Explained with ayahs 115–116
جادوگروں سے مقابلہ
جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
سورة الْاَعْرَاف 90
یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے کہ عصا ان لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا جو جادوگروں نے پھینکی تھیں اور سانپ اور اژد ہے بنی نظر آرہی تھیں۔ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ عصا نے سانپ بن کر ان کے اس طلسم فریب کو نگلنا شروع کردیا جو انہوں نے تیار کیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانپ جدھر جدھر گیا وہاں سے جادو کا وہ ا ثر کافور ہوتا چلا گیا جس کی بدولت لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح لہراتی نظر آتی تھیں، اور اس کی ایک ہی گردش میں جادوگروں کی ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر رہ گئی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طہٰ ، حاشیہ 42)۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۔ القاء کے معنی ڈالنے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ جب میدان مقابلہ میں پہنچے تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ یا تو آپ پہلے ڈالیں یا ہم پہلے ڈالنے والوں میں سے ہوجائیں۔ جادوگروں کا یہ کہنا اپنی بےفکری اور بڑائی جتانے کے لئے تھا کہ ہمیں اس کی پرواہ نہیں کہ ابتداء ہماری طرف سے ہو، کیونکہ ہم ہر حالت میں اپنے فن پر اطمینان رکھتے ہیں۔ ان کے انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ چاہتے تو یہی تھے کہ پہلا وار ان کا ہو مگر اظہار قوت کے لئے حضرت موسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ پہل آپ کرنا چاہتے ہو یا ہم کریں۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۔ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۔
حضرت موسیٰ کا اعتماد اللہ پر : ساحروں نے اپنے پیشہ وارانہ اخلاق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگرچہ پیش کش تو حضرت موسیٰ کو کی کیہ وہ چاہیں تو پہلے اپنا فن دکھائیں لیکن دبی زبان سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ وہ پہل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت موسیٰ نے پہلے انہی کو موقع دیا کہ وہ اپنا ہنر دکھائیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ کو پورا اعتماد تھا کہ انہیں خدا کی تائید حاصل ہے اس وجہ سے یہ ساحر…
Read the full tafseer →115۔ 1 جادوگروں نے یہ اختیار اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے دیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے جادو کے مقابلے میں موسیٰ ؑ کا معجزہ جسے وہ ایک کرتب ہی سمجھتے تھے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اگر موسیٰ ؑ کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کا موقع دے بھی دیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم اس کے کرتب کا توڑ بہر صورت مہیا کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
54: جا دو گروں کو جمع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔
Read the full tafseer →جادوگر اجر کے بارے میں مطمئن ہوگئے اور فرعون کی ہمنشینی کی لالچ میں ان کی گردنیں بلند ہوگئیں اور مقابلے کے لئے تیار ہوگئے۔ اب یہ حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور آپ کو چلینج دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ اس مقام بلند تک جا پہنچتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور جس کے بارے میں انہیں تصور بھی نہ تھا اور وہ اس اجر کے مستحق قرار پائے جس کی انہیں توقع ہی نہ تھی۔
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْن۔ پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔ تم ہی پھینکو۔
انہوں نے اختیار حضرت موسیٰ کو دے…
Read the full tafseer →5 یہ شاید اس بناء پر کہا کہ پیشتر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے روبرو عصا ڈال کر باذن اللہ اژدھا بنا چکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
آیت 114 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ
تمہیں مالی فوائد اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا اور دربار میں بڑے بڑے مراتب و مناصب بھی عطا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کھلے میدان میں بہت بڑے عوامی اجتماع کے سامنے یہ مقابلہ شروع ہوا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگر ایک دوسرے کے سامنے آگئے تو :
Read the full tafseer →116 جادوگروں کو چونکہ یہی بتلایا گیا تھا کہ ان کا ایک بڑے جادوگر سے مقابلہ ہے لہذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی عزت و تکریم کی خاطر یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھی جیسا کہ ایسے مقابلے کے وقت یہی دستور رائج تھا۔
Read the full tafseer →151 ۔ اب بیان ایک دوسرے منظر کا ہورہا ہے۔ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوچکی ہے۔ اس تاریخ پر سب میدان میں جمع ہوئے ہیں۔ قرآن مجید شعر بلیغ کی طرح درمیانی مضامین کی جو از خود سمجھ میں آسکتے ہیں صراحت نہیں کرتا۔ انہیں چھوڑ کر دوسری منزل بیان کردیتا ہے۔ ساحر اس وقت تک موسیٰ (علیہ السلام) نبی کو بھی اپنے ہی طرح کا ایک ماہر فن ساحر سمجھ کر گویا کہہ رہے ہیں کہ مقابلہ ہمارے تمہارے فن کا تو اب ہو ہی رہا ہے۔ اب یہ بتلاؤ شروع کون کرے گا ؟ کرکٹ کی اصطلاح میں پہلی ایننگز (innings) کس کی ہوگی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–119
یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک…
Read the full tafseer →قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملتقین : پھر جادوگروں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا یا آپ (پہلے) ڈالئے اور یا ابتداء میں ڈالنے والے ہم پر ہی ہوں۔
وَجَاء السَّحَرَۃَیعنی سپاہیوں اور کارندوں کے ساتھ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ قالوا یہ جملۂ استینافیہ ہے ایک محذوف سوال کا جواب ہے گویا کسی نے پوچھا ‘ پھر جادوگروں نے کیا کہا تو جواب دیا کہ جادوگروں نے یہ بات کہی۔ اِنَّ لَنَا لَاَجْرًایہ کلام خبری ہے یعنی اگر ہم غالب آجائیں تو ہمارا حق الخدمت بہت بڑا ہے۔ وَاِنَّکُمْ لمِنَ الُمَقِّرِبِیْنَاس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی فرعون نے کہا تمہارا حق الخدمت بہت بڑا ہوگا اور تم میرے مقربوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔
سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔
وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ : ”اَرْھَبَ یُرْھِبُ“ کا معنی ہے ڈرانا، خوف زدہ کرنا، ”وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”سخت خوف زدہ“ کیا ہے۔ جادوگروں نے اپنے غلبے کے یقینی اور موسیٰ ؑ کے معجزے کو لوگوں کے سامنے بےوقعت ظاہر کرنے کے لیے پوچھا کہ تم پہلے اپنا معجزہ پیش کرو گے یا ہم اپنے جادو کے ہتھیار پیش کریں ؟ موسیٰ ؑ نے ان سے بڑھ کر شان بےنیازی سے فرمایا کہ تمہیں جو کچھ پیش کرنا ہے سب پیش کرلو۔ چونکہ مقابلے میں جس کی پہل ہو اسے ایک قسم کی برتری پہلے ہی حاصل ہوتی ہے، تم اس برتری سے فائدہ اٹھا لو، چناچہ انھوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں تو ہر طرف زمین پر سانپ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
آیت نمبر : 115۔ 117
وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ادب سے پیش آئے تو یہی ان کے ایمان کا سبب بن گیا اور ان کسائی اور فراء کے نزدیک محل نصب میں ہے، معنی یہ ہے اما ان تفعل الالقائ ( یا آپ ڈالیں) اور اسی کی مثل شاعر کا یہ قول بھی ہے :
قالوا الرکوب فقلنا تلک عادتنا
قال القو فراء نے کہا ہے : کلام میں حذف ہے اور معنی یہ ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا بلاشبہ تم ہر گز اپنے رب پر غالب نہیں آسکو گے اور تم ہر گز اس کی آیات اور نشانیوں کو باطل نہیں کرسکو گے۔ اور یہ قرآن کریم کے اس معجزہ میں سے ہے کہ اس کی مثل لوگوں کا کلام نہیں ہو سکتا اور نہ وہ اس پر قادر ہو سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے تھوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–126
(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔
فرعون کے جادوگروں کی تعداد
(3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔
(4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ قَالُوْا : (جادوگر) بولے ] [ يٰمُوْسٰٓي : اے موسیٰ ] [ اِمَّآ : یا تو ] [ اَنْ : یہ کہ ] [ تُلْقِيَ : آپ ڈالیں ] [ وَاِمَّآ : اور یا پھر [ اَنْ : یہ کہ ] [ نَّكُوْنَ : ہم ہوں ] [ نَحْنُ : کہ ہم ہی [ الْمُلْقِيْنَ : ڈالنے والے ہوں ]
ترکیب : (آیت ۔ 115) اس آیت میں جو اما ہے یہ ان اور ما کا مرکب نہیں ہے ۔ (آیت 38 ترکیب) بلکہ یہ ایک لفظ ہے۔ یہ بھی شرطیہ ہے اور دو فعلوں پر آتا ہے ۔ اس کا ترجمہ عام طور پر ” یا تو ۔۔ اور یا پھر “ کیا جاتا ہے ۔ نکون نحن الملقین ، میں نحن ضمیر فاصل ہے اور نکون کی خبر ہونے کی وجہ سے الملقین حالت نصب میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →112: جب مقررہ تاریخ پر متعینہ جگہ میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور فرعون مع امراء و مقربین اور تمام جادوگر پہنچ گئے اور مقابلہ شروع ہونے لگا تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا پہلے آپ لاٹھی پھینکیں گے یا ہم پہلے اپنا کمال پیش کریں۔ “ قَالَ اَلْقُوْا ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پہلے تم پھینکو جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ چونکہ وہ جادوگروں کے مکر و فریب کا ابطال چاہتے تھے اور وہ اسی صورت میں زیادہ مؤثر تھا کہ وہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پہلے ڈالتے۔ اس لیے فرمایا پہلے تم اپنا جوہر دکھاؤ۔ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کان یردی ابطال ما اتوا بہ من السحر وابطالہ ما کان یمکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–119
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ 115
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–116
ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔
تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ ۔ قَالَ اَلْقُوْا ج فَلَمَّآ اَلْقَوْا اسَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَ جَآئُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ۔
(الاعراف : 115، 116)
” بولے اے موسیٰ یا تو پہلے تم پیش کرو یا ہم ہی پیش کرنے والے بنتے ہیں اس نے کہا تم ہی پیش کرو تو جب انھوں نے پیش کیا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر دہشت طاری کردی اور بہت بڑا کرتب دکھایا “۔
جادوگروں کے جادو کی حقیقت
جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم پہلے اپنے کمال فن کا اظہار کرو گے اور لوگوں کے سامنے اپنا ساحرانہ کارنامہ دکھائو گے اور یا اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–122
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔
سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…
Read the full tafseer →ساحروں کا موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام :
آیت 115: قَالُوْا یٰمُوْسٰٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ (ان جادوگروں نے کہا کہ اے موسیٰ ! یا تو آپ ڈالیں اپنی لاٹھی) وَاِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ (یا ہم ڈالنے والے ہوجائیں اس کو جو ہمارے پاس ہے) اس میں دلالت ہے کہ ان کی رغبت اس بات کی طرف تھی۔ کہ وہ پہلے ڈالیں۔ اس لیے متصل کی تاکید ضمیر منفصل سے لائے اور خبر کو بھی معرفہ لائے۔
Read the full tafseer →115(قالوا یموسی اما ان تلفی واما ان نکون نحن الملقین) اپنے عصا اور رسیاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
147 ابنائے دنیا کے نزدیک دنیا کا متاع فانی ہی سب کچھ : سو ان جادو گروں کی خست و دناءت ملاحظہ ہو کہ ایک طرف تو ان کے اپنے دین و مذہب اور ملک و ملت کے تحفظ و بقا کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف اس نازک موقع پر بھی وہ سب سے پہلے اپنے ذاتی اور دنیوی مفاد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ابنائے دنیا کا کہ ان کے نزدیک دنیا اور اس کا متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن صادق کے نزدیک اصل چیز متاع ایمان و یقین اور فوز و فلاح آخرت ہے۔ دنیا تو ساری بھی اس کے سامنے ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ سو اس سے اندازہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
جادو اور معجزہ میں فرق :
جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ف 1 دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنی لاٹھیا اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں جس سے زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے معلوم ہونے لگے یخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعی، اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بد جاتی صرف دیکھتے میں وہ ایک دوسری چیز نظر آتی ہے اس کے بر عکس معجزہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اس لیے اس میں ایک چیز کی حقیقت بھی بدل سکتی ہے۔
Read the full tafseer →(7:115) اما۔ یہ کئی معنی دیتا ہے۔ (1) حرف تفصیل ہوتا ہے جیسے انا ھدینہ السبیل اما شاکرا واما کفروا (76:3) ہم نے انسان کو راستہ دکھلا دیا۔ اب وہ شکرگزار بندہ بنے یا ناشکرا۔
(2) شک و ابہام کے موقع پر بھی آتا ہے جیسے جاء اما زید واما عمرو۔ یا تو زید آیا ہے یا عمرو گویا یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں میں سے کون آیا ہے۔
(3) اباحت اور تخییر کے معنی بھی دیتا ہے۔ جیسے آیۃ ۃذا۔ نیز ملاحظہ ہو 7:35
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔
اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–126
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت
مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
[44] جس سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔
اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…
Read the full tafseer →115 اس ابتدائی گفتگو کے بعد اہل شہر کا اجتماع ہوا موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگر مقابلہ میں آئے تو جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو آپ پہلے جو کچھ ڈالناہو ڈال دیجئے یا ہم پہلے ڈال دیں یعنی یا تو آپ اپنا کر تب دکھانے کی ابتداء کریں یا ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم پہل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔
Read the full tafseer →ساحروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ ہماری باری ہے یا آپ کی ؟
126: ساحر چونکہ اس وقت تک اپنی ہی طرح ایک ماہر فن خیال کرتے تھے اس لئے وہ بولے کہ اے موسیٰ ! مقابلہ ہمارے تمہارے فن کا تو ہو ہی رہا ہے اب بتائو کہ اس مقابلہ کو شروع کون کرے گا ؟ پہلی اننگ کس کی ہوگی ؟ آپ کی یا ہماری ؟ غور کرو کہ ایک طرف ساحران مصر کا جم غفیر تھا جس کی پشت پناہی وقت کی ایک ظالم حکومت کر رہی تھی اور دوسری طرف موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) ایک مظلوم اور غلام قوم کے نمائندے تھے جن کے پاس ظاہری سازو سامان سے کوئی چیز نہ تھی لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑی دلیری سے ان کو جواب دیا خاموش منہ نہیں دیکھتے…
Read the full tafseer →They said,
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ ﴿115﴾
"0 Musa either you throw (first) or shall we be the ones to throw."
The Arabic word:'' اِلقَا ‘ ء ! 'ilga' means to drop something down. On the day of encounter the sorcerers asked the prophet Musa (علیہ السلام) if he would drop down his staff first or should they throw theirs first? This question of the sorcerers was perhaps to show their complacency about their art, though the mode of their sentence indicated that they wanted to start first, but for giving an impression of power to their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
90. It would be a mistake to believe that the rod of Moses swallowed up the rods and ropes cast by the other sorcerers and which had looked like serpents. The Qur'anic statement means that the rod of Moses swallowed up the falsehood faked by them. This clearly shows that wherever Moses' rod moved, it destroyed the magical effect which had caused the transformation of their ropes and rods. One blow of Moses' rod caused every other rod to revert to a rod, and every rope to revert to a rope. (For further elaboration see Tafhim al-Qur'an, Ta Ha 20, n. 42)
Read the full tafseer →