وَفَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ ۟ۙوَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِىۡ تُـئْوِيۡهِۙ
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And his nearest kindred who shelter him
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَفَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ ۟ۙوَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِىۡ تُـئْوِيۡهِۙ
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And his nearest kindred who shelter him
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا
اور اپنا وہ خاندان جو اسے پناہ دیتا تھا۔
اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
اور اپنا (تمام) خاندان جو اُسے پناہ دیتا تھا،
اور اپنے خاندان کو، جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔
اور اپنے ان کنبہ والوں کو جو اسے پناہ دیا کرتے تھے
اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ رہا ہے
اور اپنے اس پورے کنبے کو بھی جو کہ اس کو پناہ دیا کرتا تھا
اور اپنے کنبہ کو جس میں وہ بسر کرتا ہے
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
and his kinsfolk who had stood by him,
and his kindred that sheltered him,
and his kindred that sheltered him,
And his Fasilah who sheltered him,
And his kin that harboured him
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And his nearest kindred who shelter him
his kinsmen who gave him refuge (from hardship)
And the nearest of his kinsfolk who gave him shelter,
And his kin that sheltered him.
His kindred who sheltered him,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
سورة الْمَعَارِج 11 یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس لیے نہ پوچھیں گے نہیں، ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا ښ يُّبَصَّرُوْنَهُم حمیم کے معنی گہرے اور مخلص دوست کے ہیں قیامت کی شدت کا بیان ہے کہ اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا، مدد کرنا تو درکنار، آگے یہ بھی بتلادیا کہ یہ نہ پوچھنا اس لئے نہیں کہ وہ دوست سامنے نہیں ہوگا بلکہ قدرت الٰہیہ ان سب کو ایک دوسرے کے سامنے بھی کر دے گی، مگر ہر شخص نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا کوئی کسنی دوسرے کی تکلیف و راحت کی طرف التفات نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش!…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 یعنی چاہے گا کہ بس چلے تو سارے کٹم بلکہ ساری دنیا کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچا لے۔ مگر یہ ممکن نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
آیات 1 1 تا 14{ یُّــبَصَّرُوْنَہُمْ ط } ”وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔“ وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہر شخص کو اس کے دوست احباب ‘ والدین ‘ بیوی بچے غرض اس کے سب پیارے دکھا بھی دیے جائیں گے تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ { یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَـوْ یَـفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ - وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـئْوِیْہِ - وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ } ”اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘ اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا ‘ اور روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
8 دکھائے اس لیے جائیں گے کہ بھلا آج بھی وہ ایک دوسرے کو اپنی ہمدردیاں جتاتے ہیں یا نہیں ؟ جیسا کہ دنیا میں جتایا کرتے تھے۔ مگر اس دن یہ دوست ایک دوسرے سے بات تک کرنے کے روا دار نہ ہونگے۔ ہر ایک کو اپنی ہی فکر دامنگیر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
7۔ (آیت) ” المجرم “۔ مجرم سے مراد کافر ہے۔ اے المشرک (معالم۔ مدارک) المجرم ھو الکافر (کبیر) کافروں کی حالت اس روز یہ ہوگی کہ دنیا میں جس جس پر جان فدا کرتے تھے، ان تک کو اپنی جان بچانے کے لئے عذاب الہی کے حوالے کرتے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →فضیلۃ وہ قبیلہ جس کا ایک جزء منفصل آدمی خود ہوتا ہے۔ التی ترویہ سے یہ مراد ہے کہ وہ قبیلہ جو مصائب کے وقت پناہ دیتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اور اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا باوجوی کہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے مگر اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے۔ کافر یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی یا نضر بن حارث اور اس کے ساتھ اس بات کی تمنا کریں گے کہ قیامت کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور بیوی کو اور بھائی کو اور کنبہ کو جن میں وہ رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولایسئل حمیم حمیاً…: کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لئے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہوگا، بلکہ ”یبضرونھم“ ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو پانی جان بچانے کے لئے عذاب الٰہی کے حاولے کردینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیا جو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھئای، خاندان اور سورة عبس (34 تا 36) میں اس کا الٹ ہے۔ ”فصیلتہ“ خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
یبصرونھم وہ انہیں دکھائی دیں گے قیامت میں کوئی مخلوق نہیں ہوگی مگر وہ اپنے ساتھی کے سامنے ہوگی (1) وہ جن ہو یا انسان ہو۔ انسا نپانے باپ، اپنے بھائی، اپنے قریبی رشتہ دار اور اپنے قبیلہ کو دیکھے گا، وہ اس کا حال نہیں پوچھے گا اور نہ اس سے بات کرے گا کیونکہ وہ اپنی ہی پریشانیوں میں مگن ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ایک گھڑی کے لئے ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے (2) وہ اس گھڑی کے بعد ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے : لوگ اپنی جان پہچان والے لوگوں سے بھاگیں گے کیونکہ انہیں خوف ہوگا کہ جو زیادتیاں انہوں نے کی ہیں ان کے بارے میں ان سے مطالبہ ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر یبصرنھم کی ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
8۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا کنبہ 9۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ التی تو ویہ اور اپنے اس کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا یعنی وہ اس کا قبیلہ کہ جس کی طرف وہ منسوب کیا جاتا تھا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہ الہ سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا قبیلہ آیت نزاعۃ الشوی۔ کھالوں کو اتارنے والی یعنی وہ آگ سب کی جلد کو نوچ لے گی۔ آیت تدعو من ادبر وتولی۔ اس کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا یعنی حق سے آیت وجمع فاوعی اور مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا یعنی مال جمع کرتا رہاہ
Read the full tafseer →[وَفَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ : اور اپنے اس کنبے کو جو ][ تُـــــْٔوِيْهِ : ٹھکانہ دیتا تھا اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
﴿ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِيْهِۙ0011 وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِيْهِۙ0012 وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِۙ0013 وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا 1ۙ ثُمَّ يُنْجِيْهِۙ0014﴾ (مجرم شخص آرزو کرے گا کاش اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے کنبہ کو جو اسے ٹھکانہ دیتا تھا اور تمام اہل زمین کو اپنی جان کے بدلہ میں دے کر عذاب سے چھٹکارا پالے) مطلب یہ ہے کہ اس دن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ انسان دنیا میں جن لوگوں پر جان دیتا تھا ان کو اپنی جان کے عوض عذاب میں ڈال کر اپنی جان بچانے کی تمنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →وَفَصِيْلَتِہِ الَّتِيْ تُـــــْٔـوِيْہِ 13 ۙ فَصِيلَةُ الرّجل : عشیرته الْمُنْفَصِلَةُ عنه، قال : وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ [ المعارج/ 13] ، والفِصالُ : التّفریق بين الصّبيّ والرّضاع، قال : فَإِنْ أَرادا فِصالًا عَنْ تَراضٍ مِنْهُما [ البقرة/ 233] ، وَفِصالُهُ فِي عامَيْنِ [ لقمان/ 14] ، ومنه : الفَصِيلُ ، لکن اختصّ بالحُوَارِ ، والمُفَصَّلُ من القرآن، السّبع الأخير وذلک للفصل بين القصص بالسّور القصار، والفَوَاصِلُ : أواخر الآي، وفَوَاصِلُ القلادة : شذر يفصل به بينها، وقیل : الفَصِيلُ : حائط دون سور المدینة وفي الحدیث : «من أنفق نفقة فَاصِلَةً فله من الأجر کذا» أي : نفقة تَفْصِلُ بين…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَہُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلاَّ ط اِنَّھَا لَظٰی۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ (المعارج : 10 تا 16) (اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو۔ اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →13 : وَفَصِیْلَتِہِ (اور اپنا قریبی خاندان) الَّتِیْ تُئْوِیْہِ (جن میں وہ رہتا ہے) بالآخر جو اس کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے۔ قراءت : یزید نے اس کو بغیر ہمزہ تُوِیْہِ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” وصاحبتہ “ اس کی بیوی ” واخیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(واخیہ۔ وفصیلۃ) اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان۔ یعنی اپنی قرابت (التی تو یہ) ۔ جس میں وہ رہتا تھا۔ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں پس قیامت کے دن کوئی کسی کے کام آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کرسکے گا بلکہ اگر عذاب کا مستحق، جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیہ میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →10 مجرم شخص کی اس روز کی خواہش اور تمنا کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجرم شخص اس دن چاہے گا کہ اپنے بدلے میں اپنے بیٹوں کو بھی دے دے۔ جن پر اس کو دنیا میں بڑا ناز ہوا کرتا تھا اور ان کیلئے وہ ہر طرح کے پاپڑ بیلا کرتا تھا ‘ مگر اس روز وہ چاہے گا کہ میرے بدلے میں ان سب کو لے لیا جائے ‘ اور میری جان بخشی ہوجائے ‘ اور اس طرح وہ اپنی بیوی اور اپنے بھائیوں کو بھی اپنے بدلے میں دینے کو تیار ہوجائے گا تاکہ اس طرح وہ اس دن کے عذاب سے بچ سکے۔ سو اس سے یوم عظیم کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے یہ سب رشتے ناطے جن پر آج دنیا میں یہ ایسا مست و مگن ہے کہ حق بات سننے ماننے کو بھی تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
ف 5 مصیبت یعنی محتاجی اور بیماری وغیرہ
Read the full tafseer →(70:13) وفصیلتہ التی تؤیہ۔ اس کا عطف بھی ببینہ پر ہے اور (کہ وہ بچ جائے اس دن کے عذاب سے) اپنے خاندان کو فدیہ میں دے کر جو خاندان اسے (مشکل میں) پناہ دیتا تھا۔ فصیلتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایک جدی گھرانہ۔ ایک دادا کی اولاد۔ تؤیہ : تؤی۔ مضارع واحد مؤنث غائب ایواء (افعال) مصدر اوی مادہ بمعنی ٹھکانا دینا۔ جگہ دینا۔ پناہ دینا۔ اسی مادہ سے (باب ضرب) سے اوی ، یاوی، اوی و ماوی بمعنی کسی جگہ پر نزول کرنا یا پناہ حاصل کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(13) اور اپنے کنبے والوں کو جن میں وہ رہتا سہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 5۔ یعنی ایک دوسرے کو دیکھیں گے مگر کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →اور اپنے خاندان کو بھی جن میں وہ دن رات رہتا تھا 13 ؎ (فصیلتہ) فصیلہ حالت جرہ ضمیر مضاف الیہ۔ مرد کے اقارب اور اعزہ (منتہی المحارب) قبیلہ کے لوگ (محلی) ماں ، باپ ، اولاد سب کے سب ایک دوسرے سے جدا جدا ہوتے ہیں اگرچہ اولاد ان سے پیدا ہوتی ہے تاہم بحیثیت جسم و جان الگ ہوتی ہے اور والدین اولاد کو قطع کر کے جدا جدا ہوجاتے ہیں۔ (کبیر) انسان کے اپنے جسم کے اندر جو جوڑ اور بند ہیں ان کو مقاصل کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو جدا کرتا ہے۔ (تو یہ) وہ جگہ دیتی ہے۔ وہ خودکشی کرتی ہے۔ وہ ٹھکانا دیتی ہے۔ توی ایواء سے مضارع کا صیغہ ، واحد مؤنث غائب ، ضمیر واحد مذکر غائب۔ مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ (and no friend will ask about any friend, (though) they will be made to see each other....70:10, 11). The word hamim means a 'sincere friend'. The context describes the horrors of the Day of Resurrection. On that Day, no bosom friend will inquire about his friend - let alone helping him. This is not because they will not be able to see each other. The Divine power, in fact, will make them see each other. Every person will be in a state of 'each for himself. No person will be able to pay heed to the comfort or discomfort, pleasure or pain of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11 Not so that they will not see each other, therefore they will not ask after each other's welfare, but each will be seeing the other in agony and distress, yet will ignore him, being wholly preoccupied with his own torment.
Read the full tafseer →