے وحیدًا حال ہوگا۔ وحید وہ شخص ہوتا ہے جس کا نسب کسی باپ سے نہ ملتا ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) سو محمد مجھ کو اور اس شخص کو یعنی ولید بن مغیرہ مخزومی کو جس کو میں نے مال و اولاد اور بیوی سے اکیال پیدا کیا رہنے دو۔ اور پھر اس کے بعد اس کو کثرت سے مال دیتا رہا یہاں تک کہ اس کا مال نو ہزار مثقال چاندی ہوگیا اور پاس رہنے والے دس بیٹے دیے اور سب طرح کا سامان و مال اس کے لیے مہیا کردیا۔ شان نزول : ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا (الخ) حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور ولید بن مغیرہ حضور کی خدمت میں آیا اور آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا گویا کہ اس پر قرآن کریم کا اثر ہوا، ابو جہل کو اس چیز کی اطلاع ہوئی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا اے چچا تیری قوم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ذرنی ومن خلقت وحیداً : رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو جھٹلانے میں سب سے پیش پیش مکہ کے بڑے بڑے سردار تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خوش حالی اور دنیوی نعمتیں عطا فرمائی ہوئی تھیں، مگر انہوں نے مال و اولاد ، جاہ و حشمت و اقتدار پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلا دیا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے اس جادو اور انسانی کلام قرار دیا۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں، میں جانوں اور یہ جانیں، ان کا بندوبست میں خود کروں گا۔ ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لی ا ہے، مگر ”من خلقت وحیداً“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ذرنی ومن خلقت۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ صعودا۔ ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ ذرنی یعنی مجھے چھوڑ دو یہ وعید اور دھمکی کا کلمہ ہے یعنی مجھے اور جسے میں نے تنہا پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دے۔ وحیدا اس صورت میں ضمیر محذوف سے حال ہے، جو ضمیر مفعول بہ ہے یعنی میں نے اسے پیدا کیا تو وہ تنہا تھا اس کے پا کوئی مال نہ تھا اور نہ اس کی اولاد تھی اس کے بعد میں نے اسے عطا کیا جو عطا کیا مفسرین کا خیال ہے اس کا مصداق ولیدبن مغیرہ ہے اگرچہ تمام لوگ اس کی مثل پیدا کیے گئے اس کا خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نعمت کی ناشکری اور سول اللہ کو اذیت دینے میں خصوصیت رکھتا تھا اور وہ اپنی قوم میں وحید کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا مجھے اور اس کو چھوڑ دو کہ جس کو میں نے اکیلے پیدا کیا اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ سے اکیلے پیدا کیا نہ اس کا مال تھا اور نہ اولاد تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مال، اولاد اور دولت و ثروت اور بڑھنے والے مال کی صورت میں رزق عطا فرمایا آیت کلا، انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ بےوہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور ان کا انکار کرتا ہے۔ انہ فکر وقدر بیشک اس نے سوچا اور اندازہ لگایا ہم کو ذکر کیا گیا کہ اس نے کہا کہ میں نے اس میں غور وفکر کرتا رہا جو اس آدمی یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذَرْنِيْ : آپ ﷺ چھوڑ دیں مجھ کو ] [وَمَنْ : اور اس کو جس کو ] [خَلَقْتُ وَحِيْدًا : میں نے پیدا کیا تنہا ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 11) ذَرْ فعل امر کا مفعول نِیْ کی ضمیر ہے اور مَنْ خَلْقُتُ کا مفعول مقدم ہے۔ جبکہ وَحِیْدًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس کو خَلَقْتُ کی ضمیر فاعلی کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا کہ میں نے تنہا اس کو پیدا کیا۔ اس کام میں کوئی بھی میرا شریک نہیں اور اس کو مَنْ کا حال مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے دو مطلب ہوں گے۔ ایک یہ کہ ہر انسان (مَنْ واحد۔ جمع۔ مذکر۔ مؤنث سب کے لیے آتا ہے) ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے۔ مال و اولاد اور دیگر سازوسامان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

﴿ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًاۙ0011﴾ (مجھے اور اس شخص کو رہنے دیجئے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے) ہم اسے سزا دے دیں گے آپ کو اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اس کے پیدا کرنے میں میرا کوئی شریک نہیں اور جب اسے میں نے پیدا کیا تو وہ بالکل اکیلا تھا مال اور اولاد اس کے پاس کچھ نہیں تھا (علی ان یکون ﴿ وَحِيْدًا﴾۔ حالا من الفاعل او المفعول) اس کافر کے بارے میں دوسری بات یہ بتائی کہ میں نے اسے کثیر مال دیا ہے جو بڑھتا رہتا ہے (قال فی معالم التنزیل ممدودًا ای کثیرًا قیل ھو ما یمد بالنماء کالزرع والضرع والتجارة) اور تیسری بات یہ فرمائی کہ میں نے اس کو بیٹے دیئے ہیں جو اس کے سامنے رہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” ذرنی ومن خلقت “ یہ زجر ہے۔ ان آیتوں سے ہر کافر، معاند، سرکش اور متکبر مراد ہے۔ یا یہ ولید بن مغیرہ مخزومی کے حق میں ہیں۔ لکن العبرۃ لعموم المعنی لا لخصوص المورد۔ ” وحیدا “ ذرنی میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی مجھے چھوڑ دو میں تنہا ہی اس سے انتقام لے لوں گا۔ یا خلقت کی تا سے حال ہے یعنی میں نے تنہا ہی اس کو پیدا کیا ہے اور میں تنہا ہی بلا مدد غیرے اس کو ہلاک بھی کرلوں گا یا یہ ضمیر منصوب مقدر سے حال ہے جو مَنْ کی طرف عائد ہے ای من خلقتہ وحیدا یعنی میں نے اس کو امل و اولاد سے تنہا پیدا کیا ہے بوقت ولادت اس کے پاس نہ مال تھا نہ اولاد تھی یہ نعمتیں بعد میں میں نے ہی اس کو دیں۔ بعض مفسرین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا۝ 11 ۙ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ وَّجَعَلْتُ لَـہٗ مَالاً مَّمْدُوْدًا۔ وَّبَنِیْنَ شُھُوْدًا۔ وَّمَھَّدْتُّ لَـہٗ تَمْھِیْدً ۔ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۔ (المدثر : 11 تا 15) (چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور اس کو بخشا میں نے مال فراواں۔ اور بیٹے دیئے حاضر رہنے والے۔ اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری۔ پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ) مکہ اور طائف کے متکبرین کو سخت تنبیہ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں مکہ اور طائف کے ان متکبرین کو سخت تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی اور رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظورِنظر ہونے کی دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ولید بن مغیرہ کا حال : 1 1 : ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا (مجھ کو اور اس شخص کو رہنے دو ) یعنی اس کو میرے سپرد کرو مراد اس سے ولید بن المغیرہ ہے۔ اس کا لقب اپنی قوم میں وحید تھا۔ نحو : ومن خلقت یہ معطوف یا مفعول معہ ہے۔ وحیدًا یہ ذرنی کی یاء سے حال ہے۔ ای ذرنی وحدی معہ فانی اکفیک امرہ مجھے اکیلا اس کے ساتھ چھوڑ دو پس میں تمہاری طرف سے اس کے لئے کافی ہوں۔ یا خلقت کی تاء سے حال ہے یا خلقتہٗ وحدی لم یشرکنی فی خلقہ احدٌ میں اکیلے نے اس کو پیدا کیا اس کے پیدا کرنے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ نمبر 3۔ ھاء ؔ محذوفہ سے حال ہے۔ نمبر 4۔ مَنْ سے حال ہے ای خلقتہٗ منفردًا بلا اھل ولا مال ثم انعمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں اللہ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے فرمایا (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا) مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا یعنی میں اسے اکیلا، کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ نے بغیر پیدا کیا، پس میں اس کی پرورش کرتا رہا اور اسے عطا کرتا رہا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 ۔ عیش پرست منکرین کے لئے سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا کہ ایسوں سے میں خود ہی نبھٹ لوں گا اور بالکل صحیح وقت پر، صحیح طریقے سے اور پوری طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نبھڑوں گا۔ لہٰذا آپ ﷺ ایسوں کی فکر نہ کریں، جمہور علماء و مسرین کرام کے نزدیک یہ آیات کریمہ ولید بن مغیرہ المخزومی کے بارے میں نازل ہوئیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا، مگر اس نے دوسرے تنگ ظرف اور ناشکرے و بےانصاف لوگوں کی طرح اپنے خالق ومالک کا شکر گزار بننے کی بجائے کفر و ناشکری کی راہ کو اپنایا اور اس طرح اس نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–11

ف 10 یعنی ننگ دھڑنگ خالی ہاتھ جو دنیا میں آیا تو نہ اس کے پاس مال تھا اور نہ اولاد۔ مفرسین کہتے ہیں کہ یہ سخت وعید ہے جو قریش کے سردار ولید بن مغیرہ کو سنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:11) ذرنی ومن خلقت وحیدا : ذر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع، فتح) مصدر سے۔ بمعنی مع ہے۔ من موصولہ ہے اور خلقت صلہ ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ تو مجھے اور (بمعہ اس کے) جس کو میں نے پیدا کیا (اپنے اپنے حال پر) چھوڑ دے میں خود ہی اس سے نپٹ لوں گا۔ وحیدا۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ذرنی کے مفعول سے حال ہے، مجھے اس کے لئے چھور دو ۔ میں تمہاری طرف سے اس کے لئے کافی ہوں۔ (2) یہ خلقت کے فاعل سے حال ہے۔ میں نے تنہا خود بغیر کسی شریک کے پیدا کیا اس کو ۔ (3) خلقت کا مفعول محذوف ہے ای خلقتہ اور وحیدا اس مفعول کی ضمیر سے حال ہے۔ میں نے شرارت میں اس کو یکتا پیدا کیا (4) وحید وہ شخص ہوتا ہے جس کا نسب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–26

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[6] یعنی ہم اس سے نپٹنے کے لئے کافی ہیں۔ [7] یعنی بغیر مال و اولاد کے اور مراد اس سے ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی اور جو عرب کا سردار مانا جاتا تھا اور خود اپنے آپ کو بطور فخروتکبر وحید ابن الوحید (یعنی یکتا کا بیٹا یکتا) کہا کرتا تھا کہ قوم میں نہ میری کوئی نظیر ہے نہ میرے باپ مغیرہ کی مگر اس ظالم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور قرآن کو کلام الٰہی یقین کرلینے کے باوجود اس نے جھوٹی بات بنائی اور قرآن کو سحر اور رسول اللہ ﷺ کو ساحر کہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) مجھ کو اور اس شخص کو اپنے حال پر چھوڑدیجئے جس کو میں نے اکیلا اور تنہا پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 11–16

(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔ روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔ (اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔ راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

Injunction [ 6] وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ( and for the sake of your Lord, observe patience 74:7) The word sabr literally signifies 'to restrain oneself. In the Qur'anic context, the word has a very wide scope. It signifies to bind oneself to the laws of Allah, to restrain oneself from things made unlawful by Allah, and to control oneself, as far as possible, from unnecessary bewailing and complaining in times of difficulties and hardships. Thus this injunction is rather comprehensive which embraces almost the entire religion. On this occasion, the Holy Prophet is directed to observe patience,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

10 The address is directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) and it means: "O Prophet, leave the case of the person (Walid bin al-Mughirah) to Me, who in the disbelievers' conference proposed that you should be branded as a sorcerer among the pilgrims coming from different parts of Arabia; it is now for Me to deal with him; you need not bother yourself about it at all. " 11 This sentence can have two meanings and both are correct: (1) "That when I created him, he was not at that time born with any wealth and children and position of authority and chieftainship; ° and (2) "that I alone…

Read the full tafseer →