كَلَّا ؕ— اِنَّهَا لَظٰی ۟ۙكَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! Indeed, it is the Flame [of Hell],
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
كَلَّا ؕ— اِنَّهَا لَظٰی ۟ۙكَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! Indeed, it is the Flame [of Hell],
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا۔ وہ تو ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
ایسا ہرگز نہ ہوگا، بے شک وہ شعلہ زن آگ ہے،
ہرگز نہیں ! یقینا وہ (جہنم) ایک شعلہ مارنے والی آگ ہے۔
ہر گز ایسا نہیں ہوگا وہ آگ ہوگی
ہر گز نہیں ! وہ ایسی آگ ہوگی جس کی لپٹ چمڑی ادھیڑ لے گی۔
ہرگز نہیں وہ تو شعلہ مارتی ہوئی ایک (ہولناک) آگ ہوگی
یہ ہرگز نہ ہوگا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے
ہرگز نہیں ! اب تو یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے۔
لیکن ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
By no means! It will be the fierce flame
By no means! It is the flaming fire
By no means! It is the flaming fire
By no means! Verily, it will be the fire of Hell,
But nay! for lo! it is the fire of hell
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! Indeed, it is the Flame [of Hell],
By no means! For the raging flames of the fire
By no means! Surely it is a flaming fire
By no means! Verily it is a Flame.
By no means! for it would be the Fire of Hell!-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
سورة الْمَعَارِج 11 یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس لیے نہ پوچھیں گے نہیں، ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
كَلَّا ۭ اِنَّهَا لَظٰى 15 ۙنَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى، انا کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اور نطی کے معنے خالص شعلہ بغیر آمیزش کے اور شوی شواة کی جمع ہے جس کے معنی سر کی کھال کے بھی ہیں اور ہاتھوں پاؤں کی کھال کے بھی، یعنی جہنم کی آگ ایک سخت بھڑکنے والا شعلہ ہوگا جو دماغ کی یا ہاتھوں پاؤں کی کھال اتار دے گا۔ ښتَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلی، ۙوَجَمَعَ فَاَوْعٰى خود بلائے گی یہ آگ اس شخص کو جس نے حق سے پیٹھ موڑی اور رخ پھیرا اور مال جمع کیا پھر اس کو روک کر رکھا۔ مراد جمع کرنے سے وہ ہے کہ خلاف شرع ناجائز طریقوں سے جمع کرے اور روکنے سے مراد یہ ہے کہ مال پر عائد ہونے والے فرائض و واجبات ادا نہ کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اس دن کسی کے لیے کوئی مفر نہ ہو گا: یعنی اس عذاب سے بچنے کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اس کے شعلے دور ہی سے مجرم کی چمڑی ادھیڑ لیں گے۔ ’کَلَّا‘ ان مجرموں کی تمنا کی تردید کے لیے ہے جو مذکور ہوئی۔ یعنی ان کی عذاب سے بچنے کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہو گی۔ ’اِنَّہَا لَظٰی‘۔ ’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جو مذکور ہوا۔ اس سے مراد چونکہ عذاب نار ہے اس وجہ سے ضمیر مؤنث آئی۔ ’لَظٰی‘ کے معنی شعلے کے ہیں۔ ’شوی‘ سر اور اطراف بدن کی کھال کے لیے آتا ہے۔ یعنی اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہو گی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔ ’نَزَّاعَۃً‘ کو خبر کے بعد دوسری خبر بھی مان سکتے ہیں اور حال…
Read the full tafseer →15۔ 1 یعنی وہ جہنم، یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
کلا انھا .................... فاوعی (81) (07 : 51 تا 81) ” ہرگز نہیں ، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ ایک منظر ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں جبکہ اس منظر سے قبل رنج والم کی وجہ سے یہ مدہوش تھا۔ کلا ، یہ نہایت سختی سے تردید اور جھڑکی کا لفظ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ باطل خواہشات ہیں کہ کوئی بیٹوں ، بیوی ، خاوند ، بھائی ، بہن اور خاندان اور روئے زمین کی جائیداد کا فدیہ دے سکے گا ، ہر گز نہیں۔ انھا لظی (07 : 61) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 یعنی چاہے گا کہ بس چلے تو سارے کٹم بلکہ ساری دنیا کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچا لے۔ مگر یہ ممکن نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 15{ کَلَّاط اِنَّہَا لَظٰی۔ } ”ہرگز نہیں ! اب تو یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے۔“ آج تم سے نہ تو کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ اور نہ ہی کوئی تمہاری مدد کو آئے گا۔ آج جہنم کی اس شعلہ فشاں آگ کا سامنا تمہیں خود ہی کرنا ہوگا۔ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : { وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ } ”اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اس کے پاس اکیلے اکیلے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9 اس دنیا میں یہ کیفیت دیکھی جاسکتی ہے کہ بسا اوقات باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، خاوند بیوی پر، بیوی خاوند پر، ماں بیٹے پر، بیٹا ماں پر، دوست دوست پر فدا ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ایسی مثالیں کم ہیں تاہم مل ضرور جاتی ہیں۔ مگر اس دن یہ حال ہوگا کہ مجرم یہ سوچے گا کہ ماں، باپ اور اولاد تو درکنار میری طرف سے ساری دنیا جہنم میں جاتی ہے تو جائے میری بلا سے بس ایک میں جہنم کے عذاب سے بچ جاؤں۔ لیکن اس کی یہ آرزو کبھی پوری نہ ہوسکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
8۔ (دوسروں کا حق کاٹ کاٹ کر) (آیت) ” کلا ..... للشوی “۔ ذکر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کا ہے کہ وہ کسی کی رورعایت کرنا کیا جانے۔ اور اس کے سامنے ذکر عوض وفدیہ کا کیسا ! (آیت) ” اوعی “۔ کنایہ ہے کمال بخل سے۔ یہ ضرور نہیں کہ کوئی شخص واقعۃ اپنے نقد ومال کو اٹھا اٹھا کر الماریوں اور تجوریوں کے اندر سمیٹ کر رکھے۔ (آیت) ” من ادبر وتولی “۔ یعنی جب دنیا میں ایمان وطاعت کی طرف بلائے جاتے تھے تو بلانے والے کی طرف سے اور اعراض ونفرت کرتے ہوئے بھاگتے تھے۔ مطلب دونوں آیتوں کو ملا کر یہ ہوا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کو کافر نے دنیا میں ضائع کیا، اور اس سے فساد عقائد اور فساد اخلاق دونوں کی جانب اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →کلا کا لفظ مشرک کو تمنا سے روک دینے کے لیے آیا ہے۔ انھا لظی . انھا میں ضمیر قصہ ہے یا اس نار کی طرف راجع ہے جو معنیً لفظ عذاب سے معلوم ہو رہی ہے یا ضمیر مبہم ہے جسکی تفسیر لفظ لظٰی (خاص بھڑک) سے کی۔ بغوی نے کہا : جہنم کے دوسرے درجہ کا نام لظٰیہے کیونکہ اس میں خالص التہاب اور بھڑک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
(14۔ 21) اور تمام اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دے پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عذاب سے بچا لے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے مطلقا نہیں بچائے گا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کہ ہاتھ پیروں اور تمام بدن کی کھال تک اتار دے گی اور یا یہ کہ اس کے بدن کو جھلس دے گی۔ لظی دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ شخص کو خوب بلائے گی جس نے توحید سے پشت پھیری ہوگی اور ایمان سے بےرخی کی ہوگی اور کفر سے توبہ نہ کی ہوگی اور دنیا میں مال جمع کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کر کے اس کو محفوظ کر کے رکھا ہوگا۔ کافر کم ہمت بخیل لالچی پیدا ہوا ہے جب اس کو فاقہ و تنگی پیش آتی ہے اور صبر نہیں…
Read the full tafseer →کلا انھا لظی :”کلا“ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ اپنے فدیے میں کسی اور کو عذاب کے حوالے کر کے بچ جائے، بلکہ وہ جہنم ایک شعلے مارنے والی آگ ہے۔”لظی“ ”لظی یلظی لظی“ (ع) آگ کا بھڑکنا، شعلے مارنا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
کلا کلا کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ یہ حقا کے معنی میں ہوتا ہے اور لا کیم عنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ دونوں امور کا احتمال رکھتا ہے۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہے تو کلام ینجیہ پر مکمل ہوگی اور جب یہ لا کے منی میں ہے تو کلام اسی پر مکمل ہوگی، یعنی فدیہ دینا اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں دے گا، پھر فرمایا : انھالطی۔ یعنی یہ جہنم ہے جس کی آگ بھڑک رہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فانذرتکم ناراتالظی۔ (اللیل) لظی یہ تلظی سے مشتق ہے اور التظاء النار سے مراد آگ کا بھڑکنا ہے اور تلظیھا سے مراد بھی اس کا بھڑکنا ہے۔ اس کی اصل لفظ ہے یعنی عذبا کے دائمی ہنے کی وجہ سے دائمی ہوگی اس کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
8۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا کنبہ 9۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ التی تو ویہ اور اپنے اس کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا یعنی وہ اس کا قبیلہ کہ جس کی طرف وہ منسوب کیا جاتا تھا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہ الہ سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا قبیلہ آیت نزاعۃ الشوی۔ کھالوں کو اتارنے والی یعنی وہ آگ سب کی جلد کو نوچ لے گی۔ آیت تدعو من ادبر وتولی۔ اس کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا یعنی حق سے آیت وجمع فاوعی اور مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا یعنی مال جمع کرتا رہاہ
Read the full tafseer →[كَلَّا ۭ: ہرگز نہیں ][ اِنَّهَا لَظٰى: بیشک یہ آگ کی تپش ہے ] ل ظ ک [ لَظًی : (س) آگ کا بھڑکنا۔] لَظٰی آگ کا شعلہ جہنم کا اسم علم بھی ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔] [ تَلَظُّیًا : (تفعل) غصّہ سے جل اٹھنا۔ فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی (تو میں نے خبردار کردیا تم لوگوں ایک ایسی آگ جو غصّہ سے جل اٹھے گی) 92:14 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
اسی کو فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (ہرگز ! ایسا نہ ہوگا) کہ کوئی شخص اپنی جان کا بدلہ دے کر چھوٹ جائے۔ ﴿اِنَّهَا لَظٰىۙ0015 نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ0016﴾ (بلاشبہ وہ دوزخ سخت گرم چیز ہے جو سر کی کھال اتار دینے والی ہے) جب دوزخ کی آگ جلائے گی تو سر کی چمڑی اتر کر علیحد ہوجائے گی۔ ﴿ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ0017﴾ (دوزخ اس کو پکارے گی جس نے دنیا میں پشت پھیری اور بےرخی کی اور مال جمع کیا اور پھر اس کی حفاظت کرتا رہا) ۔ ﴿يَوَدُّ الْمُجْرِمُ ﴾ سے یہاں تک کافر کا حال بیان ہوا ہے۔ پہلے تو یہ بتایا کہ کافر مجرم عذاب سے بچنے کے لیے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اور کنبہ قبیلہ کو اور جتنے بھی اہل زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…
Read the full tafseer →كَلَّا 0 ۭ اِنَّہَا لَظٰى 15 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَہُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلاَّ ط اِنَّھَا لَظٰی۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ (المعارج : 10 تا 16) (اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو۔ اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →15 : کَلَّا (یہ ہرگز نہ ہوگا) اس میں مجرم کو اس کی خواہش پر ڈانٹ پلائی گئی۔ اور اس پر متنبہ کیا کہ اس کو فدیہ فائدہ نہ دے گا۔ اور نہ ہی عذاب سے بچائے گا۔ اِنَّھَا (وہ آگ) نحو : عذاب کا تذکرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ضمیرمبہم ہے۔ جس کی ترجمانی خبر کر رہی ہے۔ نمبر 3۔ ہاء یہ ضمیر قصہ ہے۔ لَظٰی (شعلہ زن ہے) یہ آگ کا نام ہے۔
Read the full tafseer →14 ۔” ومن فی الارض جمیعا “ دل سے چاہے گا کہ ان سب کے ذریعے اپنا فدیہ دے۔ ” ثم ینجیہ “ یہ فدیہ دینا اللہ کے عذاب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(کلا) ۔ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہوچکا، رشتے داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جاچکا۔ (انھالظی۔ نزاعۃ للشوی) ۔ وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی، یعنی ظاہری و باطنی اعضا کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
11 اپنے بدلے میں سب کو دے دینے کی خواہش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجرم انسان اس روز چاہے گا کہ اپنی جان بخشی کے عوض اپنے بیٹوں کو بھی دے دے ‘ اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی " اور اپنے اس کنبے اور خاندان کو بھی جو اس کو پناہ دیا کرتا تھا۔ اور حق و ناحق اس کا ساتھ دیا کرتا تھا اور ان کی پشت پناہی پر یہ شخص بڑا مست اور مگن رہا کرتا تھا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا ‘ سو اس سے اس دن کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ‘ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ یہ چاہے گا کہ ساری مخلوق اس کے بدلے میں لگ جائے جو پوری روئے زمین پر پائی جاتی ہے تاکہ اس طرح وہ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچ جائے۔ سو نفسا نفسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
ف 5 مصیبت یعنی محتاجی اور بیماری وغیرہ
Read the full tafseer →(70:15) کلا : جمہور کے نزدیک یہ حرف بسیط ہے۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ ک تشبیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے حالت ترکیب میں ک اور ل کے انفرادی معنی باقی نہ رہے اس لئے لام کو مشدد کیا گیا۔ کلا۔ یعنی مذکورہ بالا تمام چیزوں کو اپنے عوض میں دے کر عذاب سے بچ جائے گا۔ یہ ہرگز نہ ہوگا۔ سیبویہ، خلیل ، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی صرف ردع اور روکنے کے ہیں۔ (خواہ بطور زجر و توبیخ کے ہو یا بطور ترتیب اور ادب آموزی کے) اس لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے ہر جگہ کلا پر وقف کرنا جائز ہے۔ اور بعد کو اؤنے والا کلام نئے سرے سے شروع ہوتا ہے بعض لوگ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(15) یہ ہرگز نہیں ہوگا یعنی عذاب سے نجات نہیں ملیگی وہ آگ ایک دہکتی ہوئی اور خالص شعلہ ماری ہوئی ایک ایسی آگ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 6۔ یعنی اس روز ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑجاوے گی، اور جن پر جان دیتا تھا ان کو اپنے عوض میں سپرد کردینے کو اگر اس کے قابو کی بات ہو گوارا کرلے گا۔
Read the full tafseer →ہرگز ایسا نہیں وہ تو بس بھڑکتی ہوئی آگ ہے 15 ؎ اب زیر نظر آیت سے اس بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی سختیاں اس کو بتائی جا رہی ہیں جس عذاب کے معاملہ میں وہ اس قدر سستی سے کام لے رہا ہے اور اس وقت جب اس عذاب سے بچنے کی تدبیریں موجود ہیں غفلت میں مبتلا ہو کر اس کی ذرا پروا نہیں کر رہا ہے اور پھر جب وہ وقت نکل جائے گا تو حسرت و افسوس سے کف افسوس ملے گا بلکہ اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹنے کی کوشش بھی کرے گا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : (و یوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلتینی اتخذت مع الرسول سبیلا ) (25 : 27) کہ ” اس روز ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کہ اے افسوس مجھ کو کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
كَلَّا ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ (By no means! It is the flaming fire, that will pull out the skin of the scalp...70:15, 16). The pronoun of innaha (it) refers to 'Fire' and the word laza means 'the flaming fire'. The word shawa is the plural of shawah and it refers to 'the scalp or the skin of the human head, and also the skin of the hands and the legs'. The verse describes that the Fire of Hell would be a raging blaze that will pull out the skin of the scalp.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11 Not so that they will not see each other, therefore they will not ask after each other's welfare, but each will be seeing the other in agony and distress, yet will ignore him, being wholly preoccupied with his own torment.
Read the full tafseer →