Al-A'raaf 7:114

Al-A'raaf · from ayah 114

7:114

قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۟قَالَ نَـعَمۡ وَاِنَّكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ

(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Yes, and, [moreover], you will be among those made near [to me]."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:114

فرعون نے جواب دیا "ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون نے کہا : ہاں، اور تمہارا شمار یقینا ہمارے مقرب لوگوں میں (بھی) ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا ہاں اور اس وقت تم مقرب ہوجا ؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرعون نے کہا: ہاں! اور بیشک (عام اُجرت تو کیا اس صورت میں) تم (میرے دربار کی) قربت والوں میں سے ہو جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا ہاں ! اور یقینا تم ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون نے کہا۔ ہاں اور میرے دربار میں منصب بھی ملیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرعون نے کہا، ہاں بےشک، اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہوگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرعون نے جواب دیا ہاں، اور (اس سے بڑھ کر یہ کہ) اس صورت میں تم ہمارے مقربین میں شامل ہوجاؤ گے،

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور تم (ہمارے) مقربوں میں (داخل) ہوجاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا ہاں اور (انعام کے علاوہ) تم مقربین میں بھی شامل کرلیے جاؤ گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون نے کہا ہاں ! ضرور اور تم مقربوں میں شامل کرلیے جاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh replied: 'Certainly, and you shall be among those who are near to me.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Yes, and of course, you will be among the closer ones (to me).

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Yes, and of course, you will be among the closer ones (to me).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Yes, and moreover you will (in that case) be of the nearest (to me)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He answered: Yes, and surely ye shall be of those brought near (to me).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Yes, and, [moreover], you will be among those made near [to me]."

— Saheeh International

The Pharaoh replied, "In addition to your rewards, you will become my close friends thereafter."

— Muhammad Sarwar

He said: Yes, and you shall certainly be of those who are near (to me).

— Muhammad Habib Shakir

He said: yea! and verily ye shall be of those brought nigh.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Yea, (and more),- for ye shall in that case be (raised to posts) nearest (to my person)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:114

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 113–114

جادو گروں نے پہلے ہی فرعون سے قول وقرار لے لیا تاکہ محنت کالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کیلئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ یہ قول وقرار لے کر میدان میں اتر آئے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 113–117

سورة الْاَعْرَاف 90 یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے کہ عصا ان لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا جو جادوگروں نے پھینکی تھیں اور سانپ اور اژد ہے بنی نظر آرہی تھیں۔ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ عصا نے سانپ بن کر ان کے اس طلسم فریب کو نگلنا شروع کردیا جو انہوں نے تیار کیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانپ جدھر جدھر گیا وہاں سے جادو کا وہ ا ثر کافور ہوتا چلا گیا جس کی بدولت لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح لہراتی نظر آتی تھیں، اور اس کی ایک ہی گردش میں جادوگروں کی ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر رہ گئی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طہٰ ، حاشیہ 42)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 113–114

وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ ، قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ، یعنی لوگوں کے مشورہ کے مطابق ملک بھر سے جادوگروں کے جمع کرنے کا انتظام کیا گیا، اور یہ جادوگر فرعون کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ اگر ہم موسیٰ پر غالب آگئے تو ہمیں اس کی کچھ اجرت اور انعام بھی ملے گا ؟ فرعون نے کہا کہ اجرت بھی ملے گی اور اس پر مزید یہ انعام ہوگا کہ تم سب) ہمارے مقربین میں داخل ہوجاؤ گے۔ یہ جادوگر جو حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلہ کے لئے ملک بھر سے جمع کئے گئے تھے) ان کی تعداد میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ نو سو (900) سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 113–114

وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ۔ یہاں قرآن نے اپنے معروف طریقہ کے مطابق سرگزشت کا غیر ضروری حصہ نظر انداز کردیا ہے۔ یعنی درباریوں کی اس اصلاح کے بموجب فرعون نے مملکت کے تمام شہروں کو ہر کارے دوڑائے جو ہر جگہ سے ماہر فن جادوگروں کو جمع کر کے لائے اور ان کو فرعون کے دربار میں حاضر کیا۔ چونکہ یہ بات موقع کلام سے خود واضح تھی اس وجہ سے اس کو نظر انداز کر کے آگے کی بات لے لی کہ ساحروں نے سامنے آتے ہی پیشہ وروں کے عام طریقے کے مطابق خوشامدانہ انداز میں اپنے اس ارمان اور توقع کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے بازی جیتی تو سرکار سے بڑا انعام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

114۔ 1 جادوگر، چونکہ طالب دنیا تھے، دنیا کمانے کے لئے ہی شعبدہ بازی کا فن سیکھتے تھے، اس لئے انہوں نے موقع غنیمت جانا کہ اس وقت تو بادشاہ کو ہماری ضرورت لاحق ہوئی ہے کیوں نہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ اجرت حاصل کی جائے۔ چناچہ انہوں نے اپنا مطالبہ اجرت، کامیابی کی صورت میں پیش کردیا، جس پر فرعون نے کہا کہ اجرت ہی نہیں بلکہ تم میرے مقربین میں بھی شامل ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 112–119

54: جا دو گروں کو جمع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 113–114

قرآن کریم اب درمیانی تفصیلات چھوڑ کر ایک دوسرے منظر کو پیش کرتا ہے کہ کس طرح فرعون کے ٹولے نے لوگوں کو جمع کیا اور کن کن کو جمع کیا بلکہ پردہ اٹھتے ہی جادوگر سامنے آجاتے ہیں اور یہ قرآن کریم کا بیان کردہ قصص میں نہایت ہی موثر اور پیارا اسلوب ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک منظر کو لپیٹ کر دوسرا منظر سامنے لایا جاتا ہے۔ وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ۔ چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا " اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟ " فرعون نے جواب دیا " ہاں ، اور تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مزدوری کیا چیز ہے وہ تو ملے گی، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ہمارے مقربین بارگاہ اور مصاحبین خاص میں داخل کرلیے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 114–115

آیت 114 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ تمہیں مالی فوائد اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا اور دربار میں بڑے بڑے مراتب و مناصب بھی عطا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کھلے میدان میں بہت بڑے عوامی اجتماع کے سامنے یہ مقابلہ شروع ہوا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگر ایک دوسرے کے سامنے آگئے تو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

115 جادوگروں سے مقابلہ :۔ مقابلے کے لیے عید کا دن طے ہوا جس میں عوام الناس کو بھی شمولیت کی عام دعوت دی گئی تھی اس بھرے مجمع میں فرعون اپنے سب درباریوں سمیت حاضر ہوا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا ہارون (علیہ السلام) بھی بروقت پہنچ گئے اور جادوگروں کو چونکہ شاہی دربار سے بلاوا آیا تھا لہذا انہوں نے آتے ہی یہ سوال کردیا کہ انہیں ان کے ایسے بڑے مقابلہ کرنے کے عوض کچھ مزدوری بھی ملے گی ؟ اسی ایک بات سے ایک جادوگر اور ایک نبی کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ جادوگر جو کچھ کرتا ہے اپنے پیٹ کی خاطر کرتا ہے اور یہی اس کا پیشہ ہوتا ہے جبکہ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ اپنی قوم سے یہی کہتے رہے کہ ہم تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–119

یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال نعم وانکم لمن المقربین : فرعون نے کہا ہاں (بہت بڑا انعام ملے گا) اور (مزید یہ کہ) تم مقرّب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–122

(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ : فرعون نے اجرت کا بلکہ مقربین میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ فرعون کی بات پوری ہوئی مگر ان کے لیے وہ اجرت اور مقرب ہونا فرعون کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مقدر تھا، اللہ کی شان دیکھیے کہ خدائی کے دعویدار کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ انھیں اجرت اور قرب کس کی طرف سے ملنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 113–114

آیت نمبر : 113۔ 114 قولہ تعالیٰ : وجاء السحرۃ فرعون اس میں بھیجنے کا ذکر حذف کردیا گیا ہے، کیونکہ سامع کو اس کا علم ہے۔ ابن عبدالحکم نے کہا ہے : وہ بارہ نقیب تھے، ہر نقیب کے ساتھ بیس عریف تھے اور ہر عریف کے ماتحت ایک ہزار جادوگر تھے۔ اور مقاتل بن سلیمان کے قول کے مطابق ان کا سردار شمعون تھا۔ ابن جریج نے بیان کیا ہے : وہ نو سو افراد تھے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 438) جو عریش، فیوم اور اسکندریہ سے تین تین سو تعلق رکھتے تھے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے : وہ پندرہ ہزار جادو گر تھے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 438) ، اور ہب سے مروی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ بارہ ہزار تھے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–126

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : اس نے کہا ] [ نَعَمْ : ہاں ] [ وَاِنَّكُمْ : اور بیشک تم لوگ ] [ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ : یقینا قریب کیے ہوؤں میں سے ہوگے ] نوٹ ۔ 1: یہ بات نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصے میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے ۔ ایک وہ جس کے زمانے میں آپ پیدا ہوئے اور اسی کے گھر میں پرورش پائی ۔ اس کا نام رعمسیس تھا ۔ دوسرا اس کا بیٹا منفتاح ہے۔ یہ اس وقت حکمران تھا جب موسیٰ اسلام کی دعوت لے کر مصر پہنچے تھے اور یہی غرق ہوا تھا ۔ نوٹ۔ 2:ـ چند قوموں اور ان کے پیغمبروں کا حوالہ دینے کے بعد اب موسیٰ اور فرعون کا واقعہ قدرے تفصیل سے بیان کیا جارہا ہے ۔ اس میں متعدد مضامین اور اسباق ہیں ۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 104–116

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 113–114

111: ملک کے مشہور اور ماہر جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہوئے تو عرض کی اگر ہم مقابلے میں غالب آگئے تو ہمیں انعام تو ضرور ملے گا۔ “ قَالَ نَعَمْ الخ ” فرعون نے کہا صرف انعام ہی نہیں ملے گا بلکہ اس کے علاوہ تمہیں میرے دربار کا تقرب بھی حاصل ہوگا اور میرے یہاں تمہاری بہت زیادہ قدر و منزلت اور عزت افزائی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 109–119

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۝ 114 نعم (هاں) و «نَعَمْ» كلمةٌ للإيجابِ من لفظ النِّعْمَة، تقول : نَعَمْ ونُعْمَةُ عَيْنٍ ونُعْمَى عَيْنٍ ونُعَامُ عَيْنٍ ، ويصحُّ أن يكون من لفظ أَنْعَمَ منه، أي : أَلْيَنَ وأَسْهَلَ. نعم یہ کلمہ ایجاب ہے اور لفظ نعمت سے مشتق ہے ۔ اور نعم ونعمۃ عین ونعمیٰ عین ونعام عین وغیرہ ان سب کا ماخز نعمت ہی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام مرکبات انعم سے ماخوذ ہوں جس کے معنی نرم اور سہل بنانے کے ہیں ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–116

ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔ تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 113–114

وَجَآئَ السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَا لُوْآاِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ (الاعراف : 114، 113) ” جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے کہنے لگے بڑا صلہ ملے گا ہمیں اگر ہم ہی غالب رہے۔ فرعون نے کہا ہاں بیشک اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہو گے “۔ جادوگروں کی ذہنی سطح جادوگروں نے جس آرزو اور خواہش کا اظہار کیا ذرا اس پر غور فرمایئے کہ فرعون اور آل فرعون کے سامنے ملکی بقا کا سوال ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون ہم سے ملک اور حکومت چھین لینا چاہتے ہیں اتنے بڑے سنجیدہ خطرے کو محسوس کرتے ہوئے انھوں نے ملک کے نامور جادوگروں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–122

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 114: قَالَ نَعَمْ (فرعون نے کہا ہاں) بیشک تمہیں ضرور بدلہ ملے گا۔ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہوجائو گے) میرے ہاں تم سب سے اول داخل ہونے والے اور سب سے آخر نکلنے والے ہو گے ان کی تعداد 80 ہزار یا 70 ہزار یا 34، 35 ہزار تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 113–115

147 ابنائے دنیا کے نزدیک دنیا کا متاع فانی ہی سب کچھ : سو ان جادو گروں کی خست و دناءت ملاحظہ ہو کہ ایک طرف تو ان کے اپنے دین و مذہب اور ملک و ملت کے تحفظ و بقا کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف اس نازک موقع پر بھی وہ سب سے پہلے اپنے ذاتی اور دنیوی مفاد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ابنائے دنیا کا کہ ان کے نزدیک دنیا اور اس کا متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن صادق کے نزدیک اصل چیز متاع ایمان و یقین اور فوز و فلاح آخرت ہے۔ دنیا تو ساری بھی اس کے سامنے ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ سو اس سے اندازہ کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 113–116

ف 1 دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنی لاٹھیا اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں جس سے زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے معلوم ہونے لگے یخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعی، اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بد جاتی صرف دیکھتے میں وہ ایک دوسری چیز نظر آتی ہے اس کے بر عکس معجزہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اس لیے اس میں ایک چیز کی حقیقت بھی بدل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 112–114

(7:112) یاتوک بکل ساحر علیم۔ کہ وہ لے آئیں تمہارے پاس تمام سرکردہ ماہر جادو گروں کو ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–122

لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔ اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–126

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–115

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔ اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

114 فرعون نے جادوگروں کو جواب دیا ہاں انعام تو ملے ہی گا اور تم شاہی مقربین میں بھی شامل کرلئے جائوگے اور ہمارے مقرب بن جائو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 108–115

ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے ان کے ” دوپٹہ “ ہونے کا یقین ان کو دلوایا : 125: فرعون جو نبوت کی پہلی ہی عتاب آلود نگاہ سے لرزہ براندام تھا یہ تسلی آمیز الفاظ سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کہنے لگا کہ میں تمہارے سر کا دوپٹہ ہوں اس سے زیادہ اور آپ کو کیا چاہئے ؟ ظاہر ہے کہ جو بادشاہ سلامت کا مقرب ہو اس کے لئے اس سے زیادہ بڑا اعزاز وانعام اور کیا ہو سکتا ہے ؟ وزیر بلاشبہ وزیر ہوتا ہے لیکن اگر کوئی بادشاہ کا میرز ہوجائے تو کوئی وزارت اس سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ گویا فرعون نے اپنے مقرب بنا لینے کا وعدہ ان سے کیا تھا جو ان کے لئے انعامات کی مقدار مقرر کرنے سے ہزار بار بہتر تھا بشرطیکہ میدان کی جیت اس کے حصے میں آتی لیکن مشیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–114

Its diction and style so bewildered the Arabs that they instantly acknowledged a super human element in it. The sorcerers came to Pharaoh and said: إِنَّ لَنَا لَأَجْرً‌ا إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ "There must be a reward for us, if we are the victors." (113) He said, نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّ‌بِينَ "Yes, and of course, you will be among the closer ones." (114) The sorcerers were invited from all over the country. When they all came to Pharaoh they asked him of some reward if they gain victory over Musa (علیہ السلام) . He promised that in addition to their reward they shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

90. It would be a mistake to believe that the rod of Moses swallowed up the rods and ropes cast by the other sorcerers and which had looked like serpents. The Qur'anic statement means that the rod of Moses swallowed up the falsehood faked by them. This clearly shows that wherever Moses' rod moved, it destroyed the magical effect which had caused the transformation of their ropes and rods. One blow of Moses' rod caused every other rod to revert to a rod, and every rope to revert to a rope. (For further elaboration see Tafhim al-Qur'an, Ta Ha 20, n. 42)

Read the full tafseer →