Al-A'raaf 7:148

Al-A'raaf · from ayah 148

7:148

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ ؕ— اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَلَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا ۘ— اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۟وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ‌ ؕ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 18 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:148

موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور موسیٰ ؑ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وه ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راه بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا (بچھڑا کیا تھا ؟) ایک بےجان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتاسکتا ہے ؟ (مگر) اسے معبود بنا لیا، اور (خود اپنی جانوں کے لیے) ظالم بن بیٹھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور موسیٰ کے بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے اسے لیا اور وہ ظالم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور موسٰی ؑ کی قوم نے ان کے (کوہِ طور پر جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا (جو) ایک جسم تھا، اس کی آواز گائے کی تھی، کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ہی انہیں راستہ دکھا سکتا ہے۔ انہوں نے اسی کو (معبود) بنا لیا اور وہ ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا، جو ایک جسم تھا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔ کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ بیشک وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ انھیں کوئی راستہ بتاتا ہے۔ انھوں نے اسے پکڑا اور وہ ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اس کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا جسم (پتلا) بنایا جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ تو ان سے کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی ان کو راستہ دکھاسکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (الٰہ) بنالیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا۔ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا نہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راہ دکھا سکتا ہے، اس کو وہ بنا بیٹھے اور وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے ان کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا، یعنی ایک پتلا جس میں گائے کی سی ایک آواز تھی (اور بس) کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بول سکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راہ دکھا سکتا ہے، انہوں اس کو (معبود) بنا لیا اور وہ تھے ہی ظالم لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

اور موسیٰ ؑ کی قوم نے ان کے (جانے کے) بعد ایک بچھڑا اپنے زیوروں سے بنایا (یعنی) ایک قالب جس کے اندر ایک آواز تھی۔ کیا ان کو یہ تک نہ سوجھا کہ وہ نہ تو ان سے بات کرسکتا تھا اور نہ انہیں کوئی راہ بتلا سکتا تھا اسی کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور بڑا ہی ظلم (اپنے حق میں) کربیٹھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بنا لیا موسیٰ ؑ کی قوم نے آپ ؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کی قوم نے موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کا ایک بچھڑا بنا لیا وہ ایک جسم تھا کہ جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو رستہ دکھا سکتا ہے، اس کر انہوں نے معبود بنالیا اور اپنے حق میں ظلم کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And in the absence of Moses his people made the image of a calf from their ornaments, which lowed. Did they not observe that it could neither speak nor give them any guidance? And still they made it an object of worship. They were indeed wrong-doing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And in the absence of Musa, his people made a calf from their ornaments, which was merely a sculpture with a moaning sound. Did they not see that it neither talked to them nor could it guide them to any way? They adopted it (as god), and were so unjust.

— Muhammad Taqi Usmani

And in the absence of Musa, his people made a calf from their ornaments, which was merely a sculpture with a moaning sound. Did they not see that it neither talked to them nor could it guide them to any way? They adopted it (as god), and were so unjust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the people of Musa made in his absence, out of their ornaments, the image of a calf (for worship). It had a sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way They took it (for worship) and they were wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the folk of Moses, after (he left them), chose a calf (for worship), (made) out of their ornaments, of saffron hue, which gave a lowing sound. Saw they not that it spake not unto them nor guided them to any way? They chose it, and became wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.

— Saheeh International

In Moses' absence, his people manufactured a hollow sounding calf out of their ornaments. Could they not see that it could not speak to them or provide them with any guidance? They gained only evil by worshipping the calf.

— Muhammad Sarwar

And Musa's people made of their ornaments a calf after him, a (mere) body, which gave a mooing sound. What! could they not see that it did not speak to them nor guide them in the way? They took it (for worship) and they were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And ehe people of Musa, after him, took of their trinkets a calf: a body with a low. Saw they not that it spake nor unto them nor could guide them to a way? They took it, and became wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

The people of Moses made, in his absence, out of their ornaments, the image of calf, (for worship): it seemed to low: did they not see that it could neither speak to them, nor show them the way? They took it for worship and they did wrong.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:148

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 148–149

بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا حضرت موسیٰ ؑ تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو حضرت جبرائیل ؑ کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہوگیا اور چونکہ کھو کھلا تھا اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کردی بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر حضرت موسیٰ کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 106 یعنی ان چالیس دنوں کے دوران میں جب کہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی طلبی پر کوہ سینا گئے ہوئے تھے اور یہ قوم پہاڑ کے نیچے میدان الرَّاحَہ میں ٹھیری ہوئی تھی۔ سورة الْاَعْرَاف 107 یہ اس مصریّت زدگی کا دوسرا ظہور تھا جسے لیے ہوئے بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے۔ مصر میں گائے کی پرستش اور تقدیس کا جو رواج تھا اس سے یہ قوم اتنی شدّت کے ساتھ متاثر ہوچکی تھی کہ قرآن کہتا ہے وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ العِجْلَ۔ یعنی ان کے دلوں میں بچھڑا بس کر رہ گیا تھا۔ سب سے زیادہ حیرت کا مقام یہ ہے کہ ابھی مصر سے نکلے ہوئے ان کو صرف تین مہینے ہی گزرے تھے۔ سمندر کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

جب موسیٰ ؑ تورات حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر معتکف ہوئے اور شروع میں تیس دن رات کے اعتکاف کا حکم تھا اور اس کے مطابق اپنی قوم سے کہہ گئے تھے کہ تیس دن بعد لوٹیں گے، وہاں حق تعالیٰ نے اس پر دس روز کی میعاد اور بڑھا دی تو اسرائیلی قوم جسکی جلد بازی اور کجروی پہلے سے معروف تھی، اس وقت بھی طرح طرح کی باتیں کرنے لگے، ان کی قوم میں ایک شخص سامری نام کا تھا، جو اپنی قوم میں بڑا اور چودھری مانا جاتا تھا، مگر کچے عقیدہ کا آدمی تھا اس نے موقع پا کر یہ حرکت کی کہ بنی اسرائیل کے پاس کچھ زیورات قوم فرعون کے لوگوں کے رہ گئے تھے ان سے کہا کہ یہ زیورات تم نے قبطی لوگوں سے مستعار طور پر لیے تھے اب وہ سب غرق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ ۭ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کی ہدایت کے لیے یہ کچھ جتن کیے جو مذکور ہوئے لیکن انہوں نے اس کی قدر یہ کی کہ حضرت موسیٰ کے جانے کے بعد ایک بچھڑے کی مورت بنا کر اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ، اس مورت کو بنانے کے لیے تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنے سونے کے زیورات میں چندہ میں دیے۔ انہی زیورات سے بچھڑے کی ایک مورت بنائی گئی اور معلوم ہوتا ہے کہ صنعت گری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

148۔ 1 موسیٰ ؑ جب چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تو پیچھے سے سامری نامی شخص نے سونے کے زیورات اکھٹے کرکے ایک بچھڑا تیار کیا جس میں اس نے جبرائیل ؑ کے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی مٹی بھی، جو اس نے سنبھال کر رکھی تھی شامل کردی، جس میں اللہ نے زندگی کی تاثیر رکھی تھی جس کی وجہ سے بچھڑا کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا (گو واضح کلام کرنے اور راہنمائی کرنے سے عاجز تھا جیسا کہ قرآن کے الفاظ واضح کر رہے ہیں، اسمیں اختلاف ہے کہ فی الواقع گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، یا تھا وہ سونے کا ہی، لیکن کسی طریقے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تو گائے، بیل کی سی آواز اس میں سے نکلتی۔ (ابن کثیر) اس آواز سے سامری نے بنی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 148–149

69: اس بچھڑے کا مختصر ذکر سورة بقرہ (51:2) میں بھی گذرا ہے اور اس کا مفصل واقعہ سورة طہ (88:20) میں آنے والا ہے کہ کس طرھ سامری جادوگر نے یہ بچھڑا بنایا، اور بنی اسرائیل کو یقین دلایا۔ کہ (نعوذ باللہ) تمہارا خدا یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جس دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دربار میں تھے ، یہ ایک منفرد ملاقات تھی اور ہماری محدود آنکھوں کے لیے ظاہر ہے کہ اس منظر کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں نہ ہماری روح اس منظر کو دیکھ سکتی ہے اور ہماری فکر اور قوت مدرکہ اس کے بارے میں حیران ہے۔ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی قوم نے گمراہی اختیار کرلی۔ وہ دوبارہ مصری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے اور بت پرستی کے گڑھے میں گر گئے۔ انہوں نے ایک بولتے ہوئے بچھڑے کے بت کو اپنا الہ بنا لیا اور اس کی عبادت شروع کردی۔ ان حالات میں اب اس قصے کے نویں منظر سے ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمارے سامنے اس کا دسواں منظر آتا ہے۔ نواں منظر بلند عالم بالا میں ہے ، جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہ زیور جسے گلا کر اور ڈھال کر بچھڑا بنایا اصل میں فرعون کی قوم قبطیوں کا تھا۔ ان کے پاس سے بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ جیسا کہ سورة " طہٰ " میں ہے حُمِّلْنَا اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْقَوْمِ ۔ 4 سورة " طہٰ " میں اس بچھڑے کا مفصل قصہ آئے گا، یہاں ان کی حماقت وسفاہت پر متنبہ فرمایا ہے کہ ایک خود ساختہ ڈھانچہ میں سے گائے کی آواز سن لینے پر مفتون ہوگئے اور بچھڑے کو خدا سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ اس کی بےمعنی آواز میں نہ کوئی کلام و خطاب تھا نہ دینی یا دنیاوی راہنمائی اس سے ہوتی تھی۔ اس طرح کی صورت محض تو کس چیز کو انسانیت کے درجہ تک بھی نہیں پہنچا سکتی، چہ جائیکہ خالق جل وعلا کے مرتبہ پر پہنچا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 148 وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ حُلِیِّہِمْ عِجْلاً جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ط۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر چلے گئے تو آپ علیہ السلام کی قوم کے ایک فرد نے یہ فتنہ اٹھایا ‘ جس کا نام سامری تھا۔ اس نے سونے کا ایک مجسمہ بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس غرض سے اس نے سب لوگوں سے زیورات اکٹھے کرلیے۔ روایات کے مطابق یہ زیورات زیادہ تر مصر کے مقامی لوگوں قبطیوں کے تھے جو انہوں نے بنی اسرائیل کے لوگوں کے پاس امانتاً رکھوائے ہوئے تھے۔ فرعونیوں کے ہاتھوں اپنی تمام تر ذلت و خواری کے باوجود معاشرے میں بنی اسرائیل کی اخلاقی ساکھ ابھی تک کسی نہ کسی سطح پر اس وجہ سے موجود تھی کہ یہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 147–148

144 کافروں کے اچھے اعمال کا بدلہ بھی نہ ملنے کی وجہ :۔ اس لیے کہ کسی عمل کے بارآور ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو اور جس عمل میں یہ تصور ہی موجود نہ ہو کہ وہ عمل اس نیت سے کر رہا ہے کہ آخرت میں مجھے اس کا صلہ ملے گا اس کا صلہ آخر مل بھی کیسے سکتا ہے ؟ یہ تو ان اعمال کا حال ہوگا جو اچھے ہوں گے اور جو عمل اللہ کی نافرمانی اور معصیت کی صورت میں ہوں گے ان کی سزا البتہ ضرور ملے گی اور ملنی بھی چاہیے کیونکہ جو شخص اللہ کی زمین پر رہ کر اس کی مخلوق ہو کر اور اس کا رزق کھا کر اس کی مرضی کے خلاف عمل کرتا ہے اسے سزا آخر کیوں نہ ملے ؟ اس دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

199 ۔ اس نئے معبود زرین کی کیفیت یہ تھی کہ وہ محض ایک جسد تھا، بےجان، ایک قالب تھا، بےروح، ایک جسم، حیات سے معری، بس اس میں سے ایک آواز نکلتی تھی جیسے گوسالہ بھیں، بھیں کرتا ہے۔ اور ایسی آوازیں تو مٹی کے کھلونوں تک میں صنعت سے پیدا ہوجاتی ہیں، گراموفون وغیرہ اعلی آلات صناعی کا ذکر ہی نہیں۔ یہ بچھڑا سچ مچ کا نہیں بن گیا، وہی چاندی سونے کا رہا تھا جیسا کہ محققین سلف نے کہا ہے۔ کان جسدا من ذھب لاروح فیھا کان یسمع منہ صوت (معالم) (آیت) ” من بعدہ “۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر توریت کے لینے کو تشریف لے گئے تو ان کی چہل روزہ غیرحاضری سے فائدہ اٹھا کر اسرائیلیوں نے پہلے تو ایک پچھڑے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 148–151

آیت نمبر 148 تا 151 ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) نے موسیٰ کے مناجات کیلئے جانے کے بعد ان زیورات سے جن کو وہ فرعون کی قوم (قبطیوں) سے شادی کے بہانے عاریۃً لے آئے تھے، پھر وہ ان ہی کے پاس رہ گئے تھے، گوشت پوست (خون) کے بچھڑے کا ایک پتلا (معبود) سامری نے ان کیلئے اس زیور کا بنادیا، جَسَدًا، عجلاً سے بدل ہے معنی میں گوشت اور خون کے ہے اس کی بیل کے جیسی آواز تھی جو سنی جاتی تھی، اس طرح قلب ماہیت پتلے کے منہ میں اس مٹی کے ڈالنے کی وجہ سے ہوگئی جس کو سامری نے جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے لے لیا تھا، اس مٹی کا اثر زندگی ہر اس شئ پر ظاہر ہوتا تھا، جس میں وہ ڈالدی جاتی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیہم عجلا جسدا لہ خوار اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان کی قوم (بنی اسرائیل (نے) اپنے (مقبوضہ) زیور کا ایک بچھڑا (پوجا کے لئے) بنا لیا جو ایک مجسمہ تھا اور اس کی ایک آواز تھی۔ قَوْمَ موسٰی یعنی بنی اسرائیل نے۔ من بعدہ یعنی جب موسیٰ طور کی طرف مقرر کردہ وقت پر (مناجات کرنے اور کتاب لینے کے لئے) چلے گئے اور تیس دن گزرنے کے بعد چلہ کا چوتھا عشرہ شروع ہوگیا۔ من حلیہم یعنی اس زیور کا جو بنی اسرائیل نے شادی کے بہانہ سے مصر سے نکلتے وقت قبطیوں سے بطور عاریت لے لیا تھا اور نکلنے کے بعد انہی کے پاس رہ گیا تھا۔ من حلیہم میں اضافت قبضہ پر دلالت کر رہی ہے یعنی وہ زیور جو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(148) حضرت موسیٰ ؑ کے کوہ طور پر جانے کے بعد ان کی قوم نے سونے کا ایک چھوٹا جسم دار بچھڑا بنوایا جس کی آواز تھی۔ سامری نے انکو یہ بنا کردیا تھا اور حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ وہ ان سے کوئی بات تک نہیں کرسکتا تھا پھر جہالت کی وجہ سے اس کی پوجا شروع کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي۔۔ : یہی قصہ سورة طٰہٰ میں بھی بیان ہوا ہے۔ ”مِنْ حُلِيِّهِمْ“ (اپنے زیوروں سے) یہ الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ وہ زیورات بنی اسرائیل کے اپنے تھے، اس لیے بائبل اور ہماری تفسیروں کی اسرائیلی روایات میں جو کہا گیا ہے کہ وہ زیور قبطیوں کے تھے اور بنی اسرائیل نے ان سے ادھار لیے تھے وہ درست نہیں، مزید تفصیل سورة طٰہٰ (87) میں دیکھیں۔ جب موسیٰ ؑ طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامری نے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انھیں آگ میں پگھلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا، جس سے گائے کی آواز نکلتی تھی، اس آیت میں اس مجسمے کے بنانے کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 148 قولہ تعالیٰ : آیت : واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے طور پر جانے کے بعد بنا لیا۔ آیت : من حلیھم ( اپنے زیورات سے ) ۔ یہ اہل مدینہ اور اہل بصرہ کی قراءت ہے۔ حضرت عاصم (رح) کے سوا اہل کوفہ نے اسے من حلیھم حا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یعقوب نے من حلیھم حا کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ قراءت کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ حلی، حلی اور حلی کی جمع ہے، جیسے ثدی، ثدی اور ثدی ہیں۔ اس کی حلوی ہے، پھر واو کو یا میں مدغم کیا گیا اور لام یا کی مجاورت کے سبب مکسور ہوگئی اور لام کے کسرہ کی وجہ سے حا کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ اور حا کا ضمہ اصل کی بنا پر ہے۔ عجلا یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن منذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیہم عجلا جسدا “ کے بارے میں فرمایا کہ جس وقت انہوں نے اسے دفن کیا (یعنی زیورات کو پگھلا کر اس کا ڈھانچہ بنا لیا تو سامری نے اس پر ایک مشت مٹی پھینکی جو اس نے جبرئیل کے گھوڑے کے پاؤں کے نشان سے اٹھائی گئی تھی۔ (2) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” عجلا جسدا لہ خوار “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے فرعون والوں سے زیورات عاریتا مانگے تھے سامری نے ان کو جمع کیا اور ان کو ایک بچھڑے کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاتَّخَذَ : اور بنایا ] [ قَوْمُ مُوْسٰي : موسیٰ کی قوم نے ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : ان کے بعد ] [ مِنْ حُلِيِّهِمْ : اپنے زیورات سے ] [ عِجْلًا : ایک بچھڑا ] [ جَسَدًا : جو ایک ڈھانچا تھا ] [ لَّهٗ : اس کے لیے ] [ خُوَارٌ ۭ : گائے کی ایک آواز تھی ] [ اَلَمْ يَرَوْا : کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں ] [ اَنَّهٗ : کہ وہ ] [ لَا يُكَلِّمُهُمْ : کلام نہیں کرتا ان سے ] [ وَلَا يَهْدِيْهِمْ : اور نہ ہی وہ ہدایت دیتا ہے ان کو ] [ سَبِيْلًا ۘ : کسی راستے کی ] [ اِتَّخَذُوْهُ : انہوں نے بنایا اس کو (الہ) ] [ وَكَانُوْا : اور وہ لوگ تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ] ح ل ی : (س) ۔ حلیا ۔ عورت کا زیور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بنی اسرائیل کا زیوروں سے بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کرنا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غضبناک ہونا بنی اسرائیل مصر میں بت پرستی اور گاؤ پرستی دیکھتے آئے تھے اسی لیے جب سمندر پار کر کے مصر کے علاوہ دوسرے علاقہ میں آئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی اسی طرح کا معبود بنا دیجیے جو مجسم ہو صورت و شکل ہمارے سامنے ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لیے طور پر تشریف لے گئے تو ان کے پیچھے گؤ سالہ پرستی شروع کردی جس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلنے والے تھے اس وقت انہوں نے قبطی قوم سے (جو مصر کے اصلی باشندے تھے) زیور مانگ لیے تھے۔ یہ زیورات ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–154

تفسیر قصہ اتخاذ عجل وانجامِ آن قال اللہ تعالیٰ واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلا۔۔۔ الی۔۔۔ للذین ھم لربھم یرھبون (ربط) گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی ایک جہالت کا بیان تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ کی جاہلانہ درخواست کی۔ اب ان آیات میں ان کی ایک اور حماقت اور سفاہت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نادان اپنے ایک خود ساختہ ڈھانچہ کی آواز پر ایسے مفتون ہوئے کہ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔ (ربط دیگر) گزشتہ آیت یعنی والذین کذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم میں اس امر کا بیان تھا کہ تکذیب آیات کی وجہ سے ان کے اعمال حبط ہوگئے اب ان آیات میں حبط اعمال کے ایک اور سبب کا بیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

140: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تورات لینے کے لیے گئے تو ان کی عدم موجودگی میں سامری نے قوم کو گمراہ کردیا۔ اسرائیلی پہلے ایک قوم کو گائے کی پوجا کرتے دیکھ چکے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی مورتی کا مطالبہ بھی کرچکے تھے۔ اب سامری نے موقعہ سے فائدہ اٹھا کر بنی اسرائیل سے زیورات حاصل کیے اور ان کو ڈھال کر ایک گوسالے کا بت تیار کیا جو گوسالے کی طرح آواز کرتا تھا۔ اس کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ (دیکھو ص 36 حاشیہ 112) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 148–151

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اجابت کا ذکر ہورا ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل آپ کی رہنمائی میں مصر سے نکلے تھے انہوں نے بحیرہ قلزم کو پار کیا دشمن ہلاک ہوچکا تھا صحرائے سینا میں پہنچ کر خود قانون کا مطالبہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ کوہ طور پر اعتکاف بیٹھیں تو مقرر مدت کے بعد آپ کو کتاب کی صورت میں لائحہ عمل عطا کیا جائے گا طور پر چلتے وقت آپ نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کیا تاکہ ان کی عدم موجودگی میں قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں اعتکاف کی تکمیل پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِہٖ مِنْ حُلِـيِّہِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ۝ 0 ۭ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّہٗ لَا يُكَلِّمُہُمْ وَلَا يَہْدِيْہِمْ سَبِيْلًا۝ 0 ۘ اِتَّخَذُوْہُ وَكَانُوْا ظٰلِـمِيْنَ۝ 148 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . حلی الحُلِيّ جمع الحَلْي، نحو : ثدي وثديّ ، قال تعالی: مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ الأعراف/ 148] ، يقال : حَلِيَ يَحْلَى قال اللہ تعالی: يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ [ الكهف/ 31] ، ( ح ل ی ) الحلی ( زیورات ) یہ حلی کی جمع ہے جیسے ثدی کی جمع ثدی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 148–149

1 ؎ یعنی جبکہ وہ کوہ طور پر گئے تھے۔ 12 منہ ترکیب : واتخذ فعل قوم موسیٰ فاعل عجلاً مفعول جسداً لغت یا بدل یا بیان من حلیھم متعلق اتخذ سے علی بضم الحاء وکسر اللام وتشدید الیاء وھو جمع اصلہ حلوی فقبلت الواویائً وادغمت فی الیاء الاخری ثم کثرت اللام اتباعاً لھا ویقرء بکسر الحاء فی ایدیہم مفعول مالم یسم فاعلہ سقط کا والتقدیر سقط الندم فی ایدیہم غضبان اور اسفا حال ہیں موسیٰ سے۔ اسی طرح یجرہ الیہ بھی الاعداء مفعول ہے لاتشمت کا۔ تفسیر : یہاں سے پھر وہی موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کوہ سینا پر گذرا جبکہ تورات لینے گئے اور چالیس روز تک وہیں رہے۔ پیچھے ہارون کو چھوڑ گئے تھے بنی اسرائیل نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

گذشتہ رکوع کی تصریحات سے یہ بات پوری طرح نمایاں ہوجاتی ہے کہ پروردگار نے بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی انتظام فرمایا تھا انھیں عام معمول سے ہٹ کر الواح کی شکل میں تحریری کتاب عطا فرمائی اور پھر بار بار اس کتاب کو تھامنے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین بھی فرمائی اور مزید یہ بات بھی کہ جس رویے کے باعث اللہ کی کتاب سے استفادہ اور استفاضہ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اسے بھی پوری طرح کھول کر بیان کردیا تاکہ بنی اسرائیل کسی طرح بھی اللہ کی کتاب سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی نہ کریں اور اپنے عہد غلامی میں وہ جس طرح اپنے سیرت و کردار کو برباد اور اپنی فکری قوتوں کو تباہ کرچکے ہیں اس کی از سر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 148–149

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد بنی اسرائیل کا مشرکانہ کردار۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے چالیس دنوں کے لیے کوہ طور پر معتکف ہوئے ان کی غیر حاضری میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص جس کا نام سامری تھا۔ اس نے بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنایا۔ پھر اس میں مٹی ڈالی جس مٹی کے بارے میں سورة طٰہٰ آیت 96 میں بیان ہوا ہے کہ یہ مٹی اس نے اس وقت اٹھائی تھی جب بحر قلزم میں فرعون نے ڈبکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کی دوسری حماقت : آیت 148: وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِہٖ (اور موسیٰ کی قوم نے بنالیا ان کے بعد) ان کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد مِنْ حُلِیِّھِمْ (اپنے زیورات میں سے) ان کی طرف زیور کی نسبت کردی گئی۔ حالانکہ وہ ان کے پاس عاریت کے طور پر تھے کیونکہ اضافت ادنیٰ تعلق کی بناء پر بھی ہوسکتی ہے۔ نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ جو آدمی قسم اٹھائے کہ وہ فلاں کے گھر میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ اگر مستعار گھر میں داخل ہوگیا تو تب بھی حانث ہوجائے گا۔ وہ ان زیورات کے مالک ان کے ہلاک ہونے کے بعد بنے۔ جس طرح ان کی دیگر املاک کے مالک ان کے ہلاک ہونے کے بعد بنے۔ مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ کفار کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

148(واتخذ قوم موسیٰ من م بعدہ) ان کے پہاڑ پر چلے جانے کے بعد (من حلیھم) جو انہوں نے قوم فرعن بطور عاریت لیا تھا (عجلاً ) اور اس کے منہ میں جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے نشان قدم کی مٹی ڈال دی تو وہ بچھڑا تبدیل ہوگیا (حسداً ) زندہ اور گوشت و خون (لہ خوار) گائے کی آواز کو خوار کہتے ہیں۔ یہ ابن عباس ؓ، حسن، قتداہ، اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ وہ جسم بنایا گیا تھا اس میں رو ح نہ تھی اس سے آواز سنی جاتیھی اور بعض نے کہا اس کے پیٹ میں ہوا داخل ہو کر نکلتی تو اس سے ہلکی آواز نکلتی تھی اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ب عض نے کہا اس نے ایک ہی دفعہ آواز نکالی اور بعض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 148–149

(148 ۔ 149) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) طور پر ہی تھے جب یہ واقع ہوا جس کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور وہ اس کو پوج کر گمراہ ہوگئے قوم بنی اسرائیل نے شادی کے بہانہ سے جب یہ لوگ مصر میں ہی تھے تو قوم قبطی سے کچھ زیور عاریۃ کے طور پر لیا تھا جو انہی لوگوں کے پاس رہ گیا کیونکہ فرعون مع اپنی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اسی زیور کا سامری نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو آتے جاتے دیکھ کر ان کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی ایک مٹھی اٹھا کر اس گائے کے بچھڑے کے منہ میں ڈال دی وہ بولنے لگا۔ خوار گائے کی آواز کو کہتے ہیں اس گائے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 146–149

متکبہ لو گ حق سے محروم ہیں قول باری ہے ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق۔ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں پڑے بنتے ہیں) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ میرے عزوشرف کی وہ نشانیاں جو دلالت کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں اور ان کا علم دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی درجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں میری آیات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے روک دیا جائے گا یعنی یہ لوگ ان آیات کو جھٹلا نہیں سکیں گے اور نہ ہی لوگوں کے سامنے انہیں ظاہر ہونے سے روک سکیں گے۔ آیت کا یہ مفہوم لینا درست نہیں کہ میں انہیں ان آیات پر ایمان لانے سے روک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

197 کفر و شرک سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا۔ یعنی محض ایک دھڑ اور پتلا جس میں گائے کی سی ایک آواز تھی اور بس۔ سو وہ بچھڑا بھی سچ مچ کا بچھڑا نہ تھا۔ بلکہ محض ایک خود ساختہ دھڑ تھا جس سے ایک بےمعنیٰ سی آواز نکلتی تھی اور بس۔ اس پر یہ لوگ لٹو ہوگئے اور اس کو انہوں نے معبود قرار دے دیا۔ اور جن کا معبود یہ ہوگا وہ خود کیا ہوں گے { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ } سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک سے انسان کی مت کس قدر مار دی جاتی ہے اور وہ ایسی حرکات کا ارتکاب کرنے لگتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 148–151

رکوع نمبر 18: آیات 148 ۔ تا۔ 151: اسرارو معارف : موسی (علیہ السلام) کی قوم کا حال سنیں کہ جب انہوں نے اتباع نبوت کے مقابلے میں اپنی عقل پر بھروسہ کیا تو عجیب گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ سامری نام کا ایک مشہور آدمی تھا اس نے سب سے سونا چاندی جمع کرکے اسے پگھلایا اور اس میں وہ مٹی ڈال جو وہ جبرائیل امین کی سواری کے قدموں سے اٹھالایا تھا چناچہ ایک بچھڑے کو بنا دیا جس میں کسی حد تک زندگی کا اثر تھا دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یہی قصہ سورة طحہٰ میں بھی بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرئیل کے پاس قبیطوں کے زیورات تھے جنہیں وہ مصرے سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لے آئے تھے، جب حضرت موسیٰ ٰ طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامریے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انہیں آگ میں گلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا اس آیت میں اس مجسمہ بنانے کو خود بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ سامری نے ان کی اجازت اور رضامندی سے بنایا تھا اور وہ اپنے لیے اس قسم ایک معبود کی خواہش رکھتے تھے ( ابن کثیر، کبیر) مفسرین (رح) کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا بچھڑا واقعی گوشت پوست اور خون کا بن گیا تھا۔ او اس میں جان پڑگئی تھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:148) اتخذ۔ بنا لیا۔ اختیار کرلیا۔ پسند کرلیا۔ ٹھہرا لیا۔ حلیم۔ ان کے زیورات۔ ان کے گہنے۔ حلی حلی کی جمع ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ حلی حلی (سمع) آراستہ ہونا۔ حلی آراستہ کرنا۔ یحلون فیہا اساور من ذھب (18:31) ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ عجلا۔ گائے کا بچھڑا۔ گوسالہ۔ جسدا۔ خون و گوشت رکھنے والا۔ یا ڈھانچہ بغیر روح کے۔ لہ خوار۔ گائے کی آواز (اس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی) ۔ (جب حضرت موسیٰ میقات رب کی خاطر طور پر گئے ہوئے تھے تو سامری نے بنی اسرائیل سے زیورات لے کر بچھڑے کا سا مجسمہ بنایا۔ جو گائے کی سی آواز نکالتا تھا) اتخذوہ۔ ای اتخذوہ الہا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 148–149

تشریح آیت نمبر 148 تا 149 بنی اسرائیل سیکڑوں سال کئی نسلوں تک مصر میں بت پرست قوموں کے ساتھ رہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) آتے رہے ان کی اصلاح فرماتے رہے مگر جب بھی ان کی تعلیمات سے غفلت برتتے تو پھر سے بت پرستی کر طرف مائل ہوجاتے چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور ان کے معجزات ، جن میں سمندری میں راستے بن جانا فرعون اور اس کی قوم کا غرق ہونا بنی اسرائیل کا صاف بچ کر نکل آنا وغیرہ کچھ عرصہ کا اثر رہا اس کے بعد پھر ان کی طبیعت لہرائی خصوصاً جب کہ انہوں نے جزیرہ نمائے سینا میں سامیوں کے عظیم الشان بت خانے دیکھے ھالان کہ فرعونیوں کے ظلم و ستم سے رہائی پائے ہوئے انہیں بس دو تین مہینے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر ہی تھے جب یہ واقعہ ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور اس کو پوج کر گمراہ ہوگئے۔ قوم بنی اسرائیل نے شادی کے بہانے سے جب یہ لوگ مصر میں ہی تھے قوم قبط سے کچھ زیور عاریۃ کے طور پر لیا تھا جو انہیں لوگوں کے پاس رہ گیا۔ کیونکہ فرعون مع اپنی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا۔ اس زیور کا سامری نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا، اس کے جسم سونے کا جوں کا توں رہا اس میں روح وغیرہ کچھ نہ تھی۔ اس کے منہ کے اندر ہوا کی آمد و رفت سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی اور کوئی حرکت وغیرہ نہ تھی۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 147–150

[56] موسیٰ (علیہ السلام) ابھی کوہ طور پر ہی تھے کہ آپ کو بذریعہ وحی الٰہی قوم کی گمراہی کا حال معلوم ہوگیا تھا جیسا کہ سورة طہٰ آیت 85 صفحہ 728 میں بصراحت مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 148–149

بچھڑا : (ف 1) سامری کی گمراہ کن تعلیم سے متاثر ہو کر بنی اسرائیل نے گوسالہ کی پرستش شروع کردی جس میں سے ایک قہم کی آواز آتی تھی سامری ہوشیار آدمی تھا اس نے اسے کچھ اس ترکیب سے بنایا کہ وہ بولنے لگا ہوا اس طرح اس کے منہ سے خارج ہوتی کہ آواز معلوم ہوتی ، بنی اسرائیل سادہ اور سہل اندیش تھے ، اس لئے انہیں گوسالہ ایک معجزہ معلوم ہوا ، دل میں پہلے سے بت پرستی کی خواہش تھی ، تفصیلات اب تک پہنچی نہیں تھیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی چیخ و پکار کو انہوں نے زیادہ اہمیت نہ دنی نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کی قوم شرک کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوں نے یہ نہیں سوچا یہ گفتگو تو کرتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

148 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ان زیورات کو جو وہ قبطیوں کے مصر سے لیکر نکلے تھے گلاکر ایک گائے کا بچھڑا بنالیا جو محض ایک مجسمہ تھا اور اس میں سے صرف بچھڑے کی آواز نکلتی تھی انہوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہ بچھڑا نہ تو ان سے کوئی کلام کرسکتا ہے نہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو کوئی راہ بتاسکتا ہے۔ نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے باوجود اس کے انہوں نے اس مجسمہ کو معبود ٹھہرالیا اور اس کو خدا بناکر پرستش شروع کردی اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے ہی بےانصاف۔ یعنی اس سے بڑھ کر کیا ناانصافی اور ظلم ہوگا کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم بنی اسرائیل کی اکثریت بچھٹرے کی پوجا پر لگ گئی جس کا ڈھانچہ سامری نے بنایا تھا : 162: بنی اسرائیل مصر کی بت پرستی سے اس درجہ مالوف ہوچکے تھے کہ رہ رہ کر انہیں اس کا شوق ہوتا۔ جو نہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے ان سے الگ ہوئے انہوں نے گائے کے بچھڑے کی ایک مورتی بنا کر اس کی پوجا شروع کردی تورات میں ہے کہ یہ مورتی حضرت ہارون نے بنائی تھی ( خروج 32: 1 , 3) لیکن قرآن کریم نے اس کی تصریح کردی کہ یہ کارستانی بنی اسرائیل کے ایک سردار سامری نامی کی تھی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا دامن اس سے پاک ہے ( طہٰ 20 : 9) ہارون (علیہ السلام) تورات کے پیغمبر تھے اور پیغمبر ایسا فعل کیسا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The next verses continue to narrate the remaining part of the story. When the prophet Musa (علیہ السلام) did not turn up after thirty days from the mount of Sinai where he was to be ordained by Allah after passing ten more nights on the mount, the Israelites who were a hasty and impatient people began to make fuss about it. Among them there was a person named Samiri who was a prominent man, but at the same time, had beliefs in superstitions. He said to the people that the jewels and ornaments of the Egyptians possessed by them were not permissible for them. It may be noted that the plunder…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

106. Here reference is made to the forty days which Moses spent on Mount Sinai in compliance with God's command when his people remained in the plain at the foot of the mountain called Maydan al-Rahah. 107. Their cow-worship was another manifestation of the Israelites' slavish attachment to the Egyptian traditions at the time of the Exodus. It is well-known that cow-worship was widespread in Egypt and it was during their stay there that the Israelites developed this strange infatuation. The Qur'an also refers to their inclination to cow-worship: 'Their hearts were overflowing with love for…

Read the full tafseer →