Explained with ayahs 148–149
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا
حضرت موسیٰ ؑ تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو حضرت جبرائیل ؑ کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہوگیا اور چونکہ کھو کھلا تھا اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کردی بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر حضرت موسیٰ کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
سورة الْاَعْرَاف 108
یہاں قرآن مجید نے ایک بہت بڑے الزام سے حضرت ہارون کی براءت ثابت کی ہے جو یہودیوں نے زبردستی ان پر چسپاں کر رکھا تھا۔ بائیبل میں بچھڑے کی پرستش کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کو پہاڑ سے آنے میں دیر لگی تو بنی اسرائیل نے بےصبر ہو کر حضرت ہارون سے کہا کہ ہمارے لیے ایک معبود بنادو، حضرت ہارون نے ان کی فرمائش کے مطابق سونے کا ایک بچھڑا بنادیا جسے دیکھتے ہی بنی اسرائیل پکار اٹھے کہ اے اسرائیل، یہی تیرا وہ خدا ہے جو تجھے ملک مصر سے نکال کر لایا ہے۔ پھر حضرت ہارون نے اس کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور اعلان کر کے دوسرے روز تمام بنی اسرائیل کو جمع کیا اور اس کے…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی تنبیہ کے بعد بنی اسرائیل نادم ہو کر توبہ کرنے کا ذکر ہے، اس میں سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ کے معنی عربی محاورہ کے موافق نادم و شرمندہ ہونے کے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔
سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ ، عربی زبان کا محاورہ ہے جس کے معنی عام طور پر نادم اور خجل ہونے کے کیے گئے ہیں لیکن ندامت و خجالت کا لازم چونکہ غلطی پر متنبہ ہونا بھی ہے اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ متنبہ ہونا کیا جائے تو میرے نزدیک غلط نہ ہوگا۔ اس محاورے کی اصل کیا ہے ؟ اس بارے میں اہل لغت کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف قدرتی نتیجہ ہے اس بات کا کہ ہر محاورے کی اصل کی تحقیق ہے بڑا مشکل کام۔ مجھے کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ کس چیز کا ہاتھ میں…
Read the full tafseer →149۔ 1 سقط فی أیدھم۔ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں۔ یہ ندامت موسیٰ ؑ کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر لعنت ملامت کی۔ جیسا کہ سورة طٰہ ٰمیں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لئے کردیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہوجائے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
69: اس بچھڑے کا مختصر ذکر سورة بقرہ (51:2) میں بھی گذرا ہے اور اس کا مفصل واقعہ سورة طہ (88:20) میں آنے والا ہے کہ کس طرھ سامری جادوگر نے یہ بچھڑا بنایا، اور بنی اسرائیل کو یقین دلایا۔ کہ (نعوذ باللہ) تمہارا خدا یہی ہے۔
Read the full tafseer →آخر میں جب جوش و خروش ختم ہوا اور لوگوں کے حواس بحال ہوئے اور حقیقت سامنے آگئی اور انہوں نے جان لیا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے اور انہوں نے کھلے شرک کا ارتکاب کرلیا تو وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "
سقط فی یدہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کا حیلہ اور تدبیر اس کے سامنے فیل…
Read the full tafseer →5 اپنی بدعقلی اور کجروی سے انہوں نے ایسا بےڈھنگا اور بھونڈا کام کیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تنبیہ کے بعد جب باطل کا جوش ٹھنڈا ہوا اور عقل و ہوش کچھ ٹھکانے ہوئے تو خود بھی اپنی حرکت پر بہت شرمائے۔ گویا مارے ندامت کے ہاتھ کاٹنے لگے اور خوف و ہراس کی وجہ سے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ گھبرا کر کہنے لگے اب کیسے بنے گی۔ اگر خدا نے ہم پر رحم فرما کر توبہ اور مغفرت کی کوئی صورت نہ نکالی تو یقیناً ہم ابدی خسران اور دائمی ہلاکت میں جا پڑیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 149 وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْہِمْ وَرَاَوْا اَنَّہُمْ قَدْ ضَلُّوْالا قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْ لَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
اس معاملے میں وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ قوم کا ایک بڑا حصہ وہ تھا جو اس گناہ میں بالکل شریک نہیں ہوا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جو کچھ دیر کے لیے اس گناہ میں شریک ہوئے ‘ لیکن فوراً انہیں احساس ہوگیا کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ تیسراگروہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک اس شرک پر اڑا رہا۔ یہاں درمیانی گروہ کے لوگوں کا ذکر ہے کہ غلطی کے بعد وہ نادم ہوئے اور انہیں سمجھ آگئی کہ وہ گمراہی کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں۔
Read the full tafseer →145 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کی گؤسالہ پرستی :۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے مقررہ وعدہ اور وقت کے مطابق کوہ طور پر چلے گئے، اور بنی اسرائیل کی قیادت سیدنا ہارون (علیہ السلام) کے سپرد کر کے یہ تاکید کردی تھی کہ یہ بگڑی ہوئی قوم ہے۔ ان کی اصلاح کے لیے خصوصی دھیان رکھنا اور یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وجہ سے کہی تھی کہ ایک مرتبہ پہلے وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ چکے تھے کہ ہمیں بھی ایک معبود بنا دیجئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سرزنش بھی کی تھی حالانکہ انہیں ایمان لائے کافی مدت گزر چکی تھی دوسری بات یہ تھی کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →201 ۔ یہ ندامت و استغفار کا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی کے بعد کا ہے، جس کا ذکر ابھی آگے آتا ہے۔۔۔ آیت نمبر 128 کے بعد متصل سلسلہ بیان کے لحاظ سے آیت نمبر 150 کو پڑھا جائے یہ آیت نمبر 149 بہ طور جملہ معترضہ کے ہے، اور قرآن مجید کا عام اسلوب بلاغت ہی یہ ہے کہ واقعات کی تقدیم وتاخیر کا اعتبار کئے بغیر وہ نتائج اور عبرتوں کو درمیان کلام میں لے آتا ہے۔ (آیت) ” سقط فی ایدیھم “۔ محاورہ میں اس کے معنی نادم ہونے کے ہیں۔ یعنی الندم (راغب) تقول العرب لکل نادم علی امر قدسقط فی یدیہ (معالم) قال ابوعبیدۃ یقال لمن ندم علی امر وعجزعنہ سقط فی یدہ (بحر) یقال للنادم المتحیر قد سقط فی یدہ (قرطبی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت نمبر 148 تا 151
ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) نے موسیٰ کے مناجات کیلئے جانے کے بعد ان زیورات سے جن کو وہ فرعون کی قوم (قبطیوں) سے شادی کے بہانے عاریۃً لے آئے تھے، پھر وہ ان ہی کے پاس رہ گئے تھے، گوشت پوست (خون) کے بچھڑے کا ایک پتلا (معبود) سامری نے ان کیلئے اس زیور کا بنادیا، جَسَدًا، عجلاً سے بدل ہے معنی میں گوشت اور خون کے ہے اس کی بیل کے جیسی آواز تھی جو سنی جاتی تھی، اس طرح قلب ماہیت پتلے کے منہ میں اس مٹی کے ڈالنے کی وجہ سے ہوگئی جس کو سامری نے جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے لے لیا تھا، اس مٹی کا اثر زندگی ہر اس شئ پر ظاہر ہوتا تھا، جس میں وہ ڈالدی جاتی،…
Read the full tafseer →ولما سقط فی ایدیہم ورأوا انہم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفرلنا لنکونن من الخسرین۔ اور جب وہ نادم ہوگئے اور جان گئے کہ واقعی ہم گمراہی میں پڑگئے تو کہنے لگے اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہم کو معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوگئے۔
سقط فی ایدیہم سقط فعل مجہول کی اسناد فی ایدیہم کی طرف سے ہے بطور کنایہ سخت پشیمانی مراد ہے پشیمان آدمی افسوس سے ہاتھ کاٹتا ہے گویا اس کا ہاتھ اس کے اندر گرا دیا جاتا ہے عرب لوگ ہر پشیمان کو سقط فی یدہ کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا ایدیہم سے مراد ہیں دل اور نفوس یعنی ندامت ان کے دلوں میں پیدا ہوگئی۔ حصلِ فِی یدہ مکروہٌاس کے ہاتھ میں یعنی دل میں بری بات پیدا…
Read the full tafseer →(149) مگر اس کی پوجا سے وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے تھے، جب وہ اس بچھڑے کی پوجا پر شرمندہ ہوئے اور سمجھ گئے اور یقین ہوگیا کہ وہ حق اور ہدایت سے گمراہ ہوگئے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ : یہ عربی زبان کا محاورہ ہے، جس کا معنی ہے کہ جب وہ نادم اور پشیمان ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ محاورہ کیسے بنا تو ظاہر ہے کہ یہاں ان کے ہاتھوں میں گر پڑنے والی چیز مجہول رکھی گئی ہے، گویا ندامت کی وجہ سے ان کے منہ ہاتھوں میں آ گرے اور اس پشیمانی میں انھوں نے اپنے چہرے ہاتھوں میں چھپا لیے۔ یا انسان جب پشیمان اور نادم ہوتا ہے تو وہ دانتوں سے ہاتھ کاٹتا ہے، گویا اس کا منہ اور دانت ہاتھوں میں آ گرتے ہیں، یعنی بےاختیار پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی جب انھیں کچھ ہارون ؑ کے سمجھانے سے اور کچھ موسیٰ ؑ کی تشریف آوری پر ان کے غیظ و غضب سے احساس ہوا کہ ہم کتنا بڑا غلط کام کر بیٹھے…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : ولما سقط فی ایدیھم یعنی وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقررہ وقت پر واپس آنے کے بعد سکت پشیمان ہوئے۔ حٰرت زدہ شرمندہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : آیت : قد سقط فی یدہ (تحقیق وہ سخت نادم اور پشیمان ہے) ۔ اخفش نے کہا ہے : اسے کہا جاتا ہے : سقط فی یدہ واسقط اور جنہوں نے علی بناء الفاعل سقط فی ایدیھم کہا ہے : ان کے نزدیک اس کا معنی ہے : سقط الندم ( پشیمانی اور ندامت کا آنا ) ۔ ازہری اور نحاس وغیرہما نے یہی کہا ہے : ندامت دل میں ہوتی ہے، لیکن ذکر ید (ہاتھ) کا کیا ہے، کیونکہ جو کسی شے پر قابض ہوجائے اس کے لیے کہا جاتا ہے : قد حصل فی یدہ امرکذا ( تحقیق اس طرح کا معاملہ اس کے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →ابن عباس ؓ نے لفظ آیت ” ولما سقط فی ایدیہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جب وہ نادم ہوئے۔
Read the full tafseer →[ وَلَمَّا : اور جب ] [ سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ : وہ لوگ پچھتائے ] [ وَرَاَوْا : اور انہوں نے دیکھا ] [ اَنَّهُمْ : کہ وہ ] [ قَدْ ضَلُّوْا ۙ : گمراہ ہوگئے ہیں ] [ قَالُوْا : تو انہوں نے کہا ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [ لَّمْ يَرْحَمْنَا : رحم نہ کیا ہم نے ] [ رَبُّنَا : ہمارے رب نے ] [ وَيَغْفِرْ لَنَا : اور نہ بخشا ہم کو ] [ لَنَكُوْنَنَّ : تو ہم لازما ہوجائیں گے ] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا نادم ہونا اور توبہ کرنا :
(وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا) (الآیۃ) جن لوگوں نے گؤ سالہ پرستی کرلی تھی انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوا اور توبہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس میں سب سے بڑا دخل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دار وگیر اور سختی کا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو ان کے تشریف لانے سے ہی اپنی گمراہی کا احساس ہوگیا ہو۔ یہ لوگ کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہماری بخشش نہ فرمائے تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ لیکن ان کی توبہ کی قبولیت کے لیے اللہ پاک کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا کہ اپنی جانوں کو قتل کریں۔ جیسا کہ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–154
تفسیر
قصہ اتخاذ عجل وانجامِ آن
قال اللہ تعالیٰ واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلا۔۔۔ الی۔۔۔ للذین ھم لربھم یرھبون
(ربط) گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی ایک جہالت کا بیان تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ کی جاہلانہ درخواست کی۔ اب ان آیات میں ان کی ایک اور حماقت اور سفاہت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نادان اپنے ایک خود ساختہ ڈھانچہ کی آواز پر ایسے مفتون ہوئے کہ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔
(ربط دیگر) گزشتہ آیت یعنی والذین کذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم میں اس امر کا بیان تھا کہ تکذیب آیات کی وجہ سے ان کے اعمال حبط ہوگئے اب ان آیات میں حبط اعمال کے ایک اور سبب کا بیان…
Read the full tafseer →141: یہ انتہائی ندامت اور پشیمانی سے کنایہ ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو انہوں نے اس احمقانہ اور مشرکانہ فعل پر قوم کی ملامت کی اور ان کو سمجھایا تو وہ بہت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور اپنے فعل سے تائب ہوگئے۔ “ اي بعد عود موسیٰ من المیقات یقال للنادم المتحیر قد سقط فی یدہ ” (قرطبی ج 7 ص 285) ۔ قوم کے نادم ہونے کا واقعہ اصل میں اس وقت پیش آیا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گوسالہ کو جلا کر اس کی راکھ اڑا دی اس واقعے کی اصل ترتیب سورة طٰہٰ میں اس طرح مذکور ہے۔ میقات سے واپسی پر سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے خطاب کر کے ان کو ملامت کی۔ “ فَرَجَعَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اجابت کا ذکر ہورا ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل آپ کی رہنمائی میں مصر سے نکلے تھے انہوں نے بحیرہ قلزم کو پار کیا دشمن ہلاک ہوچکا تھا صحرائے سینا میں پہنچ کر خود قانون کا مطالبہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ کوہ طور پر اعتکاف بیٹھیں تو مقرر مدت کے بعد آپ کو کتاب کی صورت میں لائحہ عمل عطا کیا جائے گا طور پر چلتے وقت آپ نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کیا تاکہ ان کی عدم موجودگی میں قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں اعتکاف کی تکمیل پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے اپنی…
Read the full tafseer →وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْہِمْ وَرَاَوْا اَنَّہُمْ قَدْ ضَلُّوْا 0 ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 149
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
1 ؎ یعنی جبکہ وہ کوہ طور پر گئے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : واتخذ فعل قوم موسیٰ فاعل عجلاً مفعول جسداً لغت یا بدل یا بیان من حلیھم متعلق اتخذ سے علی بضم الحاء وکسر اللام وتشدید الیاء وھو جمع اصلہ حلوی فقبلت الواویائً وادغمت فی الیاء الاخری ثم کثرت اللام اتباعاً لھا ویقرء بکسر الحاء فی ایدیہم مفعول مالم یسم فاعلہ سقط کا والتقدیر سقط الندم فی ایدیہم غضبان اور اسفا حال ہیں موسیٰ سے۔ اسی طرح یجرہ الیہ بھی الاعداء مفعول ہے لاتشمت کا۔
تفسیر : یہاں سے پھر وہی موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کوہ سینا پر گذرا جبکہ تورات لینے گئے اور چالیس روز تک وہیں رہے۔ پیچھے ہارون کو چھوڑ گئے تھے بنی اسرائیل نے…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْالا قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یغْفِرْلَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 149)
” جب وہ پچھتائے اور انھوں نے دیکھ لیا کہ وہ بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے “۔
اس آیت کریمہ میں سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ کا محاورہ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم عام طور پر ’ نادم ہونا ‘ اور ’ شرمندہ ہونا ‘ ہوتا ہے لیکن اسی کا لازمی نتیجہ چونکہ متنبہ ہونا بھی ہے اس لیے کبھی اس کا ترجمہ متنبہ ہونا بھی کیا جاتا ہے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد بنی اسرائیل کا مشرکانہ کردار۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے چالیس دنوں کے لیے کوہ طور پر معتکف ہوئے ان کی غیر حاضری میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص جس کا نام سامری تھا۔ اس نے بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنایا۔ پھر اس میں مٹی ڈالی جس مٹی کے بارے میں سورة طٰہٰ آیت 96 میں بیان ہوا ہے کہ یہ مٹی اس نے اس وقت اٹھائی تھی جب بحر قلزم میں فرعون نے ڈبکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔…
Read the full tafseer →عبادتِ عمل پر شرمندگی :
آیت 149: وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیـْدِیْھِمْ (اور جب وہ شرمندہ ہوئے) جب بچھڑے کی پوجا پر ان کی شرمندگی زیادہ ہوگئی۔ اور اس کی اصل اس طرح ہے کہ جو شرمندہ زیادہ ہوجائے وہ غم سے ہاتھ کاٹنے لگ جاتا ہے اور اس کے ہاتھ اس میں گرجاتے ہیں کیونکہ اس کا منہ بھی ہاتھوں میں آپڑتا ہے۔ سقط کی اسناد فی ایدیھم کی طرف کنایات کی قسم میں سے ہے۔ زجاج (رح) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے سقط الندم فی ایدیھم یعنی ان کے دلوں اور جانوں میں غم آپڑا۔ جیسا کہا جاتا ہے : حصل فی یدہ مکروہ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ وہ امر مکر وہ اس کے ہاتھ میں آجائے۔ صرف دل و جان میں حاصل ہونے والی چیز کو آنکھوں اور ہاتھ میں…
Read the full tafseer →149(ولما سقط فی ایدیھم) یعنی بچھڑے کی عبادت پر نادم ہوئے، عبر ہر نادم شخص کو کہتے ہیں ” قط سقط فی یدیہ “ (وراو انھم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا) ہمارا رب ہماری توبہ کو قبول کرے (ویغفر لنا) اور ہماری خطائوں کو معاف کرے (لنکونن من الخسرین) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ ” ترحمنا “ اور ” تغفرلنا “ دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” ربنا “ باء کے زبر کے ساتھ۔ یہ ندامت اور استغفار موسیٰ (علیہ السلام) کے لوٹنے کے بعد ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
(148 ۔ 149) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) طور پر ہی تھے جب یہ واقع ہوا جس کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور وہ اس کو پوج کر گمراہ ہوگئے قوم بنی اسرائیل نے شادی کے بہانہ سے جب یہ لوگ مصر میں ہی تھے تو قوم قبطی سے کچھ زیور عاریۃ کے طور پر لیا تھا جو انہی لوگوں کے پاس رہ گیا کیونکہ فرعون مع اپنی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اسی زیور کا سامری نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو آتے جاتے دیکھ کر ان کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی ایک مٹھی اٹھا کر اس گائے کے بچھڑے کے منہ میں ڈال دی وہ بولنے لگا۔ خوار گائے کی آواز کو کہتے ہیں اس گائے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
متکبہ لو گ حق سے محروم ہیں
قول باری ہے ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق۔ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں پڑے بنتے ہیں) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ میرے عزوشرف کی وہ نشانیاں جو دلالت کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں اور ان کا علم دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی درجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں میری آیات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے روک دیا جائے گا یعنی یہ لوگ ان آیات کو جھٹلا نہیں سکیں گے اور نہ ہی لوگوں کے سامنے انہیں ظاہر ہونے سے روک سکیں گے۔ آیت کا یہ مفہوم لینا درست نہیں کہ میں انہیں ان آیات پر ایمان لانے سے روک…
Read the full tafseer →199 شرک اور بت پرستی ایک ظلم عظیم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تنبیہ ہونے پر ان لوگوں نے کہا کہ یقینا ہم نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا کہ ہم نے ایک بےحقیقت چیز کو معبود بنا لینے کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ اور شرک و بت پرستی ایک ظلم اور ہولناک ظلم ہے اس خالق ومالک کے حق میں جو کہ معبود برحق ہے۔ اور خود اپنی جان کے حق میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف بنی اسرائیل سامری اور اس کے ساتھیوں کے پروپیگنڈے سے مسحور ہو کر بچھڑے کی پوجا کی اس حماقت کا ارتکاب کر تو بیٹھے لیکن بعد میں جب ان کی آنکھیں کھلیں اور ان کو تنبہ ہوا تو وہ پکار اٹھے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارے اس جرم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
رکوع نمبر 18: آیات 148 ۔ تا۔ 151:
اسرارو معارف :
موسی (علیہ السلام) کی قوم کا حال سنیں کہ جب انہوں نے اتباع نبوت کے مقابلے میں اپنی عقل پر بھروسہ کیا تو عجیب گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ سامری نام کا ایک مشہور آدمی تھا اس نے سب سے سونا چاندی جمع کرکے اسے پگھلایا اور اس میں وہ مٹی ڈال جو وہ جبرائیل امین کی سواری کے قدموں سے اٹھالایا تھا چناچہ ایک بچھڑے کو بنا دیا جس میں کسی حد تک زندگی کا اثر تھا
دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی نادم ہوئے، یہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے میقات سے لوٹنے کے بعد کا وقعہ ہے۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(7:149) سقط۔ گرا دیا گیا۔ (باب نصر) سقوط سے جس کے معنی گر پڑنے کے ہیں۔ سقط فی ایدیہم۔ محاورہ ہے۔ جس کے معنی ہیں وہ نادم ہوئے۔ اصل میں تھا سقط الندم فی ایدیہم۔ ندامت ان کے ہاتھوں میں ڈال دی گئی۔ ولما سقط فی ایدیہم۔ جب حقیقت پاکر کہ نہ تو وہ عجل بات کرسکتا ہے اور نہ کوئی راہ ہدایت دکھا سکتا ہے۔ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
تشریح آیت نمبر 148 تا 149
بنی اسرائیل سیکڑوں سال کئی نسلوں تک مصر میں بت پرست قوموں کے ساتھ رہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) آتے رہے ان کی اصلاح فرماتے رہے مگر جب بھی ان کی تعلیمات سے غفلت برتتے تو پھر سے بت پرستی کر طرف مائل ہوجاتے چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور ان کے معجزات ، جن میں سمندری میں راستے بن جانا فرعون اور اس کی قوم کا غرق ہونا بنی اسرائیل کا صاف بچ کر نکل آنا وغیرہ کچھ عرصہ کا اثر رہا اس کے بعد پھر ان کی طبیعت لہرائی خصوصاً جب کہ انہوں نے جزیرہ نمائے سینا میں سامیوں کے عظیم الشان بت خانے دیکھے ھالان کہ فرعونیوں کے ظلم و ستم سے رہائی پائے ہوئے انہیں بس دو تین مہینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو مرتبہ کوہ طور پر جانے کا واقعہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہ دی تھی کہ وہاں قوم کو سامری نے بگاڑ ڈالا اور ایک گئوسالہ (بچھڑا) بناکر آپ بھی پوجنے لگا اور بنی اسرائیل کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غیظ و غضب میں بھرے ہوئے آئے اور آتے ہی ان لوگوں سے یہ کہا کہ یہ کیا بری حرکت تم نے میرے جانے کے بعد کی کہ گئو سالہ بناکر پوجنے لگے۔ خدا کا وعدہ جو میرے ساتھ ایک چلہ کا تھا اس کو پورا بھی نہ ہونے دیا اور ایسی جلدی کی۔ یہ کہتے ہوئے وہ تختیاں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو مرحمت فرمائی تھیں جس میں دین کے احکام کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–150
[56] موسیٰ (علیہ السلام) ابھی کوہ طور پر ہی تھے کہ آپ کو بذریعہ وحی الٰہی قوم کی گمراہی کا حال معلوم ہوگیا تھا جیسا کہ سورة طہٰ آیت 85 صفحہ 728 میں بصراحت مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
بچھڑا :
(ف 1) سامری کی گمراہ کن تعلیم سے متاثر ہو کر بنی اسرائیل نے گوسالہ کی پرستش شروع کردی جس میں سے ایک قہم کی آواز آتی تھی سامری ہوشیار آدمی تھا اس نے اسے کچھ اس ترکیب سے بنایا کہ وہ بولنے لگا ہوا اس طرح اس کے منہ سے خارج ہوتی کہ آواز معلوم ہوتی ، بنی اسرائیل سادہ اور سہل اندیش تھے ، اس لئے انہیں گوسالہ ایک معجزہ معلوم ہوا ، دل میں پہلے سے بت پرستی کی خواہش تھی ، تفصیلات اب تک پہنچی نہیں تھیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی چیخ و پکار کو انہوں نے زیادہ اہمیت نہ دنی نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کی قوم شرک کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ،
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوں نے یہ نہیں سوچا یہ گفتگو تو کرتا…
Read the full tafseer →149 اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قو م کے لوگ اپنی اس حرکت پر سخت نادم ہوئے اور وہ یہ سمجھ گئے کہ وہ صحیح راہ سے بھٹک گئے تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم کو نہ بخشا تو یقیناً ہم بڑے زیاں کار ہوں گے اور بڑے نقصان میں پڑجائیں گے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لے کر آئے تب ان لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور شرمندہ ہوکر معافی خواہ ہوئے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ چناچہ خاص طریقہ سے ان کو تکمیل توبہ کا حکم ہوا جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزرا ہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو ندامت ہوئی تو ہم نے ان کو معاف کردیا :
163: وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ ، یقال للنادم المتحیر : قد سقط فی یدہ اور جب وہ سخت پشیمان ہوئے ۔ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ راہ راست سے بھٹک گئے اور افسوس سے ہاتھ ملنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب تورات لے کر واپس آئے چونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اسی جگہ یعنی پہاڑ پر ہی بتا دیا تھا کہ آپ کی قوم راہ راست سے ہٹ چکی ہے واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کی آنکھیں کھولیں تو انہیں احساس ہوا کہ ان سے یہ بہت بڑی سخت حماقت ہوئی ہے تو پچھتائے اور افسوس کرنے لگے اور اعتراف کیا کہ اگر ہم پر ہمارا رب مہر بانی نہ کرتا تو ہم ہلاک ہوگئے ہوتے ۔ اس…
Read the full tafseer →The verse 149 speaks of their remorse on this guilt and their repentance,
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
108. The above Qur'anic verse absolves Aaron of the charge levelled against him by the Jews. According to the Biblical version of the story of calf-worship, however, it was Aaron who had made the golden calf for the people of Israel. To quote:
When the people saw that Moses delayed to come down from the mountain, the people gathered themselves together to Aaron, and said to him, 'Up, make up gods who shall go before us; as for this Moses, the man who brought us up out of the land of Egypt, we do not know what has become of him.' And Aaron said to them, 'Take off the rings of gold which are in…
Read the full tafseer →