Explained with ayahs 104–106
موسیٰ ؑ اور فرعون
حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 86
حضرت موسیٰ ؑ دو چیزوں کی دعوت لے کر فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی بندگی (اسلام) قبول کرے، دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کی قوم کو جو پہلے سے مسلمان تھی اپنے پنجہ ظلم سے رہا کر دے۔ قرآن میں ان دونوں دعوتوں کا کہیں یکجا ذکر کیا گیا ہے اور کہیں موقع و محل کے لحاظ سے صرف ایک ہی کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اسکے علاوہ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ، یعنی صرف یہی بات نہیں کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا بلکہ میرے دعوے پر دلیل میرے معجزات بھی ہیں۔ اس لئے ان سب چیزوں کا تقاضا یہ ہے کہ آپ میری بات سنیں اور مانیں، بنی اسرئیل کو مصنوعی غلامی سے نجات دے کر میرے ساتھ کردیں۔
Read the full tafseer →حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭقَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ۔
حَقِيْقٌ عَلٰٓي کا مفہوم : حقیق، حَقَّ اور حُقَّ سے فعیل کا وزن ہے اور معنی میں مفعول کے آتا ہے۔ اس کے معنی لائق، اہل اور سزاوار کے ہیں۔ مثلاً کہیں گے ھو حقیق بہ، وہ اس کا اہل اور سزاوار ہے۔ ھو حقیق ان یفعل کذا، وہ اہل ہے کہ فلاں کام سر انجام دے۔ اگر اس کے ساتھ علی آئے، جیسا کہ یہاں ہے تو، جیسا کہ صاحب اقرب الموارد نے تصریح کی ہے، اس کے معنی حریص کے ہوجائیں گے۔ میرے نزدیک اس کے ساتھ علی سے اس کے اصل مفہوم کے اندر یہ ایک اضافہ ہوجاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
15۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے۔
15۔ 2 بنی اسرائیل جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورة ، بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ نے فرعون سے دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جاکر عزت اور احترام کی زندگی گزاریں اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
52:: یہاں سے آیت نمبر : 162 تک حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب ؑ کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورة یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلالیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہوگئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر…
Read the full tafseer →حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۔ " میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں " اس لئے کہ جو رسول حقیقت الوہیت سے خبردار ہے وہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتا ہے کیونکہ وہ مقام خدائی اور مرتبہ کبریائی سے خبردار ہوتا ہے۔
" میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں " اور یہ ایسی دلیل ہے جو میری بات کی صداقت پر بین دلیل ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے ہوں "۔
اب اس عظیم حقیقت کے عنوان سے اور اللہ کی ربوبیت عامہ اور حاکمیت شاملہ کے نظریہ کے تحت حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ کیا کہ فرعون بنی اسرائیل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
5 اکثر مفسرین نے ' حقیق ' کے معنی جدیر (لائق) کے لیے ہیں۔ اسی لیے " علیٰ " کو بمعنی " باء " لینا پڑا ہے یعنی میری شان کے یہ ہی لائق ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی ناحق اور غلط بات نہ کہوں۔ بعض نے " حقیق " کو بمعنی " حریص " لیا ہے۔ لیکن مترجم محقق (رح) نے " حقیق " کو " قائم و ثابت " کے معنی میں لیا۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں بدون ادنیٰ تزلزل اور تذبذب کے پوری مضبوطی اور استقلال کے ساتھ اس پر قائم ہوں کہ سچ کے سوا کوئی چیز زبان سے نہ نکالوں، خدا کا پیام بلا کم وکاست تم کو پہنچا دوں اور تمہاری تکذیب و تخویف کی وجہ سے ذرا بھی نہ ڈگمگاؤں۔
6 یوں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو کئی طرح کی نصیحتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت 105 حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لآَّ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط
فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں بچایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا تھا اور محل کے ملازمین نے اسے اٹھا لیا تھا۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپ علیہ السلام کے قتل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
111 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون سے مطالبات :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے پاس پہنچ کر اسے دو باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں اور میرے اس بیان کی صداقت کے طور پر مجھے دو معجزے بھی عطا کیے گئے ہیں لہذا تم اپنی خدائی سے دستبردار ہو کر ایمان لے آؤ (جیسا کہ بعض دوسری آیات قرآنی میں اس کی وضاحت موجود ہے) اور دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو تاکہ میں انہیں یہاں سے فلسطین کی طرف لے جاؤں) ان دو آیات میں کئی امور قابل غور اور وضاحت طلب ہیں مثلاً :
1۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کیسے جرأت ہوئی کہ ایک اتنی عظیم الشان سلطنت کے…
Read the full tafseer →141 ۔ یعنی ایسا معجزہ جو تمہاری سمجھ میں بھی آجائے۔ (آیت) ” حقیق علی۔۔۔ الحق “۔ پیغمبر کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا وصف اس کی غیر متزلزل وغیر مشتبہ دیانت، اور امانت وراست بازی ہوتی ہے اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے متعلق سب سے پہلے اسی کو اعلان فرماتے ہیں حقیق۔ قیل معناہ جدیر وقیل واجب (راغب) (آیت) ” قد جئتکم “۔ صیغہ جمع مخاطب سے مراد کل فرعونی ہیں۔
142 ۔ بنواسرائیل اصلا ایک موحد قوم تھی اور اس وقت ایک مشرک تاجدار کے ظلم وستم کی تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔ اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا مطالبہ قدرۃ یہی ہے کہ میں ان موحدوں کو اس مشرکانہ وجاہلی فضا سے دور اور الگ لے جا کر ایک الگ خطہ زمین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ : ثم بعثنا۔۔۔۔۔ وملائہ (الآیۃ) ، یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے، جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے اور بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دیکر بھیجا گیا تھا، بنی اسرائیل اصالۃً ملک شام کے علاقہ فلسطین میں کنعان کے رہنے والے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے مصری وزارت مالیات کے زمانہ میں اپنے خاندان کو مصر بلا لیا تھا، یہ لوگ مصر آکر آباد ہوگئے اور یہیں کے ہو کر وہ گئے، اسی خاندان بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کیلئے آپ کو معجزے…
Read the full tafseer →حقیق علی ان لا اقول علی اللہ قد جئتکم بینۃ من ربکم فارسل معی بنی اسرائیل : (اللہ نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے) میرے لئے یہی زیبا ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں لہٰذا بنی اسرائیل کو (چھوڑ دے اور) میرے ساتھ (ارض مقدسہ کو) چلے جانے کے لئے آزاد کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
(103۔ 104۔ 105) ان رسولوں کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو نو معجزات دے کر بھیجا گیا، انہوں نے (یعنی بنی اسرائیل نے) معجزات کا انکار کیا تو ان مفسدوں کا انجام ہلاکت وتباہی ہوا فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا، میرے لیے یہی شایان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بغیر سچ کے اور کچھ منسوب نہ کروں، بنی اسرائیل کو بمع تمام مال کے میرے ساتھ بھیج دے۔
Read the full tafseer →حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ : کیونکہ میں اللہ کا رسول (پیغام پہنچانے والا) ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچا دے، اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے، لہٰذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہوگی۔ نافع کی قراءت میں ہے : ”حَقِیْقٌ عَلَیَّ أَلَّا أَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ إِلَّا الْحَقَّ“ اس صورت میں ”حَقیقُ“ کا معنی ہے واجب، یعنی مجھ پر واجب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ عاصم کی قراءت میں وہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں : (ۙحَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ) اس صورت میں ”حَقیق“ کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیت نمبر : 104۔ تا 112
حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…
Read the full tafseer →[ حَقِيْقٌ: لازم ہوں [ عَلٰٓي : (اس) پر ] [ اَنْ : کہ ] [ لَّآ اَقُوْلَ : میں نہ کہوں ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْحَقَّ : حق ] [ ۭقَدْ جِئْتُكُمْ : میں لایا ہوں تمہارے پاس ] [ بِبَيِّنَةٍ : واضح (نشانیاں) ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [ فَاَرْسِلْ : پس تو بھیج [ مَعِيَ : میرے ساتھ ] [ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کو ]
(آیت ۔ 105) حقیق علی ۔ گذشتہ آیت میں انی پر عطف ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ذکر بعثت موسیٰ (علیہ السلام) و مکالمۂ او با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ فاذاھی بیضاء للناظرین
(ربط) موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں سب سے پہلے ان کی بعثت کا واقعہ اور فرعون کے ساتھ ان کے مناظرہ اور مکالمہ کا ذکر فرماتے ہیں پھر ہم نے ان انبیاء مقدم الذکر کے بعد موسیٰ بن عمران کو اپنی نشانیاں دیکر یعنی معجزات اور دلائل نبوت دیکر فرعون اور اس کے قوم کے بڑے لوگوں کی طرف دعوت وتبلیغ کی خاطر بھیجا پس انہوں نے دلائل اور براہین رسالت یعنی معجزات کے ساتھ ظلم کیا معجزات کا حق یہ تھا کہ ان پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق سے اپنی اصلاح کرتے لیکن بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
107: یہ چھٹا واقعہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے اور یہاں سے شروع ہو کر رکوع 20 کے آخر میں “ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْن ” پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے مختلف آٹھ واقعات ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ہر واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عزیمت اور ان کے استقلال کی زندہ تصویر ہے۔ ان کے ذکر سے آنحضرت ﷺ کی تشجیع مقصود ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ بھی جرات اور بہادری سے مسئلہ توحید کی تبلیغ کریں اور اس کی وجہ سے آنے والے مصائب و مشکلات کا استقلال سے سامنا فرمائیں۔ پہلا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ربط آیات
اس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ انبیا (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کو جرات دلائی اور تسلی دی کہ ان قوموں کا حال پیش نظر رکھو اور تبلیغ دین کے لیے مستعد ہوجائو۔ پھر اللہ نے درمیان میں اقوام عالم کی عمومی ذہنیت کا ذکر کیا اور اللہ کی وہ سنت اور دستور بیان کیا جس کے تحت نافرمانوں کو سزا ملتی ہے اور اطاعت گزاروں کو فلاح نصیب ہوتی ہے اب اس درس سے تاریخ انبیا ہی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تو یہاں سے کافی دور تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللہِ اِلَّا الْحَقَّ 0 ۭ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 105 ۭ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–116
ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔
تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالَ مُوْسٰی یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ حَقِیْقٌ عَلٰیٓ اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ ط قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکْمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔
(الاعراف : 104، 105)
” اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں خداوندِ عالم کا فرستادہ ہوں سزاوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے “۔
دوسری آیت کریمہ میں حَقِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا معنی سمجھ لینا چاہیے حَقِیْقٌ حَقَ اور حُقَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا دعویٰ کیا تھا۔
فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے…
Read the full tafseer →آیت 105: حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ (میرے لئے یہی مناسب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچ کے سواء اور کوئی بات منسوب نہ کروں) میں سچی بات کے زیادہ لائق ہوں یعنی سچی بات کہنا مجھ پر لازم ہے اور اس پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔
قراءت : نافع نے حقیق علیّ پڑھا ہے یعنی مجھ پر لازم ہے کہ حق بات کے سواء اللہ تعالیٰ پر ہر بات چھوڑ دوں۔ یعنی سچائی اس قراءت کی صورت میں رب العالمین پر وقف ہے۔ اور پہلی قراءت کی صورت میں وصل جائز ہے کیونکہ حَقِیْقٌ۔ رسولوں کی صفت ہے اور علی باء کے معنی میں ہے جیسا کہ ابی بن کعب کی روایت میں ہے یعنی بیشک میں رسول اس بات کے لائق ہوں کہ میں نہ…
Read the full tafseer →(105) (حقیق علٓی ان لا اقول علی اللہ الا الحق) میں اس کا حق دار ہوں کہ اللہ پر صرف حق بات کہوں تو ” علی “ باء کے معنی میں ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے ” رنیت بالقوس و رمیت عن القوس “ اور ” جنت علی حال حال حسنۃ و بحال حسنۃ “ اس پر ابی اور اعمش کی قرأت دلالت کرتی ہے ” حقیق بان لا اقول “ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ حریص ہوں اس بات پر کہ اللہ پر صرف حق بات کہوں اور نافع (رح) نے ” علی “ یاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی حق اور واجب ہے مجھ پر تب تو کہ میں اللہ پر صرف حق کہوں۔ (قد جنتکم بینۃ من ربکم ) یعنی عصا (فارسل معی نبی اسرآئیل) یعنی ان کا راستہ چھوڑ دے تاکہ وہ ارض مقدس چلے جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
143 معجزہ رسول کی صداقت کا ثبوت : سو موسیٰ نے ان سے کہا یقینا میں تمہارے پاس ایک روشن دلیل لے کر آیا ہوں تمہارے رب کی طرف سے۔ یعنی عصا و ید بیضاء کا وہ معجزہ جس سے قدرت نے آپ کو نوازا تھا اور جو آنجناب کی صداقت و حقانیت کو واضح کرنے کے لئے ایک عظیم الشان معجزئہ اور کافی و وافی نشانی اور دلیل تھی۔ سو معجزہ پیغمبر کی حقانیت و صداقت کی روشن دلیل اور واضح نشان ہوتا ہے لیکن معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوتا ہے۔ وہی اپنی مشیت ومرضی سے جس پیغمبر کے ہاتھ پر جو معجزہ جب اور جیسے چاہے ظاہر فرمائے۔ اسی لیے حضرت موسیٰ نے اس کی تصریح فرما دی۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–108
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ف 6 کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے ولاے کا پیغام بلاکم وک اس پہنچا دے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے لہذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہوگی حقیق علی، کے معنی واجب کے ہیں یا لائق کے اور اگر علی ہو تو حقیق کے معنی قائم اور ثابت کے ہوں گے۔7 یعنی انہیں اپنی غلامی سے آزاد کرو تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آّزاد کے ساتھ عبادت کرسکیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس مطالبہ کا پس منظر یہ تھا کہ حضرت یو سف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے بھائی مصر میں آّکر آباد ہوگئے تھے اور وہیں ان پھیلی جو بنو اسرائیل کہلائی، ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
(7:105) حقیق۔ سزا دار۔ لائق۔ ثابت۔ قائم ۔ حق سے برازن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ حق کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں۔ جیسے کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں۔ اس طرح میں فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے۔ لفظ حق کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے۔
(1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے۔ اس معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً ثم ردوا الی اللہ مولہم الحق (6:62) پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق اللہ تعالیٰ کے پاس بلائے جائیں گے۔
(2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل برحق ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
لغات القرآن آیت نمبر (103 تا 106 ) ۔
بعثنا (ہم نے بھیجا) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ حقیق (سچی بات یہ ہے) ۔ لا اقول (میں نہیں کہتا) ۔ ارسل (بھیج دے ) ۔ معی (میرے ساتھ ) ۔ فات بھا (پھر تو لے آ ) ۔
تشریح : آیت نمبر (103 تا 06ٍ 1 ) ۔ ” حضرات انبیاء کرام حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب علیھم السلام اور ان کی قوموں کے واقعات کی طرف اشاروں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ فرعون ایک زبردست ڈکٹیٹر اور آمر مطلق تھا جو جاہ و جلال، دولت کی کثرت کے غرور میں اپنے آپ کو رب اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق
معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[43] بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں کنعان سے جا کر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ مصریوں نے انہیں غلام بنا لیا تھا۔ موسیٰ دو چیزوں کی دعوت لے کر فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اسلام قبول کرے اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے رہا کردے تاکہ وہ مصر سے نکل کر اپنے وطن چلے جائیں۔ قرآن میں ان دو باتوں کا ذکر کہیں یکجا کیا گیا ہے اور کہیں موقع و محل کے لحاظ سے صرف ایک ہی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–107
نبذعھد :
(ف 1) ان تمام قصص کا مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو بتایا جائے کہ قومیں کس طرح بار بار اللہ کے بندھے ہوئے میثاق کو توڑتی چلی آئی ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان کو سخت ترین سزائیں دی ہیں ، تاکہ ایک طرف آپ کو قریش مکہ کی مخالفت سے مایوسی نہ ہو اور دوسری جانب مکہ والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو ، اور ان کو معلوم ہو کہ اگر ہم نے رسول اللہ کا کہا نہ مانا اور انکار کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا ۔
ان قصوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وقت حق کا اظہار ہوتا ہے اکثریت کی جانب سے پر زور مخالفت ہوتی ہے اور ابتداء حق کو قبول کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →105 میرے لئے یہی لائق اور مناسب ہے اور مجھ کو یہی زیبا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سوائے حق اور سچ کے کوئی اور بات منسوب نہ کروں۔ بلاشبہ میں تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس ایک واضد دلیل اور بڑی نشانی لے کر آیا ہوں لہٰذا اے فرعون تو بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ اور میرے ساتھ بھیج دے یعنی جب میں خدا کا رسول ہوں تو تجھ سے صحیح بات کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 2۔ یعنی معجزات۔
3۔ یہ تو تمام قصہ کا اجمال تھا آگے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں یہ رب العالمین کا پیغام ہے :
116: موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ میرے حال اور منصب رسالت کا تقاضا یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات بجز سچ کے منسوب نہ کروں یعنی صرف وہی بات کہوں جو اللہ نے مجھ سے فرمائی کیونکہ انبیاء کرام کو جو پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے جاتے ہیں وہ ان کے پاس الٰہی امانت ہوتے ہیں ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا خبانت ہے اور کوئی نبی (علیہ السلام) خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا اور اسی طرح میں بھی اپنی طرف سے بات کہہ کر خیانت کا مرتکب نہیں ہوا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص خدا…
Read the full tafseer →In the light of these clear signs he must believe him and let the children of Isra'il go with him free of his illegitimate surveillance.
Read the full tafseer →86. Moses was sent to Pharaoh to invite him to two things; first, to surrender himself to God (i.e. Islam); and second, to release the Israelites - who were already Muslims - from his oppressive bondage. The Qur'an refers occasionally to both these objectives, and occasionally confines itself to mentioning either of the two.
Read the full tafseer →